جسپریت بھمرا: فاسٹ بولر کی کمر کی انجری کے باعث انڈیا کی ٹی ٹوئنٹی کپ ورلڈ کی تیاری مشکل میں

بی بی سی اردو  |  Oct 05, 2022

Getty Images

انڈین کرکٹ ٹیم کو آسٹریلیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل ایک بڑا دھچکہ لگا ہے۔ اس کے صف اول کے فاسٹ بولر جسپریت بھمرا انجری کے باعث ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

اگر انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے ذرائع پر یقین کر لیا جائے تو بھمرا کی مکمل صحتیابی میں کم از کم چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔

اس اہم ٹورنامنٹ میں بھمرا کا نہ ہونا انڈین کرکٹ ٹیم کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے کیونکہ ان کی جگہ پُر کرنا ہرگز آسان نہیں ہو گا۔

بھمرا کمر کے درد کی وجہ سے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی حصہ نہیں لے سکے تھے۔ جولائی سے ستمبر تک وہ فیلڈ پر نہیں آ سکے ہیں۔ انھوں نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں واپسی ضرور کی تھی مگر یہ مسئلہ دوبارہ شروع ہونے کی وجہ انھیں سیریز سے باہر ہونا پڑا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق وہ سٹریس انجری کا شکار ہیں، یعنی ان کے جسم پر بہت زیادہ دباؤ پڑ چکا ہے۔ انھیں بنگلور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی بھیجا گیا ہے۔

گذشتہ مہینوں کے دوران انڈین کرکٹ ٹیم کی انتظامیہنے الگ الگ بولرز کو آزمایا ہے مگر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل وہ ایک قابل اعتماد بولنگ اٹیک تشکیل دینے میں ناکام ہوئے ہیں۔ بھمرا کا متبادل ڈھونڈنا ٹیم کے سلیکٹرز کے لیے ایک بحران ہو سکتا ہے۔

تجربہ کار فاسٹ بولر محمد شامی اور سوئنگ بولر دیپک چاہار کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے سٹینڈ اِن بولر بنایا گیا تھا۔ ان دونوں میں سے کسی کو ٹیم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ چیتن شرما کی قیادت میں اس سلیکشن کمیٹی کے لیے یہ فیصلہ ہرگز آسان نہ ہوگا۔

Getty Imagesبھمرا کا بولنگ ایکشن: اُن کی پہچان ہی اُن کی مشکل

آپ نے شاید گذشتہ ہفتوں کے دوران پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر کی بھمرا سے متعلق ایک ویڈیو دیکھی ہو گی جو تقریباً ایک سال پرانی ہے۔

اس میں وہ کہتے ہیں کہ سامنے کے ایکشن کے بولر کمر اور کندھے کی رفتار سے بولنگ کرتے ہیں جبکہ ’ہم سائیڈ آن بولر ہیں۔۔۔ سامنے کے ایکشن کے بولر کی جنگ کمر اُڑتی ہے، وہ جتنی مرضی کوشش کر لے وہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔‘

’میں نے بشپ، شین بونڈ، بھمرا کی بیک اڑتے دیکھی ہے۔ بھمرا کو اب یہ سوچنا ہے کہ میچ کھیلا، آف لیا، صحت یاب ہوا۔ اب اسے سنبھالنا پڑے گا، آپ اسے ہر کرکٹ کھلاؤ گے تو ٹوٹل ایک سال کے اندر یہ ٹوٹ کر فارغ ہو جائے گا۔ پانچ میں سے تین کھلاؤ، نکالو باہر۔‘

سوشل میڈیا پر بھی اس ویڈیو کو لے کر کافی تبصرے کیے گئے ہیں۔ پریارگ ورما نے لکھا کہ ’شعیب اختر، بہترین بولرز میں سے ایک، نے کیسے ایک سال قبل بھمرا کی انجری کی پیشگوئی کی تھی۔‘

نکیش روگھانی لکھتے ہیں کہ 2019 کے بعد سے جسپریت بھمرا نے آئی پی ایل کے 59 میچ کھیلے۔ اسی دوران انڈیا نے 71 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے۔ بھمرا نے ان میں سے صرف 16 کھیلے۔‘

ٹوئٹر پر عروشی سنگھ نے پریشان ہو کر سوال کیا ہے کہ ’مجھے معلوم نہیں ہم بھمرا اور جڈیجا کے بغیر کیسے سنبھل پائیں گے۔‘

یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ جسپریت بھمرا کا کیریئر ان کے کمر کے مسئلے کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے۔

سنہ 2019 میں وہ تین ماہ تک کھیل سے دور رہے جب انھیں ایک مائیلڈ سٹریس فریکچر کا سامنا کرنا پڑا۔ ماہرین کی رائے ہے کہ غیر روایتی بولنگ ایکشن سے کمر پر بہت زیادہ دباؤ پڑتا ہے۔

طبی اعتبار سے سٹریس فریکچر کے بعد کسی سرجری کی ضروری پیش نہیں آتی بلکہ یہ وقت اور آرام کے ساتھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔

سنہ 2022 میں 28 سالہ بھمرا نے تینوں فارمیٹس میں پانچ، پانچ میچ کھیل رکھے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ آئی پی ایل میں اپنی ٹیم ممبئی انڈینز کے لیے تمام 14 میچ کھیلنے کے لیے فِٹ تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بھمرا آج کے دور کے سب سے خطرناک بولرز میں شمار ہوتے ہیں۔ مگر ایشیا کپ میں ان کی کمی انڈیا کو کافی حد تک محسوس ہوئی ہے۔ پاکستان اور سری لنکا کے خلاف شکست کے بعد انڈیا ایشیا کپ کے فائنل میں نہیں پہنچ سکا تھا۔ اسی لیے انڈین کرکٹ بورڈ نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھمرا کی شمولیت کے حوالے سے فیصلے میں تاخیر کی۔

تاہم اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بھمرا فٹنس کے طویل مراحل سے گزریں گے اور اس میں کم از کم چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ بھمرا نے ایک مشکل بولنگ ایکشن اپنایا ہوا ہے جس میں وہ اپنے فرنٹ فٹ کی سمت کے کافی باہر سے گیند پھینکتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کا جسم 45 ڈگری سے زیادہ جھکا ہوتا ہے اور ان کی ڈیڑھ کی ہڈی پر زیادہ دباؤ پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کپتانی میں غلطیاں یا کمزور بولنگ: ایشیا کپ میں انڈین ٹیم کی کارکردگی اتنی خراب کیوں رہی؟

ارشدیپ سنگھ: 'خالصتان مہم انڈیا کے خلاف 'ففتھ جنریشن' کی جنگ ہے'

’اس مڈل آرڈر کو منزل نہیں، رہنما چاہیے‘: سمیع چوہدری کا کالم

عامر جمال: ’والد نے کہا پڑھائی کرو یا پھر کاروبار میں ہاتھ بٹاؤ‘

Getty Imagesان کے بولنگ ایکشن میں الگ بات کیا ہے؟

بھمرا کسی عام بولر کی طرح سائیڈ آن ایکشن سے بولنگ نہیں کراتے۔ جب وہ گیند پھینکتے ہیں تو بلے باز کے سامنے اُن کی چھاتی کُھلی ہوتی ہے جبکہ عموماً یہ تصور کیا جاتا ہے بلے باز کے سامنے بولر کا کندھا ہونا چاہیے۔

اس نایاب بولنگ ایکشن اور چھوٹے رن اپ کی ہی بدولت بھمرا بلے بازوں کو رفتار اور جارحیت سے مات دیتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسی کی وجہ سے ان کی لوئر بیک یا کمر پر ضرورت سے زیادہ دباؤ پڑتا ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ میں بھمرا کے ڈیبیو کے بعد سے ماہرین کو ڈر تھا کہ وہ اس ایکشن کے ساتھ زیادہ عرصے تک بولنگ نہیں کروا سکیں گے۔ لیکن گذشتہ پانچ برسوں کے دوران بھمرا ہر فارمیٹ میں کامیاب رہے ہیں اور کسی بھی کوچ نے انھیں بولنگ ایکشن بدلنے کا مشورہ نہیں دیا۔ نہ ہی بھمرا نے ان باتوں پر کان دھرے ہیں۔

نوجوانی میں فٹ رہنے سے ان کے جسم نے ان کا ساتھ دیا ہے۔ لیکن اب لگتا ہے کہ ان کا جسم مزید دباؤ برداشت نہیں کر سکے گا۔ اگر یہ انجری زیادہ سنجیدہ نہ ہوئی تو اسے آرام اور فزیو تھراپی سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر اس سے پوری لوئر بیک متاثر ہوتی ہے تو سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اس صورتحال میں بھمرا کے کرکٹ کیریئر کو طویل کرنا محض ان باتوں پر منحصر ہے کہ ان کے جسم کی زیادہ ضروریات ہیں اور اسے کیسے فٹ رکھا جا سکتا ہے۔ جتنا جلد بھمرا اپنے جسم کو سمجھ سکیں گے ان کی واپسی اتنی جلد ہو سکے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ دنوں میں وہ اپنے بولنگ ایکشن اور رن اپ تبدیلیاں کریں۔

شامی اور چاہار متبادل بننے کے امیدوار

چاہار ایک انجری کے بعد ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ دوسری طرف محمد شامی نے گذشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد سے کوئی میچ نہیں کھیلا ہے۔ کووڈ کے باعث وہ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے خلاف کوئی میچ نہیں کھیل سکے ہیں۔

دیپک چاہار نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میںاچھی بولنگ کرائی لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا انھیں نئی گیند دی جا سکتی ہے۔

آئی پی ایل کے دوران چنائی سپر کنگز کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے چاہار کو صرف آخر کے اوورز میں استعمال کیا جب بولرز کو عموماً زیادہ مار پڑتی ہے۔ نئی گیند کے بجائے چنائی کی ٹیم مینجمنٹ انھیں پرانی گیند دیتی تھی۔

Getty Images

انڈین ٹیم کے تجربہ کار سوئنگ بولر بھوونیشور کمار کو بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ مگر گذشتہ میچوں کے دوران انھیں آخر کے اوورز میں کافی مار پڑی ہے۔ حالیہ سیریز کے دوران ان کی یہ مشکل بڑھتی جا رہی ہے۔

گذشتہ چھ میچوں کے دوران آخر کے اوورز میں بھوونیشور کمار 12 رنز فی اوور کی اوسط اکانومی سے بولنگ کروا رہے ہیں۔ ان کی جگہ چاہار کو پرانی گیند کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن پھر انڈیا کو ایک بلے باز کم کھیلانا پڑے گا۔

ٹیم مینجمنٹ کے پاس ارشدیپ سنگھ اور ہرشل پٹیل جیسے نئے فاسٹ بولرز بھی ہیں۔ لیکن کیا شامی کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں موقع مل سکے گا؟

اطلاعات کے مطابق انڈیا کے اس وقت سب سے تجربہ کار فاسٹ بولر شامی کو گذشتہ سال سلیکٹرز کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ اب ٹی ٹوئنٹی کے منصوبوں کا حصہ نہیں ہوں گے۔ لیکن انھی سلیکٹرز نے شامی کو حیران کیا جب انھیں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے چن لیا گیا۔ بھمرا کی انجری کے پس منظر میں سلیکٹرز شامی سے متعلق اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہوئے۔

میچ پریکٹس کے بغیر شامی کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کھلانا ایک جوا ہوگا۔آئی پی ایل کے میچوں میں آخری اوورز میں انھیں مشکل میں دیکھا گیا۔ آئی پی ایل کے گذشتہ دو سیزنز کے دوران انھیں آخری اوورز میں 10 رنز فی اوور کی اوسط سے سکور پڑا ہے۔

سراج بھی دعویدار ہیں

اگر ٹیم کو آخر کے اوورز کے لیے کسی بولر کی تلاش ہے تو شاید شامی ایک بہتر متبادل نہیں ہوں گے۔ تاہم ان کے حق میں بات یہ ہے کہ انھیں آسٹریلوی پچز کا اچھا تجربہ ہے۔

اب بات کرتے ہیں محمد سراج کی جو کافی دیر سے ٹیسٹ ٹیم کا حصہ ہیں اور انھیں بھمرا کی انجری کے بعد جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شامل کیا گیا ہے۔

سراج رفتار کے اعتبار سے بھمرا جیسے ہیں مگر ان کی کارکردگی میں اتنا تسلسل نہیں۔ یہ بات رواں سال آئی پی ایل کے سیزن میں بھی سامنے آئی۔

حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ سراج نے آئی پی ایل میں ہر اوور میں اوسطاً 10 رنز دیے۔ انھوں نے انڈیا کے لیے 13 ٹیسٹ میچوں میں 40 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ انھیں 10 ون ڈے میچوں میں بھی انڈیا کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا ہے جن میں انھوں نے اب تک 13 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ انھوں نے پانچ ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں۔

محمد سراج تسلسل کے ساتھ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کروا سکتے ہیں۔ آسٹریلوی پچز کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ بولرز کی رفتار اہم ہوگی۔

انڈین ٹیم 6 اکتوبر کو پرتھ کے لیے روانہ ہو گی۔ ایک ہفتے تک کیمپ لگے گا اور اس کے بعد مغربی آسٹریلیا کی ٹیم کے خلاف وارم اپ میچ کھیلا جائے گا۔ اس کے علاوہ ورلڈ کپ میچوں سے قبل انڈیا نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف بھی وارم اپ میچز کھیلے گا۔ انڈیا کا ورلڈ کپ میں باقاعدہ آغاز 23 اکتوبر کو پاکستان کے خلاف پہلے میچ سے ہوگا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More