فٹبال ورلڈ کپ 2022: کیا قطر سٹیڈیمز میں شراب پر پابندی لگانے والا واحد ملک ہے؟

بی بی سی اردو  |  Nov 23, 2022

Reuters

ایکواڈور کے مداح ہوزے نے اپنی ٹیم کا میچ دیکھنے کے بعد واپس جاتے ہوئے ورلڈ کپ سٹیڈیمز میں بیئر پر پابندی کے بارے میں کہا: ’بہت مایوس کن۔‘ 

ایمیلیو کہتے ہیں کہ ’مجھے یہ ملا ہے جس میں زیرو (الکوحل) ہے، مگر کم از کم مجھے اس کا ذائقہ تو ملا۔‘ 

قطر میں سٹیڈیمز میں شراب کی فروخت پر پابندی کا آخری لمحات میں ہونے والا فیصلہ الکوحل سے متعلق فیفا کی لڑائیوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔ 

گذشتہ کئی ورلڈ کپس میں سپانسرشپ پر تنازعے میں فیفا کی گورننگ باڈی پر کالونیل ازم اور پیسے کو مداحوں کے تحفظ پر ترجیح دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ 

حالانکہ فیفا حال ہی میں میزبان ممالک کو الکوحل پیش کرنے پر قائل کرتی رہی ہے مگر یہ بین الاقوامی تنظیم پہلے مطالبہ کیا کرتی تھی کہ سٹیڈیمز میں شراب پر پابندی رہے۔ 

EPAقطر نے فٹ بال میچز کے دوران شراب کی فروخت پر پابندی کا فیصلہ ورلڈ کپ کی شروعات سے عین پہلے لیا ہے۔ پالیسی میں تبدیلی

سنہ 2004 تک تمام بڑے ایونٹس کے لیے اس کے ضوابط میں لکھا تھا کہ منتظمین گراؤنڈز میں الکوحل فروخت نہیں کر سکتے اور نشے کی حالت میں موجود شخص کو سٹیڈیم سے نکال دیا جائے گا۔ 

مگر اب اس کی جانب سے یہ پالیسی واپس لینے اور ورلڈ کپس کے میزبان ممالک کو ورلڈ کپس میں الکوحل کی فروخت پر قائل کرنے کی بھرپور کوششوں کے باعث کچھ ممالک اور اس کے درمیان تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ 

سنہ 2014 میں ورلڈ کپ کی میزبانی برازیل کو دینا بہت موزوں معلوم ہوا تھا۔ فٹ بال کے لیے جنونی یہ لاطینی امریکی ملک پانچ مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیت چکا ہے اور بیئر یہاں بے حد مقبول ہے مگر کئی ممالک کی طرح برازیل کے مداحوں کا جوش بھی تشدد میں بدل جاتا ہے۔ 

نتیجتاً سنہ 2003 میں برازیلی فٹبال میچز میں الکوحل پر پابندی عائد کر دی گئی تھی تاکہ تشدد اور مخالف ٹیموں کے حامیوں کے درمیان لڑائیوں کو روکا جا سکے۔ 

مگر بیئر بنانے والی مشہور عالمی کمپنی بڈوائزر فیفا کی ایک طویل عرصے سے پارٹنر رہی ہے اور اس ٹورنامنٹ کی اہم سپانسر تھی۔ چنانچہ میزبان ملک کو بتا دیا گیا کہ اُنھیں قانون تبدیل کرنا ہو گا۔ 

اس وقت فیفا کے جنرل سیکریٹری جیروم والکے نے کہا تھا: ’الکوحل مشروبات فیفا ورلڈ کپ کا حصہ ہیں سو یہ ضرور ہوں گے۔ اگر میری بات بری لگے تو معاف کیجیے گا مگر یہ ایسی چیز ہے جس پر ہم بات نہیں کریں گے۔‘ 

اُنھوں نے کہا کہ ’بیئر فروخت کرنے کے ہمارے حق کو قانون کا حصہ ہونا ہو گا۔‘ 

Getty Imagesبرازیل کو فیفا کے دباؤ کے باعث شراب پر پابندی کا قانون تبدیل کرنا پڑا تھا۔

برازیل کے وزیرِ صحت نے اس تبدیلی پر اعتراض کیا اور ملک کے صدر کے خصوصی مشیر مارکو اوریلیئو گارشیا نے والکے کو ’کالونیل‘ اور ’بڑ بولا‘ قرار دیا تھا۔ 

مگر احتجاج کے باوجود بالآخر 2014 کے ورلڈ کپ میزبانوں کو جھکنا پڑا اور قانون میں تبدیلی کر کے ٹورنامنٹ کے میچز کے دوران شراب کی فروخت کی اجازت دے دی گئی۔ 

مقابلوں کے دوران کئی مرتبہ مخالف ٹیموں کے درمیان لڑائیاں ہوئیں جن میں ریو ڈی جنیرو میں یوراگوئے کے خلاف کولمبیا کا میچ بھی شامل ہیں جس میں سکیورٹی اہلکاروں کو مداخلت کر کے تماشائیوں کو الگ کرنا پڑا تھا۔ 

اس کے جواب میں والکے نے برازیلی سپورٹس ٹی وی چینل سپورٹی وی کو بتایا: ’میں شراب پیے ہوئے لوگوں کی تعداد اور شراب کی مقدار دیکھ کر حیران ہوا ہوں۔‘ 

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مستقبل میں اپنی پالیسی بدلیں گے، تو اُنھوں نے کہا کہ اگر ہمیں لگے گا کہ (الکوحل کی فروخت) کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے تو ہم اسے کنٹرول کریں گے۔ 

روس پر دباؤ

مگر سنہ 2018 میں روس میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے بھی فیفا کی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ 

برازیل کی طرح روس کی بھی ایک طویل عرصے سے کھیلوں کے اہم مقابلوں میں الکوحل پر پابندی کی پالیسی رہی ہے۔ 

سنہ 2005 میں حکومت نے سٹیڈیمز میں الکوحل کی فروخت اور اشتہارات پر پابندی عائد کر دی تھی۔ سنہ 2014 میں سوچی میں ہونے والے سرمائی اولمپکس میں کوئی بڑی الکوحل برانڈ سپانسر نہیں تھی اور سنہ 2012 میں روس نے الکوحل کے اخبارات، انٹرنیٹ اور ٹی وی پر اشتہارات پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ 

مگر اگلے برس صددر ولادیمیر پوتن نے ایک نئے قانون پر دستخط کیے جس کے تحت ورلڈ کپ میچز میں الکوحل کی فروخت کی اجازت دے دی گئی اور بیئر کے اشتہارات پر نئی پابندیوں کو بھی نرم کر دیا گیا۔ 

روس کے روستوو خطے نے مقامی سٹیڈیمز کو ’عوامی اجتماعات کے علاقے‘ قرار دے کر وہاں الکوحل کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی مگر قانونی ایکشن کی دھمکی کے بعد وہ پیچھے ہٹ گئے۔ 

Getty Imagesسنہ 2018 میں روس میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شراب کی فروخت ہوتی رہیمذہبی اعتراضات 

مگر بڑے ایونٹس میں الکوحل سے متعلق مسائل صرف فیفا اور عالمی کپ کے میزبان ممالک کے درمیان نہیں رہے ہیں۔ 

یورو 2022 میں یوئیفا کا ان کھلاڑیوں کے ساتھ تنازع ہوا جنھوں نے ٹورنامنٹ کے سپانسرز میں سے ایک ہائینیکن کی بیئر کی بوتلوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرنے پر اعتراض کیا تھا۔ 

ایک مقابلے کے بعد فرینچ مڈفیلڈر پال پوگبا نے سوالات لینے سے قبل کمپنی کی ایک بوتل ہٹا دی۔ 

ان کے ساتھی کریم بینزیما جو پال کی طرح ہی مسلمان ہیں، اُنھوں نے بھی بوتلوں کے بغیر ایک پریس کانفرنس میں حصہ لیا۔ 

حالانکہ ٹورنامنٹ کے منتظمین نے ہائینیکن کی الکوحل سے پاک ڈرنکس کی بوتلیں رکھی تھیں مگر دونوں ہی کھلاڑیوں کو شراب بنانے والی ایک بڑی کمپنی سے منسلک نظر آنے پر اعتراض تھا۔ 

Getty Imagesفرانسیسی کھلاڑی پال پوگبا نے شراب کی بوتل سامنے رکھ کر پریس کانفرنس کرنے سے انکار کر دیا تھا

یوئیفا نے بعد میں آمادگی ظاہر کی کہ وہ پریس کانفرنسز کے دوران میز پر ہائینیکن کی بوتلوں کے بارے میں کھلاڑیوں اور کوچز کی رضامندی کے متعلق پوچھیں گے مگر اُنھوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹورنامنٹ کے دوسرے سپانسرز کے ساتھ کسی نے ایسا کیا تو ٹیم پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ 

سنہ 2022 کے ورلڈ کپ کے میزبان ملک قطر کی جانب سے مذہبی بنیادوں پر اعتراض کے بعد فیفا نے آخری لمحات میں سٹیڈیمز میں بیئر کی پابندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ 

قطر میں شراب کی فروخت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ 

تاہم وی آئی پی ٹکٹس کے حامل افراد کو اب بھی میچز سے پہلے، درمیان میں اور بعد میں ایگزیکٹیو باکسز سے الکوحل خریدنے کی اجازت ہو گی۔ 

Getty Imagesقطر میں اب بھی مداحوں کے خصوصی زونز میں شراب کی فروخت کی اجازت ہے

یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس فیصلے کا بڈوائزر بنانے والی کمپنی سے فیفا کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا۔ 

اسّی کی دہائی سے ٹورنامنٹ کے بڑے سپانسرز میں شامل اس کمپنی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ہر ورلڈ کپ کے لیے فیفا کو ساڑھے سات کروڑ ڈالر تک ادا کرتی ہے۔ 

مگر بڈوائز برانڈ کا تعلق امریکہ سے ہے جو سنہ 2026 کے ورلڈ کپ کے تین میزبان ممالک میں سے ہے، چنانچہ کمپنی کو امید ہو گی کہ وہ اگلے ٹورنامنٹ میں خوش قسمتی کے حامل رہیں گے۔  

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More