فوج میں تعیناتیاں، وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری

اردو نیوز  |  Nov 24, 2022

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں جاری ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتیوں سے متعلق وفاقی کابینہ سے مشاورت کریں گے جبکہ دیگر امور کی بھی منظوری لی جائے گی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم تعیناتیوں کے علاوہ کسان پیکج بھی منظوری کے لیے پیش ہو گا۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انٹیلیجنس و سکیورٹی سٹڈیز کی تشکیل کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔ کابینہ اجلاس میں بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی کی بھی منظوری دی جائے گی۔

گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی اتحادی جماعتوں کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا تھا جس میں اتحادی جماعتوں سے اہم تعیناتیوں پر مشاورت کی گئی۔

اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو اہم تعیناتیوں پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔

اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اتحادی جماعتوں کے اجلاس کا ون پوائنٹ ایجنڈا تھا جس میں اہم عہدوں پر ہونے والی تقرریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم جو بھی فیصلہ کریں گے ہم ان کے ساتھ ہیں۔ آصف زرداری نے بھی مکمل یقین دہانی کروائی ہے۔ وزیراعظم نے مشاورت کر کے نئی روایت قائم کی ہے۔‘

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)خیال رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب آرمی چیف کی تقرری کی سمری جی ایچ کیو سے وزارت دفاع کو بھیجی گئی تھی جو بعد ازاں وزیراعظم آفس کو موصول ہوئی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو نے سینیئر ترین چھ لیفٹیننٹ جرنیلوں کے نام پر مشتمل سمری ارسال کی ہے۔

واضح رہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کو چیف آف آرمی سٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدوں پر تعیناتی کرنی ہے۔

آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت وزیراعظم اہم تعیناتیوں کی سمری منظوری کے لیے صدر مملکت کو بھیجیں گے جبکہ صدر مملکت وزیراعظم کی تجویز کی روشنی میں تعیناتیوں کی مننظوری دیں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More