بین الاقوامی مقابلے میں گلاؤٹی کباب اور پراٹھے بنا کر ایوارڈ جیتنے والی پاکستانی خاتون شیف

بی بی سی اردو  |  Sep 29, 2022

’میں نے کھانا پکانا اپنی زندگی میں دو اہم خواتین یعنی اپنی والدہ اور ساس سے سیکھا۔ میں نے کھانا پکانے کا کوئی کورس نہیں کیا۔‘

یہ کہنا ہے حنا شعیب کا جنھیں حال ہی میں سعودی عرب میں ہونے والے بہترین شیف کے بین الاقوامی مقابلے میں تیسرا انعام ملا ہے۔

اس مقابلے کا اہتمام سعودی عرب کے فوڈ ایکس نے کیا تھا۔

حنا شعیب نے اس مقابلے میں گلاوٹی کباب، اٹالین چکن، املی اور پودینے کی چٹنی اور پراٹھے تیار کیے تھے۔

حنا شعیب کا تعلق پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے گلشن اقبال سے ہے مگر وہ گذشتہ چند برسوں سے سعودی عرب کے شہر جدہ میں اپنے شوہر کے ساتھ مقیم ہیں۔

حنا شعیب کہتی ہیں کہ بچپن سے جوانی تک انھوں نے اپنی والدہ کو کھانا پکاتے دیکھا اور ان سے کھانا پکانا سمیت مختلف پکوانوں کی تراکیب سیکھی تھیں۔ اور شادی سے پہلے ہی انھوں نے مختلف پکوان تیار کرنے میں کافی مہارت حاصل کر لی تھی۔

'میرے کھانوں کی مہارت شادی سے پہلے ہی میرے سسرال تک پہنچ گئی تھیں۔ جب میں شادی کے بعد اپنے سسرال گئی تو وہاں میری ساس بہت ہی لذیز کھانے بناتی تھیں۔ ان سے بھی بہت کچھ سیکھا۔'

حنا، کھانا پکانے کے بین الاقوامی مقابلے میں ایوارڈ جیتنے کے وقت کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ 'جب مجھے ایوارڈ دینے کا اعلان ہوا تو اس وقت ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ میری کامیابی پر سب سے زیادہ خوشی میری بہن کو ہوئی تھی، اس وقت مجھے فخر محسوس ہوا کہ میں پہلی پاکستانی خاتون ہوں جسے یہ ایوارڈ ملا ہے۔'

بہترین شیف کے مقابلے میں حصہ لینے کے خیال کے متعلق بات کرتے ہوئے حنا شعیب نے بتایا کہ 'جب مقابلے کا اعلان ہوا تو میں نے سوچا کہ قسمت آزمائی کرنی چاہیے۔'

اس مقابلے کے دوران ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور احساسات پر بات کرتے ہوئے حنا شعیب کا کہنا تھا کہ 'میں نے اس مقابلے کے لیے تیاری بھی کی لیکن جب مقابلہ شروع ہوا تو میرے ساتھ کچھ انہونی ہونا شروع ہو گئی۔ لیکن میں نے مقابلے پر اپنی توجہ مرکوز رکھی اور ہمت نہیں ہاری۔'

’مشین جل گئی حاون دستہ استعمال کرنا پڑا`

حنا نے بہترین شیف کے مقابلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس مقابلے کے دوران پکوان تیار کرنے کے لیے 45 منٹ کا وقت مقرر تھا۔

اس دوران ہی گوشت دھونے یا کاٹنے سے پکوان تیار کرنے کے تمام عمل کو مکمل کرنا ہوتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ اسی طرح قیمہ بنانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔

اس مقابلے کے دوران اپنے ساتھ پیش آئے ایک واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے حنا نے بتایا کہ 'قیمہ بنانے کی مشین گلاؤٹی کبابوں کے لیے قیمہ بناتے ہوئے اچانک جل گئی تھی۔ اس وقت ایسا لگا کہ میں یہ سب کچھ کیسے کر سکوں گی کیونکہ وقت کم تھا اور قیمے والی مشین بھی نہیں چل رہی تھی، لیکن میں نے حاضر دماغی سے کام لیا اور ہمت نہیں ہاری۔

میں نے فوراً وہاں میرے پاس موجود حاون دستے کا استعمال کیا۔ جو قیمہ مشین سے بن گیا تھا اس نکالا اور باقی گوشت کو حاون دستے سے کوٹ کر قیمہ بنایا۔

حنا کا کہنا تھا کہ اگرچہ مجھے مقابلے کے دوران یہ پیشکش کی گئی کہ میں تیار قیمہ لے لوں، مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس قیمے میں مختلف مسالحے کوٹے ہوتے ہیں اور اس سے کھانوں میں ایشیائی یا پاکستانی لذت اور ذائقہ نہیں آتا۔ لہذا میں نے خود قیمہ تیار کیا اور اس میں اپنی ترکیب کے مطابق مسالحہ جات استعمال کیے۔

وہ بتاتی ہیں کہ 'لہسن، ادرک کے علاوہ چٹنیاں بھی اسی حاون دستے میں ہاتھ سے تیار کیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'محدود وقت کے باعث میں بہت پھرتی اور تیزی سے کام کر رہی تھی اور مجھے بھی اس پر حیرت ہوئی البتہ مقابلے کے دوران حال میں موجود تماشائیوں نے مجھے اس طرح کام کرتا دیکھ کر داد دی۔

وہ کہتی ہیں کہ میں نے اس وقت کے دوران ہی آٹا گوندھا اور پراٹھے تیار کیے اگرچہ گوندھا ہوا آٹا ساتھ لانے کی اجازت تھی لیکن میں نے یہ سب کچھ وہی کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ججز مقابلے کے دوران کی گئی ہر کوشش پر نظر رکھتے ہیں اور اس کو اہمیت دیتے ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ میں نے گھر میں یہ سب کچھ تیار کرنے کی مشق کی تھی اور مجھے یقین تھا کہ میں مقررہ وقت میں یہ سب کچھ تیار کر لوں گی۔ بس یہ علم نہیں تھا کہ قیمے والی مشین خراب ہو جائے گی۔

وہ مقابلے کے متعلق مزید بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس کے لیے تیار کردہ پکوانوں کی دو پلیٹیں تیار کرنا ہوتی ہیں جن میں سے ایک ججز کے لیے جبکہ دوسری نمائش کے لیے رکھنا ہوتی ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ جب انھوں نے مقررہ وقت پر اپنے پکوان تیار کر کے ججز کو چکھنے کے لیے پیش کیے تو میرے دونوں پکوانوں کی پلیٹں خالی واپس آئی تھیں۔ 'ججز کو میرے تیار کردہ گلاؤٹی کباب بہت پسند آئے تھے۔'

وہ کہتی ہیں کہ مقابلے میں شریک دیگر افراد میں کثریت عرب باشندوں کی تھی جبکہ کچھ انڈین، فلپائنی، انڈونیشیائی اور دیگر ممالک کے بھی تھے۔ مقابلے کے دوران بڑا اچھا ماحول تھا، سب بہت لطف اندوز ہو رہے تھے۔

گلاوٹی کباب اور چکن اٹالین ہی کیوں بنایا؟

حنا سے جب یہ پوچھا گیا کہ اس مقابلے کے لیے انھوں نے گلاؤٹی کباب اور چکن اٹالین بنانے کا انتخاب کیوں کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں پکوانوں کی منتخب کرنے کی کچھ وجوہات تھیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے اٹالین چکن اس وجہ سے تیار کیا کیونکہ وہ مقابلے کے ججز کو بتانا چاہتی تھیں کہ وہ صرف پاکستانی اور جنوبی ایشیائی کھانے ہی نہیں بنا سکتی بلکہ بین الاقوامی کھانے بھی تیار کر سکتی ہیں۔

'جبکہ گلاوٹی کباب بنانے کی وجہ یہ تھی کہ میں ججز کو پاکستانی یا جنوبی ایشیائی کھانوں کا ذائقہ بھی چکھانا چاہتی تھی۔ گلاؤٹی کباب میں کئی طرح کے روائتی مسالے استعمال کیے جاتے ہیں جو انھیں شامی کباب سے زیادہ لذیذ اور نرم بنا دیتا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

عشورہ: روحانی اہمیت کی حامل دنیا کی سب سے قدیم سویٹ ڈش کا مذہب سے کیا تعلق ہے؟

ہزاروں برس قبل سالن کیسے پکایا جاتا تھا؟

کوئلوں پر پکنے والی ’کھوبا روٹی‘ جو ’مہاراجاؤں کی سرزمین‘ کی پہچان ہے

انھوں نے بتایا کہ 'کیونکہ مقابلے کے ججز کا تعلق فرانس اور اٹلی سے تھا اس لیے میں ان کو وہ ذائقہ بھی دینا چاہتی تھی۔ان کو میرا ہاتھ کا تیار کردہ اٹالین چکن بھی پسند آیا۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'ججز نے اٹالین چکن کی تیاری کے بارے میں مجھے کچھ مشورے بھی دیئے اور کچھ غلطیوں کی نشاندہی بھی کی۔ ایک جج نے تو کہاکہ اگر یہ غلطیاں نہ ہوتیں تو پہلا انعام بھی مل سکتا تھا۔'

گلاؤٹی کباب کے متعلق ایک روایت ہے کہ انھیں لکھنو کے نواب واجد علی شاہ کے شاہی خانساموں نے متعارف کروایا تھا۔

’محبت کا راستہ معدہ سے گزرتا ہے`

حنا کا کہنا ہے کہ ان کے کھانا پکانے میں مہارت اور ذائقہ کی ایک بڑی وجہ ان کے شوہر ہیں کیونکہ وہ اچھی طرح تیار کردہ اور لذیز پکوان کھانے کے بہت شوقین ہیں۔ انھوں دنیا کے مختلف پکوانوں کے ذائقے اور لذت کے متعلق بھی علم ہے۔ وہ میرے کھانوں پر تبصرہ بھی کرتے ہیں اور اس میں ذائقے کے متعلق مشورے بھی دیتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ میرے پکائے ہوئے کھانوں کی شہرت میکے اور سسرال میں تو تھی ہی لیکن اب جدہ میں دوست احباب تک بھی پہنچ چکی ہے۔

’یہاں تو دوست احباب کے فرمائشی پروگرام چلتے ہی رہتے ہیں بلکہ اب جب میں پاکستان جاتی ہوں تو خاندان والے بھی دل کھول کر مختلف پکوانوں کی فرمائش کرتے ہیں۔`

حنا کا کہنا ہے کہ شاید وہ مثال درست ہے کہ ’دل کا راستہ معدہ سے گزر کر جاتا ہے۔ کیونکہ لذیذ کھانا کسے پسند نہیںاور ایسے میں کھانا پکانے والے کے لیے دل میں محبت اور احترام پیدا ہوتی ہے۔ میرے معاملے میں بھی یہ ہی ہوا ہے، مجھ ہر طرف سے بہت عزت، پیار اور محبت ملی ہے۔`

مستقبل کا ارادہ کیا ہے؟

بہترین شیف کے بین الاقوامی مقابلے میں ایوارڈ جیتنے کے بعد مستقبل کے ارادوں کے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ 'میکے اور سسرال میں بنائے گئے کھانوں پر تعریف ملی تو مہارت حاصل کرتی چلی گئی۔ پہلے کبھی سوچا نہیں تھا کہ اس کو بحیثیت پیشہ اختیار کروں گی، اب سوچ رہی ہوں۔'

حنا کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر شعیب کی جدہ میں اچھی ملازمت ہے، میں گھر اور اپنے تین بچوں پر توجہ دیتی ہوں، مجھ پر شوہر اور خاندان کی طرف سے اپنی صلاحیت کو استعمال کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ حوصلہ افزائی کے علاوہ وہ مجھے اس بارے میں مشورے بھی دیتے رہتے ہیں۔

'کچھ عرصے سے سوچ رہی ہوں کہ اپنی صلاحیت کو استعال کرنا چاہیے اس کے لیے قانونی تقاضوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ کوئی کورس کرنے کا بھی سوچ رہی ہوں۔`

وہ کہتی ہیں کہ مستقبل میں کچھ نہ کچھ ضرور کروں گی اور باقی خواتین کے لیے بھی ہے کہ انھیں ضرور کوئی نہ کوئی ہنر حاصل کر کے اس کو استعمال میں لانا چاہیے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More