منافع کے لیے ماحولیات سے کھیلنا تباہ کن ہے: اقوام متحدہ

اردو نیوز  |  Dec 07, 2022

اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ کاروباری منافع کے لیے ماحولیاتی نظام سے کھیلنے کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مونٹریال میں حیاتیاتی تنوع کے موضوع پر مذاکرات سے قبل ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے ان بڑے کاروباری اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو اپنے منافع کے لیے وہ سب کچھ کر رہے ہیں جس سے کائنات کا توازن بگڑ رہا ہے۔

 ’ہماری بے قابو اور غیرمساوی معاشی ترقی کی بھوک نے انسانیت کو معدومی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔‘

پرتگال کے سابق وزیراعظم انتونیو گوتریس 2017 میں اقوام متحدہ میں عہدہ سنبھالنے سے لے کر اب تک موسمیاتی تبدیلیوں سے ماحولیات کے تحفظ پر بہت زور دیتے آ رہے ہیں۔

عالمی کانفرنس کوپ 15 کے موقع پر بھی انہوں نے ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تھا اور پودوں و جانوروں کے درد کو سامنے لائے تھے۔

ان کی تقریر شروع ہونے سے قبل نصف درجن مقامی افراد نے کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی تقریر میں رکاوٹ ڈالی۔

جسٹن ٹروڈو نے تقریر دوبارہ شروع کرتے ہوئے کہا کہ ’جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کینیڈا اظہار آزادی رائے کی سرزمین ہے۔ ہم احتجاج کرنے والوں کے شکرگزار ہیں کہ وہ اپنا موقف ہمارے سامنے لائے۔‘

خیال رہے متذکرہ کانفرنس موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ہونے والی کوپ 27 سے الگ ہے۔

سات سے 19 دسمبر تک ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے لیے 200 کے لگ بھگ ملکوں کے نمائندے اکٹھے ہوئے ہیں اور ماحولیات کی بہتری کے لیے کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس وقت جانوروں کی 10 لاکھ اقسام معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ایک تہائی زمین کا معیار خراب ہوا ہے اور زمین تیزی سے زرخیزی کھو رہی ہے۔

اسی طرح آلودگی سمندروں کو بھی زہرآلود کر رہی ہے۔

کیمیکلز، پلاسٹک اور فضائی آلودگی نے انسانیت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ ’ہم نیچر کو ایک ٹائلٹ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور ہم ایک پراکسی خودکشی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More