ماریہ اسونسیان آرمبروزابالا: جب والد سے کیے گئے وعدے نے میکسیکو کی امیر ترین خاتون کی کاروباری سلطنت کی بنیاد رکھی

بی بی سی اردو  |  Sep 30, 2022

میکسیکو کی سب سے مالدار خاتون کے مطابق اُن میں کاروبار کرنے کی صلاحیت کبھی بھی موجود نہیں تھی لیکن والد کی وفات سے قبل کیے گئے وعدے نے انھیں کاروبار کی ایسی دنیا میں تربیت حاصل کرنے پر مجبور کیا جو اُن کے لیے بالکل نئی تھی۔

آج ماریہ اسونسیان آرمبروزابالا 59 برس کی ہیں اور اُن کی دولت کی کل مالیت 618 کروڑ ڈالر ہے۔ فوربز کے مطابق وہ میکسیکو کے کروڑ پتی افراد کی فہرست میں پانچویں اور لاطینی امریکہ میں تیسری سب سے زیادہ امیر خاتون ہیں۔

انھیں میکسیکو کی مقبول بیئر کمپنی ورثے میں ملی جو دنیا بھر میں مقبول کورونا، گروپو موڈیلو بیئر بناتی ہے۔ تاہم ماریہ کو ورثے میں ملنے والی کمپنی کے فروغ اور اس سے حاصل ہونے والی دولت کو بڑھانا کا گُر آ گیا اور انھوں نے ریئل سٹیٹ، ٹیکنالوجی، بینکنگ اور ٹیلی کمیونیکشن میں سرمایہ کاری کر کے اس دولت میں مزید اضافہ کیا۔

فوربز میکسیکو کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر روبرتو آرتیگا کہتے ہیں کہ ’مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے باعث اور نئے شعبوں کی تلاش میں رہنے کے سبب اُن کی دولت حالیہ برسوں میں ایک ہی سطح پر برقرار رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے سرمایہ کاری کے حوالے سے جدت لانے کی کوشش کی ہے۔‘

ان کے قریبی حلقوں میں انھیں ’ماریہ سن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور وہ پہلی خاتون تھیں جنھیں میکسیکو کی سٹاک ایکسچینج کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں جگہ ملی اور وہ میکسیکو کی انتہائی معتبر کمپنیوں کی بورڈ رکن بھی رہ چکی ہیں۔

وہ آپ کو میڈیا پر زیادہ نظر نہیں آئیں گی اور جب بی بی سی کی جانب سے ان سے انٹرویو کی درخواست کی گئی تو ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ماریہ نے اس سے قبل ’کریکس‘ نامی پوڈکاسٹ میں شرکت کی تھی جہاں انھوں نے اپنی کامیابی کی وجوہات بتانے کے علاوہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے اپنے خاندان کے ماضی پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ کیسے انھوں نے مردوں کی اجارہ داری والی دنیا میں کام کرنا سیکھا اور یہ کہ اُن کے مستقبل کے حوالے سے کیا منصوبے ہیں۔

پوڈکاسٹ کی میزبان اوسو ٹراوا اس بات چیت کے بارے میں بتاتی ہیں کہ ’جس بات نے مجھے متاثر کیا وہ اُن کی انتہا درجے کی توجہ اور پُرعزم ہونا تھا۔ انٹرویو کے دوران وہ انتہائی سادہ انداز میں بات کر رہی تھیں جس سے اُن کی رحم دلی بھی جھلک رہی تھی۔‘

’لیکن اس سب کے باوجود ان کی طاقتور شخصیت بھی عیاں تھی اور یہ ظاہر تھا کہ ان کا کسی کے لیے مخالف ہونا کسی طور آسان نہیں ہو گا۔‘

Getty Imagesبیئر کی سلطنت

ماریہ کی کاروباری سلطنت میں بیئر کی فروخت سے بنائی جانے والی دولت کی ابتدا دراصل شمالی سپین کے چھوٹے سے قصبے باسک، ایسوکوریاٹزا سے ہوئی۔

اُن کے دادا فیلکس ایک بڑے اور انتہائی غریب خاندان میں پیدا ہوئے تھے، اور وہ بیل گاڑیوں میں تعمیر کے لیے استعمال ہونے والا پتھر ڈھونے کا کام کرتے تھے۔

گذشتہ صدی کے آغاز میں دنیا کے متعدد افراد کی طرح انھوں نے بھی ذریعہ معاش کی تلاش میں امریکہ جانے کا منصوبہ بنایا۔ میکسیکو میں انھوں نے خمیر کا کاروبار شروع کیا اور پھر گروپو موڈیلو کے اس وقت کے صدر سے ملاقات کر کے ان کے ساتھ شراکت قائم کی اور اس کمپنی کی تشہیر کرنے والوں میں سے ایک بن گئے۔

ایک غریب گھرانے سے ہونے کے باعث انھوں نے ’ایمانداری، نظم و ضبط اور طویل دورانیے کے لیے کام کرنا سیکھا۔‘

دادا کی وفات کے بعد ماریہ کے والد پابلو آرامبوروزابالا نے اس کمپنی کی باگ ڈور سنبھالی۔ جب وہ کینسر کے باعث وفات پا گئے تو انھوں نے 32 برس کی عمر میں اپنے والد سے کیے گئے وعدے کے تحت کمپنی کی سربراہ بن گئیں۔

انھوں نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ ’میرے والد شدید بیمار تھے اور اس بیماری کے عالم میں کیا گیا وعدہ جو میں نے ان سے کیا تھا، اس نے مجھے پرعزم بنا دیا۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا مجھے آج بھی احساس ہے۔ میں اپنے خاندان کی سربراہ کے طور پر کردار ادا کرتی رہی ہوں، جیسے خاندان کا مرد ہوتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

18 کرسیوں سے شروع ہونے والے راولپنڈی کے معروف ’سیور فوڈز‘ کی کہانی

سروس شوز: جب تین دوستوں کو فوجی بوٹ بنانے کا آرڈر ملا

کمپیوٹر کوڈنگ سیکھنے سے 'آپ کی زندگی بدل جائے گی‘

وہ بتاتی ہیں کہ ابتدا میں انھیں مشکلات کا سامنا رہا۔ کاروباری شخصیت پاؤلو پیٹریشیو سے 19 سال کی عمر میں شادی کرنے کے بعد ماریہ نے اپنے دو بچوں کے ساتھ پبلک اکاؤنٹنگ کی تعلیم حاصل کی۔

تاہم جب ان کے والد کی وفات ہوئی تو وہ کچن سے دفتر منتقل ہو گئیں۔ ایسا نہیں تھا کہ مجھ میں کاروبار کرنے کی مہارت نہیں تھی، لیکن مجھے ضرورت کے وقت موقع پر موجود ہونا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت آس پاس کے کاروباری حضرات اور بینکرز نے ان کی ناتجربہ کاری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تاہم ان کی والدہ اور ان کی واحد بہن نے ان پر کاروبار چلانے کے حوالے سے پورا بھروسہ کیا۔

’میں نے انھیں بتایا کہ میں ابھی سیکھ رہی ہوں لیکن میں آپ کو یہ بھی بتانا چاہتی ہوں کہ میں آپ کا استحصال نہیں کروں گی۔‘

کچھ عرصہ بعد اُن کی ملاقات کارلوس سلم سے ہوئی جو میکسیکو کے امیر ترین شخص ہیں اور ان سے مدد اور مشورے لینے سے انھیں فائدہ ہوا۔

ماریہ بتاتی ہیں کہ ’ان سے آپ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ ایک بہت ہی ذہین شخص ہیں۔ وہ ایسے آدمی ہیں جو کچھ نہیں بھولتے، جو اپنی تمام سرمایہ کاری کے بارے میں جانتے ہیں۔ ان کا اپنے کام پر کنٹرول بہت متاثر کن ہے۔‘

ماریہ جو اپنا تعارف ’مضبوط کردار والی خاتون‘ کے طور پر کرواتی ہیں اور جو ’خود احتسابی‘ میں سب سے آگے ہوتی ہیں، نے کاروبار میں اپنا نام پیدا کرنا شروع کیا اور ٹریسالیا کے نام سے سرمایہ کاری کمپنی بنائی اور اپنے تین اتحادیوں یعنی وہ، ان کی والدہ اور ان کی بہن کے درمیان اس کے آپریشنز کو تقسیم کر دیا۔

انھیں اس وقت معلوم تھا کہ وہ سرمایہ کاری کی جگہوں کے بارے میں نہیں جانتی تھیں اس لیے انھوں نے مشیروں اور وکیلوں کو اپنے اردگرد رکھا لیکن انھیں 100 فیصد فیصلہ سازی کا حق نہیں دیا۔ ’میں ان کے ساتھ ہر ایک میٹنگ میں بیٹھی اور اس طرح میں نے کام سیکھا۔‘

فوربز میکسیکو کے آرٹیگا کے مطابق ماریہ کی کامیابی کا راز ’لوگوں کو سُننے کا طریقہ جاننے میں ہے‘ اور ان کی رسائی ایسے ماہرین تک ہونا ہے جن سے وہ کاروبار کے مستقبل کے بارے میں ’جتنے چاہیں سوال پوچھ سکتی ہیں۔‘

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ماریہ نے نہ صرف ورثے میں ملنے والی دولت کو سنبھالا، بلکہ تسلسل کے ساتھ سرمایہ کاری بھی کی۔‘

تاہم سنہ 2013 میں گروپو موڈیلو کو فروخت کر دیا گیا، اور جہاں کمپنی کے باقی ڈائریکٹرز نے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی، ماریہ شیئر ہولڈر برقرار رہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’میں ایک جذباتی خاتون ہوں، یہ میرا ڈی این اے ہے اور یہ ایسی چیز ہے جسے میں چھوڑ نہیں سکتی۔‘

مردوں کی اجارہ داری والے ماحول میں موجود ماریہ

ماریہ بتاتی ہیں کہ بطور خاتون خاندانی کاروبار میں ایک اعلٰی عہدے پر فائز ہونا آسان نہیں تھا۔ وہ یاد کرتی ہیں کہ ’بیئر کے کاروبار کے علاوہ بھی مجھے متعدد امکانات کے بارے میں سوچنا تھا۔ میرے والد وفات پا چکے تھے اور ان کی دو بیٹیاں تھیں۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ اُن کی والدہ انھیں ہمیشہ اپنی صلاحیتوں پر اعتبار کرنے کا سبق دیتی تھیں۔

’وہ مجھے اور میری بہن کو کہتی تھیں کہ ’اٹھو‘ کیونکہ خاندان میں کوئی مرد نہیں ہے اور تم نے ان کی دہلیز پر جا کر ان کا مقابلہ کرنا ہے۔‘

جب انھوں نے کریئر کا آغاز کیا تو انھیں اپنے اردگرد کوئی خاتون دکھائی نہیں دیتی تھی تاہم اب وہ مطمئن ہیں کہ خواتین نہ صرف سیاسی دھارے میں شمولیت اختیار کر رہی ہیں بلکہ کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر بھی کام کر رہی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے اپنی کمپنیوں میں صنفی تنوع کو ملحوظ خاطر رکھا۔ ’ہم خود کو ہر وقت یہی بتاتے رہتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ ہمیں اس سوچ کا خاتمہ کرنا ہے کہ یہاں خواتین نہیں ہو سکتیں، ہمیں اپنے آپ کو ایسی صورتحال میں آزمانا ہو گا۔ اس سے مختلف خیالات سامنے آتے ہیں اور بات چیت بہترین انداز میں ہو سکتی ہے۔‘

ایکسپینشن میگزین کی انٹیلیجنس ایڈیٹر روزالیا لارا جن کی 100 ’سب سے زیادہ طاقتور خواتین‘ فہرست پر ماریہ کا نام دوسرے نمبر پر ہے بتاتی ہیں کیسے میکسیکو میں مردوں کو کاروبار ورثے میں مل جاتے ہیں لیکن خواتین کو فلاحی کاموں پر توجہ دینی پڑتی ہے۔

وہ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ماریہ کے ساتھ ایسا نہیں تھا کیونکہ انھوں نے دوسری کمپنیوں میں بھی بطور ڈائریکٹر خدمات سرانجام دیں جو کوئی چھوٹی بات اس لیے نہیں ہے کیونکہ لاطینی امریکہ میں میکسیکو کا ایسے ممالک میں آخری نمبر ہے جہاں کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر خواتین ہوں۔‘

پراجیکٹ آن آرگنائزیشن، ڈویلپمنٹ، ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پی او ڈی ای آر) کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق ’ایسی کمپنیوں کی شرح صرف 7.7 فیصد ہے۔‘

ایملو سے قائم رشتے سے پینڈورا پیپرز تک

حالیہ عرصے میں اکثر میڈیا اداروں کی جانب سے ماریہ کے میکسیکو چھوڑنے کے ارادوں کے بارے میں خبریں شائع کی گئی ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے امریکہ اور یورپ میں ریئل سٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے اور میکسیکو میں کچھ اثاثے فروخت کیے ہیں۔ مثال کے طور پر انھوں نے ٹیکنالوجی کمپنی ’کیو نیٹ ورکس‘ جو ڈیٹا سینٹرز کے بارے میں کام کرتی ہے، سے منسلک اثاثے بھی فروخت کیے تھے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے میں کووڈ کی عالمی وبا اور گذشتہ حکومتوں کے برعکس اس حکومت کے صدر آندریس مینویل لوپیز اوبرادور کے ساتھ ماریہ کے خراب تعلقات کا بھی عمل دخل ہے۔

معاشی اور مالیاتی امور کے تجزیہ کار ڈاریو سیلس کا کہنا ہے کہ ’انھیں اپنے سیاسی روابط کا فائدہ اٹھانے کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔ سنہ 2005 میں انھوں نے اس وقت کے میکسیکو کے لیے امریکی سفیر ٹونی گارزا سے دوسری شادی کی تھی۔ یہ ان کے لیے کاروباری اعتبار سے منافع بخش سال تھے۔ صدر ونسینٹ فاکس، فیلیپ کیلڈیران اور اینریکے پینا نیئٹو کے ادوار میں انھیں سرکاری ٹینڈرز کی مد میں خاصا فائدہ ہوا، خاص کر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں۔‘

مزید پڑھیے

گھر بیٹھے ہزاروں ڈالر کمانے والے پاکستانی فری لانسرز

ایمازون پر کاروبار کے ’سادہ‘ طریقے سے لاکھوں کمانے والے پاکستانی نوجوان

دو پاکستانی بھائیوں کی کمپنی ایمازون کی ٹاپ سیلرز لسٹ میں کیسے شامل ہوئی؟

بی بی سی کو دیے گیے انٹرویوز میں ماہرین یہ بتاتے ہیں کہ ان میں سے اکثر معاہدوں کی صدر لوپیز اوبرادور کے اقتدار میں آنے کے بعد تجدید نہیں کی گئی اور ماریہ کو اپنی کاروبار کے حوالے سے ماحول ’ناساز گار‘ محسوس ہونے لگا۔

تاہم وہ اس تاثر کو بے بنیاد قرار دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ افواہ کہ میں میکسیکو چھوڑنے والی تھی کیونکہ حکومت نے میرا ساتھ برا سلوک روا رکھا۔۔۔ آپ ایک خوفناک کہانی گھڑ تو سکتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔‘

وہ میکسیکو میں اثاثوں کی فروخت کا دفاع کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’کئی مرتبہ لوگوں کے لیے اس بات کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ آپ صرف کسی چیز کے ردِ عمل میں کاروبار فروخت کرتے ہیں یا اس میں کچھ غلط ہوا ہے۔ نہیں، یہ ہمارا کاروبار ہے، اس میں سرمایہ کاری کر کے، اسے ترقی دے کر اسے بیچ کر منافع کمانا عام سی بات ہے۔ اور پھر آپ یہی کام دوبارہ شروع کر دیتے ہیں۔‘

ڈاریو سیلس ان کے جواب کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’انھوں نے اس کی متعدد مرتبہ تردید کی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ میکسیکو کے باہر کیوں اپنے نئے کاروبار کا آغاز کرتی ہیں؟ کیو ایک انتہائی منافع بخش کاروبار تھا اور اسے فروخت کرنے کی کوئی ظاہری وجہ بھی نہیں تھی۔‘

’مسئلہ یہ تھا کہ ان کے نزدیک اس صورتحال میں میکسیکو میں سرمایہ کاری کرنا، جب موجودہ حکومت برسرِ اقتدار ہے، موزوں نہیں ہو گا اس لیے انھوں نے بیرونِ ملک سرمایہ کاری کا سوچا۔‘

یہ واحد تنازع نہیں ہے جو ان کے بارے میں حالیہ برسوں میں سامنے آیا ہے۔ گذشتہ برس پینڈورا پیپرز کی تحقیقات کے دوران ان کا نام بھی ان کاروباری شخصیات اور سیاست دانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا جنھوں نے مبینہ طور پر اپنی دولت کو ٹیکس پر استثنٰی دینے والے ممالک میں منتقل کیا تھا۔ ماریہ نے اس بارے میں پبلک میں کبھی وضاحت پیش نہیں کی۔

AFP

سنہ 2019 میں اُن کی ریئل سٹیٹ کمپنی ابیلیا نے بھی ان کے لیے دردِ سر بنی۔ اس سال انھیں متعدد ڈائریکٹرز کو اس لیے کمپنی سے نکالنا پڑا کیونکہ انھوں نے مبینہ طور ایک بڑا فراڈ کیا تھا۔ اس صورتحال سے انھیں اتنا بڑا دھچکہ پہنچا کہ وہ ایک سال کے لیے منظرِ عام سے اوجھل رہیں۔

مستقبل میں ممکنہ تبدیلیاں

اپنی سب سے پسندیدہ سرمایہ کاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماریہ ’ایلیئٹ سکولز‘ کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جب آپ کسی شخص کو تعلیم دیتے ہیں تو آپ ان کی زندگی تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہ انتہائی تسلی دینے والا کاروبار ہے جس میں انسانی امر بھی شامل ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنی متعدد سرمایہ کاری اس سوچ کے ساتھ کی کہ وہ میکسیکو کے عوام کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں۔ ’میں نے جب میکسیکو سٹاک ایکسچینج کے شیئر دیکھے اور سوچا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ میکسیکو میں ایک خالصتاً ٹیکنالوجی کمپنی بھی نہیں ہے، اور نہ ہی ایجوکیشن کمپنی ہے۔‘

سنہ 2010 میں انھوں نے اپنے دوسرے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ وہ فوٹوگرافی، جانوروں اور ڈائیونگ کا شوق رکھتی ہیں اور وہ فن ٹیک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں یعنی ٹیکنالوجی کے ذریعے فنانشل سروسز دینے والے کاروبار۔

تاحال وہ کرپٹوکرنسی میں سرمایہ کاری نہیں کر رہیں لیکن ان کا ماننا ہے کہ وہ اس بارے میں مستقبل میں سوچ سکتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے کاروبار میں اب نئے لیڈرز کو موقع دینا چاہتی ہیں جس میں ان کے بیٹے پابلو شامل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے ہمیشہ اپنا کام کر کے خوشی ہوئی ہے لیکن اب میں کچھ نیا کرنا چاہوں گی۔‘

’شاید میں دوبارہ پڑھائی شروع کر دوں۔ مجھے نہیں معلوم، شاید ایک کسان بن جاؤں۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ کاروبار کے ذریعے ہی اپنی نئی پہچان ڈھونڈیں وہ کسی بھی ذریعے سے ڈھونڈی جا سکتی ہے۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More