شدید ٹھنڈے کمرے میں رہنے سے آپ کے جسم پر کیا اثر پڑتا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Nov 22, 2022

اگر میرے سامنے شدید ٹھنڈ کی بات کی جائے تو مجھے قطب شمالی کے لوگوں کا خیال آتا ہے جن کی داڑھیوں پر برف جمی ہوئی ہوتی ہے یا ایسے کوہ پیماؤں کا جو ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندیوں تک پہنچتے ہیں۔

مجھے اس دوران فراسٹ بائٹ سے ان کی انگلیاں کالی ہونے کا خیال بھی آتا ہے اور ان کے ہائپوتھرمیا سے متاثر ہونے کا سوچ کر جھرجھری بھی آتی ہے۔

اس لیے جب مجھے ایک سرد خانے کا تجربہ کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تو مجھے خاصا تعجب ہوا کیونکہ یہاں درجہ حرارت صرف 10 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ جی ہاں، 10 ڈگری سینٹی گریڈ۔

میرے لیے یہ انتہائی متوازن درجہ حرارت ہے، خون جما دینے والا تو بالکل بھی نہیں ہے۔ آرکٹک میں ٹھنڈ کے تو قریب بھی نہیں ہے۔ یقیناً ہمیں اپنے جسم کو کسی قسم کی مشکل میں ڈالنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ ٹھنڈا درجہ حرارت درکار ہو گا؟ میں غلط تھا۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے پروفیسر ڈیمیئن بیلے نے مجھے بتایا کہ ’یہ سننے میں تو متوازن لگتا ہے لیکن یہ جسمانی طور پر ایک بڑا چیلنج ہے۔‘

انھوں نے مجھے اپنی لیبارٹری میں مدعو کیا تاکہ وہ سرد گھروں کے ہمارے جسموں پر ہونے والے اثرات کے بارے میں کھوج لگا سکیں اور یہ جان سکیں کہ اتنے متوازن درجہ حرارت ہمارے جسم کے لیے خطرناک کیوں ثابت ہو سکتے ہیں۔

پروفیسر بیلے نے کہا کہ ’10 ڈگری وہ اوسط درجہ حرارت ہے جس میں لوگوں کو رہنا پڑے گا اگر وہ اپنے گھروں کو گرم رکھنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔‘

اور کچھ ہی دیر میں مجھے معلوم ہونے والا تھا کہ 10 ڈگری سینٹی گریڈ کا ہمارے دل، پھیپھڑوں اور دماغ پر کتنا برا اثر پڑ سکتا ہے۔

مجھے ایک ماحولیاتی چیمبر میں لے جایا گیا جو ان کی لیبارٹری کے ایک کونے میں تھا۔ اس کمرے کی دیواریں لوہے کی تھیں اور ان پر بھاری اور موٹے دروازے نصب تھے۔ اس ایئر ٹائٹ روم میں سائنسدان اپنی مرضی سے درجہ حرارت، نمی کی مقدار اور آکسیجن کی سطح سیٹ کر سکتے ہیں۔

یہاں داخل ہوتے ہی پہلے 21 ڈگری کی ہوا کا جھونکا میرا استقبال کرتا ہے۔ پلان یہ ہے کہ شروعات 21 ڈگری سے کرنی ہیں اور پھر دھیرے دھیرے درجہ حرارت کو 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرانا ہے تاکہ اس دوران جائزہ لیا جا سکے کہ میرے جسم کا ردِ عمل کیسا ہوتا ہے۔

پہلے تو میرے جسم پر بے شمار انتہائی جدید آلات نصب کیے گئے تھے تاکہ میرے جسم کا انتہائی باریک بینی سے تجزیہ کیا جا سکے۔  

میری چھاتی، بازو اور ٹانگوں پر بے شمار مانیٹرز لگائے گئے تھے تاکہ میرے جسم کے درجہ حرارت کا اندازہ لگایا جا سکے، دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کا بھی اندازہ ہو سکے۔

پروفیسر بیلے نے مجھے کہا کہ ’ایسا لگ رہا ہے جیسا تم سٹار وارز کے کسی کردار کی طرح ہو۔‘ اس کے ساتھ ہی انھوں نے میرے جسم پر ایک اور سینسر لگایا جس کے ساتھ تار بھی نصب تھی۔

مجھے ایک ہیڈسیٹ بھی پہنایا گیا جس کے ذریعے میرے دماغ میں خون کے بہاؤ کو مانیٹر کیا جانا تھا۔ اس دوران میری پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔ ایک الٹراساؤنڈ کے ذریعے میری گردن میں موجود کیروٹڈ شریانوں کا جائزہ لیا گیا۔ (دماغ تک پہنچنے والے خون کی آواز مجھے بہت حوصلہ دے رہی تھی) اور اس دوران میں بڑی ٹیوبز میں سانس باہر نکال رہا تھا اور اس کا بھی جائزہ لیا جا رہا تھا۔

BBC

یہ تمام پیمائشیں مکمل ہوئیں۔ اب سائنسدانوں کو یہ معلوم ہو چکا تھا کہ میرا جسم 21 ڈگری سینٹی گریڈ میں کیسے کام کرتا ہے۔ اب پنکھے چلنا شروع ہوتے ہیں اور چیمبر کا درجہ حرارت کم ہونے لگتا ہے۔

پروفیسر بیلے نے مجھے بتایا کہ ’آپ کا دماغ آپ کے خون کا ذائقہ چکھ رہا ہے اور یہ اس کے درجہ حرارت کا بھی جائزہ لے رہا ہے اور اب آپ کا دماغ جسم کے دوسرے حصوں کو سگنلز بھیج رہا ہے۔‘

ان کا مقصد میرے اعضائے رئیسہ یعنی جگر اور دل کا درجہ حرارت 37 ڈگری کے قریب رکھنا ہے۔ مجھے تاحال یہ معلوم نہیں تھا کہ میرے جسم کے اندر اس کے کیا اثرات پڑ رہے ہیں لیکن جسم کے باہر اس کے آثار نظر آنے لگے تھے۔  

جب تک کمرے کا درجہ حرارت گر کر 18 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا تو مجھے پسینہ آنا بند ہو چکا تھا اور میرے بازوؤں پر موجود بال کھڑے ہونے لگے تھے تاکہ وہ میرے جسم میں حرارت برقرار رکھ سکیں۔

پروفیسر بیلے پنکھوں کی بڑھتی آواز کے باعث چیخ کر کہتے ہیں کہ ’ہمیں سائنس بتاتی ہے کہ 18 ڈگری کے بعد مسائل شروع ہوں گے، یہ حد ہے۔۔۔ اب آپ کا جسم اس بنیادی درجہ حرارت کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

اب میری انگلیاں سفید اور ٹھنڈی ہونا شروع ہوئیں۔ میرے ہاتھوں میں موجود خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں، تاکہ وہ میرا گرم خون میرے انتہائی اہم اعضا کے لیے محفوظ رکھ سکیں۔ اس عمل کو ویسوکانسٹرکشن کہتے ہیں۔

ایسا زیادہ تیزی سے ہوتا اگر میری صنف مختلف ہوتی۔ یونیورسٹی آف پورٹسماؤتھ کی ڈاکٹر کلیئر ایگلن بتاتی ہیں کہ ’خواتین کو زیادہ ٹھنڈ لگتی ہے کیونکہ ایسٹروجن ہارمونز کے باعث ان کے ہاتھوں اور پیروں میں موجود خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ٹھنڈ جلدی لگنے لگتی ہے۔‘

مجھ پر پہلی مرتبہ کپکپی 11 اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ پر طاری ہوئی۔ یہ میرے پٹھوں کا حرکت میں آ کر گرمی پیدا کرنے کا طریقہ تھا۔

10 ڈگری سینٹی گریڈ پر پنکھے بند ہو گئے۔ اب میں بے چین محسوس کر رہا تھا لیکن مجھے بہت زیادہ ٹھنڈ بھی نہیں لگ رہی تھی۔ سائنسدانوں نے تمام پیمائشیں بھی دوبارہ لیں اور بہت جلد میرے لیے یہ واضح ہو چکا تھا کہ 10 ڈگری سینٹی گریڈ کے میرے جسم پر ہونے والے اثرات کے بارے میں میری ابتدائی رائے غلط تھی۔

پروفیسر بیلے کا کہنا ہے کہ ’آپ کا جسم 10 ڈگری پر اچھا خاصا مصروف ہوتا ہے۔‘

جس بات پر مجھے سب سے زیادہ جھٹکا لگا وہ یہ تھا کہ میرے دماغ تک پہنچنے والے خون میں کتنی تبدیلی آئی تھی اور اب میں ایک شبیہ پہچاننے والی گیم کو مکمل کرنے میں ضرورت سے زیادہ وقت لگا رہا تھا۔

میں اپنا سکول کا کام کبھی بھی اس سرد کمرے میں نہیں کرنا چاہوں گا، یا اگر مجھے ڈیمینشیا یعنی بھولنے کی بیماری ہو تو میں ایسے کسی کمرے کے قریب بھی نہ آؤں۔

پروفیسر بیلے کہتے ہیں کہ ’آپ دماغ کو کم خون بھیج رہے ہیں اس لیے دماغ کو کم آکسیجن اور گلوکوز مل رہا ہے اور اس کا نقصان یہ ہے کہ یہ آپ کی ذہنی صلاحیت پر برا اثر ڈال رہا ہے۔‘

تاہم میرا جسم اپنا اہم مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے اور اس نے اپنا بنیادی درجہ حرارت برقرار رکھا ہوا ہے۔ بس ایسا کرنے کے لیے اسے زیادہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔

میرا جسم گرم خون پورے جسم میں پمپ کر رہا ہے اور ایسا زیادہ شدت کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ اس دوران میرا دل تیزی سے دھڑک رہا ہے اور بلڈ پریشر آسمانوں سے باتیں کر رہا ہے۔

پروفیسر بیلے کہتے ہیں کہ ’بلڈ پریشر میں اضافہ سٹروک کا خطرہ بڑھا دیتا ہے، اس کے باعث دل کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے۔‘

Getty Images

وہ بتاتے ہیں کہ اس دوران آپ کا خون بھی تبدیل ہو جاتا ہے اور یہ ’شیرے کی طرح گاڑھا ہو جاتا ہے‘ جس سے شریانوں میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دل کے دورے پڑنے کا زیادہ امکان سردیوں میں ہوتا ہے۔

پروفیسر بیلے نے مجھے بتایا کہ خوش قسمتی سے میری ’دل کی صحت بہترین ہے‘ لیکن یہ اندرونی تبدیلیاں ان کے لیے خطرہ ہیں جو عمر رسیدہ ہیں یا جن کی دل کی صحت پہلے ہی خراب ہے۔

پروفیسر بیلے کا کہنا ہے کہ ’ہمیں شواہد سے علم ہوا ہے کہ سردی گرمی سے بہت زیادہ خطرناک ہے، گرمی لگنے کی نسبت سردی لگنے سے زیادہ اموات لاحق ہوتی ہیں۔

’اس لیے میرے نزدیک اس بارے میں زیادہ آگاہی پھیلانی چاہیے کہ سردی سے منسلک خطرات کیا ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

کیا وجہ ہے کہ سردیوں کے موسم میں رومانس کرنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے؟

جاڑوں کے چٹخارے

سردیوں میں پیشاب زیادہ آنے کی اصل وجوہات کیا ہیں؟

سرد موسم کو ہنسی خوشی گزارنے کے پانچ نسخے

سردی وائرسز کے لیے بھی موزوں درجہ حرارت فراہم کرتی ہے

موسمِ سرما عام طور پر ایسے انفیکشنز کے لیے معاونت فراہم کرتی ہیں جو سردیوں کے مہینوں میں پنپتے ہیں جیسے زکام وغیرہ۔ اسی طرح پھیپھڑوں میں انفیکشن ہونے کے باعث نمونیا ہو سکتا ہے جو سرد موسم میں بہت عام ہے۔

وائرسز اس موسم میں جلدی اس لیے بھی پھیلتے ہیں کیونکہ ہم زیادہ تر بند کمروں میں رہتے ہیں اور وہیں ملتے جلتے ہیں اس لیے وائرسز کو باہر نکالنے کے لیے عام طور پر تازہ ہوا کا گزر نہیں ہوتا۔

سرد موسم وائرسز کو جسم کے باہر بھی زندہ رہنے کا موقع دیتا ہے اور سرد ہوا میں وائرس کو قید کرنے والی نمی بھی کم ہوتی ہے۔

Getty Images

ییل یونیورسٹی میں امیونوبائیولوجسٹ پروفیسر اکیکو اواساکی کہتی ہیں کہ ’نمی کے بغیر ہوا وائرسز کو زیادہ دور پہنچانے میں مدد کرتی ہے۔‘

انھوں نے ایسے تجربات بھی کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آپ سرد ہوا میں سانس لیں تو یہ آپ کے ناک میں مدافعتی نظام کو کیسے متاثر کرتا ہے۔

پروفیسر اواساکی نے مجھے بتایا کہ ’ایسے سرد درجہ حرارت پر آپ کا مدافعتی نظام کم مؤثر ہو جاتا ہے اور اس کے باعث وائرسز کے لیے آپ کی ناک میں بڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔‘

اپنے جسم کو گرم رکھنے کے لیے کیا کیا جائے؟

ایک مثالی دنیا میں ہم چاہیں گے کہ ہمارے کمرے کا درجہ حرارت 18 ڈگری ہی رہے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو سکے تو پرفیسر بیلے کہتے ہیں کہ ’تو آپ کو ایسے تیاری کرنی چاہیے جیسے آپ کوئی پہاڑ سر کرنے سے پہلے کرتے ہیں۔

ان کی جانب سے بتائی گئی احتیاطیں درجہ ذیل ہیں:

ایسے کپڑوں کا استعمال کریں جو آپ کو گرم رکھنے میں مدد کریں، جیسے اون کے بنے ہوئے کپڑےگلوز اور گرم جرابیں ٹوپی سے زیادہ اہم ہیں (لیکن اونی ٹوپی بھی مدد کر سکتی ہے)ایسے کھانے کھائے جائیں جن میں کاربوہائیڈریٹس کی شرح زیادہ ہوجسم کی خودکار گرمی پیدا کرنے کے لیے حرکت کی جائے نہ کہ ایک ہی جگہ بیٹھ کر ٹی وی دیکھا جائے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More