جلسے کے لیے اسلام آباد سے گزرنے کی اجازت دیں، پی ٹی آئی کی درخواست

اردو نیوز  |  Nov 22, 2022

پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ راولپنڈی جلسے اور دھرنے میں شرکت کے لیے اسلام آباد سے گزرنے کی اجازت دی جائے۔

منگل کو پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے ہیلی کاپٹر کو پریڈ گراؤنڈ اسلام آباد میں لینڈینگ اور ٹیک آف کی بھی اجازت دی جائے۔

تحریک انصاف نے دھرنے اور جلسے میں شرکت کرنے والے کارکنان کو حراساں کرنے سے روکنے کا حکم جاری کرنے کی بھی عدالت سے استدعا کی ہے۔

پی ٹی آئی نے احتجاج کا بنیادی حق استعمال کرنے والے کارکنان کو سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ عدالت ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو مناسب سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم جاری کرے۔

پی ٹی آئی نے درخواست میں موقف اپنایا کہ اعلٰی عدالت کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے عدم اعتماد کی تحریک کی کارروائی میں شریک ہوئے تھے، موجودہ امپورٹڈ حکومت تمام اہم محاذوں پر ناکام ہوچکی ہے اور قانون و آئین پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔

پیر کو تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے کہا تھا کہ پاکستان بھر سے تمام قافلے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچیں گے اور اس کے لیے مری روڈ کا انتخاب کیا گیا ہے۔

لاہور میں پی ٹی آئی کے مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہونے جا رہا ہے، مری روڈ پر تمام لوگ جمع ہوں گے اور علامہ اقبال پارک میں خیمہ بستی بنائی جائے گی۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ وہ تمام پاکستانی جو حقیقی آزادی پر یقین رکھتے ہیں ان کو دعوت ہے کہ راولپنڈی میں عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر کامران بنگش نے پیر کو ایک انٹرویو میں اردو نیوز کو بتایا تھا کہ 26 نومبر کو آزادی مارچ کے سلسلے میں راولپنڈی میں جمع ہونے کی کال کے بعد تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ فی حلقہ تین دن کھانے پینے اور ٹرانسپورٹ پر 12 سے 15 لاکھ تک اخراجات کا تحمینہ لگایا گیا ہے۔

صوبائی قیادت کی جانب سے صوبے کے وزرا، مشیر، معاون خصوصی اور اراکین اسمبلی کو آزادی مارچ کے لیے پیسے جمع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کارکنوں کے کھانے پینے اور ٹرانسپورٹ کا خرچہ اٹھایا جاسکے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More