انڈونیشیا کے سیکس سے متعلق نئے قوانین: ’میں بہت پریشان ہوں، میرا تو گزر بسر ہی سیاحت کے شعبے سے جڑا ہوا ہے‘

بی بی سی اردو  |  Dec 07, 2022

Getty Images

انڈونیشیا میں ’ٹورازم آپریٹرز‘ اب بھی کورونا وائرس کے تباہ کن اثرات سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب ملک کی پارلیمنٹ نے نئے قوانین منظور کیے ہیں، جن کے بارے میں کچھ خوف سیاحوں کو ایک بار پھر اس ملک سے دور رکھ سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈونیشیا میں شادی کے بعد جنسی تعلقات کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

انڈونیشیا میں متنازع قوانین، جنھیں ناقدین انسانی حقوق کے لیے ’آفت‘ قرار دے رہے ہیں، متعارف کرائے گئے ان نئے قوانین کے تحت غیر شادی شدہ جوڑوں کے ایک ساتھ رہنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ قوانین سیاسی اور مذہبی آزادیوں پر پابندی لگاتے ہیں۔

ان نئی ترامیم کے خلاف اس ہفتے جکارتہ میں مظاہرے ہوئے اور اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس نئی قانون سازی کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

نئے فوجداری ضابطوں کا اطلاق تین برسوں میں ہوگا اور ان کا اطلاق انڈونیشیا کے باشندوں اور ملک میں مقیم غیر ملکیوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں پر بھی ہوگا۔

یہ تنازع قریبی ملک آسٹریلیا میں بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا گیا ہے، جہاں کچھ اخبارات نے اسے ’بالی بونک بین‘ کا نام دیا ہے۔

واضح رہے کہ انڈونیشیا کی معیشت آسٹریلیا سے آنے والی سیاحت پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے جو کہ وبائی مرض سے پہلے انڈونیشیا کا نمبر ایک سیاحتی ذریعہ تھا۔ ہر ماہ ہزاروں لوگ ’ٹراپیکل‘ جزیرے بالی کا رخ کرتے ہیں تاکہ اس کے موسم گرما کا لطف اٹھائیں، سستے بنٹانگ بیئرز کے مزے اڑائیں اور رات بھر ساحل سمندر پر ہونے والی پارٹیوں میں جشن منائیں۔

بالی کی شادیاں کافی عام ہیں اور آسٹریلیا کے ہزاروں گریجویٹ طلبا ہر سال ہائی سکول میں تعلیم مکمل کرنے کا جشن منانے کے لیے بالی جاتے ہیں۔

بہت سے نوجوان آسٹریلوی باشندوں کے لیے بالی کے سفر کو محض ایک سفری رسم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہاں سے بہت سے عام سیاح سال میں فوری اور سستے سفر کے لیے اس طرف کا رخ کرتے ہیں۔

لیکن برسوں تک افواہوں کے بعد جیسے ہی یہ خبر چلی کہ نئے قوانین اب حقیقت کا روپ ڈھال رہے ہیں تو اس سے یہاں مستقبل میں سیاحوں کی آمد سے متعلق کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔

انڈونیشیا میں سیاحت کے لیے مختص فیس بک کے صفحات پر صارفین نے ان نئی ترامیم اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے ان کا مطلب سمجھنے کی کوشش کی ہے۔

کچھ نے کہا کہ وہ اپنے نکاح نامہ کے ساتھ سفر کرنا شروع کر دیں گے جبکہ دیگر جو شادی شدہ نہیں تھے نے کہا کہ اگر قوانین کے مطابق انھیں اپنے ساتھی کے ساتھ ہوٹل کا کمرہ شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہے تو وہ کہیں اور جائیں گے۔

بالی ٹریول کمیونٹی گروپ کے ایک صارف نے کہا کہ ’آپ اپنے راستے سے باہر نکلنے کے لیے رشوت دے رہے ہوں گے۔‘

ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’یہ بالی کی سیاحت کی صنعت کو برباد کرنے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔‘ ایک اور صارف، جس کے تبصرے سے دیگر کئی صارفین نے بھی اتفاق کیا، نے لکھا کہ یہ ’ڈرانے کے حربے‘ ہیں جن کو نافذ کرنا ناممکن ہوگا۔

نئے قانون کے تحت غیر شادی شدہ جوڑوں کو جنسی تعلقات قائم کرنے پر ایک سال تک قید ہو سکتی ہے اور ساتھ رہنے والوں کو چھ ماہ تک قید ہو سکتی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ چھٹیاں منانے والے بھی ان قوانین کے تحت مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایک سینئیر محقق آندریاس ہارسونو نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) کو بتایا کہ ’ہم کہتے ہیں کہ ایک آسٹریلوی سیاح کا بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ ہے جو مقامی ہے۔ پھر مقامی والدین یا مقامی بھائی یا بہن نے سیاح سے متعلق پولیس کو اطلاع دی تو یہ ایک مسئلہ ہو گا۔‘

سیاحوں سے کہا گیا ہے کہ وہ زیادہ فکر نہ کریں کیونکہ پولیس صرف اس صورت میں تفتیش کرے گی جب خاندان کا کوئی فرد جیسا کہ مشتبہ مجرموں کے والدین، شریک حیات یا بچہ اس کی شکایت کرے گا۔

آندریاس ہارسونو کےمطابق یہ اپنے آپ میں خطرناک ہے کیونکہ یہ اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان قوانین کو اپنی من مرضی سے استعمال کی اجازت دے گا۔

انھوں نے اے بی سی ریڈیو کو بتایا کہ ’ان ترامیم کا مطلب ہے کہ اب نئے ضابطہ صرف مخصوص اہداف کے خلاف عمل میں لایا جائے گا۔‘

’یہ ہوٹل ہو سکتے ہیں، یہ غیر ملکی سیاح ہو سکتے ہیں… جو کچھ پولیس افسران کو رشوت لینے یا کچھ سیاستدانوں کو استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔ جیسا کہ توہین رسالت کے قانون کو مخالفین کو جیل بھیجنے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔‘

’آسٹریلین سیاحوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘

اگرچہ زیادہ تر آن لائن ہونے والی بات چیت آسٹریلوی باشندوں کے اس رویے کی عکاسی کرتا ہے کہ دوست کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ لیکن اب بھی تشویش کی ایک بڑی وجہ موجود ہے۔

آسٹریلوی اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ انڈونیشی حکام کے ساتھ الجھاؤ کتنا سنگین ہو سکتا ہے یہاں تک کہ نسبتاً معمولی جرائم کے لیے بھی اس کی خاصی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

انڈونیشیا کی وزارت انصاف کے ترجمان نے یہ کہہ کر خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ سیاحوں کے لیے خطرہ کم ہے کیونکہ جو بھی پولیس کو شکایت کرے گا وہ ممکنہ طور پر انڈونیشیا کا شہری ہی ہوگا۔

آسٹریلوی نیوز ویب سائٹ ’ڈبلیواے ٹوڈے ڈاٹ کام‘ کے مطابق البرٹ ایریز نے کہا ہے کہ ’اس کا مطلب ہے کہ آسٹریلوی سیاحوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

Getty Images

لیکن بالی اب اپنی سیاحت کے شعبے میں مزید دھچکا برداشت نہیں کر سکتا۔ پہلے ہی کورونا وائرس سے سیاحت کی صنعت خاصی متاثر ہوئی ہے اور بہت سے کاروبار اور خاندان اپنے نقصان کے ازالے کے کوشاں ہیں۔

پرتھ میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم انڈونیشیا انسٹی ٹیوٹ کے مطابق سنہ 2019 میں ریکارڈ 1.23 ملین آسٹریلوی سیاحوں نے بالی کا دورہ کیا۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس کا موازنہ سنہ 2021 سے کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ سال بھر میں محض 51 غیر ملکی سیاحوں نے اس جزیرے کا رخ کیا اور صاف ظاہر ہے کہ اس کی وجہ کورونا وائرس کی وبا تھی۔ اب اگرچہ انڈونیشیا کی سیاحت مضبوط ہو رہی ہے۔

رواں برس جولائی میں انڈونیشیا کے قومی شماریاتی بیورو نے ملک میں 470,000 سے زیادہ غیر ملکی سیاحوں کی آمد کا ڈیٹا جاری کیا ہے۔ یہ تعداد گذشتہ برس اکتوبر میں کورونا وائرس کی پابندیوں میں نرمی کے بعد سب سے زیادہ تعداد بنتی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ڈپٹی ایشیا ڈائریکٹر فل رابرٹسن نے ٹویٹ کیا کہ نئے قوانین بالی کی سیاحت کو تباہ کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈونیشیا کی حکومت کا ’دلہن کو اغوا‘ کرنے کے رواج پر پابندی کا عزم

انڈونیشیا کا نیا بالی: سیاحتی مرکز کے لیے زمینوں کا حصول اور زبردستی بے دخلی کے الزامات

کیا دنیا کا سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک انڈونیشیا بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہا ہے؟

https://twitter.com/Reaproy/status/1600112125099114496?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1600112125099114496%7Ctwgr%5Edb76c549120203ab6ddd822911df6f8f6e76d4c5%7Ctwcon%5Es1_c10&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.bbc.com%2Fnews%2Fworld-asia-63874633

’میرا انحصار صحیح معنوں میں سیاحت پر ہی ہے‘

یومن نامی ٹور گائیڈ، جو سنہ 2017 سے بالی میں کام کر رہے ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ نئے قوانین کے اثرات پورے انڈونیشیا میں ’بہت شدید‘ ہو سکتے ہیں لیکن خاص طور پر اس جزیرے پر جہاں سیاح اپنی چھٹیاں گزارنے آتے ہیں۔

’میں بہت زیادہ پریشان ہوں، کیونکہ واقعی میرا انحصار سیاحت پر ہے۔‘

بالی متعدد واقعات کی ایک تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ اس میں دونوں طرح کے واقعات ہیں یعنی قدرتی آفات اور خود ساختہ آفات، جنھوں نے جزیرے کا رخ کرنے والوں کی تعداد کو متاثر کیا ہے۔

یومن کے مطابق ’خلیجی جنگ، بالی دھماکے، آتش فشاں کا پھٹنا جیسے ماؤنٹ سیمیرو (آتش فشاں)، ماؤنٹ رنجانی (آتش فشاں) اور پھر کورونا وائرس کا پھیلاؤ جس سے پھر بالی کی سیاحت متاثر ہوئی۔

لیکن انڈونیشیا کی حکومت نے غیر ملکی سیاحوں کو اپنے خوبصورت ساحلوں پر واپس لانے کی کوشش کی ہے۔صرف چند ہفتے قبل اس نے ایک پُرکشش نئے ویزا آپشن کا اعلان کیا تھا، جس سے لوگوں کو جزیرے پر دس سال تک رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More