کیا سمری کے بغیر چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی ممکن ہے؟ 

اردو نیوز  |  Nov 22, 2022

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت 29 نومبر کو ختم ہو رہی ہے جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل پیر کو شروع ہو چکا ہے۔

پیر کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے ایوان کو بتایا کہ ’آج چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے وزیراعظم آفس کا خط وزارت دفاع کو موصول ہو گیا ہے اور اس بارے میں جی ایچ کیو کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔‘

آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت صدر مملکت وزیراعظم کی تجویز پر چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی کرتے ہیں تاہم اس اہم تعیناتی سے قبل وزیراعظم آفس کو سمری تاحال موصول نہیں ہوئی۔

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے گزشتہ روز نجی ٹی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگلے دو سے تین دنوں میں آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل مکمل ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سمری آئے یا نہ آئے دونوں صورتوں میں تعیناتی کا عمل مکمل ہو جائے گا۔‘

’پہلی صورت کہ سمری نہیں آئی گی میں نہیں سمجھتا ہے کہ اسے فرض کرنا چاہیے، یہ سمری ہر صورت وزیراعظم آفس کو موصول ہو جائے گی۔‘

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’سمری نہ آنا ایک بہت بڑی ناکامی ہے اور آئین کی خلاف ورزی ہے اور پھر وزیراعظم خود اس کا نوٹس لے کر ایکشن لے سکتے ہیں لیکن وہ سارے عمل کے بارے میں ابہام پیدا کر دے گا۔‘

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے مطابق اگلے دو سے تین دنوں میں آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ (فائل فوٹو: پی آئی ڈی)وزیراعظم آفس کو سمری کتنے دنوں میں موصول ہوتی ہے؟ سابق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی کے مطابق ’آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل دو سے تین دن کا بھی نہیں، سمری بائے ہینڈ وزارت دفاع جاتی ہے اور اگلے آدھے گھنٹے میں یہ سمری وزیراعظم آفس موصول ہو جاتی ہے اور اس کے بعد وزیراعظم کابینہ، آرمی چیف یا وزیر دفاع سے مشاورت کرنا چاہیں تو کرتے ہیں۔‘

انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’جی ایچ کیو خود بھی سمری وزارت دفاع کو بھیج دیتا ہے اور اکثر وزیراعظم آفس وزارت دفاع کے ذریعے جی ایچ کیو سے سمری منگوا بھی لیتا ہے، ماضی میں دونوں مثالیں موجود ہیں۔‘

نعیم خالد لودھی کا کہنا تھا کہ ’یہ بات درست ہے کہ سمری نہ بھیجنا غیرآئینی ہے لیکن آئین میں کہیں ذکر نہیں کہ جب سمری مانگی جائے تو دو گھنٹے کے اندر سمری وزیراعظم کو بھیجی جائے، سمری بھیجنے سے کسی نے انکار نہیں کیا اور نہ ہی سمری وہ روک سکتے ہیں۔‘

کیا سمری کے بغیر تعیناتی ہو سکتی ہے؟ سابق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں دو تعیناتیاں ایسی ہوئی ہیں جو سمری کے بغیر تھیں۔ سابق صدر پرویز مشرف جب آرمی چیف تعینات ہوئے تھے تب سمری بعد میں تیار کی گئی تھی اور 12 اکتوبر کی رات جنرل ضیا الدین بٹ کی تعیناتی کی سمری کے بغیر کوشش کی گئی۔‘

’اس وقت اس تعیناتی کو کہیں چیلنج نہیں کیا گیا لیکن صدر مملکت سمری کے بغیر تعیناتی پر وزارت دفاع سے کمنٹس نہ ہونے کی نشاندہی کر کے نوٹیفیکشن روک سکتے ہیں اور معاملہ واپس وزیراعظم کو بھیج سکتے ہیں۔‘

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت 29 نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔ (فائل فوٹو: ٹوئٹر)انہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم آفس جوائنٹ چیف سٹاف اور چیف آف آرمی سٹاف کے لیے وزارت دفاع سے نام مانگتا ہے اور جوائنٹ سٹاف کے لیے روایت رہی ہے کہ آرمی، نیوی اور ائیر فورس سے باری باری تعینات ہوتے ہیں تاہم سابق صدر پرویز مشرف نے اس روایت کو ختم کر دیا تھا لیکن اس کے رولز میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔‘

سابق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی کے مطابق ’سمری کے بغیر تعیناتی اندھی تعیناتی ہوتی ہے، یہ غیر آئینی تو نہیں ہو گی لیکن یہ اختیارات کا غلط استعمال ہو گا کیونکہ سمری میں صرف نام نہیں ہوتے اس میں تمام سروسز ریکارڈ ہوتا ہے، سنیارٹی لسٹ ہوتی ہے، کیریئر کا تمام ریکارڈ موجود ہوتا ہے جو جی ایچ کیو کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہوتا اور اگر آپ اس سب کو دیکھے بغیر اپنا اختیار آنکھیں بند کر کے استعمال کرتے ہیں تو وہ اختیارات کا غلط استعمال ہے۔‘

سنیارٹی لسٹ کیسے تیار کی جاتی ہے؟ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی نے بتایا کہ ’حاضر سروس افسران کی سنیارٹی کی بنیاد پر لسٹ بھیجی جاتی ہے، سمری بھیجنے کی تاریخ نہیں بلکہ جس روز عہدہ خالی ہو گا اس روز حاضر سروس افسران کی سنیارٹی لسٹ کے مطابق سمری بھیجی جاتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر وزیراعظم سمجھیں تو اس لسٹ میں میں موجود ناموں کے علاوہ بھی نام منگوا سکتے ہیں لیکن تعیناتی کے لیے حاضر سروس ہونا ضروری ہے۔‘

شاہد خاقان عباسی نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’سمری نہ آنا ایک بہت بڑی ناکامی ہے اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’موجودہ قانون کے مطابق سمری میں وہ نام ہی شامل ہوں گے جو آفس خالی ہونے کے وقت حاضر سروس ہوں گے اور وزیراعظم سمجھیں تو سمری میں موجود ناموں کے علاوہ جونیئر افسران کا نام بھی وہ منگوا سکتے ہیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More