پہلی ہی رومانوی ملاقات پر اغوا: مردوں کو ٹنڈر پر ڈیٹ کے بہانے بلا کر لوٹنے کے واقعات

بی بی سی اردو  |  Dec 02, 2022

Getty Images

ایک مرد ڈیٹنگ ایپ پر کسی عورت سے رابطہ کرتا ہے، پیغامات کا تبادلہ کرتا ہے اور کچھ دیر بعد، وہ ذاتی طور  طور پر ملنے کا انتظام کرتا ہے۔ جب وہ طے شدہ جگہ پر پہنچتا ہے تو مسلح افراد اسے اغوا کر لیتے ہیں۔ اور جو لمحے اس کے لیے خاص ہونے والے تھے وہ ایک ڈراؤنا خواب بن جاتے ہیں جو کئی دن تک جاری رہتا ہے۔

برازیل کے سب سے بڑے اور امیر ترین شہر ساؤ پالو میں اس قسم کے جرائم عام ہوتے جا رہے ہیں۔ پبلک سکیورٹی کے وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کے پاس درچ اغوا کی شکایات میں 90 فیصد میں ٹنڈر جیسی ڈیٹنگ ایپس پر جعلی پروفائلز کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو لالچ دیا گیا۔

متاثرہ افراد کو کو نفسیاتی اور بعض اوقات جسمانی تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ ان کے بینک اکاؤنٹس خالی ہو جاتے ہیں۔

صرف 2022 میں، ساؤ پالو کی سول پولیس کے انسداد اغوا کے افسران نے اسی طرح کے 94 مقدمات پر کارروائی کی، جس میں 250 سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

چالیس سال سے زیادہ عمر کے تنہا مرد مجرموں کا سب سے بڑا ہدف ہیں۔

متاثرین میں سے ایک شہر کے معروف ہسپتال داس کلینیکس میں ایک ڈاکٹر تھے، جنھیں نومبر کے شروع میں رشتے بنانے والی ایپ کے ذریعے ملاقات کا انتظام کرنے کے بعد تقریباً 14 گھنٹے تک قید رکھا گیا تھا۔

انھیں مجرموں نے تقریباً 14 ہزار ڈالر کی مختلف بینک ٹرانزیکشنز کے بعد رہا کیا۔

متاثرین کا انتخاب کیسے کیا جاتا ہے؟

ایک بیان میں، ایس ایس پی نے کہا کہ مجرم اپنے متاثرین کے آن لائن فٹ پرنٹ کا مطالعہ کرتے ہیں۔

’وہ ایسے صارفین کا مشاہدہ کرتے ہیں جو سماجی رابطوں کی سائٹس پر اپنی مضبوط معاشی حالی پر اتراتے نظر آتے ہیں۔

بی بی سی نے جن پولیس افسران اور ڈیجیٹل سکیورٹی ماہرین سے بات کی انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ گینگ کیسے کام کرتے ہیں اور اس بات کی اہم علامات کیا ہیں کہ ممکنہ ’ڈیٹ‘ یا رومانوی ملاقات ایک جال بن سکتی ہے۔

افسران کے مطابق، اغوا کے متاثرین کو سب سے زیادہ ڈیٹنگ ایپ ٹنڈر سے پھنسایا گیا ۔ ٹنڈر سے تبصرہ کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا کہ ان دھوکہ دہی کے معاملات کو روکنے کے لیے پلیٹ فارم پر کون سے حفاظتی ٹولز اور طریقے دستیاب ہیں۔ تاہم اس تحریر کی اشاعت تک ایپ نے جواب نہیں دیا تھا۔

ساؤ پالو کے شمالی حصے میں کام کرنے والے ایک فوجی پولیس لیفٹیننٹ نے وضاحت کی کہ متاثرین عام طور پر بڑی عمر کے مرد ہوتے ہیں جو مالی طور پر مضبوط ہوتے ہیں۔

پولیس اہلکار نے کہا ’وہ 40 سال سے زیادہ عمر کے لوگ ہیں، اکیلے اور کچھ اثاثوں کے مالک۔ زیادہ تر مجرم ٹنڈر کے ذریعے متاثرہ کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، جس میں پرکشش پیغامات اور جلد از جلد ملاقات کی درخواست ہوتی ہے۔‘

مجرم ذاتی معلومات کو دیکھتے ہیں جو متاثرین کی ڈیٹنگ ایپس پر دستیاب ہوتی ہیں، جیسے کہ ان کا پیشہ۔ لیکن وہ خاص طور پر ان صارفین پر نظر رکھتے ہیں جو بین الاقوامی دوروں یا لگژری کاروں کی تصاویر پوسٹ کرتے ہیں۔

اہلکار کے مطابق ’یہ ڈیٹس عام طور پر زیادہ دور دراز علاقوں میں دوپہر کے آخر اور شام کے آغاز  کے وقت رکھی جاتی ہیں‘۔

’میں نے جو کیسز دیکھے ان میں سے ایک میں، ایک آدمی نے ایک شاپنگ مال میں ایک عورت سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس نے کہا کہ وہ بیمار ہے اور  اسے ڈھونڈنے کے لیے گھر سے باہر نہیں نکل سکتی۔ نتیجتاً وہ اس کے گھر گیا اور اغوا کر لیا گیا۔‘

ہر گروہ شکار کی توقعات کے مطابق کام کرتا ہے، عام طور پر وہ مرد جو رشتے کی تلاش میں نہیں ہوتے، بلکہ زیادہ آرام دہ ملاقت کے لیے جاتے ہیں۔

پولیس اہلکار نے مزید کہا، ’ڈیٹ اس ایپ پر کسی شحض سے پہلے رابطے کے ایک یا دو دن بعد رکطی جاتی ہیں۔ جب لڑکے کو یقین ہو جاتا ہے کہ عورت اس کے لیے تیار ہے۔‘

Getty Imagesجرم جو کم رپورٹ ہوتا ہے

ایک اور پولیس افسر نے کہا کہ ان کا خیال میں ’ڈیٹنگ ایپ کے باعث اغوا‘ کی کئی وجوہات کی بنا پر رپورٹ نہیں کی جاتی ہے۔

پہلا یہ کہ متاثرہ شخص اکثر پولیس کے پاس رپورٹ درج کرانے میں شرم محسوس کرتا ہے۔ ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ کچھ مرد رشتے میں ہوتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو بتاتے ہیں کہ وہ عام اغوا کا شکار ہوئے تاکہ وہ پکڑے نہ جا سکیں۔

ایک اہلکار کے لیے حیران کن بات ان امیر اور پڑھے لکھے آدمیوں کی تعداد جو ان دھوکوں کا شکار ہوئے کیونکہ وہ رومانوی ملاقاتوں کے لیے زیادہ دور دراز علاقوں میں جانے پر راضی ہو گئے۔

زیادہ تر معاملات میں متاثرہ فرد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع متعلقہ رشتہ داروں کے پولیس کو فون کرنے کے بعد ہی دی جاتی ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا ’خاندان میں سے کسی نے دیکھا کہ وہ شخص غائب ہو گیا ہے اور خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے۔ میں نے کبھی بھی دو متاثرین کو ایک ہی جگہ پر اسیر ہونے کا کوئی کیس نہیں پایا، لیکن عمومی علاقہ ایک جیسا ہے۔ جنگل۔‘

Getty Imagesتنبیہی علامات کیا ہیں؟

انٹرنیٹ جرائم سے نمٹنے والی برازیلی این جی او سیفر نیٹ کے ڈیجیٹل سکیورٹی کے ماہر گیلہرم الویس نے کہا کہ ڈیٹنگ ایپس کو اکثر مجرم پلیٹ فارم سے باہر دھوکہ دہی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ایک اہم نکتہ یہ سمجھنا ہے کہ پلیٹ فارم کس چیز کے لیے ذمہ دار ہے۔ اس کے باہر جو کچھ ہوتا ہے وہ کمپنی کے دائرہ کار سے باہر ہے، لیکن اگر کوئی جرم ہو تو عدالت میں سکیمر کے پروفائل سے معلومات کی درخواست کرنا ممکن ہے۔‘

الویس نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بعض صورتوں میں، دھوکہ دہی کرنے والے جعلی تصاویر اور پروفائلز کا استعمال نہیں کرتے، بلکہ حقیقی لوگ متاثرین کو راغب کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ آڈیو پیغامات اور اس شخص کی حقیقی تصاویر بھیجتے ہیں جس سے متاثرہ شخص بات کرتا ہے۔

لیکن  انھوں نے کچھ عام نشانیوں سے خبردار کیا۔’"اگر یہ کیٹ فشنگ سکینڈل ہے (جس میں انٹرنیٹ پر جھوٹی شناخت بنائی جاتی ہے)، تو پروفائل واقعی جعلی ہے اور مجرم اس شخص کو کسی دوسرے پلیٹ فارم پر لے جانے کی کوشش کر سکتا ہے، جیسے کہ واٹس ایپ۔ بعض اوقات سکیمر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے پلیٹ فارم سے پروفائل اس لیے ہٹا دی کہ وہ سنجیدہ  ہونا چاہتے ہیں۔‘

الویس نے ہر اس شخص کے لیے انتباہی علامات کی نشاندہی کی ہے جو ڈیٹنگ ایپ پر کسی شخص سے مل رہا ہے اور آمنے سامنے ملاقات کا اہتمام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

’پہلی ملاقات کے بعد پلیٹ فارم سے پروفائل کو ڈیلیٹ کرنا اس بات کا اشارہ دے سکتا ہے کہ وہ شخص معلومات کو چھپانا چاہتا ہے۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ جب وہ لوگ جو بہت جلد میٹنگز کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں اور پلیٹ فارم سے واٹس ایپ پر چیٹ کرنا چاہتے ہیں۔ نجی جگہوں پر ملاقاتوں سے بھی گریز کیا جانا چاہیے۔ ‘

 

سائبر سیکورٹی ماہر کہتے ہیں کہ لوگوں کو تمام بات چیت کا ریکارڈ رکھنا چاہیے اور عوامی مقامات پر بہت سے لوگوں کی موجودگی میں ملاقاتیں کرنا چاہیے، جیسے ایک شاپنگ مال۔ الویس نے یہ بھی نشاندہی کی کہ دھوکے باز صرف پہلی ڈیٹ کے بجائے چند ماقاتوں کے بعد بھی حملہ سکتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں ’ایک کیس میں ایک متاثرہ خاتون نے مجرم کے ساتھ دو ڈیٹس گزاریں، لیکن تیسری ملاقات میں اس نے انھیں لوٹا اور فرار ہو گیا۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More