وینزویلا کے تیل کی کہانی: سعودی عرب سے بھی بڑے ثابت شدہ ذخائر مگر امریکہ کے لیے اُن کا حصول مشکل کیوں ہو گا؟

بی بی سی اردو  |  Jan 07, 2026

BBCوینزویلا میں تیل کے ذخائر کا تخمینہ 303 ارب بیرل کے قریب ہے

امریکی فوج کی جانب سے ایک کارروائی کے دوران صدر نکولس مادورو کے پکڑے جانے کے کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ وینزویلا کے تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’تیل کی ہماری بڑی کمپنیاں، جو دنیا میں سب سے بڑی ہیں، وہاں جائیں گی، اربوں ڈالرز خرچ کریں گی، تیل کے تباہ حال انفراسٹرکچر کو ٹھیک کریں گی اور ملک کے لیے پیسہ کمانا شروع کریں گی۔‘

اپنے ایک حالیہ بیان میں ٹرمپ نے اس منصوبے کی مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا سے امریکہ کو 30 سے 50 ملین (تین سے پانچ کروڑ) بیرل تیل حاصل ہو گا جسے مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم اُن (ٹرمپ) کے کنٹرول میں ہو گی تاکہ اسے وینزویلا اور امریکہ کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ آئندہ 18 ماہ میں امریکی آئل انڈسٹری وینزویلا میں دوبارہ فعال ہو جائے گی اور ملک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری آئے گی۔

ٹرمپ کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب عالمی منڈی میں تیل کی فراوانی ہے اور اس کی قیمتیں نسبتاً کم ہیں۔

وینزویلا میں تیل کے ذخائر کتنے بڑے ہیں؟Reutersدنیا میں تیل کے سب سے زیادہ ثابت شدہ ذخائر ہونے کے باوجود وینزویلا میں تیل کی موجودہ پیداوار کہیں کم ہے

وینزویلا میں تیل کے ذخائر کا تخمینہ 303 ارب بیرل کے قریب ہے۔ یہ دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ثابت شدہ ذخائر ہیں۔ بی بی سی رپورٹر گیڈیون لانگ کے مطابق ’دنیا میں تیل کے ذخائر کا تقریباً 17 فیصد وینزویلا کے پاس ہے۔‘

تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 267.2 ارب بیرل کے ساتھ سعودی عرب تیل کے ذخائر میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے بعد 208.6 ارب بیرل کے ساتھ ایران تیسرے اور 145 ارب بیرل کے ساتھ عراق چوتھے نمبر پر ہے۔

یہ چار ملک دنیا کے نصف سے زیادہ تیل کے ذخائر کے مالک ہیں۔

لیکن وینزویلا میں جس قدر تیل موجود ہے، اس کے مقابلے میں اس کی پیداوار بہت ہی کم ہے (یعنی مختلف وجوہات کی بنا پر ذخائر سے تیل کافی مقدار میں نہیں نکالا جا رہا)۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق نومبر 2025 میں وینزویلا نے تقریباً آٹھ لاکھ 60 ہزار بیرل تیل یومیہ پیدا کیا۔ یہ اس کی ایک دہائی پہلے کی پیداوار کا بمشکل ایک تہائی ہے اور یہ مقدار تیل کی عالمی کھپت کا ایک فیصد بھی نہیں بنتی۔ اس کے برعکس امریکہ ایک کروڑ 30 لاکھ بیرل تیل روزانہ پیدا کرتا ہے۔

وینزویلا میں موجود زیادہ تر خام تیل بھاری ہے، یعنی ہلکے تیل کے مقابلے میں اسے صاف کرنا (ریفائن کر کے قابل استعمال بنانا) زیادہ مشکل ہے۔ یہ زیادہ تر ڈیزل اور سفالٹ (سڑکیں بنانے میں استعمال ہونے والی لُک) بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔

بی بی سی رپورٹر گیڈیون لانگ کے مطابق ’وینزویلا کے تیل کا اہم پہلو یہ ہے کہ اس کا زیادہ حصہ ملک کے مشرقی حصے میں پایا جاتا ہے اور اس تک رسائی نسبتاً مشکل ہے۔ بہت سا علاقہ جنگلات پر مشتمل ہے، اس لیے وہاں سے تیل نکالنا آسان نہیں۔ یہ بہت بھاری خام تیل ہے، مقدار میں تو زیادہ ہے لیکن معیار میں کہیں کم اور اسے قابل استعمال بنانے کے لیے جو سہولیات درکار ہیں وہ دنیا میں چند ہی جگہوں پر موجود ہیں۔ اس صلاحیت کی ’کچھ ریفائنریز ٹیکساس (امریکہ) میں ہیں۔‘

کسی بھی قسم کا تیل جلانے سے ماحول متاثر ہوتا ہے لیکن ماہرین کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی کے لحاظ سے وینزویلا کا خام تیل تو ’سب سے گندا‘ سمجھا جاتا ہے کیوںکہ اسے نکالنے اور صاف کرنے میں بہت زیادہ آلودگی پھیلتی ہے۔

بڑے ذخائر کے باوجود وینزویلا میں تیل کی پیداوار کم کیوں ہے؟BBCاس چارٹ میں دنیا کے وہ ممالک دکھائے گئے ہیں جن کے پاس سب سے زیادہ تیل کے ذخائر ہیں

سنہ 2000 کے بعد سے وینزویلا میں تیل کی پیداوار نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ اس سلسلے کا آغاز اس وقت ہوا صدر مادورو کے پیشرو اور سرپرست ہیوگوشاویز نے تیل کی ریاستی کمپنی PDVSA پر کنٹرول سخت کیا۔ اس کے نتیجے میں تجربہ کار عملے کی بڑی تعداد نے کمپنی چھوڑ دی۔

امریکی پابندیوں کے باعث وینزویلا تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری اور درکار ضروری پرزہ جات و مشینری سے محروم ہو گیا۔ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر وینزویلا پر پہلی بار امریکی پابندیاں سنہ 2015 میں لگائی گئیں۔

کالم میکفرسن، انویسٹیک (اینگلو جنوبی افریقی بین الاقوامی بینکاری اور دولت کا انتظام سنبھالنے والا گروپ) میں مصنوعات کے شعبے کے سربراہ ہیں۔ ان کے مطابق وینزویلا کا ’اصل چیلنج اُن کا انفراسٹرکچر ہے۔‘

آکسفورڈ انسٹیٹیوٹ برائے علم توانائی کے سینیئر ریسرچ فیلو بل فیرن پرائس نے بی بی سی کو بتایا کہ وینزویلا کی تیل کی صنعت ’کئی دہائیاں پہلے اپنا عروج دیکھ چکی‘ اور اب گذشتہ 20 سال سے زوال کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پیچیدہ سپلائی چین اور انفراسٹرکچر کا بڑا حصہ لوٹ لیا گیا، توڑ دیا گیا اور بیچ دیا گیا۔‘

ایک وقت تھا کہ امریکہ وینزویلا کے تیل کا مرکزی خریدار تھا لیکن مادورو کے اقتدار میں آنے کے بعد گذشتہ دہائی میں چین نے امریکہ کی جگہ لے لی اور یوں چین وینزویلا کے تیل کا سب سے بڑا خریدار بن گیا۔

’گھوسٹ فلیٹ‘: وینزویلا خفیہ تیل بردار جہازوں کے نیٹ ورک کی مدد سے امریکہ کو کیسے چکمہ دے رہا ہے؟گمنام بیڑے اور امریکی پابندیاں: سمندر میں پھنسے ایرانی خام تیل کے ’تیرتے ذخائر‘ چین تک کیوں نہیں پہنچ پا رہے؟

بی بی سی نامہ نگار گیڈیون لانگ کے مطابق ’امریکہ ہر سال وینزویلا کا 40 فیصد تیل خریدتا تھا کیوںکہ خلیج میکسیکو میں اس کے پاس وینزویلا کے بھاری تیل کو صاف کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔ یہ واقعی ایک مثالی شراکت تھی۔ امریکہ کو قریب ہی موجود ملک وینزویلا سے خام تیل مل جاتا تھا اور اس کے لیے اسے مشرق وسطیٰ یا روس نہیں جانا پڑتا تھا، اس کے پاس تیل کو صاف کرنے کی صلاحیت تھی، اور یہ بندوبست دونوں ملکوں کے لیے بہترین انداز سے کام کر رہا تھا۔‘

کون سی تیل کمپنیاں وینزویلا میں کام کر رہی ہیں؟

کچھ مغربی تیل کمپنیاں اب بھی وینزویلا میں کام کر رہی ہیں، ان میں شیورون بھی ہے، جو اس وقت ملک میں کام کرنے والی واحد امریکی کمپنی ہے۔

لیکن جب امریکہ نے پابندیاں بڑھائیں اور مادورو کی معاشی مشکلات بڑھانے کے لیے تیل کی برآمدات کو نشانہ بنایا تو ان کمپنیوں کی سرگرمیاں بھی خاصی محدود ہو گئیں۔

امریکی پابندیوں کے باوجود شیورون کو سنہ 2022 میں کام کرنے کی اجازت دی گئی، اس وقت سابق صدر جو بائیڈن کی حکومت تھی۔

یہ کمپنی فی الحال وینزویلا میں تیل کی کُل پیداوار کے پانچویں حصے کی ذمہ دار ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی حفاظت پر تمام توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور تمام متعلقہ قوانین و ضوابط کی پاسداری کر رہی ہے۔

کیا وینزویلا نے تیل کا پیسہ امریکہ کو دینا ہے؟Reutersامریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا میں تیل کی صنعت امریکہ نے قائم کی لیکن وہاں کی اشتراکی حکومت نے ’یہ ہم سے چُرا لی‘

ایک حالیہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وینزویلا میں تیل کی صنعت امریکہ نے قائم کی تھی لیکن وہاں کی اشتراکی حکومت نے بعدازاں ’یہ ہم سے چرا لی۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے امریکی مہارت، جذبے اور صلاحیت سے وینزویلا میں تیل کی صنعت ترتیب دی مگر گذشتہ حکومتوں کے دوران وہاں کی اشتراکی حکومت نے اسے ہم سے چھین لیا۔ ایسا انھوں نے طاقت کے زور پر کیا۔ ملک کی تاریخ میں امریکی ملکیت کی یہ سب سے بڑی چوری تھی۔‘

ٹرمپ کا دعویٰ وینزویلا کی سابق حکومتوں کے اُن فیصلوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کے تحت تیل کی پیداوار کو قومیا لیا گیا تھا۔

بین الاقوامی قوانین کے تحت وینزویلا کو اپنے تیل کے ذخائر پر خودمختاری حاصل ہے، لہذا اُن پر امریکہ کا کوئی دعویٰ بنتا نہیں ہے۔

قدرتی وسائل پر مستقل خود مختاری؛ یہ اقوام متحدہ کا منظور شدہ اصول ہے۔ اس کے مطابق خود مختار ریاستوں کو اپنی سرزمین پر موجود وسائل پر مکمل کنٹرول اور انھیں استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔

تاہم اگر کسی غیر ملکی کمپنی کے اثاثے ضبط کیے جائیں تو وہ معاوضے کی دعویدار ہو سکتی ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز جسے پہلے صدام حسین کی فوج نے ڈبویا اور پھر اس کا اپنا حجم اس کے زوال کا باعث بناسونے اور تیل کی دولت سے مالا مال ایک غیر معروف علاقہ جس نے جنوبی امریکہ کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا

جب سنہ 2007 میں ہیوگوشاویز کی حکومت نے تیل کے شعبے کے کچھ حصے قومی تحویل میں لیے تو ثالثی کے ذریعے اربوں ڈالرز کے فیصلے ایگزون موبل اور کونوکوفلپس جیسی بڑی کمپنیوں کے حق میں آئے۔ وینزویلا نے یہ فیصلے چیلنج کیے اور یکطرفہ طور پر اُن پر عمل نہیں کیا۔

فرانسسکو مونالدی امریکی تھنک ٹینک بیکر انسٹیٹیوٹ میں لاطینی امریکی توانائی پروگرام کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’شاویز کی جانب سے ضبطی کا عمل درست انداز سے انجام نہیں دیا گیا اور وینزویلا آج بھی اس کی قیمت ادا کر رہا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وینزویلا کا تیل امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہے۔ ایسا کبھی نہیں تھا، انھیں صرف تیل نکالنے کی اجازت دی گئی تھی۔‘

تیل کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟

ڈیٹا پلیٹ فارم کپلر کے سینیئر کموڈیٹی تجزیہ کار ہمایوں فلک شاہی کے مطابق جو کمپنیاں وینزویلا میں تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں ان کے لیے بڑی رکاوٹیں قانونی اور سیاسی نوعیت کی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کمپنیوں کو حکومت سے ایک معاہدہ کرنا ہو گا، ایسا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مادورو کے جانشین کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ اور یہ کمپنیاں وینزویلا کی آئندہ حکومت کے استحکام پر اربوں ڈالرز کا جوا کھیل رہی ہوں گی۔

ہمایوں فلک شاہی نے کہا کہ ’سیاسی صورتحال مستحکم ہو بھی جائے تو اس عمل میں مہینوں لگ جائیں گے۔‘

جو کمپنیاں ٹرمپ کے منصوبے سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں انھیں وینزویلا کی نئی حکومت سے معاہدے کرنا ہوں گے اس سے پہلے کہ وہ ملک کے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھا سکیں۔

تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ وینزویلا کی سابق پیداوار بحال کرنے کے لیے تقریباً ایک دہائی تک دسیوں اربوں ڈالرز خرچ کرنا ہوں گے۔

کیپیٹل اکنامکس میں گروپ چیف اکنامسٹ نیل شیئرنگ کہتے ہیں کہ تیل کی عالمی رسد اور قیمتوں پر ٹرمپ کے منصوبوں کا اثر محدود ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ’ابھی بہت سی مشکلات پر قابو پانا ہے۔ اس میں اتنا طویل وقت لگے گا کہ 2026 میں تیل کی قیمتوں میں شاید ہی زیادہ فرق آئے۔‘

شیئرنگ نے مزید کہا کہ کمپنیاں اس وقت تک سرمایہ کاری نہیں کریں گی جب تک کوئی مستحکم حکومت قائم نہ ہو جائے، اور یہ منصوبے ’کئی کئی سال‘ تک نتائج نہیں دیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’مسئلہ کئی دہائیوں کی کم سرمایہ کاری، بد انتظامی ہے اور تیل نکالنا واقعی مہنگا ہے۔‘

شیئرنگ کے مطابق اگر وینزویلا تیل کی پیداوار کی پرانی سطح، یعنی تقریباً 30 لاکھ بیرل یومیہ پر بھی واپس آ جائے تو بھی وہ تیل پیدا کرنے والے پہلے 10 ممالک میں شامل نہیں ہو گا۔

انھوں نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم میں شامل ممالک کی پیداوار پہلے ہی کافی ہے اور اس وقت دنیا کو تیل کی قلت کا سامنا نہیں۔

برٹش پیٹرولیم کے سابق چیف ایگزیکٹو جان براؤنی نے بی بی سی کو بتایا کہ وینزویلا میں تیل کی صنعت دوبارہ زندہ کرنے میں بہت وقت لگے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’لوگ اندازہ نہیں لگا پاتے کہ کسی کام کو کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔ سامان، خاص طور پر افرادی قوت سمیت تمام وسائل اکٹھا کرنے میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ کچھ پیداوار میں جلد بہتری آ سکتی ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ صنعت کو دوبارہ منظم کرتے ہوئے نتائج کم آئیں۔

جان براؤنی کا کہنا تھا کہ کمپنیاں اس میں شامل ہونا چاہیں گی کیوںکہ ’دنیا کے مختلف علاقوں میں کاروبار کے مواقع میسر ہونا فائدے کی بات ہے۔ اگر آپ کوئی کمپنی چلا رہے ہوں تو آپ چاہیں گے کہ فوراً اس میں شامل ہو جائیں۔‘

ایران، گرین لینڈ یا کیوبا: وینزویلا کے بعد صدر ٹرمپ کا اگلا نشانہ کون سا ملک بن سکتا ہے؟کوکین سمگلنگ اور کارٹیلز سے شراکت کے الزامات: وینزویلا کے رہنما مادورو کے خلاف کیس جو امریکہ میں برسوں سے تیار کیا جا رہا تھاصدر ٹرمپ کو ’دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذخائر‘ رکھنے والے ملک وینزویلا سے کیا مسئلہ ہے؟’آپریشن گولڈن ڈائنامائٹ‘: جب وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ’بپھرے ہوئے سمندر‘ میں خفیہ سفر کر کے نوبیل امن انعام لینے ناروے پہنچیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More