کتے اپنے مالک کی سانس سونگھ کر ذہنی تناؤ کی نشاندہی کر سکتے ہیں

بی بی سی اردو  |  Sep 30, 2022

Queen's University, Belfastاور سات سو میں سے 650 مرتبہ ان کتوں نے کامیابی سے اس کنستر کا انتخاب کیا تھا جس میں ایک ذہنی تناؤ کے شکار شخص کے سانس یا پسینہ کا سیمپل رکھا گیا تھا

کتا انسان کا بہترین دوست اور وفادار پالتو جانور ہے، یہ بات ایک بار پھر درست ثابت ہوئی ہے۔

اس بار کتوں کی سونگھنے کی حس پر سائنسی بنیادوں پر کیے گئے ایک تجربے سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ یہ پالتو جانور ہمارے احساسات کو کتنی باریکی سے سمجھ سکتا ہے۔

سائنسدانوں نے اس تجربے میں دریافت کیا کہ کتے ہماری سانس اور پسینے کی بو میں ذہنی تناؤ کو سونگھ سکتے ہیں۔

اس تجربے میں چار پالتو کتوں کو تین خوشبو والے کنستروں کو سونگھ کر ان میں سے ایک 'منتخب' کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔

ان کتوں کے مالکان نے رضاکارانہ طور پر انھیں اس تجربے کے لیے پیش کیا تھا۔

اور 700 میں سے 650 مرتبہ ان کتوں نے کامیابی سے اس کنستر کا انتخاب کیا تھا جس میں ایک ذہنی تناؤ کے شکار شخص کے سانس یا پسینہ کا سیمپل رکھا گیا تھا۔

کوئنز یونیورسٹی بیلفاسٹ کے محققین کو امید ہے کہ ان کی تحقیق جو کہ پلوس ون جریدے میں شائع ہوئی ہے، تھراپی کتوں کی تربیت میں مددگار ثابت ہو گی۔

Victoria Gillکتوں کا ناک کسی بھی قسم کی خوشبو یا بو سونگھنے کے حوالے سے انتہائی حساس ہوتا ہے

کتے بو کے ذریعے اپنی دنیا کا تجربہ کرتے ہیں۔ اور ان کی خوشبو سونگھنے کی انتہائی حساس صلاحیتیں پہلے ہی منشیات، دھماکہ خیز مواد اور بیماریوں کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ جن میں بعض کینسر، ذیابیطس اور یہاں تک کہ کووڈ کے مرض کا پتہ بھی لگایا گیا ہے۔

اس تحقیق کی سرکردہ محقق کلارا ولسن کا کہنا ہے کہ 'ہمارے پاس بہت سے شواہد موجود ہیں کہ کتے انسانوں سے ایسے بو سونگھ سکتے ہیں جو کہ بعض طبی حالات یا بیماری سے منسلک ہوتی ہیں۔ لیکن ہمارے پاس اس بات کے زیادہ ثبوت نہیں ہیں کہ وہ ہماری نفسیاتی یا ذہنی حالت میں تبدیلی کو بھی سونگھ سکتے ہیں۔`

یہ بھی پڑھیے

کتے نے آنکھوں سے جذبات کا اظہار کیسے سیکھا؟

دلی کے بگڑے ہوئے آوارہ کتے

جب پالتو کتے قاتل بن جاتے ہیں!

’بلیاں بھی کتوں جیسی ذہین ہیں ہو سکتی ہیں‘

اس حوالے سے مزید تحقیق اور شواہد کے لیے 36 رضاکاروں کو ریاضی کا ایک مشکل سوال حل کرنے کے لیے دیا گیا جس کے بعد انھوں نے اس سوال کو حل کرنے سے پہلے اور بعد میں ذہنی تناؤ کے متعلق آگاہ کیا۔

ان میں سے ہر ایک نے اپنے ذہنی تناؤ کی کیفیت سے پہلے اور بعد میں یا اس دوران جب ان کا انتشار خون بڑھا یا دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی اپنے سانس یا پسینہ کا ایک نمونہ محفوظ کیا۔

اور جب ٹریو، فنگل، سوٹ اور وینی نامی یہ پالتو کتے اس تجربے کے دوران 'ذہنی تناؤ' والے سیمپل کے سامنے کھڑے رہے یا بیٹھ گئے تھے تو انھیں ان کی من پسند خوراک کھانے کو دی گئی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More