’ہماری 20 سالہ شراکت داری کو فراموش نہ کریں‘: امیگریشن پالیسی میں سختی کے بعد افغان کمیونٹی کی ٹرمپ سے اپیل

بی بی سی اردو  |  Nov 30, 2025

AFP via Getty Images

امریکہ میں وائٹ ہاؤس کے نزدیک نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے بعد جہاں ٹرمپ انتظامیہ تارکینِ وطن سے متعلق سخت اقدامات کر رہی ہے تو وہیں امریکہ میں مقیم افغان کمیونٹی نے صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان باشندوں سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرِثانی کریں۔

بدھ کو وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کا الزام افغان باشندے رحمان اللہ لکنوال پر لگایا گیا تھا۔ واقعے میں نیشنل گارڈز کی 20 سالہ اہلکار سارہ بیکسٹارم ہلاک جبکہ ایک اہلکار اینڈریو وولف شدید زخمی ہو گئے تھے۔

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے ’ایکس‘ پر کہا تھا کہ مشتبہ حملہ آور 8 ستمبر 2021 کو افغان شہریوں کے لیے مختص بائیڈن دور کے پروگرام ’آپریشن الائیز ویلکم‘ کے تحت امریکہ لائے گئے تھے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس واقعے کے بعد ’سکیورٹی اور مکمل جانچ پڑتال‘ تک افغان شہریوں کی امیگریشن اور پناہ کی ہر طرح کی درخواستوں پر کارروائی عارضی طور پر معطل کر دی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے 19 ممالک کے افراد کو جاری کیے گئے گرین کارڈز کا بھی دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ صدر ٹرمپ نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ وہ ’تیسری دنیا کے تمام ممالک‘ سے امریکہ منتقلی کو مستقل طور پر روک دیں گے۔

Reutersبدھ کو وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کا الزام افغان باشندے رحمان اللہ لکنوال پر لگایا گیا تھا۔’ہمیں اس واقعے پر افسوس ہے‘

واقعے کے بعد امریکہ میں مقیم افغان باشندوں کی نمائندہ تنظیم ’افغان کمیونٹی کولیشن آف دی یونائٹیڈ سٹیٹس‘ نے فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ افغان باشندوں کی امیگریشن کے فیصلوں میں تاخیر نہ کرے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’امریکہ اور افغانستان کی 20 سالہ شراکت داری کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

خیال رہے کہ امریکہ نے سنہ 2001 میں افغانستان پر حملہ کیا تھا جس کے بعد 20 برس تک امریکہ اور اس کی اتحادی افواج افغانستان میں موجود رہیں تھیں۔ اس دوران بڑی تعداد میں افغان باشندوں نے بطور مترجم اور دیگر کاموں کے لیے امریکی اور اتحادی افواج کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔

سنہ 2021 میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد بائیڈن انتظامیہ نے ’آپریشن الائیز ویلکم‘ کے تحت ایسے ہزاروں افغان باشندوں کو امریکہ میں آباد کیا تھا۔

ٹرمپ کے حامی چارلی کرک کا قتل: پولیس 33 گھنٹوں میں ملزم تک کیسے پہنچی؟ٹرمپ انتظامیہ کا ’ہر اجنبی کی مکمل جانچ پڑتال‘ تک پناہ گزینوں کی تمام درخواستوں پر فیصلے روکنے کا اعلانٹرمپ نے افغانستان اور ایران سمیت کن 12 ممالک کے شہریوں پر ’سفری پابندیاں‘ عائد کیں اور اس کی وجہ کیا ہے؟ٹرمپ کا تارکین وطن کو گوانتانامو بھیجنے کا اعلان اور امریکہ کے وہ شہر جو ’تارکین وطن کی پناہ گاہیں‘ ہیں

اسی طرح کچھ افغان شہریوں کو عارضی انسانی ہمدردی سٹیٹس (جسے پیرول کہا جاتا ہے) پر امریکہ لایا گیا جبکہ 8000 افراد ایک اور پروگرام ’ٹیمپریری پروٹیکٹڈ سٹیٹس‘ پر امریکہ پہنچے، اس پرواگرام کو موجودہ صدر ٹرمپ نے رواں برس کے آغاز پر ختم کر دیا تھا۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق اس پروگرام کے تحت ہزاروں ’ان-ویٹیڈ‘ (وہ افراد جنھیں امریکہ لانے سے قبل اُن کا پس منظر اور سکیورٹی کی کلیئرنس نہیں کی گئی تھی) افغان شہریوں کو افغانستان سے امریکہ لایا گیا تھا۔

جمعرات کی صبح ایک پریس کانفرنس میں، ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کیش پٹیل نے لکنوال کے امریکی افواج سے تعلق کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا امریکہ منتقل ہونے سے پہلے ’افغانستان میں شراکت دار فورسز کے ساتھ تعلق تھا۔‘

ایک اہلکار نے سی بی ایس کو بتایا کہ لکنوال نے 2024 میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی اور ان کی درخواست اس سال کے شروع میں منظور کر لی گئی تھی۔

Getty Images’ایک شخص کے فعل کی سزا پوری کمیونٹی کو نہیں ملنی چاہیے‘

امریکہ میں مقیم افغان باشندوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ فائرنگ کے واقعے کے بعد خوفزدہ ہو گئے تھے، یہ ایک شخص کا فعل تھا۔

کچھافغان باشندوں نے طالبان کی جانب سے انتقامی کارروائی کے خدشے کے باعث اپنا نام ظاہرنہیں کیا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ منتقل ہونے والے ایک افغان باشندے نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ انفرادی جرم تھا اور یہ شخص کسی کمیونٹی کا نمائندہ نہیں تھا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ میں افغان باشندے محنت کرتے ہیں اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہوئے معاشرے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

مذکورہ باشندے کا یہ بھی کہنا تھا کہ اُنھیں سنہ 2021 میں اُس وقت کابل سے نکالا گیا جب وہاں حالات بہت خراب تھے، اس پر وہ امریکہ کے شکرگزار ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق لکنوال نے افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ کام کیا تھا جب وہ وہاں تعینات تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے ایک سابق فوجی کمانڈر نے بی بی سی کو بتایا کہ انخلا کے وقت لکنوال نے کابل ہوائی اڈے پر امریکی افواج کی حفاظت میں مدد کی تھی۔

Getty Images’افغانستان میں پہلے ہی مسائل تھے، اب یہاں بھی مشکلات ہو رہی ہیں‘

ایک اور افغان باشندے نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بدھ کے واقعے کو ’چونکا دینے والا واقعہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کے لیے دعاگو ہیں۔

اُن کا بھی یہی کہنا تھا کہ یہ انفرادی فعل تھا جس میں کمیونٹی کے کسی فرد نے اُن کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ لہذا پوری کمیونٹی کو اس میں شمار نہیں کیا جانا چاہیے۔

امریکہ میں رہنے والے ایک اور افغان شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے ردعمل نے پوری کمیونٹی کو غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ہم افغان باشندوں کے لیے اپنے ملک میں تو پہلے سے ہی مسائل تھے، اب یہاں بھی ہمارے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

سنہ 2021 کے بعد امریکہ منتقل ہونے والی ایک افغان انسانی حقوق کی کارکن کرسٹل بیات نے کہا کہ مستقل رہائش حاصل کرنے کے باوجود، اُنھیں اب بھی خدشہ ہے کہ امریکی حکومت افغان تارکینِ وطن کے بارے میں اچانک اپنی پالیسی بدل سکتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ مجھے ہر روز یہ خوف رہتا ہے کہ اگر پالیسی بدل گئی اور اُنھوں نے ہمیں ملک بدر کر دیا تو کیا ہو گا۔

بیات کا کہنا تھا کہ ’مجھے اُمید ہے کہ صدر ٹرمپ اس بارے میں اپنا ذہن بدلیں گے۔ تمام تارکین وطن یا پوری کمیونٹی کو سزا دینا بہت خطرناک ہے۔ ہم امریکیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اب بھی کئی ایسے افراد موجود ہیں جن کی زندگیاں امریکی حمایت کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ: نیشنل گارڈز کی خاتون اہلکار دم توڑ گئیں، حملہ آور افغانستان میں سی آئی اے کے لیے کام کرتا تھاٹرمپ انتظامیہ کا ’ہر اجنبی کی مکمل جانچ پڑتال‘ تک پناہ گزینوں کی تمام درخواستوں پر فیصلے روکنے کا اعلانامریکہ میں ہنر مند غیر ملکی ملازمین کی سالانہ ویزا فیس ایک لاکھ ڈالر: ایچ ون بی ویزا کیا ہے اور ٹرمپ کا فیصلہ کن ممالک کو زیادہ متاثر کرے گا؟’یہ میرے پاس ہو تو میں زیادہ محفوظ ہوں‘: امریکہ میں ملک بدری کے منڈلاتے خطرے کے بیچ تارکینِ وطن کو ’ریڈ کارڈ‘ کا سہارا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More