ایران احتجاج: سکول کی طالبات نے سرکاری اہلکار کو تقریر نہیں کرنے دی اور اسے ’نکل جانے‘ کا کہا

بی بی سی اردو  |  Oct 05, 2022

آن لائن پوسٹ کی جانے والی ایک نئی ویڈیو میں ایران میں سکول کی طالبات کو ملک کی طاقتور نیم فوجی بسیج فورس کے ایک رکن کو للکارتے اور اس کی تقریر کو روکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ملک بھر میں جاری حکومت مخالف مظاہرے اب کلاس رومز تک پھیل گئے ہیں۔

نوجوان لڑکیوں نے اپنے سروں سے سکارف اتار کر انھیں ہوا میں لہراتے ہوئے نعرے لگائے اور اس شخص کو کہا ’دفع ہو جاؤ، بسیجی۔‘ اس شخص سے کہا گیا تھا کہ وہ ان سے بات کرے۔

بی بی سی اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ اس فوٹیج کو منگل کو ہی شیراز میں فلمایا گیا تھا۔

بسیج نے ایک نوجوان خاتون کی حراست میں موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں پر قابو پانے میں سیکورٹی فورسز کی مدد کی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک دوسری فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص ’آمر مردہ باد‘ کا نعرہ لگا رہا ہے جب کہ شمال مغربی شہر سنندج میں لڑکیوں کا ایک گروہ وہاں سے گزر رہا ہے۔ اسی جگہ ایک بزرگ خاتون تالیاں بجا رہی ہیں جب کہ حجاب کے بغیر سکول کی طالبات سڑک پر احتجاج کرتے ہوئے ’آزادی، آزادی، آزادی‘ کے نعرے لگا رہی ہیں۔

https://twitter.com/KhosroKalbasi/status/1577583573510529025

ایران کے وزیر تعلیم یوسف نوری نے بدھ کو ’دشمن‘ پر الزام لگایا کہ وہ سکولوں اور یونیورسٹیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

اس دوران پراسیکیوٹر جنرل محمد جعفر منتظری نے کہا کہ حکام کو نوجوان ایرانیوں کے مظاہروں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ انٹرنیٹ دیکھ کر اس کے جھانسے میں آ گئے ہیں۔

ان دونوں افراد کے بات کرنے کے بعد ایران کی ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی (ہرانا) نے ایک ویڈیو کو شیئر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ یونیفارم اور سادہ لباس میں ملبوس سیکیورٹی اہلکار دارالحکومت تہران میں احتجاج کرنے والی سکول کی طالبات کے ایک گروہ کو دھکیل رہے ہیں۔

ایک اور کلپ میں، جسے مبینہ طور پر قریبی شہر کرج میں فلمایا گیا ہے، سکول کی طالبات چیختی ہوئی ایک شخص سے دور بھاگ رہی ہیں، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ سادہ لباس میں سیکیورٹی فورسز کا کوئی رکن ہے جو فٹ پاتھ پر موٹر سائیکل چلا رہا تھا۔

https://twitter.com/KhosroKalbasi/status/1577378452314931241

یہ مظاہرے ایک 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد سے شروع ہوئے ہیں جو 13 ستمبر کو تہران میں اخلاقی پولیس کی طرف سے حراست میں لیے جانے کے بعد کومہ میں چلی گئی تھیں۔ ان کو اس لیے حراست میں لیا گیا تھا کیونکہ انھوں نے مبینہ طور پر اس قانون کی خلاف ورزی کی تھی جو خواتین کو حجاب یا سکارف سے اپنے بال ڈھانپنے کا پابند بناتا ہے۔ وہ تین دن بعد ہسپتال میں دم توڑ گئی تھیں۔

ہلاک ہونے والی خاتون کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ افسران نے اس کے سر پر ڈنڈے مارے اور اس کا سر اپنی ایک گاڑی سے ٹکرایا۔ پولیس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ہے اور کہا ہے کہ اس کا 'اچانک ہارٹ فیل' ہو گیا تھا۔

پہلا احتجاج کرد آبادی والے شمال مغربی ایران میں ہوا، جہاں کی امینی رہائشی تھیں، اور پھر اس کے بعد وہ تیزی سے پورے ملک میں پھیل گیا۔

احتجاج میں نوجوان خواتین سب سے آگے رہی ہیں، لیکن پیر کے بعد سے سکول کی طالبات نے بھی بڑی تعداد میں مظاہروں میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے۔

ایک دن پہلے سیکورٹی فورسز نے کیمپس میں احتجاج کے جواب میں تہران کی مشہور شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کا مختصر محاصرہ کیا تھا۔ مبینہ طور پر درجنوں طلباء کو مارا پیٹا گیا اور ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انھیں کہیں لے جایا گیا۔

پیر کو ہی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی بدامنی پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے ایران کے بڑے دشمن امریکہ اور اسرائیل پر ’فسادات‘ کروانے کا الزام لگایا تھا۔ انھوں نے سیکیورٹی فورسز کی بھی مکمل حمایت کی، جن پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے درجنوں افراد کو ہلاک کرنے کا الزام لگایا ہے۔

منگل کے روز ایسی اطلاعات بھی آ رہی تھیں کہ جنوب مشرقی شہر زاہدان میں سیکیورٹی اہلکاروں اور حکومت مخالف مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 83 ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

ایران: مظاہروں میں ہلاک ہونے والی نوجوان خواتین جو اب اس مہم کا محور بن گئی ہیں

میں اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتا تھا لیکن ڈاکٹروں نے مجھے اندر جانے نہیں دیا، والد مہسا امینی

مہسا امینی: ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران 23 ہلاکتیں، سینکڑوں سیاسی و سماجی کارکن گرفتار

ایران میں مظاہرے اور مزید گرفتاریاں: ’اسلامی کونسل کی ویب سائٹ ہیک‘

زاہدان صوبہ سیستان بلوچستان کا دارالحکومت ہے، جس کی سرحدیں پاکستان اور افغانستان سے ملتی ہیں، اور اس میں سنی مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے۔

حکام نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز پر مسلح بلوچی علیحدگی پسندوں نے حملہ کیا تھا، جس کی شہر کی سب سے بڑی مسجد کے امام نے تردید کی ہے۔

جمعہ کو تشدد اس وقت شروع ہوا جب مظاہرین نے ایک پولیس سٹیشن کا گھیراؤ کیا اور پولیس اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کرنا شروع کر دی۔

سیستان بلوچستان میں پولیس کے ایک سربراہ نے ایک 15 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی تھی جس کے بعد شہر میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔

WANA NEWS AGENCY via REUTERSایران کے سپریم لیڈر نے سیکیورٹی فورسز کو کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے

منگل کو ایک اور پیش رفت میں، سرکاری میڈیا نے تہران کے چیف پراسیکیوٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ نے 16 سالہ لڑکی نیکا شکرامی کی موت کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جو 20 ستمبر کو دارالحکومت میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے کے بعد لاپتہ ہو گئی تھی۔

اس کی خالہ نے کہا ہے کہ نیکا نے اپنے آخری پیغام میں ایک دوست کو بتایا تھا کہ پولیس اس کا پیچھا کر رہی ہے۔ اس کے اہل خانہ کو 10 دن بعد اس کی لاش ایک حراستی مرکز کے مردہ خانے سے ملی تھی۔

خاندان کے قریبی ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ اس سے پہلے کہ وہ نیکا کو دفن کر سکیں، سیکیورٹی فورسز نے اس کی لاش چرا کر اسے ملک کے مغرب میں واقع اس کے والد کے آبائی شہر خرم آباد سے 40 کلومیٹر دور ایک گاؤں میں خفیہ طور پر دفن کر دیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More