ڈبے سے ملنے والی لاش: قتل ہونے والے چھ سالہ بچے کی 65 سال بعد شناخت

بی بی سی اردو  |  Dec 09, 2022

پولیس نے فلیڈیلفیا شہر میں 60 سال سے زائد عرصہ قبل ایک ڈبے میں مردہ پائے جانے والے ایک بچے کی شناخت کر لی ہے۔

اس بچے کو ’بوائے ان دا باکس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کی شناخت جوزف آگسٹس زریلی کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیکنالوجی اور جاسوسی نے انھیں آخر کار اس بچے کا نام معلوم کرنے میں مدد کی جو شہر کا سب سے پرانا قتل ہے جس کا سراغ اب تک نہیں لگایا جا سکا تھا۔

فلیڈیلفیا کے پولیس کمشنر ڈینیئل آؤٹ لا کا کہنا تھا کہ اس معمے نے ’کمیونٹی کو پریشان کر رکھا تھا۔‘

بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں، پولیس نے کہا کہ وہ بچے کے والدین کا نام ظاہر نہیں کرے گی اور یہ بتانے سے بھی انکار کر دیا کہ اس کی موت کا ذمہ دار کون ہے۔

پولیس نے کہا کہ اس کیس کی تفتیش باقی ہے، انھوں نے عوام سے بچے کی زندگی کی تفصیلات فراہم کرنے میں مدد کی اپیل کی۔

جاسوسوں نے پہلے بھی لاش کی باقیات سے بچے کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ  کی سہولت استعمال کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن نمونہ ناکافی تھا۔

تاہم بعد میں ایک فرانزک ماہر بچے کے رشتہ داروں کی شناخت کے لیے وہی ڈی این اے نمونہ استعمال کرنے میں کامیاب رہے۔

لڑکے کے رشتہ داروں کا پتا لگانے کے لیے حکام نے پیدائش اور گود لینے کے معاملات کا ریکارڈ بھی چھان مارا۔ محکمے نے بتایا ہے کہ کہ وہ 13 جنوری 1953 کو پیدا ہوئے تھے۔

فروری 1957 میں چار سے چھ سال کی عمر کے بچے کی باقیات گتے کے باکس کے اندر ایک کمبل میں لپٹی ہوئی پائی گئیں۔ یہ باسک فلیڈیلفیا کے فاکس چیس نامی علاقے کے قریب ایک جنگل میں ملا۔

نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلوئٹڈ چلڈرن کے مطابق، یہ بچہ برہنہ اور بری طرح سے زخمی تھا، اس کا وزن صرف 30 پاؤنڈ تھا اور اس کے جسم پر کئی چھوٹے نشانات تھے۔ پولیس کے مطابق اسے مار مار کر ہلاک کیا گیا۔

لڑکے کی تصویر والے پوسٹر پورے شہر میں تقسیم کیے گئے۔

مقامی پولیس، سراغ رساں ڈاکٹر اور ڈی این اے تجزیہ کار نے کئی دہائیوں تک مقامی اور قومی سطح پر دیے جانے والی حاصل ہونے والے سراغوں کی مدد سے اس کیس کو سلجھانے کی کوشش کرتے رہے۔

یہ معاملہ رضاکارانہ پیشہ ور افراد کے لیے بھی توجہ کا مرکز بن گیا، جس میں ایک گروپ جسے وڈوک سوسائٹی کہا جاتا ہے، پولیس نے بدھ کی پریس کانفرنس کے دوران ان کی مدد کے لیے شکریہ ادا کیا۔

جاسوس ہزاروں سراغوں کے پیچھے گئے لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی، انھیں سے یہ بھی شامل ہے کہ بچے کو لانگ آئی لینڈ، نیویارک کی سپر مارکیٹ سے اغوا کیا گیا تھا اور وہ ہنگری کا پناہ گزیں تھا۔

لڑکے کی باقیات کو مقامی قبرستان میں دفن کیا گیا ہے جس پر لکھا ہے ’امریکہ کا نامعلوم بچہ‘۔

پولیس کمشنر آؤٹ لا نے بدھ کو کہا کہ کسی کو بھی اپنا نام اور ان کی زندگی کی کہانی سنانے کے لیے ’اتنا انتظار نہیں کرنا‘ چاہیے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More