ارتھ: ’ناجائز‘ محبت پر بنائی گئی فلم جس میں حقیقت بھی شامل تھی

بی بی سی اردو  |  Dec 05, 2022

ایک شادی، دو رشتے اور دو عورتیں: پوجا جو بچپن میں یتیم ہو گئی تھی اور اس نے اِندر سے شادی کی تھی جو اس کی دنیا ہے اور کویتا جو ایک سپر سٹار ہے لیکن اندر سے خود کو غیر محفوظ اور کھوکھلا محسوس کرتی ہیں۔

اس کے پاس محبت ہے لیکن وہ محبت دنیا کی نظر میں ’ناجائز‘ ہے۔

دونوں عورتوں کے درمیان جڑنے والا تعلق اِندر (کلبھوشن کھربندہ) ہے جو بیوی پوجا (شبانہ اعظمی) کے ساتھ اپنی ’بے وفائی‘ کو یہ کہہ کر جواز فراہم کرتا ہے کہ ’پوجا میں تم سے اب بھی محبت کرتا ہوں بس فرق یہ ہے کہ میں کویتا (سمیتا پاٹل) سے بھی محبت کرتا ہوں۔‘

چالیس سال قبل دسمبر 1982 کو ریلیز ہونے والی فلم ’ارتھ‘ رشتوں کے اس بھنور میں زندگی کے معنی تلاش کرنے والی ان دو خواتین کی کہانی ہے۔

ارتھ ایک تاریخی فلم

مہیش بھٹ کی اس فلم کو ہندی سنیما کی ایک تاریخی فلم سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ایسی صنعت میں جہاں زیادہ تر کہانیاں مردانہ نقطہ نظر سے لکھی گئی تھیں۔

لیکن حساسیت، نزاکت، صفائی، جرات جس کے ساتھ ارتھ ایک عورت کے جذبات کو ظاہر کرتی ہے اور اس کا سفر تہہ در تہہ 80 کی دہائی کے لیے بہت بڑی بات تھی جہاں ’ڈسکو ڈانسر‘ سے لے کر ’مرد‘ جیسی فلمیں بن رہی تھیں۔

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ’ارتھ‘ مہیش بھٹ کی حقیقی زندگی سے لی گئی ایک کہانی ہے، جس میں فکشن جوڑ کر اسے فلم کے طور پر بنایا گیا تھا۔

اس میں مہیش بھٹ کی زندگی کا وہ حصہ بھی ہے جب لارین برائٹ سے شادی کے باوجود ان کا پروین بابی سے رشتہ تھا جو بعد میں شیزوفرینیا کی شکار ہو گئیں اور یہ رشتہ ٹوٹ گیا۔

عورت کی سماجی کنڈیشننگ

اس فلم میں شبانہ اعظمی نے ایک ایسی عورت کے کردار کی ہر ایک تہہ کو بہت قریب سے نبھایا ہے جو بہت سی خواتین کی طرح جذباتی، ذہنی اور مالی طور پر اپنے شوہر پر مکمل انحصار کرتی ہے۔

جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا شوہر کسی اور کے ساتھ تعلقات میں ہے، تو اس کا ردعمل اس پر تنقید کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کے سامنے یہ التجا کرنا ہے کہ ’مجھ سے کیا غلطی ہو گئی اندر، جو کمی تھی کوشش کروں گی وہ نہیں رہے لیکن ایک اور موقع دو۔‘

پوجا ملہوترا (شبانہ اعظمی) کی سوشل کنڈیشننگ اور اس کی زندگی کا مطلب یہ ہے کہ شاید کمی اُس میں رہی ہو گی۔

لیکن یہ فلم دکھاتی ہے کہ وہ کس طرح اس رشتے سے باہر آتی ہے اور آہستہ آہستہ زندگی کے معنی کو سمجھتی ہے۔ لیکن یہاں تک پہنچنے کے لیے وہ کئی مراحل سے گزرتی ہے اور یہی مرحلہ فلم ارتھ کی اصل خوبصورتی ہے۔ یہ تبدیلی راتوں رات نہیں آتی۔ دراصل یہ اسی تبدیلی کی کہانی ہے۔

سمیتا کی حساس اداکاری

پوجا (شبانہ اعظمی) کے سفر کا پہلا پڑاؤ وہ ہے جہاں وہ آنسو بہاتی ہے، کویتا (سمیتا پاٹل) کے سامنے اپنی عزت کو ایک طرف رکھتے ہوئے التجا کرتی ہے۔

غصے اور مایوسی کی حالت میں پوجا پارٹی میں کویتا کے ساتھ جو برتاؤ کرتی ہے اور وہ جو الفاظ استعمال کرتی ہے، اسے خود اس پر یقین نہیں آتا۔

کویتا اور پوجا کے درمیان تصادم کا یہ سین فلم کے دو بہترین مناظر میں سے ایک ہے۔ اس منظر میں شرابی شبانہ کا پلّو گر جاتا ہے، لیکن اس وقت اسے کسی چیز کا ہوش نہیں ہوتا۔

مہیش بھٹ بتاتے ہیں کہ یہ ایک اتفاق تھا لیکن یہ منظر فحش نہیں لگتا بلکہ اس لمحے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے جہاں ایک سپر سٹار خاموش کھڑی ہے اور ایک خاتون جس کی آواز آج تک گھر سے باہر نہیں نکلی، آج وہ اپنے حواس کھو کر گھر سے باہر آواز بلند کر رہی ہے۔

پروین بابی اور مہیش بھٹ کا رشتہ

ارتھ پوجا کی کہانی ہے، لیکن یہ اپنے نقطہ نظر سے ایک اور عورت، کویتا یعنی سمیتا کی کہانی سنانے کی کوشش کرتی ہے، خاص طور پر اس کے عدم تحفظ کے احساس اور حساس جذباتی حالت کی کہانی۔

یہ حصہ پروین بابی اور مہیش بھٹ کے رشتے سے لیا گیا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب سمیتا پاٹل اور راج ببر حقیقی زندگی میں رشتے میں تھے اور راج ببر پہلے ہی شادی شدہ تھے۔

سنہ 2018 میں فلم فیئر میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مہیش بھٹ نے کہا تھا کہ ’اگر آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا سکرین پر کسی اور خاتون کا کردار ادا کرنا سمیتا کو متاثر کر رہا ہے، تو وہ مجھے کہتی تھیں، رات کو مجھے یہ ڈبل زندگی جینی ہی ہوتی ہے۔ اب وہی شوٹ دن میں بھی کرنا پڑتا ہے۔ کوئی سکون نہیں ہے۔ میں پاگل ہو جاؤں گی۔ تم اپنے ماضی سے لڑ رہی ہو اور میں اپنے سوالوں کے ساتھ۔

’میں اپنا گھر بنانا چاہتی تھی، تمہارا گھر توڑنا نہیں چاہتی تھی‘

فلم ارتھ میں ایک سین ہے جس میں سمیتا پاٹل نے ایک دوسری عورت کے خوف، اس کے احساسِ عدم تحفظ اور بگڑتی ہوئی ذہنی صحت کو حساس انداز میں پیش کیا ہے۔

ایک ماہر نفسیات کے مشورے پر پوجا کویتا کو اس کے گھر ملنے جاتی ہیں تاکہ کویتا اپنے خیالی خوف کا مقابلہ کر سکے۔

دونوں کے درمیان مکالمہ واقعی دلکش ہے، کویتا احساسِ جرم میں ڈوب کر پوجا سے کہتی ہے کہ ’میں تمہارے شوہر سے نہیں، اندر سے محبت کرتی ہوں۔ میں اپنا گھر بنانا چاہتی تھی، تمہارا گھر تباہ کرنا نہیں چاہتی تھی۔‘

اور بدلے میں پوجا اسے تسلی دیتی ہے اور کہتی ہے کہ ’میرا گھر کبھی نہیں تھا، تم نے کچھ تباہ نہیں کیا۔‘

یہاں کویتا کو غلطی کا احساس اندر ہی اندر مار رہا ہے جبکہ پوجا آہستہ آہستہ اس دہلیز پر پہنچ گئی ہے جہاں وہ نشے اور گالیوں کے بجائے ہمت اور شائستگی کے ساتھ کویتا کی شکل میں سچائی اور زندگی کا سامنا کر سکتی ہے۔

تاہم وہ ابھی پوری طرح اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اسی لیے وہ اس سے پہلے اِندر کو خط لکھتی ہیں کہ ’میں گھر کی چابیاں اور نقدی بھیج رہی ہوں، میں تمہاری کویتا کی زندگی سے جا رہی ہوں، تمہاری زندگی سے نہیں۔ آپ جب بھی میری ضرورت محسوس کریں گے، میں ہوں، میں ہوں گی۔‘

اس کا مطلب ہے کہ وہ التجا کے مرحلے سے نکل کر اب اس سطح پر آ گئی ہے جہاں اسے اپنی عزت نفس کو دبانے کی اجازت نہیں ہے۔

https://twitter.com/MaheshNBhatt/status/920228283261755392

جگجیت اور چترا سنگھ کی غزلیں

یعنی آگے کے راستے کا فیصلہ پوجا (شبانہ اعظمی) نے خود کرنا ہے، لیکن راج کرن، ایک غزل گلوکار جو خود بھی بے روزگار ہے، اس کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور پوجا کا دوست اور اس کی ہمت بن جاتا ہے۔

راج پارٹی میں پہلی ملاقات میں ہی پوجا کو سمجھنے لگتا ہے۔ جب وہ پارٹی میں ایک اداس لیکن مسکراتی پوجا کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ ’اگر تم تھک گئی ہو تو مسکرانا چھوڑ دو۔‘

فلم کی کہانی اور اداکاری کے علاوہ فلم کی ایک اور بڑی طاقت اس کے گانے اور موسیقی ہیں۔ فلم کے زیادہ تر گانے کیفی اعظمی نے لکھے۔

جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ کی غزلیں فلم کی جان ہیں اور ذہن میں کئی سوال چھوڑ جاتی ہیں۔

جگجیت پوچھتے ہیں کہ محبت زندگی کی آخری سچائی ہے ’کہتے ہیں پیار کا رشتہ ہے جنم کا رشتہ، ہے جنم کا جو یہ رشتہ تو بدلتا کیوں ہے؟‘

اس سے محبت کی مستقل مزاجی پر سوال اٹھتے ہیں۔ اور وہ زندگی کی تنہائی کو یوں آواز دیتے ہیں کہ ’کوئی یہ کسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے؟ اپنا کیا تھا، کسی اور کا کیوں ہے؟‘

’کوئی کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے‘ یہ غزل زندگی کی تنہائی کے نام پیغام ہے۔

سمیتا بمقابلہ شبانہ

https://twitter.com/NFAIOfficial/status/1437729120532647938

فلم ارتھ کے بعد یہ بحث جاری رہی کہ کس نے بہتر کام کیا، شبانہ اعظمی نے یا سمیتا پاٹل نے؟

فلم کا ایک مؤثر سین وہ ہے جہاں سمیتا پاٹل ایک دن کلبھوشن کھربندہ سے کہتی ہیں کہ ’جس شادی سے وہ (شبانہ) سات سال میں کوئی تحفظ حاصل نہ کرسکی تو وہ مجھے کیا دے گی۔‘

اپنی ہی خیالی خوف، ذہنی بیماری اور جرم میں پھنسی سمیتا کے اس سین کے بارے میں مہیش بھٹ کا کہنا تھا کہ فلم میں سمیتا کا کام ’زخم سے جنم لینے والے دھماکے‘ جیسا تھا، ایک ایسا زخم جو اس وقت ہرا تھا۔

فلمی نقاد اجے رائے کہتے ہیں کہ ’شبانہ اعظمی اور سمیتا دونوں اپنے اپنے کرداروں میں بہترین ہیں۔ سمیتا پاٹل ایک خواہش مند ہیروئن کا کردار ادا کر رہی ہیں جو چست، آوارہ اور مختصر مزاج ہے۔ دوسری طرف، شبانہ کا کردار دھیمے اور گمبھیر مزاج کی خاتون کا تھا۔

دونوں کے کردار بالکل مختلف تھے لیکن دونوں نے بہت اچھا کام کیا۔ میرے خیال میں ارتھ ہمیشہ ایک بامعنی فلم رہے گی کیونکہ آج بھی انڈین معاشرے میں خواتین کے ساتھ مسائل ہیں اور ایسے موضوعات پر بامعنی فلمیں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

بارڈر کے 25 سال: جنگ کے موضوع پہ بنی فلم جس پر پاکستان میں پابندی لگی لیکن گانے دلوں کو چھُو گئے فلم 83: سنہ 1983 میں انڈیا کی ورلڈ کپ میں تاریخی جیت کو بالی وڈ کا خراج تحسین

لتا منگیشکر: ’انڈین فلم انڈسٹری کے 100 سال میں سے 71 میرے ہیں‘

دلیپ کمار کی فلم ’گنگا جمنا‘ جس کے باعث انڈیا کے وزیرِ اطلاعات و نشریات سے وزارت چھین لی گئی

جب سشما سوراج نے شبانہ اعظمی کی تعریف کی

https://twitter.com/PoojaB1972/status/1571328488510214146

انڈیا کی سابق وزیر خارجہ سشما سوراج کی ایک پرانی ویڈیو کافی وائرل ہے جس میں ان سے پوچھا گیا کہ ان کی پسندیدہ اداکارہ کون ہے؟

ان کا جواب کچھ اس طرح تھا ’شبانہ اعظمی، خاص طور پر ارتھ میں۔ شبانہ اور سمیتا دونوں کے بہت مشکل کردار تھے۔ آخر تک آپ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کون بہتر ہے۔ ارتھ سے پہلے انسانی رشتوں پر فلمیں بن چکی ہیں لیکن عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب لوگ تھیٹر سے نکلتے ہیں تو فلم میں بچھڑے ہوئے لوگ مل جاتے ہیں، فلم کا انجام ہمیشہ خوش کن ہوتا ہے، لیکن ارتھ واحد فلم ہے جس میں اندر پوجا سے کہتا ہے کہ مجھے معاف کر دو، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ یہ حیرت انگیز تھا۔‘

’تمھاری زندگی کا کوئی مطلب ہے یا نہیں۔۔۔‘

ارتھ کے اختتام کو کئی طریقوں سے بنیاد پرست سمجھا جاتا ہے، چاہے وہ شوہر اور بیوی کے تعلقات کا خاتمہ ہو یا راج کرن کے ساتھ دوستی ہو۔

ارتھ فلم میں پوجا کے شوہر نے جب اسے چھوڑ دیا تھا تو اس کے پاس صرف راج کی دوستی ہی تھی جو ہمدردی اور محبت کے درمیان اپنی جگہ تلاش کر رہا تھا۔

طلاق کے بعد جب شبانہ پوجا ملہوترا سے پوجا بنتی ہے، تو راج ہی اسے سمجھاتا ہے کہ ’کچھ زیادہ نہیں بدلا ہے۔ ملہوترا بس ختم ہو گئی ہے اور صرف پوجا اپنے آپ میں مکمل ہے۔ آج ہی تو اس کا جنم ہوا ہے۔‘

جب پوجا زندگی میں دکھی ہو کر خود کو تمام رشتوں سے الگ کر لیتی ہے تو راج کو اس سے پوچھنے کی ہمت ہوتی ہے کہ تمھاری زندگی کا کوئی مطلب ہے یا نہیں، یہ فیصلہ تم نے میرے لیے نہیں تو کم از کم اپنے لیے کرنا ہے۔

یعنی پوجا ہر لمحہ اس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے جہاں اسے اپنی زندگی کا مطلب تلاش کرنا ہے۔

https://twitter.com/MaheshNBhatt/status/906480566312173568

ارتھ گھریلو تشدد کے بارے میں بھی بات کرتی ہے

ارتھ صرف پوجا اور کویتا کی کہانی نہیں ہے۔ اس میں ان تمام خواتین کی کہانی بھی بیان کی گئی ہے جو حیثیت اور ذات سے اوپر اٹھ کر کسی نہ کسی سطح پر اپنی لڑائیاں لڑ رہی ہیں۔

پوجا کے گھر کام کرنے والی روہنی ہتاگیری کا فلم میں ایک چھوٹا لیکن اہم کردار ہے۔ جس کے شوہر کی دوسری بیوی ہے، وہ نشے میں دھت ہو کر اسے مارتا ہے۔ لیکن وہ عورت اپنی چھوٹی بچی کو پڑھانا چاہتی ہے۔ وقت آنے پر پوجا بھی اس کے لیے آواز اٹھاتی ہے۔

جب پوجا اپنے شوہر کو چھوڑ کر خود کو بے بس محسوس کرتی ہے تو وہی عورت اس کا ہاتھ پکڑ کر کہتی ہے کہ میں اس کے ساتھ نہیں رہوں گی۔

ایک دن جب حالات بے قابو ہونے پر کام والی اپنے شوہر کو مار دیتی ہے تو پوجا بچے کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔

’تو کیا آپ مجھے واپس لے جائیں گے؟‘

اس فلم کے کلائمکس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ تاریخی مناظر میں سے ایک وہ ہے جب اِندر پوجا کے پاس واپس آ کر کہتا ہے کہ ’یہ سچ ہے کہ میں کویتا کے پاس کبھی واپس نہیں جاؤں گا۔ میں تمھارے ساتھ نئے سرے سے شروعات کرنا چاہتا ہوں۔‘

اور پوجا پوچھتی ہے کہ ’ایک اور سچ بتاؤ۔ اگر میں تمہارے ساتھ وہی کروں جو تم نے میرے ساتھ کیا اور اس طرح واپس آؤں تو کیا تم مجھے واپس لو گے؟ الوداع اندر‘

ہندی سنیما کے شائقین نے شاذ و نادر ہی کسی ہیروئن کو اس طرح کا جواب دیتے ہوئے اور تیکھے سوال پوچھتے دیکھا ہو گا۔ دوسرے لفظوں میں پوجا ملہوترا سے پوجا بننے تک کا سفر مکمل ہونے کے قریب تھا۔ لیکن زندگی کے دوسرے سرے پر ایک ساتھی (راج کرن) بھی تھا جس نے پوجا کا ساتھ دیا جب وہ خود اسے چھوڑ چکی تھی۔

تم اپنے آپ میں مکمل ہو۔۔

فلم کے کلائمکس کا ایک اور تاریخی منظر وہ تھا جب پوجا راج سے کہتی ہے کہ ’ایک دن تم نے کہا تھا کہ پوجا تم اپنے آپ میں مکمل ہو، آج میں پوجا کے طور پر جینا چاہتی ہوں، اپنے نام کو ہر دوسرے نام سے الگ کر کے۔ تم نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا لیکن آج تمہارا سہارا مجھے کمزور کر دے گا۔‘

اور مڑ کر راج کہتا ہے کہ ’پوجا جاؤ۔ تمہارے اندر جو ہمت جاگ گئی ہے، وہی زندگی کا صحیح مطلب ہے۔ اب تمہیں کسی ملہوترا یا راج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔‘

اور ملازمہ کے گود لیے ہوئے بچے کے ساتھ پوجا کا سمندر کنارے ڈوبتے سورج کی کرنوں کے درمیان یہ منظر کسی بھی فلم کے سب سے خوبصورت کلائمکس سین میں سے ایک ہے۔

فلمی نقاد اجے رائے کہتے ہیں کہ ’ارتھ کی سب سے مثبت بات اس کا کلائمکس تھا جو کلاسک، حقیقت پسندانہ اور خواتین کی آزادی اور عزت نفس کے حق میں تھا۔ اس کا آخری سین وہ ہے جب پوجا نے اپنے شوہر کے پاس واپس جانے سے انکار کر دیا۔ اب وہ ایسا نہیں کرتی۔ مجھے کسی بھی شوہر کی ضرورت ہے۔ یہ فلم باکس آفس پر کامیاب رہی۔ مجھے یاد ہے کہ میں پٹنہ کے اشوکا سنیما ہال میں فلم دیکھنے گیا تھا اور ٹکٹ نہیں ملا تھا کیونکہ یہ دو دن تک ہاؤس فل تھی۔ ایک ایسی فلم جسے آپ کچھ متوازی، معنی خیز کہہ سکتے ہیں۔ اور آرٹ سنیما، وہ ہاؤس فل ہو گئی، یہ ایک بڑی بات تھی۔ یہ ایک عورت کے کمال کی کہانی تھی۔‘

سمیتا پاٹل کی موت

ارتھ میں کوئی ہیرو نہیں ہے، اور کوئی بھی مکمل ولن نہیں ہے۔

شاید اِندر بھی نہیں، وہ زندگی میں اپنے لیے کوئی سٹینڈ نہ لے سکے۔ نہ ہی کویتا جو اپنے حصے کی خوشی کی تلاش میں ہے۔

درحقیقت ہر کوئی اپنے حصے کی خوشیوں کی تلاش میں ہے لیکن اس سب سے بڑھ کر اور اس سب کے درمیان ایک عام عورت ہے جو نہ صرف خوشیوں کی تلاش میں ہے بلکہ زندگی کے معنی بھی تلاش کرتی ہے۔

شبانہ اعظمی کو اس فلم کے لیے نیشنل فلم ایوارڈ ملا اور مہیش بھٹ کو ایک نئی پہچان ملی۔ سمیتا پاٹل نے راج ببر سے شادی کی جو پہلے ہی نادرہ سے شادی شدہ تھے۔

فلم ارتھ کے ٹھیک چار سال بعد 31 سالہ سمیتا پاٹل اپنے بیٹے کو جنم دینے کے بعد وفات پا گئیں۔

اور فلم کے چند سال بعد راج کرن پراسرار طور پر غائب ہو گئے۔ رشی کپور اور دیپتی نیول نے اُنھیں امریکہ میں تلاش کرنے کی بہت کوشش کی اور رشی کپور نے 2011 میں بتایا کہ راج کرن امریکہ میں ذہنی مریضوں کی پناہ گاہ میں ہیں لیکن اس سے آگے رشی ان تک نہیں پہنچ سکے۔

اسی دوران رشی کپور کی وفات ہو گئی اور راج کرن کی تلاش ادھوری رہ گئی۔

https://twitter.com/chintskap/status/755826936895660032

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More