’موت کا سوداگر‘: روسی شہری جسے ایک کھلاڑی کے بدلے امریکی جیل سے رہائی ملی

بی بی سی اردو  |  Dec 09, 2022

Getty Images

امریکہ اور روس کی حکومتوں نے امریکی جیل میں قید روسی اسلحہ سمگلر وکٹر بوٹ کے بدلے روس میں سزا پانے والی امریکی باسکٹ بال کھلاڑی برٹنی گرینر کا تبادلہ کیا ہے جس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔

برٹنی گرینر، جن کو امریکہ کی بہترین خاتون باسکٹ بال کھلاڑی مانا جاتا ہے، کو فروری میں ماسکو ایئر پورٹ پر اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب ان کے سامان سے منشیات برآمد ہوئی تھیں۔ گذشتہ ماہ ان کو نو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

دوسری جانب وکٹر، جنھیں ’موت کا سوداگر‘ کہا جاتا ہے، کو 2012 میں امریکی عدالت نے دہشت گرد تنظیم کی معاونت کرنے اور اینٹی ایئر کرافٹ میزائل فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی حکام کے قتل کی سازش کرنے کے الزام میں 25 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

تاہم امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ جانتی تھی کہ روس وکٹر کی رہائی کا خواہش مند ہے اور اسی لیے جولائی کے مہینے میں دونوں قیدیوں کے تبادلے کی تجویز دی گئی تھی۔

جب مزاکرات کا آغاز ہوا تو امریکہ نے واضح کیا کہ اس تبادلے میں سابق امریکی فوجی پال ویلن کو بھی شامل کیا جائے جن کو 2018 میں جاسوسی کے الزام میں روس میں سزا دی گئی تھی۔

روس اس پر رضامند نہیں ہوا اور آخر کار صرف ایک ایک قیدی کا تبادلہ ہوا۔ وکٹر کے وکیل کے مطابق ایک شہری کے بدلے ایک شہری کا تبادلہ ہوا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اس تبادلے سے قبل وکٹر کی 25 سال کی سزا معاف کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے جس کے بعد فلمی انداز میں ابو ظہبی ایئر پورٹ پر تبادلہ ہوا جہاں ماسکو اور واشنگٹن سے طیارے قیدیوں کو لے کر اترے اور پھر ایک طیارہ وکٹر کے ساتھ ماسکو جبکہ دوسرا برٹنی گرینر کے ساتھ واشنگٹن لوٹ گیا۔

پولیٹیکو ویب سائٹ کے مطابق تبادلے کے دوران وکٹر اور برٹنی گرینر کا ایئر پورٹ پر ایک دوسرے سے آمنا سامنا بھی ہوا جب رہائی کے بعد وہ پاس سے گزرے۔

روس کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ایک روسی شہری وطن لوٹ آیا ہے۔‘

سعودی ثالثیGetty Images

دوسری جانب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس تبادلے میں متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کے ساتھ اہم کردار ادا کیا۔

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد کے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ستمبر میں ہی انھوں نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے دوران سینکڑوں قیدیوں کے ایک پیچیدہ تبادلے میں بھی ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔

وکٹر بوٹ: ’موت کا سوداگر‘

سابق سوویت ایئر فورس افسر کے کارنامے اتنے مشہور ہیں کہ ہالی وڈ نے ان کی کہانی سے متاثر ہو کر ایک فلم بنا ڈالی جس کا نام ’لارڈ آف وار‘ ہے۔ یہیں سے ان کے لیے ’موت کے سوداگر‘ کا نام بھی لیا جانے لگا۔

لیکن آخر وکٹر کی کہانی کیا ہے؟

Getty Images

وہ ایک روسی شہری ہیں جو تاجکستان میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد 1990 کی دہائی میں فضائی ٹرانسپورٹ میں کیریئر کا آغاز کیا۔

2007 میں سکیورٹی ماہر ڈگلس فاراح اور سٹیفن بران نے اپنی کتاب ’موت کے سوداگر‘ میں لکھا کہ بوٹ نے سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد ایئر فیلڈز پر کھڑے فوجی طیاروں کی مدد سے اپنا کاروبار شروع کیا۔

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ٹرانسپورٹ فوجی طیاروں اور فرنٹ کمپنیز کی مدد سے افریقہ میں اسلحہ فراہم کرنا شروع کیا۔

اقوام متحدہ نے ان کو لائبیریا کے سابق صدر چارلس ٹیلر کا معاون بھی قرار دیا جن کو 2012 میں جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزام پر سزا ہوئی تھی۔

اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق ’بوٹ ایک کاروباری، ڈیلر اور اسلحہ اور معدنیات کے ٹرانسپورٹر ہیں جو ہیروں تک غیر قانونی رسائی کی امید میں سابق صدر ٹیلر کی حکومت کے حمایتی بنے ہوئے تھے۔‘

مشرق وسطی کے میڈیا کی رپورٹس نے دعوی کیا کہ وہ القاعدہ اور طالبان کو اسلحہ فراہم کرتے تھے۔

تاہم 2009 میں برطانیہ کے چینل فور کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں وکٹرنے القاعدہ یا طالبان سے تعلق سے انکار کیا تھا۔

تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ 1990 میں انھوں نے افغانستان میں اسلحہ پہنچایا تھا جو طالبان مخالف کمانڈرز نے استعمال کیا۔

ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے انگولا کی خانہ جنگی میں دونوں فریقین کو اسلحہ فراہم کیا اور وسطی افریقی ریپبلک سمیت کانگو، سوڈان اور لیبیا کو بھی اپنی خدمات فراہم کیں۔

خود ان کے اعتراف کے مطابق انھوں نے روانڈا میں قتل عام کے بعد فرانسیسی حکومت کو بھی سامان پہنچانے میں مدد کی اور اقوام متحدہ کے فوجیوں کو لے جانے میں بھی خدمات سرانجام دیں۔

Getty Images

سنہ 2000 کے بعد سے قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کا پیچھا کر رہے تھے۔ 2002 میں ان کو اس وقت بیلجیئم میں اپنا گھر چھوڑنا پڑا جب حکام نے ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے بعد وہ جعلی نام پر سفر کرتے رہے اور اس دوران متحدہ عرب امارات اور جنوبی افریقہ میں بھی دیکھے گئے۔ 2003 میں ان کو روس میں دیکھا گیا۔

اسی سال برطانیہ کے دفتر خارجہ کے وزیر پیٹر ہیئن نے ان کو ’موت کے سوداگر‘ کا نام دیا۔

2003 میں وکٹر بوٹ کی رپورٹ پڑھنے کے بعد پیٹر ہیئن نے کہا تھا کہ ’وہ موت کا سوداگر ہے جو اسلحہ فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔۔۔ مشرقی یورپ میں بلغاریہ، مالڈووا اور یوکرین سے لائبیریا اور انگولا تک۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ ’اقوام متحدہ نے بوٹ کو اسلحہ سمگلرز، ہیروں کے بیوپاریوں کی خفیہ دنیا کا مرکزی کردار ثابت کیا ہے جو جنگوں کو ختم نہیں ہونے دیتے۔‘

اسی دوران امریکہ بھی وکٹر کے خلاف کارروایاں کر رہا تھا۔ 2006 میں وکٹر کے اثاثے منجمند کر دیے گئے لیکن اس وقت تک ایسا کوئی قانون نہیں تھا جس کے تحت ان پر امریکہ میں مقدمہ چلایا جا سکتا۔

2008 میں امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ایک چال چلی۔ انھوں نے کولمبیا کے ایک ایسے باغی گروہ کے اراکین کا روپ دھارا جسے امریکہ دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا تھا اور اسلحہ کے خریدار بن کر پہلے وکٹر کے ایک سابق ساتھی تک اور پھر خود وکٹر تک پہنچ گئے۔

انھوں نے وکٹر سے اسلحہ کی فراہمی پر بات چیت کی جس کے بعد اچانک تھائی لینڈ، جہاں یہ ملاقات ہوئی، کی انتظامیہ نے وکٹر کو گرفتار کر لیا۔ طویل قانونی کارروائی کے بعد وکٹر کو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا جن کو 2010 میں تھائی لینڈ سے لے جایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

پابلو ایسکوبار: دنیا کے خطرناک ترین شخص کو مارنے کی کوشش کرنے والے کرائے کے قاتل کی کہانی

ویرپپن: انڈیا کے صندل سمگلر جنھوں نے اپنے ٹھکانے کو خفیہ رکھنے کے لیے اپنی نوزائیدہ بیٹی کو قتل کیا

خدا بخش لنڈ: کچے کے ڈاکوؤں کا ’ڈان‘ جس کی ہلاکت کے بعد پولیس نے علاقے میں گشت کرنا چھوڑ دیا

Getty Images

تاہم وکٹر کا دعوی تھا کہ وہ ایک عام سا کاروباری ہے جو قانونی طور پر بین الاقوامی سطح پر سامان ٹرانسپورٹ کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان پر جنوبی امریکہ کے باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا جھوٹا الزام لگایا گیا جس کے پیچھے امریکہ کے سیاسی عزائم تھے۔

تاہم امریکی جیوری نے ان کی بات پر یقین نہیں کیا۔ 2012 میں ان کے خلاف امریکی حکام کو قتل کرنے کی سازش کرنے اور ایک دہشت گرد تنظیم کو اسلحہ فراہم کرنے کے الزام ثابت ہونے پر عدالت نے 25 سال قید کی سزا سنائی۔

ان کے مقدمے کے دوران بتایا گیا تھا کہ ’وکٹر کو بتایا گیا تھا کہ جو اسلحہ وہ فراہم کرے گا، اس سے ان امریکی پائلٹس کو مارا جائے گا جو کولمبیا کے حکام کے ساتھ کام کرتے ہیں۔‘ استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ سن کر وکٹر نے جواب دیا تھا کہ ’ہمارا دشمن ایک ہی ہے‘۔

اس پوری کارروائی کے دوران روسی حکام نے ان کا ساتھ دیا اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لیورو نے اعلان کیا کہ تھائی لینڈ کی جانب سے ان کو امریکہ کے حوالے کرنے کا اقدام ’غیر منصفانہ‘ اور ’سیاسی‘ تھا۔ انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ وکٹر کو روس واپس لانے کے لیے لڑتے رہیں گے۔

برٹنی گرینر: امریکی باسکٹ بال کھلاڑی Getty Images

وکٹر بوٹ کے بدلے روس کی جیل سے رہائی پانے والی برٹنی گرینر کی کہانی ان سے بلکل مختلف ہے۔

32 سالہ برٹنی کو امریکہ کی ایک عظیم کھلاڑی مانا جاتا ہے۔ ان کے ماسکو سفر کا مقصد بھی امریکہ میں آف سیزن کے دوران روس میں کھیلنا تھا۔

تاہم جب ان کے پاس سے ایئر پورٹ پر منشیات، بھنگ کا تیل، برآمد ہوئیں تو انھوں نے مقدمے کے دوران کہا کہ یہ ایک ’ایماندارانہ غلطی‘ تھی۔

ان کو گذشتہ ماہ ماسکو سے 500 کلومیٹر دور جیل میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

ان کی رہائی کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ’وہ محفوظ ہیں۔‘

امریکی صدر نے اپنے دفتر کی ایک تصویر کے ساتھ ٹؤٹر پر لکھا کہ ’برٹنی ملک واپس آ رہی ہے اور اسے کچھ وقت درکار ہو گا۔‘

Reuters

اس تصویر میں برٹنی کی اہلیہ شیریل بھی موجود ہیں جنھوں نے بعد میں جو بائیڈن انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔

تاہم سابق امریکی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جون بولٹن نے اس تبادلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے روس کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے برابر قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ ’دنیا بھر میں دہشت گرد اور بدمعاش ریاستیں یہ دیکھ رہی ہیں اور مستقبل میں امریکی شہریوں کی جانوں کو خطرہ ہو گا۔‘

واضح رہے کہ جمعرات کو ہونے والا یہ تبادلہ روس اور امریکہ کے درمیان رواں سال کے دوران ایسا پہلا معاہدہ نہیں۔ اس سے قبل امریکی فوجی ٹریور ریڈ اور روسی پائلٹ کونسٹینٹائن یاروشینکو کا تبادلہ کیا گیا تھا جن پر کوکین سمگلنگ کا الزام تھا۔

امریکی صدر نے حالیہ بیان میں شہریوں کو تنبیہہ کی ہے کہ وہ بیرون ملک سفر کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات لیا کریں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ یہ خطرہ موجود ہے کہ غیر ملکی حکومت ان کو غیر قانونی طور پر بھی حراست میں لے سکتی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More