راولپنڈی ٹیسٹ: انگلینڈ کی ٹیم 657 رنز بنا کر آؤٹ، پاکستانی اننگز کا آغاز

اردو نیوز  |  Dec 02, 2022

پاکستان اور انگلینڈ کے مابین تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز پاکستان کی پہلی اننگز جاری ہے۔ 

جمعے کو کھانے کے وفقے تک پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے 17 رنز بنائے تھے۔ امام الحق 11 اور عبداللہ شفیق چھ رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔ 

اس سے قبل انگلینڈ کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 657 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔ 

انگلینڈ کی پہلی اننگز میں بین ڈکٹ، زیک کرالی، اولی پوپ اور ہیری بروک کی سینچریاں شامل ہیں۔ ہیری بروک 153 رنز کے ساتھ اننگز کے ٹاپ سکورر رہے ہیں جبکہ پاکستان کی جانب سے زاہد محمود نے چار وکٹیں حاصل کی۔ 

نسیم شاہ نے تین، محمد علی نے دو اور حارث رؤف نے ایک وکٹ حاصل کی۔ 

راولپنڈی میں کھیلے جا رہے پانچ روزہ میچ کے دوسرے روز انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز 506 رنز چار کھلاڑی آؤٹ پر دوبارہ اننگز کا آغاز کیا تو نسیم شاہ نے پہلے ہی اوور میں انگلش کپتان بین سٹوکس کو بولڈ کر دیا۔انہوں نے 41 رنز بنائے۔ 

نسیم شاہ نے پہلے سیشن میں عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا اور مزید دو وکٹیں حاصل کیں۔ لیا لیونگسٹون نو اور ہیری بروک 153 رنز بنا کر نسیم شاہ کا شکار بنے۔ انگلینڈ کی آٹھویں وکٹ 641 کے مجموعی سکور پر گری جب محمد علی نے ول جیکس کو پویلین کی راہ دکھائی، انہوں نے 30 سکور بنائے۔ 

نویں آؤٹ ہونے والے بلے باز اولی روبنسن تھے جنھیں 37 کے انفراد سکور پر زاہد محمود نے ایل بی ڈبلیو کیا۔ انگلینڈ کی پہلی اننگز کی آخری وکٹ بھی زاہد محمود کے حصے میں آئی جب انہوں نے جیمز اینڈرسن کو چھ رنز پر آؤٹ کیا۔ 

اس سے قبل ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کھیل کے اختتام تک انگلینڈ کی ٹیم نے چار وکٹوں کے نقصان پر 506 رنز بنا لیے تھے۔ یہ کسی بھی ٹیم کا ٹیسٹ میچ کے پہلے دن بنایا جانے والا سب سے بڑا سکور ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم نے 112 سالہ ریکارڈ توڑا جو اس سے قبل 1910 میں  آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کے خلاف سڈنی میں 494 رنز بنا کر قائم کیا تھا۔ کسی ٹیسٹ میچ میں ایک دن میں پانچ سو سے زائد رنز کا  کارنامہ اس سے قبل چار بار ریکارڈ کیا گیا ہے، تین بار انگلینڈ اور ایک بار سری لنکا نے ٹیسٹ میچ کے ایک دن میں پانچ سو سے زائد رنز بنائے تھے تاہم ٹیسٹ میچ کے پہلے دن یہ کارنامہ انگلینڈ نے پنڈی ٹیسٹ میچ میں پہلی بار سرانجام دیا ہے۔ 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More