سٹیٹس سنگل: ’انڈیا میں کسی امیر عورت کے لیے بھی اکیلے رہنا آسان نہیں‘

بی بی سی اردو  |  Dec 09, 2022

BBC

انڈیا میں روایتی طور پر لڑکیوں کی پرورش ایک اچھی بیوی اور ماں بننے کے لیے کی جاتی ہے جن کی زندگی کا سب سے اہم مقصد شادی ہوتا ہے۔

لیکن اب خواتین کی بڑی تعداد سنگل رہنے کو ترجیح دیتے ہوئے اپنا راستہ خود چن رہی ہیں۔

اتوار کو میں دوپہر کے کھانے پر تقریبا دو درجن خواتین کے ساتھ جنوبی دلی میں کیریبیئن لاونج میں موجود تھی۔یہ کمرہ قہقہوں سے گونج رہا تھا۔ یہ تمام خواتین ایک فیس بک کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھیں جس کا نام ’سٹیٹس سنگل‘ ہے۔

سری موئے پیو کنڈو، ایک مصنفہ ہیں، جو اس کمیونٹی کی بانی ہیں۔ انھوں نے بھرے کمرے سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’خود کو بیوہ، طلاق یافتہ یا غیر شادی شدہ کہنا چھوڑ دیں۔ ہم خود کو فخر سے بس سنگل کہیں گے۔‘

ان کی بات پر کمرہ تالیوں سے گونج اٹھا۔

ایک ایسے ملک میں جہاں شادی کا رواج اب بھی مضبوط ہے، اکیلی رہنے والی خواتین کو اب بھی منفی معاشرتی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انڈیا کے دیہی علاقوں میں ایسی خواتین کو خاندان پر بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے پاس اپنے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ہوتا اور ہزاروں خواتین کو تو مذہبی مقامات جیسے ورنداون اور ورانسی میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

مس کنڈو اور دلی میں ان کے ساتھ جن خواتین سے میری ملاقات ہوئی، وہ کچھ مختلف ہیں۔

ان کی اکثریت مڈل کلاس خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے جن میں ڈاکٹر، وکیل، مصنف، صحافی اور اساتذہ شامل ہیں۔کچھ طلاق یافتہ ہیں اور کچھ بیوہ۔ کچھ کی علیحدگی ہوئی تو کچھ نے شادی ہی نہیں کی۔

Getty Images

تاہم انڈیا کے شہروں میں اکیلی خواتین کو ایک معاشی موقع سمجھا جاتا ہے جن کو بینک، زیورات کے بیوپاری یا ٹریول ایجنسی والے اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اب ثقافتی طور پر بھی ان کو نمائندگی مل رہی ہے۔ بالی وڈ فلم ’کوئین‘ اور ’پیکو‘ میں اکیلی خواتین کے کردار پر مبنی کہانیاں کمرشل اعتبار سے بھی منافع بخش رہی ہیں۔

اکتوبر میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ تمام خواتین، بشمول وہ جن کی شادی نہیں ہوئی، کو اسقاط حمل کے یکساں حقوق حاصل ہیں۔ اس فیصلے کو اکیلی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے طور پر دیکھا گیا اور اس کا خیر مقدم کیا گیا۔

تاہم ان تمام تبدیلیوں کے باوجود معاشرتی رویہ نہیں بدلا اور جیسا کہ مس کنڈو کہتی ہیں کہ ’انڈیا میں کسی امیر خاتون کے لیے بھی اکیلے رہنا آسان نہیں اور سب کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’مجھے ایک اکیلی خاتون کے طور پر امتیازی سلوک اور بے عزتی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب میں ممبئی میں رہنے کے لیے اپارٹمنٹ تلاش کر رہی تھی تو ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے اراکین نے مجھ سے ایسے سوال کیے کہ کیا آپ شراب پیتی ہیں؟ کیا آپ جنسی طور پر فعال ہیں؟‘

چند سال قبل جب ان کی والدہ نے ایک مشہور سائٹ پر ان کے لیے رشتے کا اشتہار دیا تو ان کی ایک شخص سے ملاقات ہوئی جس نے ’پہلے 15 منٹ میں پوچھا کہ کیا میں کنواری ہوں؟‘

’لگتا ہے کہ یہ وہ سوال ہے جو اکیلی رہنے والی خواتین سے باقاعدگی سے پوچھا جاتا ہے۔‘

ایک ایسے ملک میں جہاں 2011 کے اعداد و شمار کے مطابق سات کروڑ سے زیادہ خواتین اکیلے زندگی بسر کر رہی ہیں، جو برطانیہ یا فرانس کی آبادی سے بڑی تعداد ہے، ایسا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

واضح رہے کہ اس تعداد میں 2001 سے اب تک 39 فیصد اضافہ ہوا ہے جو اس وقت پانچ کروڑ سے کچھ زیادہ تھی۔ 2021 کی مردم شماری کورونا کی وبا کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوئی تاہم مس کنڈو کا دعوی ہے کہ ’اب ہماری تعداد دس کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہو گی۔‘

اس تعداد میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انڈیا میں شادی کی عمر بڑھا دی گئی ہے یعنی ان میں بہت سی لڑکیاں ایسی شامل ہیں جو بیس سال کی عمر کی ہوں گی یا اس سے بھی کم عمر۔ اس تعداد میں بیوہ خواتین بھی شامل ہیں۔

تاہم مس کنڈو کا دعوی ہے کہ اب بہت سی خواتین اپنی مرضی سے اکیلی رہ رہی ہیں، حالات کی وجہ سے نہیں اور اس کی وجہ سے اکیلی خواتین کا رتبہ بدل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پہلی ہی رومانوی ملاقات پر اغوا: مردوں کو ٹنڈر پر ڈیٹ کے بہانے بلا کر لوٹنے کے واقعات

’انھوں نے میری عزت کی پرواہ نہیں کی‘: دولہے کے سرِعام بوسہ دینے پر دلہن کا شادی سے انکار

ارتھ: ’ناجائز‘ محبت پر بنائی گئی فلم جس میں حقیقت بھی شامل تھی

وہ کہتی ہیں کہ ’میں بہت سی خواتین سے ملی جو کہتی ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اکیلی ہیں، وہ شادی کو اس لیے ٹھکراتی ہیں کیوں کہ یہ ایک پدرانہ نظام ہے جو خواتین سے غیر منصفانہ سلوک کرتا ہے اور ان پر ظلم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔‘

ان کا اپنا رویہ ان کے والدہ کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کی وجہ سے ہے جو 29 سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی تھیں۔

’میں بڑی ہو رہی تھی تو میں نے دیکھا کہ ایک عورت، جس کے ساتھ کوئی مرد نہیں ہے، کے ساتھ معاشرے میں کیا سلوک ہوتا ہے۔ ان کا کسی تقریب میں جانا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ایک کزن کی شادی پر ان سے کہا گیا کہ وہ دلہن سے دور رہیں کیوں کہ بیوہ کا سایہ تک برا سمجھا جاتا۔‘

44 سال کی عمر میں ان کی والدہ محبت میں گرفتار ہوئیں اور انھوں نے پھر سے شادی کر لی جس پر معاشرے نے ان سے مذید برا برتاؤ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ کے ساتھ ہونے والے سلوک نے ان کی ذات پر بھی کافی گہرا اثر چھوڑا۔

’میں بڑی ہوئی تو شادی کرنا چاہتی تھی۔ مجھے اس افسانے پر یقین تھا کہ شادی سے میری زندگی کی تاریکی دور ہو جائے گی۔‘

تاہم دو ناکام ایسے تعلق جن میں جسمانی اور جذباتی تشدد شامل تھا، کے بعد انھوں نے سوچا کہ شادی کا روایتی بندھن جس میں عورت کو مرد سے کم تر سمجھا جاتا ہے ان سے نہیں نبھایا جائے گا۔

ان کے خیال میں بہترین رشتہ وہ ہوتا ہے جس کی بنیاد ’مذہب اور رواج سے زیادہ باہمی عزت پر مبنی ہو۔‘ان کی اس بات سے بہت سی خواتین اتفاق کرتی ہیں۔

تاہم انڈیا ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں 90 فیصد سے زیادہ شادیاں خاندان طے کرتا ہے اور خواتین کو اس فیصلے کا حق نہیں ملتا کہ وہ کس سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔ یہ سوچنا تو دور کی بات ہے کہ وہ شادی ہی نہیں کریں گی۔

44 سالہ بھوانا ڈاہیا نے کبھی شادی نہیں کی۔ وہ کہتی ہیں کہ حالات بدل رہے ہیں اور اکیلی خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد خوشی کی بات ہے۔

’ہم سمندر میں قطرے کے برابر ہوں گی لیکن کم از کم ایک قطرہ تو ہیں۔‘

’جتنی زیادہ مثالیں ہوں گی، اتنا بہتر ہو گا۔ روایتی طور پر بات چیت صرف شوہر کے کیریئر کے بارے میں ہوتی ہے، اس کے ارادے، بچوں کی تعلیم، عورت کی مرضی کا تو کوئی سوچتا ہی نہیں، لیکن اب ایسا نہیں۔‘

’ہم کائنات میں فرق لا رہے ہیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More