امریکی انتہا پسند ’اوتھ کیپرز‘: ’میں اپنے والد کی ملیشیا سے کیسے فرار ہوا‘

بی بی سی اردو  |  Dec 06, 2022

Getty Images

ملیشیا لیڈر سٹیورٹ رھوڈز کے بیٹے ڈکوٹا اپنے خاندان کو اپنے والد کے کنٹرول سے فرار ہونے میں مدد دینے کے لیے کئی برسوں تک منصوبہ تیار کرتے رہے۔ اب جب کہ ان کے باپ یعنی سٹیورٹ رھوڈز کو امریکی عدالت مجرم قرار دے چکی ہے اور وہ دہائیوں تک جیل میں سزا کاٹ سکتے ہیں، تو ان کا باقی خاندان اپنی زندگیوں کو از سرِ نو تعمیر کرنے کی جد و جہد کر رہا ہے۔

 

ڈکوٹا نے اپنی کہانی خود بیان کی۔ یہ 2018 میں فروری کا ایک فیصلہ کن دن تھا۔ سٹیورٹ کے بیٹے ڈکوٹا نے سب منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ فرار ہونے کا وقت آ چکا تھا۔

 

ان کی ماں اور پانچ چھوٹے بہن بھائی ٹرک میں سوار تھے - ان میں سے کچھ ٹرک کے فرش میں چھپے ہوئے تھے۔  

 

بظاہر وہ مرکزی شاہراہ سے دور اُس جانب جا رہے تھے جہاں کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔

 

لیکن جیسے ہی ٹرک میں سوار وہ شہر سے دور ہوتے گئے، ڈکوٹا کا باپ شمال مغربی مونٹانا کے دور دراز پہاڑوں میں اپنے کیبن کا دروازہ توڑتا ہوا نمودار ہوا۔

 

سٹورٹ نے امریکہ کی ایک معروف یونیورسٹی آف ییل سے قانون کی ڈگری لے کر کچھ عرصے تک وکالت کی اور پھر ایک انتہائی دائیں بازوں کے نظریات رکھنے والی شدت پسند ملیشیا ’اوتھ کیپرز‘ یا ’حلف کا پاس کرنے والے‘ (Oath Keepers) کی بنیاد رکھی تھی۔   

 

اُسے دیکھ کر ڈکوٹا اور اس کی ماں تاشا خوفزدہ ہو گئے۔ ’اوتھ کیپرز‘ملیشیا کے لیڈر کی ہیبت اس وقت تک ان کی زندگیوں پر حاوی تھی۔ تاشا اور سٹیورٹ کی شادی کو تقریباً 25 سال ہو چکے تھے، اور وہ اس کے پاگل پن سے واقف تھی۔ وہ ساری رات بغیر آنکھ بند کیے جاگتا رہتا تھا - ورزش کرنا، موسیقی سننا، فلپائنی اسٹک فائٹنگ کی مشق کرنا، اوزاروں کو تیز کرنا وغیرہ اس کے پسندیدہ مشاغل تھے۔

 

ڈکوٹا نے کہا کہ یہ جنونی سرگرمی کا ایک نمونہ تھا، اور وہ اپنے باپ کی اس جذباتی بدسلوکی اور بڑھے ہوئے نفسیاتی مرض سے کئی برسوں سے آگاہ تھا۔

 

اب سٹیورٹ اچانک نمودار ہوا تو اس کے فرار ہونے والے خاندان کو اس خوف نے آن لیا کہ کیا اب وہ انھیں بھاگنے سے روکے گا؟ کیا اُسے معلوم ہوگیا تھا کہ اس کی پسندیدہ بندوق غائب تھی؟ کیا وہ سوال کرے گا کہ اس کا وفادار بیٹا اس کچرا لے جانے والے ٹرک میں سوار کیوں تھا؟ ڈکوٹا نے ٹرک کے سٹیئرنگ کو پکڑ لیا جب کہ تاشا کھڑکیوں کے نیچے چھپی اپنی بیٹیوں کو خوفزدہ حالت میں دیکھ رہی تھی۔

 

سٹیورٹ روھڈز نے اُسے بلند آواز میں کہا ’ارے، واپس آتے ہوئے کچھ گوشت لے آنا۔‘

 

ڈکوٹا اور تاشا نے بڑبڑاتے ہوئے رضامندی ظاہر کی، اور پیچھے کی طرف دیکھے بغیر ہائی وے کی طرف چل پڑے۔

میلیشیا کے کمانڈر سٹیورٹ رھوڈز  Getty Imagesسٹیورٹ رھوڈز

ستمبر کے بعد سے رھوڈز اور ’اوتھ کیپرز‘ کے چار ارکان، ایک دائیں بازو کا شدت پسند ملیشیا گروپ جو 2009 میں قائم ہوا تھا، کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں 6 جنوری 2021 کے ’کیپیٹل ہِل‘ پر ہونے والے ہنگاموں میں ان کے کردار کی وجہ سے مقدمہ میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔

اپنی داڑھی اور آنکھوں کے نقوش کی وجہ سے، سٹیورٹ رھوڈز امریکہ کی حکومت مخالف ملیشیا تحریک کے سب سے زیادہ نمایاں چہروں میں سے ایک ہیں۔

 

ان پر بغاوت کی سازش کا الزام عائد کیا گیا تھا - اس معاملے میں، 2020 کے انتخابات کی تصدیق اور جو بائیڈن کے دورِ صدارت کے افتتاح کو روکنے کی کوشش کرنا جیسا الزام ہے – یہ ایک ایسا الزام ہے جس کی زیادہ سے زیادہ سزا 20 سال قید ہے۔

 

ملک کے دوسری جانب ڈکوٹا اور تاشا، اس مقدمے کو بہت توجہ کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔

ڈکوٹا دنیا کے بارے میں اپنے والد کے نظریہ پر ’مکمل یقین رکھتے ہوئے‘ پلا بڑھا تھا - جسے انھوں نے ’ایک سایہ دار، بدنیتی پر مبنی کمیونسٹ سازش کے وژن کے طور پر بیان کیا جو ایک نیا ورلڈ آرڈر قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے... جس کا مقصد طاقت پر مکمل قبضہ کرنا اور ایک عالمی حکومت قائم کرنا ہے جو جان بوجھ کر افراتفری پھیلائے گی۔‘

آنے والی حکومت کے حمایت یافتہ ’آخرالزماں قیامت خیز ہنگامے‘ (apocalypse) پر اس کے ایمان کو متزلزل ہونے میں اور آخر کار اس کی ابتدائی جوانی تک فرار ہونے میں اس کی نوعمری تک کا عرصہ لگا۔

بچپن کی یادیں

چیزیں ہمیشہ اتنی تاریک نہیں تھیں۔ ڈکوٹا ایڈمز - وہ اور اس کی والدہ اب اپنا پہلا نام استعمال کرتے ہیں - نے اپنے ابتدائی سالوں کا زیادہ تر حصہ مونٹانا کے جنگلات میں نہیں بلکہ امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقے کے طاقت کے مراکز کے وسط میں گزارا تھا۔

 

اس کے والدین کی 1990 کی دہائی میں ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد انھوں نے شادی کی اور ڈکوٹا ان کا سب سے بڑا بچہ تھا۔

 

ڈکوٹا نے اپنا پچپن واشنگٹن ڈی سی کے مضافات میں گزارا جہاں رھوڈز کبھی آزادی پسند کانگریس مین رون پال کے معاون تھے۔ جب ڈکوٹا تقریباً چار یا پانچ سال کا تھا، رھوڈز کو ییل لا اسکول میں داخلہ مل جانے کے بعد یہ خاندان کنیکٹیکٹ ہجرت کر گیا۔

 

ڈکوٹا نے نیو ہیون میں چیپل سٹریٹ کے ’چند پڑوسیوں کو یاد کیا جو اتنا متنوع علاقہ تھا کہ وہ گلی سیسیمی اسٹریٹ کے سیٹ کی طرح دکھائی دیتی تھی‘۔

 

انھوں نے کہا کہ ’میں نے سوچا کہ پوری دنیا ایسی ہی ہے۔‘

Getty Imagesسٹیورٹ رھوڈز اپنے بیٹے ڈکوٹا کے ساتھ

انھوں نے کہا کہ ’یہ وہ وقت تھا جب میرے حقیقی دوست تھے اور حقیقی سماجی تعلقات تھے۔‘

 

تاشا کے مطابق، اس کے باوجود رھوڈز نے عجیب و غریب ہنگامے کیے - شک کے بیج جنھوں نے بعد میں حکومت مخالف مشن کو ہوا دی۔

 

تاشا نے کہا کہ جب ان کی ملاقات ہوئی تھی تو اُس وقت روھڈز کوئی سیاسی رجحان نہیں رکھتا تھا، لیکن وہ ہمیشہ تصوراتی دشمنوں سے بچنے کے لیے حکمت عملی تیار کرتا رہتا تھا۔

 

مثال کے طور پر کسی غیر معمولی چیز کے لیے جیسا کہ جب وہ اپنی گاڑی میں تیل چیک کر رہا ہوتا تھا، تو وہ تاشا کو گارڈ بنا دیتا تھا ’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی اس کے سر پر کوئی ضرب نہ ماردے۔‘

 

ڈکوٹا نے کچھ ناخوشگور یادیں بھی یاد کیں۔ اسے یاد آیا جب وہ تقریباً چار سال کا تھا اور اپنے والد کو نیند سے جگا رہا تھا تو اس کے باپ نے جھپٹ کر ایک چاقو اٹھا لیا۔

 

ڈکوٹا نے کہا کہ ’ایسا منظر میں نے اس سے پہلے یا اس کے بعد کبھی نہیں سنا۔‘

’اوتھ کیپرز‘ ملیشیا کا آغاز کیسے ہوا

2004 میں ییل یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جب رھوڈز نے بطور وکیل کام شروع کیا تو اُس نے اپنے خاندان کو امریکہ کے مغربی خطے کی مختلف ریاستوں میں منتقل کر دیا ۔ ان علاقوں میں منتقل ہونے کے دوران اس کی بے حسی اور حکومت مخالف احساسات سخت ہوتے گئے۔

 

ایریزونا، نیواڈا اور مونٹانا میں منتقلی کے دوران ان کے ہاں پانچ بچے ہوئے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی کسی باقاعدہ سکول میں پڑھنے نہیں گیا۔ بعض بچوں کے پاس اُن کی پیدائش کے سرکاری سرٹیفکیٹ بھی نہیں تھے۔

 

اپریل 2009 میں، یہ خاندان نیواڈا میں رہ رہا تھا جب روھڈز نے ’اوتھ کیپرز‘ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی۔

 

تاشا کے مطابق، اس گروپ کا خیال رھوڈز کی ایک شب بیداریکے دوران اس کے ذہن میں آیا۔  

 

تاشا کو اپنے بچوں میں سے ایک کو سلانے کا وقت یاد ہے جب اس کے شوہر نے ہیوی میٹل میوزک بجانا شروع کردیا اور اسے کمرے سے باہر جانے سے روک دیا۔

 

اس نے ایک بنیادی منشور تشکیل دیا ’وہ احکامات جن کی ہم تابعداری نہیں کریں گے۔‘

 

تاشا نے یاد کیا کہ ’میں اس بچے کو سلانے کی کوشش کر رہی تھی، اور وہ کہتا رہا، 'انتظار کرو، انتظار کرو جب تک تم دیکھ لو کہ میں نے کیا لکھا ہے۔‘

BBCڈکوٹا اپنی ماں تاشا کے ساتھ

ملیشیا تحریکیں طویل عرصے سے امریکی زندگی کی ایک حصہ رہی ہے۔

 

ملیشیا کے ارکان عام طور پر امریکی وفاقی حکومت کی طاقت، انفرادی آزادی اور بندوق کی ملکیت پر پابندیوں کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں - ایسے خدشات جو بعض اوقات سراس احمقانہ یا نفسیاتی بیماری کی حد تک چلے جاتے۔

2021 میں ایک غیر منافع بخش تنظیم سدرن پاورٹی لا سینٹر جو انتہا پسند گروپوں کا سراغ لگاتی ہے، کے مطابق، 30 مختلف امریکی ریاستوں میں 92 ملیشیا گروپ سرگرم تھے۔

 

رھوڈز - جو کبھی آرمی پیرا ٹروپر کے طور پر خدمات انجام دے چکا تھا - نے فوجی تجربہ رکھنے والوں، پولیس افسران اور دوسرے لوگوں کی مدد سے اوتھ کیپرز کی بنیاد رکھی۔ اس نے تربیت یافتہ لوگوں کے دستے جمع کرنے کا خیال بنایا تھا جو حکومتی ظلم کے خلاف لڑ سکتے ہیں۔

 

اس کی بانی دستاویز کا آغاز جارج واشنگٹن کے ایک اقتباس سے ہوا اور اس میں ملیشیا کی دنیا کی سب سے بڑی کامیاب فلمیں شامل تھیں۔

 

رھوڈز نے لکھا کہ ’ہم امریکی عوام کو غیر مسلح کرنے کے کسی حکم کی تعمیل نہیں کریں گے۔‘

 

امریکی شہروں کی ناکہ بندی، حراستی کیمپوں اور صدر کے ’مضحکہ خیز مطلق العنان دعویٰ کردہ اختیارات‘ کے خلاف انتباہات تھے۔

 

یہ دستاویز ملیشیا کے حلقوں میں وائرل ہو گئی اور بالآخر رھوڈز کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تنازعات کے راستے پر دھکیل دیا۔

 

لیکن اس کی بیوی اس کے راستے میں حائل نہیں ہوئی۔

 

تاشا نے کہا کہ ’وہ اپنے غصے میں آجانے کی وجہ بتاتا رہا کہ اس کے متشدد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اسے زندگی میں اپنا راستہ نہیں ملا۔ تو میرے ذہن کے ایک حصے نے سوچا، ٹھیک ہے، شاید اس سے اس کے ساتھ جو بھی غلط ہے اسے ٹھیک کرنے میں مدد ملے گی۔‘

اپریل 2009 میں، اوتھ کیپرز نے امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر لیگزنگٹن میں اپنی تنظیم کا آغاز ایک تقریب کے ساتھ کیا، جو امریکی انقلابی جنگ کی پہلی لڑائی کا مقام ہے۔

 

رھوڈز نے حمایت حاصل کرنے کے لیے پورے ملک کا سفر شروع کیا۔ وہ قدامت پسند یوٹیوب چینلز، الیکس جونز ریڈیو شو، اور یہاں تک کہ مین سٹریم ٹی وی نیٹ ورکس پر نمودار ہوئے۔

 

اس کا خاندان ملیشیا کے منصوبے کا ایک لازمی حصہ بن گیا۔

 

خاندان کی زندگی اوتھ کیپرز کی زندگی بن گئی۔ تاشا ارکان کو گھر میں خوش آمدید کتی۔ ڈکوٹا ملیشیا کی ای میلز کا جواب دیتا تھا اور، جب وہ بڑا ہوا تو اپنے والد کے ساتھ اوتھ کیپرز کی تقریبات میں جاتا۔

لیکن طویل عرصے تک جب رھوڈز نے سفر میں وقت بتانا شروع کیا تو اس کے خاندان کے باقی افراد نے محسوس کیا کہ ان کے لیے معمول کی زندگی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

 

ڈکوٹا نے کہا کہ ’ہم اس قدر دنیا سے کٹے ہوئے اور الگ تھلگ تھے کہ تاریخ اور وقت اور ہفتے کا کون سا دن تھا، یا کون سا سال تھا، اس کا ہماری داخلی زندگیوں پر بہت کم اثر تھا۔‘

 

آج ڈکوٹا مونٹانا کے ایک چھوٹے سے قصبے کے باہر ایک کمرے کے اپارٹمنٹ میں رہتا ہے، اس خاندانی گھر سے زیادہ دور نہیں جس سے وہ فرار ہوا تھا۔

 

اب اس کی عمر 25 سال ہے، اس کے شانوں پر اس کے گہرے سنہرے بال بکھرے نظر آتے ہیں - جو اس کے بچپن کی تصاویر کے برعکس ہے۔ وہ کبھی کبھار اپنے خاندان کے بارے میں بات کرتے وقت جذبات میں آ جاتا ہے۔

 

وہ اپنی کہانی درست طریقے سے بتانا چاہتا ہے، اس لیے جب وہ اپنی یادداشت کے واضح خیالات کے درمیان صحیح تاریخوں کو یاد نہیں کر پاتا ہے تو وہ معذرت خواہ ہوتا ہے۔

اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے، اُس نے کہا کہ انھیں احساس ہوا کہ اُس کے خاندان کے افراد ’سٹیورٹ رھوڈز برینڈ کے لوازمات‘ بن گئے تھے۔

 

ڈکوٹا نے کہا کہ اس کے والد نے ’اپنے خاندان کو شخصیت کے اس فرقے  (cult of personality) کا مرکز بنا دیا تھا جسے وہ اپنے لیے بنانا چاہتا تھا۔ اور یہ حقیقت جسے وہ وجود میں لانا چاہتا تھا، جس میں وہ امریکی تاریخ کی ایک بڑی نجات دہندہ شخصیت سمجھا جائے گا۔‘

 

رھوڈز کے سب سے بڑے بیٹے کے طور پر، اس نے کہا کہ اس نے خاندان کے اس چہرے کو برقرار رکھنے کی وجہ سے ایک زبردست دباؤ محسوس کیا۔ اس سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ دقیانوسی طور پر مردانہ سرگرمیاں اختیار کرے گا جو ملیشیا کے مقاصد کو پورا کر سکے۔

ان میں زندہ رہنے کی مہارت، شوٹنگ کی مشق، مارشل آرٹس کی تربیت اور ہوم سکول کی تاریخ کے اسباق شامل تھے جو زیادہ تر امریکی انقلاب اور تھرموپلائی کی جنگ پر مرکوز تھے۔

 

شروع میں بہت سے دوسرے بیٹوں کی طرح، ڈکوٹا بھی اپنے والد کی خوشی پوری کرنا چاہتا تھا۔

 

انھوں نے کہا کہ ’بچپن سے ہی میرے دل میں اپنے والد کا ایک خاص احترام تھا جو سالوں میں آہستہ آہستہ ختم ہوتا گیا۔ میں نے اپنے آپ کو اپنے خاندان کے لیے ایک بہت بڑی ناکامی کے سوا نہیں دیکھا جو کبھی بھی سٹیورٹ کے معیار پر پورا نہیں اتر سکتا تھا۔‘

ناگوار یادیں

مونٹانا کا شہر کیلیسپیل ایک چھوٹا لیکن بڑھتا ہوا شہر ہے جو قریبی گلیشیر نیشنل پارک کی جانب مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔

 

خاندان کے پچھلے گھروں میں سے ایک کے باہر کھڑے ہو کر ٹریلرز کی ایک قطار کے سامنے ایک معمولی رنگ کا گھر ہے، یہ اب واضح ہے کہ اس جگہ نے ڈکوٹا کے لیے ناخوشگوار یادیں تشکیل دی تھیں، کیونکہ اُس نے اپنی ابتدائی نوعمری کے سال وہاں گزارے تھے۔

BBCڈکوٹا اور مونٹانا کے مناظر

اس نے خاص طور پر 2012 کے آس پاس کے دنوں کا ایک واقعہ سنایا۔ یٹی نامی ایک پیارا پالتو کتا بیمار تھا اور بالآخر گھر کے اندر ہی مر گیا۔

 

اس نے کہا کہ ’سٹیورٹ [اوتھ کیپرز] کانفرنس کالز اور لوگوں کو ای میل کرنے میں مصروف تھا اور وہ میرے کتے کی آخری رسومات کے لیے نہیں گیا۔‘

 

رھوڈز کو کتے کی آحری رسومات ادا کرنے میں تین دن لگے۔ اس نے لاش کی بو کا مذاق اڑایا اور اپنے نوعمر بیٹے کے اس جانور سے جذباتی لگاؤ ​​کے بارے میں اس کا مذاق اڑایا۔

 

ڈکوٹا کو تب بہت غصہ آیا تھا۔

 

انٹرویو کے دوران ڈکوٹا اور تاشا نے بدسلوکی اور نظرانداز کرنے کے متعدد اسی طرح کے واقعات کا ذکر کیا۔ جیسا کہ ڈکوٹا نے بیان کیا کہ سٹیورٹ نے خاندان کے سامنے والے پورچ میں اپنی ایک بہن کا گلا دبایا تھا۔

 

اُس نے کہا کہ ’جب تک میں ایک بالغ آدمی نہیں تھا، میں بالکل ایک جذباتی دہشت گرد کے سائے میں رہ رہا تھا۔‘

 

اپنی قانونی ٹیم کے ذریعے رھوڈز نے اس کہانی پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

پہاڑوں کی طرف جانا

کیلِسپل کا چھوٹا شہر رھوڈز کے لیے کافی دور دراز کا علاقہ نہیں تھا۔

 

2010 کی دہائی کے اوائل میں یہ خاندان شمال کی طرف چند گھنٹوں کی مسافت پر ایک کیبن میں منتقل ہوا، پہاڑوں میں ایک چھوٹی سی کمیونٹی میں، جہاں ہم خیال ملیشیا کے ارکان اور دوسرے لوگ آباد تھے جو عام طور پر تنہا رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

 

ایک نوجوان کے طور پر، ڈکوٹا نے ایک موسم گرما میں اس جگہ پر کسی بھی حملے کی صورت میں وہاں سے فرار ہونے کے لیے سرنگیں کھودنے میں کافی وقت گزارا۔ اس کے والد کے خیال میں خاندانی احاطے پر ایک ناگزیر حکومتی حملہ ہونے کے امکانات موجود تھے۔

 

الگ تھلگ رہتے ہوئے اس نے زیادہ سے زیادہ وقت آن لائن ویب سائٹس اور فورمز پر گزارنا شروع کر دیا۔

وہ اپنے آپ کو ایک ’عجیب شخص‘ (neckbeard) کے طور پر بیان کرتا – یہ ایک بد زبانی کی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے شائستگی کے ساتھ، تہہ خانے میں بند رہنے والا کمپیوٹر کا شوقین بیوقوف جو اپنی شخصیت کو نظر انداز کرتا ہے۔

Getty Imagesرھوڈز میسوری ریاست میں

اس سارے عرصے کے دوران، رھوڈز کی حوصلہ افزائی کی بدولت اوتھ کیپرز اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے تھے۔

 

مسلح ارکان نے فرگوسن، میسوری میں 2015 میں ایک پولیس افسر کے ہاتھوں نوجوان مائیکل براؤن کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں کی ایک سال کی سالگرہ کے موقع پر شہر میں مارچ کیا۔

 

لیکن جیسے جیسے ملیشیا کے ارکان کی تعداد بڑھتی گئی رھوڈز کے خاندان نے پیسوں کے حصول کے لیے اپنی کوششیں تیز کردیں۔

فوجداری مقدمے کے سلسلے میں جمع کیے گئے شواہد کے مطابق ملیشیا نے سالانہ ممبرشپ فیس 30  ڈالر وصول کی، جو بعد میں بڑھ کر 50 ڈالر ہوگئی۔ ان فنڈز کو عطیات کے ذریعے جمع کیا گیا۔

 

پچھلے سال لیک ہونے والی ممبرشپ لسٹ میں 38,000 نام شامل تھے، جن میں کچھ منتخب سیاستدان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی شامل تھے۔ کتنے واجبات ادا کیے گئے یا کتنی مدت تک اد کیے جاتے رہے، یہ واضح نہیں ہے۔

 

مقدمے کی سماعت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق، رھوڈز نے اوتھ کیپرز کی بنیاد رکھنے کے بعد سے ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کروائے ہیں۔

 

اس کے اہل خانہ نے بتایا کہ گولہ بارود اور سفر کے اخراجات بڑھ گئے تھے۔ اگرچہ ایک جانب رھوڈز کے خاندان کو ملیشیا کے تربیتی سیشن کی کہانیوں کی بدولت بہت شہرت ملی، لیکن اس کی بیوی اور بچے اکثر دلیا اور خشک میوہ جات کے ٹکڑوں جیسی سستی خوارک پر گزارہ کرتے تھے۔

 

ان تمام واقعات کے دوران ڈکوٹا کے ذہن میں، اس کے والد کی قیادت میں چلائی جانے والی تحریک کے بارے میں شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے۔

 

اُس نے کہا کہ ’میں نے سٹیورٹ کے رویے پر غور کرنا شروع کیا کہ وہ اصل میں کیا ہے، اور میرا آحری دنوں میں اُس پر سے ایمان اٹھ چکا تھا۔‘

 

اس کے والد کی سماجی تباہی اور حکومتی کریک ڈاؤن کے بارے میں پیش گوئیاں سچ ثابت نہیں ہورہی تھیں۔ اس طرح اُسے کچھ کچھ سمجھ آنے لگا۔

 

اس نے کہا کہ ’اس کا مطلب یہ تھا کہ ممکنہ طور پر مستقبل میں اب بھی بچا سکتا ہوں۔ اور اس کا مطلب یہ تھا کہ مجھے اپنے خاندان کو سٹیورٹ سے علحیدہ کر کے محفوظ کرنا ہو گا۔‘

فائر فائیٹنگ

ڈکوٹا کے پاس کوئی پیسہ نہیں تھا، کوئی رسمی تعلیم نہیں تھی اور بہت چھوٹا سا ایک سماجی حلقہ تھا۔

اس نے صحیح سمت میں کچھ قدم اٹھائے - اس نے گاڑی چلانا سیکھا، اور اپنا جی ای ڈی کا امتحان پاس کرنے کے لیے تیاری کی – جی ای ڈی کی تعلیم ہائی سکول ڈپلومہ کے برابر ہے۔

لیکن اصل تبدیلی ایک پیٹرول سٹیشن پر ایک حادثے بعد آئی جب وہ اپنے والد کو اوتھ کیپرز کی ایک میٹنگ سے واپس لے جا رہا تھا۔

BBCپیٹرول سٹیشن

اس واقعے نے ڈکوٹا کی زندگی بدل کر رکھ دی۔

 

وہاں موجود ایک کلرک نے اسے مقامی رضاکار فائر ڈپارٹمنٹ کے بارے میں بتایا۔ ڈکوٹا نے اگلی میٹنگ میں ساتھ آنے پر اتفاق کیا۔ اس کی زندگی میں یہ تبدیلی ایک لحاظ سے اس کی اپنے باپ کے ساتھ مسلسل وابستگی میں ایک وقفہ کی صورت اختیار کر گیا جس کی اسے ضرورت تھی۔

 

فائر ڈپارٹمنٹ میں شمولیت نے ڈکوٹا کو زندگی کی نئی اقدار سے روشناس کرایا جو شروع میں ان تمام باتوں جیسی لگتی تھیں جو وہ اپنے گھر پر سنا کرتا تھا: شہری ذمہ داری اور تیاری کے بارے میں اسباق۔

لیکن فائر سٹیشن پر لوگ قدیم لڑائیوں، بندوقوں اور خوراک کے ذخیرے، اور حکومت کے خلاف غصے کے بارے میں بات نہیں کر رہے تھے۔ وہ باہر نکل کر لوگوں کی مدد کر رہے تھے۔

BBCڈکوٹا فائر فائٹر کے لباس میں

اس سارے عرصے کے دوران اس نے تیزی سے یہ محسوس کرنا شروع کردیا کہ اب وہ اپنے باپ کو چھوڑ سکتا ہے  اور جیسے ہی وہ 20 برس کا ہوا، ڈکوٹا نے محسوس کیا کہ اس کے بہن بھائی اس سے بھی زیادہ عرصے سے باپ سے فرار ہونے کی خواہش کر رہے تھے۔

 

اُس نے کہا کہ ’میں آخری بچہ تھا جس نے سٹیورٹ کے بیانیے میں کسی بھی قسم کی وفاداری یا یقین برقرار رکھا ہوا تھا۔‘

 

ایک ابتدائی منصوبہ تیار کیا گیا۔ ایک کے بعد ایک، بچے اپنے خاندانی گھر سے باہر چلے جائیں گے، اور باقی بہن بھائیوں کو فرار ہونے میں مدد دیں گے۔

 

ڈکوٹا نے کہا کہ ’ہم مؤثر طریقے سے ایک دوسرے کا مددگار بنانے جا رہے تھے۔‘

 

اپنی ماں کے ساتھ رات گئے کچھ بات چیت نے اسے احساس دلایا کہ تاشا بھی جانا چاہتی ہے۔

فرارBBCڈکوٹارھوڈز

جبرالٹر پہاڑی کی آگ نے قریبی کوٹینائی نیشنل فارسٹ میں ہزاروں ایکڑ اراضی کو تباہ کر دیا۔ اس آگ کا آغاز اگست 2017 میں آسمانی بجلی گرنے سے ہوا تھا، اور ڈکوٹا آگ بجھانے کے لیے بھرتی کیے گئے فائر فائٹرز میں سے ایک تھا۔

 

اس نے موسم گرما اور ابتدائی موسم خزاں کے دن اس آگ کے شعلوں پر قابو پاتے ہوئے گزارے۔ اس اتنا پیسہ کما لیا کہ وہ اب اپنا ٹرک خرید سکتا تھا، خاندان کے پاس یہ پہلی گاڑی تھی جو اس کے والد کے نام پر نہیں خریدی گئی تھی۔

 

انھوں نے کہا کہ ’بجائے اس کے کہ سٹیورٹ ہماری نقل و حمل پر اپنا سخت کنٹرول رکھ پاتا ہم آزادانہ طور پر گھر سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔‘

 

ڈکوٹا نے کہا کہ خاندان کی کمزور مالی حالت کی وجہ سے انھوں نے دو سال تک حکمت عملی بنائی۔

 

انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم ان حالات سے باہر نہ نکلے تو ہمیں بے گھر ہونے کے ساتھ ساتھ بدترین قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

 

تاشا نے طلاق کے لیے قانونی کاغذات جمع کرائے۔

اسے یاد آیا کہ فرار ہونے سے ایک رات پہلے فروری 2018 میں اس رات رھوڈز اور تاشا قریبی چوراہے پر بار میں شراب پینے گئے۔

بارٹینڈر اسے غور سے دیکھتا رہا، کیونکہ وہ روتی رہی۔ اس نے کہا کہ ’سٹیورٹ نے بلکل توجہ نہیں دی۔‘ اگلے دن تمام گھر والے فرار ہو گئے۔

برسوں جیل میں رہنا

یہ کسی بھی صورت میں کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اُن کا خاندان اب بھی مونٹانا میں رہتا ہے۔

تاشا، ڈکوٹا، اور ان کے بہن بھائیوں کو ملیشیا تحریک سے باہر کی زندگی میں ایڈجسٹ کرنا پڑا، کام، اسکول اور کمیونٹی کی زندگی کے معمول کے معمولات میں شامل ہونا پڑا۔

 

ڈکوٹا کو کرائے کا ایک گھر ملا، اور بعد میں اس نے اپنی چھوٹی سی جگہ تعمیر کر لی۔ کئی ملازمتوں کے درمیان، وہ اپنے خاندان کی مدد کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رھوڈز نے کبھی ایسا نہیں کیا۔

 

آج کل وہ ایک مقامی کمیونٹی کالج میں آرٹ اور امریکی سیاست کے مضامین پڑھ رہا ہے۔ تاشا کو درخواست دینے کے ساڑھے چار سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک طلاق نہیں ملی ہے۔

 

اور پھر بھی سٹیورٹ رھوڈز اور اوتھ کیپرز کا خوف انھیں پریشان رکھتا ہے۔

BBC

بہت سی دیگر سیاسی تحریکوں کی طرح 2015 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے انتخاب سے ملیشیا کی دنیا میں تبدیلی آئی۔

رھوڈز اور ان کے اوتھ کیپرز سخت حکومتی مخالفت سے ٹرمپ تحریک کے خیالی محافظوں میں بدل گئے۔

 

اور 2020 کے انتخابات کے بعد عدالت میں پیش کی گئی گواہیوں کے مطابق، اوتھ کیپرز نے تصادم، ہتھیاروں کا ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ تند و تیز بیان بازی کو بڑھاوا دیا۔

 

جب ڈکوٹا اور تاشا نے 6 جنوری 2021 کو نیوز کوریج دیکھی، تو انھیں یہ جاننے کے لیے رھوڈز کا چہرہ دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ وہاں موجود ہے۔

 

حقائق واضح ہو چکے تھے - ایک لائن میں اوتھ کیپرز کی تشکیل، ان کے سامنے ملیشیا کے ارکان کے کندھوں پر ہاتھ رکھے، کیپیٹل ہِل پر کانگریس کی عمارت کے اندر داخل ہو رہے تھے۔

 

ڈکوٹا نے 2016 کے انتخابات کے بعد اپنے والد کو ٹرمپ کے ایک شک سے بھرے ہوئے حامی سے ایک بھرپور حمایتی میں تبدیل ہوتے دیکھا تھا۔

 

2020 کے انتخابات کی پیش رفت میں رھوڈز نے اپنی ملیشیا کو ٹرمپ کی تحریک کی حفاظت کے لیے دفاع کی آخری لائن کے طور پر تصور کیا۔

عدالت میں اس نے گواہی دی کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے ایک 200 سال پرانے قانون، جو کہ صدر کو مسلح افواج اور نیشنل گارڈ کو امن و امان برقرار رکھنے کےلیے طلب کر نے کا اختیار دیتا ہے، کو استعمال کرے گا۔

 

اور ایسی صورت میں رھوڈز کے اوتھ کیپرز ٹرمپ کی تقریباً ایک نجی فوج بن جائیں گے۔

 

ڈکوٹا نے کہا کہ ’میں جانتا تھا کہ سٹیورٹ واقعی ٹرمپ کی طرف بڑھ رہا تھا اور اسے یہ سب کچھ ٹرمپ کے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے کرنا پڑے گا، چاہے وہ الیکشن جیتے یا نہ جیتے۔‘

 

لیکن اب رھوڈز اور مقدمے میں اس کا ایک ساتھی، کیلی میگس، کو کیپیٹل ہِل کے ہنگاموں سے پیدا ہونے والے اب تک کے سب سے سنگین الزامات میں قصوروار پائے جانے کے بعد 20 سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اوتھ کیپرز کے تین دیگر ارکان کو بغاوت کی سازش کے الزام میں قصوروار نہیں پایا گیا تھا لیکن انھیں کم الزامات میں سزا سنائی گئی تھی، بشمول سرکاری کارروائی میں رکاوٹ ڈالنا وغیرہ۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More