صدر ٹرمپ کا پاکستان سمیت متعدد ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

اردو نیوز  |  Apr 03, 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک سے امریکہ درآمد کی جانے والی مصنوعات پر کم از اکم 10 فیصد ٹیرف (ٹیکس) عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق درجنوں ممالک سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر 10 فیصد سے زیادہ ٹیرف عائد کیا گیا ہے جس کے سبب عالمی سطح پر تجارتی جنگ شدید ہوگئی ہے اور خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر معاشی شرح نمو بہت زیادہ متاثر ہوگی۔

بڑے پیمانے پر عائد کی جانے والی امریکی ڈیوٹیز کی سخت مذمت کئی ایک دیرینہ امریکی اتحادیوں نے بھی کی ہے جن کی مصنوعات پر غیر متوقع طور پر بہت زیادہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

 

امریکہ کے تجارتی شراکت داروں کی جانب سے ٹرمپ کی جانب سے عائد ٹیرف کے مقابلے میں امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کیے جانے کا امکان ہے جس کے سبب دنیا بھر میں اشیا کی قیمتوں میں ڈرامائی اضافے کا امکان ہے۔

امریکہ کے وزیرتجازت سکاٹ بیسنٹ نے دوسرے ممالک پر زور دیا کہ وہ جوابی ٹیرف عائد کرنے سے گریز کریں۔

وزیرتجارت نے سی این این کو بتایا کہ ’دیکھتے ہیں کہ یہ کہا تک جاتا ہے، کیونکہ اگر آپ نے جواب دیا تو ہم اس کو اور بڑھائیں گے۔‘

جب بیسنٹ سے پوچھا گیا کہ امریکی اقدام پر سٹاک مارکیٹیں کیسے ری ایکٹ کریں گی، تو ان کا جواب تھا ’مجھے نہیں معلوم‘

صدر ٹرمپ کے اعلان پر دنیا بھر کی شیئرز مارکیٹیں مندی کی لپیٹ میں آگئیں۔ جاپان کی حصص مارکیٹ نکی ابتدائی کاروبار کے دوران آٹھ مہینے کی کم ترین سطح تک گرگئی۔

قبل ازیں وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ تمام ممالک پر 'کم سے کم' 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا تاکہ امریکی معیشت کی 'بحالی میں مدد' حاصل کی جا سکے۔

ٹرمپ اپنے خطاب کے دوران ایک بورڈ بھی ہاتھ میں تھامے ہوئے نظر آئے جس کے مطابق برطانیہ سے امریکہ میں درآمد کی جانے والی اشیا پر 10 فیصد جبکہ یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 20 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔

تاہم امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جو کمپنیاں اپنی اشیا امریکہ میں تیار کرتی ہیں ان پر کسی بھی قسم کا ٹیرف عائد نہیں کیا جائے گا۔

'اگر آپ اپنی مصنوعات یہاں امریکہ میں بناتے ہیں تو آپ پر ٹیرف کا اطلاق نہیں ہوگا۔'

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہنا کہ 'جلد' ہی انھیں بادشاہوں اور سفیروں کی جانب سے فون کالز آنا شروع ہو جائیں گی تاکہ وہ ٹیرف سے استثنیٰ حاصل کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میرا ان کے لیے پیغام ہے کہ پہلے اپنی طرف سے ٹیرف ختم کریں، اپنی کرنسی کا غلط استعمال نہ کریں اور اربوں ڈالرز کی امریکی اشیا خریدنا شروع کریں۔‘

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں متعدد ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ ممالک کہتے ہیں: 'ہم آپ کو اپنی کاریں بیچنا چاہتے ہیں، ہمارے پاس جو بھی ہے وہ ہم آپ کو بیچنا چاہتے ہیں مگر ہم آپ سے کچھ نہیں لیں گے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے شکایت کی کہ یورپی یونین میں شامل ممالک امریکہ سے پولٹری مصنوعات نہیں لیتے اور آسٹریلیا امریکی گوشت بھی خریدنے سے انکاری ہے۔

امریکی صدر نے الزام عائد کیا کہ جاپان، جنوبی کوریا اور چین 'نہیں چاہتے کہ امریکہ وہاں اپنا چاول فروخت کرے۔'

اپنے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکہ درآمد کی جانے والی غیرملکی کاروں پر بھی 25 فیصد ٹیرف عائد کر رہے ہیں۔

امریکی صدر کے مطابق جنوبی کوریا میں بنائی گئی 80 فیصد کاریں جنوبی کوریا میں ہی فروخت ہوتی ہیں اور جاپان میں بنائی گئی 90 فیصد کاریں جاپان میں ہی فروخت ہوتی ہیں، جبکہ ان ممالک میں امریکی کاریں بہت کم تعداد میں فروخت ہوتی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'اسی لیے ہم آج رات سے ہی بیرونِ ملک بنائی جانے والی تمام گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کر رہے ہیں۔'

امریکی صدر نے اپنی تقریر میں چین کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ وہ صدر شی جن پنگ کی عزت کرتے ہیں مگر وہ 'امریکہ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔'

اپنی تقریر کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ ہاتھ میں ایک چارٹ بورڈ بھی تھامے ہوئے نظر آئے تھے جس پر ایشیائی ممالک سے امریکہ میں درآمد کی جانے والی اشیا پر عائد کیے جانے والے نئے ٹیرف (ٹیکس) کی تفصیلات درج تھیں۔

کس ملک پر کتنا ٹیرف عائد کیا گیا ہے؟چین پر 34 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے جب کہ ویتنام پر 46 فیصد، تائیوان پر 32 فیصد، جاپان پر 24 فیصد، انڈیا پر 26 فیصد، جنوبی کوریا پر 25 فیصد،تھائی لینڈ پر 36 فیصد، ملیشیا پر 24 فیصد، کمبوڈیا پر 49 فیصد، بنگلہ دیش پر 37 فیصد،

سنگاپور پر 10 فیصد، فلپائنز پر 17 فیصد،پاکستان پر 29 فیصد، سری لنکا پر 44 فیصد اور میانمار پر 44 فیصد ٹیرف (ٹیکس) عائد کیا گیا ہے۔ 

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More