کیا ٹوئٹر اور فیس بک کا دور ختم ہو رہا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Nov 23, 2022

Getty Images

آپ کو معلوم ہوگا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں حالات اب پہلے جیسے نہیں رہے۔

گذشتہ ماہ ایپل، نیٹ فلکس، ایمازون، مائیکروسافٹ، میٹا (فیس بُک کی مالک کمپنی) اور الفابیٹ (یعنی گوگل) سمیت اس صنعت کے بڑے ناموں کو امریکی سٹاک مارکیٹ پر گذشتہ 12 ماہ کے دوران تین ٹریلین (30 کھرب) ڈالر سے زیادہ کا نقصان جھیلنا پڑا۔

ای کامرس کمپنی ایمازون نے اعلان کیا کہ وہ دنیا بھر میں 21 نومبر تک اپنے عملے سے ایک لاکھ چھتیس ہزار افراد کی کٹوتی کرنے جا رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار ویب سائٹ Layoffs.fyi نے دیے جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں نوکریوں میں کٹوتی پر نظر رکھتی ہے۔

سب سے نمایاں کٹوتیاں میٹا نے کیں جس نے 11 ہزار کا عملہ فارغ کر دیا جبکہ ٹوئٹر نے اب تک 37 ہزار لوگ اب تک نکالے ہیں (جو اس کے پورے عملے کا نصف بنتا ہے)۔

اس سے یہ سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں کہ دنیا کے دو بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور ٹوئٹر کا مستقبل کیا ہے۔ کیا یہ ہماری توقعات کے برعکس کمزور ہو چکے ہیں؟

Getty Imagesفیس بک اور ٹوئٹر آخر کتنے خطرے میں ہیں؟

اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشی بحران کی وجہ سے ٹیکنالوجی کو بھی اتنا ہی نقصان پہنچا ہے جتنا کسی دوسرے شعبے کو۔

اس کا مطلب ہے کہ کاروبار میں پھر کم پیسہ لگایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اشتہارات دینے میں کمی آئی ہے۔

نیو یارک کولمبیا بزنس سکول میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کے ماہر پروفیسر جوناتھن نی کا کہنا ہے کہ ’جو کوئی بھی اس وقت ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری لانے کی کوشش کر رہا ہے، اسے فی الحال بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔‘

پروفیسر نی کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنیادی طور پر تشہیر کے لیے قائم کاروبار بن گئے ہیں۔ ’اگر آپ کو انحصار اس آمدن پر ہوتا ہے تو معاشی بحران سے آپ کے لیے ماحول سازگار نہیں رہتا۔‘

اکتوبر میں جاری میٹا کی حالیہ مالیاتی رپورٹ کے مطابق اشتہارات کی آمدن میں کمی سے کمپنی کے لیے مشکلات بڑھی ہیں تاہم اس میں ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز کے استعمال میں اضافہ اور بڑھتا مقابلہ بھی اہم عوامل میں سے ہے۔

ارب پتی ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر خریدے جانے کے بعد اسے سٹاک مارکیٹ سے ہٹایا جا چکا ہے۔ ایلون مسک کے متنازع فیصلوں اور جارحانہ قیادت کے ہوتے ہوئے ٹوئٹر کو بھی ایسے ہی چیلنجز کا سامنا ہے۔

ایلون مسک نے صارفین کے ایک پول کے بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بحال کر دیا۔ آٹھ جنوری کو کیپیٹل ہِل ہنگامہ آرائی کے بعد ٹوئٹر نے ان پر پابندی لگا دی تھی۔

مگر مسک کے آنے سے پہلے ہی ٹوئٹر کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بج چکی تھیں۔ اکتوبر میں خبر رساں ادارے روئٹرز کی جانب سے حاصل کیے گئے دستاویزات کے مطابق کووڈ کی عالمی وبا کے بعد سے ان لوگوں کی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے جو بہت زیادہ ٹویٹ کیا کرتے تھے (ہیوی ٹویٹرز سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہفتے میں چھ سے سات بار لاگ اِن کرتے ہیں اور ہفتے میں تین سے چار بار ٹویٹ کرتے ہیں)۔

روئٹرز نے ایک ٹوئٹر ریسرچر کے حوالے سے بتایا کہ ٹوئٹر کو زیادہ استعمال کرنے والے صارفین مجموعی صارفین کا 10 فیصد سے بھی کم حصہ بنتے ہیں مگر 90 فیصد تمام ٹویٹس کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور پلیٹ فارم کی عالمی آمدن میں ان کا نصف حصہ ہوتا ہے۔

مسک کے آنے سے ٹوئٹر کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ تین نومبر کو شائع ایم آئی ٹی کے محققین کی ایک تحقیق کے مطابق ٹوئٹر نے اس دورانیے میں تقریباً دس لاکھ صارفین کھو دیے ہیں۔

Getty Imagesسوشل میڈیا ایپس کا لائف سائیکل

کچھ ماہرین کی رائے میں یہ سوشل میڈیا کمپمنیوں کے قدرتی لائف سائیکل کا حصہ ہوتا ہے، جن میں کسی انسان کی طرح ان کی زندگی کے دنوں کی الٹی گنتی شروع ہوجاتی ہے۔

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور میں کمیونیکیشنز اور نیو میڈیا کی ماہر ڈاکٹر نتالیا پانگ نے کہا ہے کہ ’ہر پلیٹ فارم کی اپنی پیداوار، بلوغت اور تنزلی کا راستہ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کے کیس میں ان کا زوال تب شروع ہوتا ہے جب نئی پلیٹ فارم ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔‘

ڈاکٹر پانگ کی رائے ہے کہ فیس بک اور ٹوئٹر نے جب کورونا کی عالمی وبا میں لاکھوں لوگوں نے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کا سامنا کیا اور ان کی نقل و حرکت پر پابندی لگی تو ان کے استعمال میں بہت زیادہ اضافہ ہونے لگا۔

’عالمی وبا کے دوران ٹیکنالوجی کمپنیوں نے ترقی کی کیونکہ اس سے نمٹنے کا ایک طریقہ ڈیجیٹائزیشن تھا۔‘

مگر اب وہ کہتی ہیں کہ معاملات اپنی جگہ پر واپس آنے لگے ہیں۔

برطانیہ میں یونیورسٹی آف شفیلڈ کی ڈاکٹر لینروئی جیا کو فیس بک اور ٹوئٹر کے زوال کی واضح علامات نظر آ رہی ہیں۔ ’ہم نے ان پلیٹ فارمز کی لمبی عمر کو نظر انداز کیا ہے۔ صارفین کو اب ان میں موجود مسائل کا علم ہونے لگا ہے اور وہ انھیں جانچ کر دوسرے پلیٹ فارمز کی طرف بڑھنے لگے ہیں۔‘

میٹا کے مطابق 2022 کے تیسرے سہ ماہی کے اعداد و شمار کے تحت فیس بُک کے صارفین کی تعداد تقریباً تین ارب ہے۔ یعنی فیس بُک صارفین کے اعتبار سے سب سے زیادہ آبادی والا سوشل میڈیا نیٹ ورک ہے۔

فروری میں میٹا نے اعلان کیا تھا کہ 18 سالہ تاریخ میں پہلی بار اس کے صارفین کم ہوئے ہیں۔ اس خبر سے اس کے شیئرز کی مالیت میں نمایاں کمی آئی تھی۔

سال 2019 کے بعد سے ٹوئٹر نے ایسا طریقہ اپنایا ہے جس کے مطابق صرف اتنے یومیہ صارفین گنے جاتے ہیں جو اشتہارات دیکھتے ہیں۔ مجموعی صارفین کی گنتی نہیں رکھی جاتی۔ اکتوبر میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد 23 کروڑ 80 لاکھ تھی اور اس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تاہم اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کہ ان پلیٹ فارمز کے استعمال کا مقصد بدل رہا ہے۔ خبروں اور حالاتِ حاضرہ کے بجائے لوگوں کی بڑھتی دلچسپی بالغ مواد اور کرپٹو کرنسی میں ہے۔ اس متنازع مواد کی وجہ سے اشتہارات دینے والی کمپنیاں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتی ہیں۔

برطانیہ میں لنکاسٹر یونیورسٹی میں ماہر معیشت ریناڈ فوکارڈ نے کہا ہے کہ ملکوں کی حکومتیں نگرانی بڑھا رہی ہیں جس سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے درمیان مقابلہ بڑھ گیا ہے اور ان کی پیداوار پر قدغنیں لگی ہیں۔

فوکارڈ نے کہا کہ ’حالیہ برسوں میں امریکہ اور یورپی یونین نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے اپنی حریف کمپنی کو خریدنا مشکل بنا دیا ہے۔ ماضی میں فیس بُک نے انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو خرید لیا تھا۔‘

’صارفین اور آمدن کی تلاش میں اب مزید کمپنیوں کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔‘

عام طور پر بڑی سوشل میڈیا کمپنیاں بھی غائب ہو جاتی ہیں اور لوگوں کے استعمال میں نہیں رہتیں۔

سب سے مشہور کیس مائی سپیس کا ہے جو سنہ دو ہزار میں عالمی صارفین والی پہلی سوشل میڈیا کمپنی تھی۔ سنہ 2007 میں اس کے 30 کروڑ صارفین تھے۔

مگر جب اس کا مقابلہ فیس بک سے ہوا تو اس کی مقبولیتختم ہو گئی۔ اب یہاں آن لائن صارفین کے ساتھ ساتھ میوزک سٹریمنگ سروسز بھی ہیں جس کے دنیا بھر صرف 60 لاکھ صارفین رہ گئے ہیں۔

اسی دہائی کے دوران گوگل کا حمایت یافتہ اورکٹ دنیا کا سب سے بڑا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بن گیا تھا۔ پھر مارک زکربرگ کے فیس بُک سے اس کی ٹکر ہوئی اور 2014 کے دوران یہ پلیٹ فارم بند ہوگیا۔

ماہرین مستقبل کے بارے میں زیادہ پُرامید نہیں۔

Getty Imagesسائبر رپورٹر جو ٹائڈی کا تجریہ

یہ خیال دلچسپ ہے کہ سوشل نیٹ ورکس کا بھی ایک لائف سائیکل ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کی کمپنیوں کے قبرستان پر نظر دوڑانے پر آپ اس خیال پر یقین کر لیں گے۔

نیبو، مائی سپیس اور وائن۔۔۔ تمام سوشل نیٹ ورک آئے اور غائب ہوگئے۔ مگر ان کمپنیوں نے بقا کے لیے خود کو بدلا ہے۔

فیس بُک اس کی بڑی مثال ہے۔ اس نے غیر متعلقہ ہونے سے پہلے انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو خرید لیا۔ اگرچہ فیس بک کی اپنی پیداوار اور مقبولیت میں کمی آئی ہے لیکن واٹس ایپ اور انسٹاگرام میں دلچسپی صرف بڑھی ہے۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ٹوئٹر آف لائن ہوجائے گا یا اس کے صارفین کہیں اور چلے جائیں گے۔ لیکن ہمیں ایسا نہیں لگتا۔

یہ پلیٹ فارم اتنے ہی کامیاب اور اچھے ہوتےہیں جتنے کہ ان پر موجود صارفین۔ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ان نیٹ ورکس کی طاقت اور اثر و رسوخ کی جگہ لینا اور متبادل پلیٹ فارم پر منتقل ہونا مشکل ہے۔

بہت کم ایسا ہوتا ہے جیسے ٹک ٹاک نے بڑے ناموں کو ٹکر دی۔ لیکن ہم نے ایسی ہی دوڑ کلب ہاؤس اور بی ریئل جیسے کمپنیوں کی جانب سے بھی دیکھی تھی۔

سوشل میڈیا نیٹ ورکس کا آپسی مقابلہ

کیا یہ فیس بُک اور ٹوئٹر کی راہ میں ایک سپیڈ بریکر ہے یا آگے راستہ ختم ہو چکا ہے؟ کچھ ماہرین کی رائے ہے کہ مقبول پلیٹ فارمز کو درپیش مشکلات ایک اچھی نشانی ہے۔

رینارڈ فوکارڈ نے کہا کہ ’یہ اچھی بات ہے کہ بڑھتے مقابلے ہی وجہ سے ان پلیٹ فارمز کے راستے میں رکاوٹیں آئی ہیں۔

’ایسی مارکیٹ جہاں انصاف ہو، وہاں ضروری ہے کہ نئی کمپنیاں صارفین کو بہتر کارکردگی، آپشنز اور مواقع دے سکیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More