Getty Images
انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش میں اس وقت ایک دلچسپ بحث جاری ہے جس کی وجہ مردوں کے ’ختنہ کی کارروائیاں‘ قرار دی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ طبی ضروریات کے علاوہ مسلمان اور یہودی برادریوں میں لوگ مذہبی وجوہات کی بنا پر ختنہ کراتے ہیں۔
تاہم انڈیا میں اس بحث نے ایک نیا موڑ اُس وقت لیا جب سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر ناگیشورا راؤ نے ریاست کے وزیر صحت کو ایک خط لکھا، جس میں الزام لگایا گیا کہ آندھرا پردیش میں ایک سکیم کے تحت ختنے کرنے کے عمل میں اضافہ ہوا۔
ناگیشورا راؤ نے الزام لگایا کہ ’وہ طبی وجوہات کی آڑ میں غیر مسلموں کے ختنے کر کے مذہبی ایجنڈے کو نافذ کر رہے ہیں۔‘
تاہم ریاست کے وزیر صحت نے کہا کہ تحقیقات کے بعد معاملہ درست پایا گیا تو کارروائی کی جائے گی۔
بعض ماہرین نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ الزامات درست نہیں ہو سکتے اور ایسی کوئی صورتحال نہیں ہو گی کہ کوئی ڈاکٹر غیر ضروری طور پر یہ آپریشن کرے۔
الزامات کیا ہیں؟Getty Images
سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر ناگیشور نے سوشل میڈیا پر ایک خط پوسٹ کیا۔
خط کے متن میں کہا گیا کہ ’آندھراپردیش میں کچھ ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ ختنہ کروانا صحت مند عمل ہے۔ بہت سے لوگ غیرمسلم مردوں کے بھی ختنے کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ کچھ عرصے سے جاری ہے۔‘
خط میں مطالبہ کیا گیا کہ ’طبی تعلیم اور تربیت کے حوالے سے معلومات کا فقدان ہے اور شاید یہ میڈیکل پریکٹس کے نام پر مذہبی ایجنڈے کو نافذ کرنے کی منظم کوشش ہے۔ اس لیے فوری طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں ختنے کیے جانے کی تحقیقات کرے۔‘
ناگیشور راؤ نے اس پوسٹ میں آندھرا پردیش کے وزیر صحت ستیہ کمار کو ٹیگ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ’پچھلے دس سال میں ختنے کے تمام واقعات کی تحقیقات کی جانی چاہیے اور ان کی فہرست لی جانی چاہیے جو واقعی طبی طور پر ضروری تھے۔‘
اس معاملہ پر وزیر ستیہ کمار نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ معاملہ میری توجہ میں لانے کے لیے آپ کا شکریہ۔ ریاستی حکومت ثبوت پر مبنی طبی کارروائی، اخلاقی اقدار اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے پرعزم ہے۔ طبی محکمہ آپ کے اٹھائے گئے مسائل کو دیکھے گا اور مروجہ طبی کوڈز اور قوانین کے مطابق مناسب کارروائی کرے گا۔‘
ناگیشور راؤ کی جانب سے یہ معاملہ ایکس پر پوسٹ کیے جانے اور خود وزیر کی جانب سے فوری طور پر اس کا جواب دینے کے بعد ایک دلچسپ بحث شروع ہو گئی۔
اس بحث کا ایک اور پہلو ختنے کے آپریشن کے لیے سوشل میڈیا پر اشتہارات کا حال ہی میں منظر عام پر آنا بھی ہے۔
ختنے کا آپ کی جنسی طاقت سے کیا تعلق ہے اور یہ ایچ آئی وی کے خلاف مدافعت فراہم کرتی ہے؟ختنے کی رسم یہودیوں میں کیوں باقی رہی اور مسیحیوں نے اسے کیوں چھوڑ دیا؟ختنے کرنے کے دوران 10 سالہ لڑکے کی موت: کیا بچوں کو اینستھیزیا دینا خطرناک ہو سکتا ہے؟خواتین کے ختنے: ’انھوں نے میرے جسم کا حصہ کاٹا اور مرغیوں کے سامنے پھینک دیا‘ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ناگیشور راؤ کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ خط اس لیے لکھا کیونکہ ان کے پاس قابل اعتبار معلومات تھیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ یقینی طور پر ایسا معاملہ ہے جس پر سنجیدہ سطح پر بات کرنے کی ضرورت ہے لیکن کوئی بھی ڈاکٹر اسے قبول نہیں کرے گا۔
ناگیشورا راؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں یہ تعیّن کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا اس کے پیچھے کوئی ہے اور مذہبی ایجنڈے کو فروغ دے رہا ہے یا یہ کارروائیاں صرف اس وقت کی گئیں جب وہ واقعی ضروری تھیں۔ اگر تحقیقاتی کمیٹیوں کو پتہ چلتا ہے کہ یہ ضروری نہ ہونے کے باوجود انجام دیے گئے، تو ہمیں یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ ایسا کس نے کیا اور کیوں کیا۔‘
بی بی سی نے آندھرا پردیش کے کئی نجی یورولوجسٹ سے ان کے تبصروں کے لیے بات کرنے کی کوشش کی۔ زیادہ تر ڈاکٹر اس حساس معاملے پر بات کرنے سے گریزاں تھے۔
آندھرا پردیش کے ایک میڈیکل کالج کے پروفیسر نے بی بی سی سے اس معاملے پر تفصیل سے بات کی۔ وہ نام ظاہر نہیں کرنے چاہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ختنے میں اضافے کا رجحان انھوں نے کہیں نہیں دیکھا۔
پروفیسر نے وضاحت کی کہ ’کچھ بچوں میں عضو تناسل کے سامنے کی چمڑی بند ہو جاتی ہے اور پیشاب کا راستہ تنگ ہو جاتا ہے۔ اسے فیموسس کہا جاتا ہے۔ اس سے پیشاب میں درد ہوتا ہے۔ پیشاب وہیں پھنس جاتا ہے۔ یہ اکثر انفیکشن کا باعث بنتا ہے۔ اگر یہ مسئلہ ہو تو ہم ختنہ کراتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ بالغوں میں ختنہ کی وجہ ذیابیطس ہے۔
وہ تفصیل بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ذیابیطس کے شکار افراد کو بیلانوپوسٹائٹس نامی مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اگر عضو تناسل کے اگلے حصے کا سرخ حصہ سُوج جائے تو اسے بیلانائٹس کہتے ہیں۔ یہ انفیکشن ہو جاتا ہے۔ اگر اس کے اوپر کی جلد بھی متاثر ہو جائے تو اسے پوسٹ ہائٹس کہتے ہیں۔ دونوں ایک ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس طرح کی حالتوں میں بار بار ہونے کی وجہ سے درد، اکڑن، ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ ایسی حالت میں اگر ان کا ختنہ ہو جائے تو انھیں ساری زندگی کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔‘
انھوں نے وضاحت کی کہ ایسے معاملات ہیں جہاں معمر افراد میں بھی ختنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر کوئی بوڑھا شخص صفائی نہ رکھ سکے تو اندر پلنکٹن یا سمیگما جمع ہو جاتا ہے۔ یہ سوزش اور انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔ عام طور پر، جب یہ مسئلہ 70 سال سے زائد عمر کے لوگوں میں ہوتا ہے تو ہم ختنے کی سفارش کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے۔‘
پروفیسر نے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ ختنہ ایک ایجنڈے کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’کوئی بھی صرف ختنہ کروانے سے مسلمان نہیں ہو جاتا۔‘
Getty Imagesختنہ کیا ہے؟
ختنہ ایک جراحی عمل ہے جو عضو تناسل پر کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت عضو تناسل کی اضافی کھال کو ہٹا دیا جاتا ہے.
یہ علاج تمام مذاہب کے بالغ افراد کو فراہم کیا جاتا ہے جنھیں صحت کی وجوہات کی بنا پر اس کی ضرورت ہے جبکہ مذہبی وجوہات کی بنا پر ختنہ کرانے والے مذاہب میں اسلام اور یہودی شامل ہیں۔
اگرچہ یہ مسلمانوں اور یہودیوں میں ایک لازمی عمل ہے لیکن عیسائیت میں یہ لازمی نہیں حالانکہ یہ روایت موجود ہے۔
چونکہ انڈیا میں یہودیوں کی آبادی کم ہے اور عیسائیوں میں یہ لازمی نہیں، اس لیے زیادہ تر لوگ ختنہ کے بارے میں ایک مسلم رسم کے طور پر جانتے ہیں۔
Getty Imagesختنہ کب کرنا چاہیے؟
مذہبی وجوہات کو ایک طرف رکھیں تو اس سوال کے دو جواب ہیں۔
ان میں سے پہلا طریقہ امریکہ میں اپنایا گیا۔ امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس (اے اے پی) کے مطابق اگر یہ علاج پیدائش کے چند دنوں کے اندر کیا جائے تو صحت کے فوائد خطرات سے کہیں زیادہ ہیں۔
اے اے پی کا کہنا ہے کہ یہ کچھ جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں جیسے پیشاب کی نالی کے انفیکشن، عضو تناسل کا کینسر اور ایچ آئی وی کو بہتر طور پر روک سکتا ہے۔
تاہم، رائل ڈچ میڈیکل ایسوسی ایشن (RDMA) کا نظریہ مختلف ہے۔ آرڈی ایم اے وضاحت کرتا ہے کہ بچوں کا ختنہ نہیں ہونا چاہیے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ختنہ بیماری پر قابو پانے یا حفظان صحت کے لیے بہتر ہے۔ اس لیے اسے تمام بچوں پر نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسے صرف طبی وجوہات کی بنا پر کیا جانا چاہیے۔‘
تنظیم نے وضاحت کی کہ ’مقبول عقیدے کے برعکس، ختنے سے کچھ صحت اور نفسیاتی مسائل کا خطرہ ہوتا ہے۔ بہت زیادہ خون بہنے، انفیکشن اور گھبراہٹ کے حملوں کا خطرہ ہوتا ہے۔‘
تاہم یہ کہا جاتا ہے کہ اگر نپیرافیموسس، فیموسس اور بیلنائٹس جیسے مسائل پیدا ہوں تو ختنہ کیا جا سکتا ہے۔
فیموسس گلان کو پیچھے ہٹانے میں ناکامی ہے کیونکہ عضو تناسل کی نوک پر چمڑی بہت چھوٹی ہوتی ہے۔ اگر چھوٹی عمر میں اس کا پتہ چل جائے تو کچھ کریمیں کسی حد تک کارگر ثابت ہو سکتی ہیں۔ ختنہ ہمیشہ ضروری نہیں ہوتا۔
پیرافیموسس کا مطلب ہے کہ چمڑی مکمل طور پر پیچھے ہٹ گئی۔ اسے دوبارہ آگے بڑھانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
بیلنائٹس گلانس عضو تناسل کی ایک سوزش ہے، جو عام طور پر ناقص حفظان صحت کی وجہ سے ہوتی ہے۔
ایسا ہونے سے روکنے کے لیے، بچوں کو وقتاً فوقتاً چمڑی کو پیچھے کھینچنے اور صابن اور پانی سے دھونے کی ہدایت کی جانی چاہیے۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر بالغوں کے لیے ختنے کی سفارش بھی کرتے ہیں جب انھیں صحت کے کچھ مسائل ہوتے ہیں۔ اب اس سفارش نے تنازع کو جنم دیا ہے۔
کیا جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کو روکا جا سکتا ہے؟
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ختنہ سوزاک، آتشک، کلیمائڈیا، ہرپس، ہیومن پیپیلوما وائرس اور جننانگ کے السر کی روک تھام میں کسی حد تک موثر ہے تاہم کوئی مطالعہ نہیں جو یقینی طور پر اسے ثابت کرے۔
یورپی میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا کہ ’درحقیقت، ایچ آئی وی کی منتقلی اور ختنہ کے درمیان تعلق کے بارے میں اب بھی کافی غیر یقینی صورتحال ہے۔ امریکہ میں ختنے کی شرح زیادہ ہے اور ایچ آئی وی کی شرح بھی زیادہ ہے تاہم نیدرلینڈز میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ ختنے کی شرح کم اور ایچ آئی وی کے کیسز بھی کم ہیں۔‘
ایک اور تحقیق سے پتا چلا کہ ختنے کا اکثر ہم جنس پرست مردوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی پر بہت کم اثر پڑتا ہے۔
اس بات کا تعیّن کرنے کے لیے کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں کہ آیا آندھرا میں ڈاکٹر درحقیقت ایسے لوگوں کے ختنے کر رہے ہیں جنھیں ان کی ضرورت نہیں۔
چونکہ تمام الزامات ڈاکٹروں کے خلاف ہیں، اس لیے بی بی سی نے آندھرا میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ایس بالاراجو سے اس پر رابطہ کیا گیا۔
انھوں نے ابھی تک جواب نہیں دیا۔
ختنے کا آپ کی جنسی طاقت سے کیا تعلق ہے اور یہ ایچ آئی وی کے خلاف مدافعت فراہم کرتی ہے؟خواتین کے ختنے: ’انھوں نے میرے جسم کا حصہ کاٹا اور مرغیوں کے سامنے پھینک دیا‘ختنے کی رسم یہودیوں میں کیوں باقی رہی اور مسیحیوں نے اسے کیوں چھوڑ دیا؟ختنوں کے بعد سرجری کروانے والی خاتون: ’جب پہلی مرتبہ کلیٹورس کو دیکھا تو لگا یہ میرے جسم کا حصہ نہیں‘ختنے کرنے کے دوران 10 سالہ لڑکے کی موت: کیا بچوں کو اینستھیزیا دینا خطرناک ہو سکتا ہے؟