ٹرمپ کے جارحانہ ’پاور پلے‘ کے سامنے پوتن اب تک خاموش کیوں ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Jan 11, 2026

Getty Imagesروسی صدر ولادیمیر پوتن نے ابھی تک اس پیش رفت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے

گئے وقتوں میں امریکی طاقت کا اس قدر جارحانہ مظاہرہ ہوتا تو ماسکو کی جانب سے فوری اور شدید رد عمل آنا تھا۔

لیکن 2026 کے آغاز سے صورت حال مختلف نظر آتی ہے۔ امریکہ نے وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی گرفتاری کا جشن منایا، ایک روسی پرچم والا تیل بردار جہاز قبضے میں لیا اور گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی دوبارہ دھمکیاں دیں، اس کے باوجود کریملن اور اس سے منسلک سرکاری مبصرین کی خاموشی حیران کن ہے۔

وہ روسی حکومت جو حکومتوں کی تبدیلیوں اور قبضہ گیری کو مغربی منصوبے قرار دے کر مخالفت کرتی تھی، امریکی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے وینزویلا اور قطب شمالی میں سرمایہ کاری کرتی تھی، اب ضبط کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی پالیسی تبدیل کر رہی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ابھی تک اس پیش رفت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، چھ جنوری کو انھوں نے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی آرتھوڈوکس کرسمس کی تقریب میں شرکت کی تھی، اس کے علاوہ سال کے آغاز سے وہ عوام کے سامنے آئے ہی نہیں۔

ان کے ترجمان دمتری پیسکوف اور روسی سرکاری ٹیلی ویژن بھی تعطیلات کے دوران خاموش ہی رہے۔ روس کے واشنگٹن سے یوکرین پر مذاکرات جاری ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ بین الاقوامی چالوں پر ماسکو کی خاموشی اس ہچکچاہٹ کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ ان عملی لیکن نازک مذاکرات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔

خصوصی عسکری آپریشنزGetty Imagesروسی سرکاری میڈیا سے وابستہ نمایاں تجزیہ کاروں نے مادورو کا ہٹایا جانا روس کے مفاد میں قرار دیا

ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 2026 کا آغاز طاقت کے ڈرامائی مظاہرے سے کیا۔ یہ کہتے ہوئے کہ لاطینی امریکہ کا ملک اب امریکہ کے کنٹرول میں ہے، انھوں نے وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو گرفتار کرنے اور منشیات سمگلنگ کے الزامات پر نیویارک منتقل کرنے کا حکم دیا۔

اگرچہ تعطیلات کے دوران روسی سرکاری ٹی وی پر حالات حاضرہ کے پروگرام کم کر دیے گئے لیکن سرکاری میڈیا سے وابستہ نمایاں تجزیہ کاروں نے مادورو کا ہٹایا جانا روس کے مفاد میں قرار دیا۔ آن لائن تجزیوں میں ان کی دلیل تھی کہ واشنگٹن نے اپنے اثر و رسوخ والے علاقے میں زبردستی بالادستی قائم کی تو بلواسطہ طور پر کریملن کو بھی ایسا ہی کرنے کا حق مل گیا ہے۔

کریملن نواز تجزیہ کاروں نے اس اقدام کو گذشتہ سال دسمبر میں شائع ہونے والی امریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی کا مظاہرہ قرار دیا۔ روسی حکام نے اس حکمت عملی کی کھلے عام تعریف کی تھی، اس بنیاد پر کہ وہ خطوں میں عالمی طاقتوں کے اختیارات پر زور دیتی ہے۔

فیودور لوکیانوف کریملن کے قریب سمجھے جانے والے خارجہ پالیسی ماہر ہیں۔ روس کے کاروباری اخبار کومرسانٹ کو موقف دیتے ہوئے انھوں نے قومی سلامتی کی امریکی حکمت عملی کا حوالہ دیا اور کہا ’ٹرمپ ڈاکٹرائن نے واضح کر دیا کہ خطوں پر اثر و رسوخ پھر سے عالمی تعلقات کا اہم حصہ بننے جا رہا ہے۔‘

روسی ممبر پارلیمنٹ اور سرکاری ٹی وی کے میزبان یوگینی پوپوف نے تسلیم کیا کہ حالیہ امریکی اقدامات روس کے لیے عملی طور پر ناخوشگوار ضرور ہیں، لیکن انھیں یقین ہے کہ یہ طویل مدت میں روس کے لیے سٹریٹیجک طور پر ’فائدہ مند‘ ہوں گے۔

پوپوف نے ٹیلی گرام پر لکھا ’جو ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنے ہاتھ کھول رہے ہیں اور بیرونی محاذ پر دباؤ کم کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے حیران کن حالات ہمارے لیے ایسا موقع ہے جس سے فائدہ اٹھانا ہمارا فرض ہے۔‘

روسی حکومت کے حامی تبصرہ نگار تو اس حد تک چلے گئے کہ بے دلی کے ساتھ سہی، لیکن امریکی مداخلت کے لیے احترام کا اظہار کرنے لگے، کیوں کہ اسی طرح کی کارروائی روس نے یوکرین کے خلاف کرنے کا سوچا تھا۔ تاہم روس کی کارروائی تو ایک باقاعدہ جنگ میں بدل گئی جو اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو گئی ہے۔

روس کے سرکاری میڈیا ادارے آر ٹی کی ایڈیٹر ان چیف مارگریٹا سمونیان نے ٹیلیگرام پر لکھا کہ وہ امریکی اقدام سے ’حسد‘ کرتی ہیں۔

ٹرمپ کی گرین لینڈ میں فوجی مداخلت کی دھمکی جس نے نیٹو اور یورپی یونین کو مشکل میں ڈال دیاسوویت یونین کو خفیہ معلومات فروخت کرنے والے ’ڈبل ایجنٹ‘ کی کہانی جنھوں نے امریکہ کو ’سب سے زیادہ نقصان پہنچایا‘ایران، گرین لینڈ یا کیوبا: وینزویلا کے بعد صدر ٹرمپ کا اگلا نشانہ کون سا ملک بن سکتا ہے؟روس کا دوسری مرتبہ ’اوریشنِک‘ میزائل کا استعمال: یہ ہتھیارکیا ہے اور اسے ’یورپ کے لیے خطرہ‘ کیوں سمجھا جا رہا ہے؟

اس پیغام رسانی کے پیچھے ایک عمومی حقیقت بھی ہے۔ مادورو کی گرفتاری کریملن کے لیے ایک شکست ہے۔ روس کئی دہائیوں سے وینزویلا میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا تھا، لیکن یوکرین سے جنگ کے بعد اس کے وسائل اور توجہ وہاں منتقل ہو گئے اور خطے میں اثر و رسوخ کم ہو گیا۔

جیمز مارٹن سینٹر فار نان پرولیفریشن سٹڈیز میں یوریشیا نان پرولیفریشن پروگرام کی ڈائریکٹر ہانا نوٹے نے بی بی سی مانیٹرنگ کو بتایا کہ وینزویلا میں امریکی کارروائی پر روس کی جانب سے سخت تنقید سے گریز یہ ظاہر کرتا ہے کہ ’روسی صدر اس وقت ٹرمپ کو ناراض نہیں کرنا چاہتے کیوں کہ ان کی توجہ بڑے مسائل پر ہے۔‘

ماسکو کی اولین ترجیح یہ تھی کہ یا تو ٹرمپ کو یوکرین پر اپنا ہمنوا بنا لے، یا کم از کم اسے روس کے خلاف ہونے سے روک لے۔ ہانا نوٹے نے کہا، ’کریملن گذشتہ سال اس میں بہت کامیاب رہا ہے اور اس کامیابی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، کیوں کہ یوکرین اس کی اولین ترجیح ہے۔‘

یہی بات لوکیانوف نے بھی کہی کہ ماسکو وینزویلا جیسے مسائل کو ثانوی سمجھتا ہے اور اس پر امریکہ جیسے ’انتہائی اہم کھلاڑی‘ کے ساتھ اپنی وسیع حکمت عملی خطرے میں نہیں ڈالے گا۔ انھوں نے اخبار کومرسانٹ کو بتایا کہ ’پوتن کے پاس ٹرمپ کے ساتھ بات کرنے کے لیے وینزویلا سے بھی زیادہ سنجیدہ مسئلہ ہے، اور وہ یوکرین۔‘

روسی وزارت خارجہ نے چھ جنوری کو سرکاری بیان میں وینزویلا کے نئے عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگز کی تقرری کا خیرمقدم کیا۔ بیان میں اسے بیرونی دباؤ کے پیش نظر استحکام کی طرف ایک قدم قرار دیا گیا۔

امریکہ کا براہ راست ذکر کیے بغیر روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ وینزویلا کو یہ حق دیا جانا چاہیے کہ وہ ’بغیر کسی تباہ کن بیرونی مداخلت کے اپنا مستقبل خود طے کرے۔‘

کھلے سمندر میں بڑا داؤGetty Imagesروس کئی دہائیوں سے وینزویلا میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا تھا

روسی پرچم والے تیل بردار بحری جہاز مارینارا کے قبضے پر بھی روس کا ردعمل نسبتا معتدل تھا۔ روسی وزارت خارجہ نے روسی عملے کی محفوظ واپسی کا مطالبہ کیا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے یہ مطالبہ تسلیم کر لیا ہے۔ تنقید جو کی گئی وہ بھی بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی پر تھی۔

امریکی مسلح افواج نے روس میں رجسٹرڈ اور روس کی ملکیت والے جہاز پر چڑھائی کی، ان حالات میں ماسکو کا ردعمل کہیں سخت ہو سکتا تھا۔ اس کے باوجود روس نے نہ تو ٹینکر کی واپسی کا مطالبہ کیا اور نہ ہی یہ اشارہ دیا کہ وہ زبردستی جہاز کو واپس حاصل کر لے گا۔ حالاںکہ علاقے میں روسی بحری جہازوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔ روس نے امریکی یا کسی اور ملک کے پرچم والے جہازوں کے خلاف جوابی کارروائی کا اشارہ بھی نہیں دیا۔

روسی ضبط و تحمل کو سخت گیر افراد کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انھوں نے الزام لگایا ہے کہ امریکی جارحیت کے مقابلے پر روس نرم پڑ گیا ہے۔ روسیرکن پارلیمنٹ الیکسی ژوراولیوف نے فوجی ردعمل کا مطالبہ کیا اور تجویز دی کہ بدلے میں روس بھی ’امریکی کوسٹ گارڈز کی چند کشتیاں تارپیڈو سے غرق کر دے۔‘

انتہا پسند قوم پرست جماعت ایل ڈی پی آر کے رہنما لیونیڈ سلٹسکی نے مارینیرا جہاز پر قبضے کو ’بحری قذاقی‘ قرار دیا۔

کریملن نواز ٹیلیگرام بلاگ ویژیونر نے اپنے قارئین کو یاد دلایا کہ غیر جانب دار پانیوں میں ٹینکر پر قبضہ ’روس پر حملے‘ کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا ’سمندری راستوں کی فوجی ناکہ بندی اعلان جنگ کی واضح وجہ ہے۔‘

Reutersبحری جہاز کے قبضے پر روسی ضبط و تحمل کو سخت گیر افراد کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہےقطب شمالی کے لیے عزائم

جنوری 2025 میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا تھا کہ روس گرین لینڈ سے متعلق پیش رفت پر ’گہری نظر‘ رکھے ہوئے ہے لیکن ڈنمارک کے زیر ملکیت قطب شمالی کے علاقے پر امریکی دعوے کو امریکہ اور ڈنمارک کا دو طرفہ معاملہ سمجھتا ہے۔

سات جنوری کو ٹرمپ نے بیان دیا کہ امریکہ خطے پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس پر بھی کریملن کی طرف سے کوئی سرکاری ردعمل نہیں آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ روس نواز حلقے ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی ضد پر خوش نظر آتے ہیں۔ وہ اسے یورپی کمزوری کی علامت اور یوکرین کے خلاف روسی اقدامات کا جواز قرار دے رہے ہیں۔

پوتن کے خصوصی ایلچی کیریل دمترییف نے ایکس پر طنزیہ انداز میں لکھا ’گرین لینڈ کا معاملہ تو طے شدہ لگتا ہے۔ یورپی یونین تو وہی کرتی رہے گی جو تابعدار بہترین انداز سے کرتے ہیں، یعنی صورت حال پر نظر رکھنا اور دہرے معیار کی مثالیں قائم کرنا۔ کیا اب کینیڈا کی باری ہے؟‘

ٹرمپ کے اہم معاون سٹیفن ملر نے چھ جنوری کو سی این این پر انٹرویو میں ’جس کی طاقت، اسی کا اختیار‘ والی پالیسی دی تھی۔ روس اس پالیسی کی حمایت تو کرتا ہے لیکن گرین لینڈ کے معاملے پر روس کے لیے نقصان کا خطرہ بھی موجود ہے۔

Getty Imagesروس نے قطب شمالی میں عسکری اور اقتصادی اثاثوں پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے

روس نے قطب شمالی میں عسکری اور اقتصادی اثاثوں پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ یہاں صدر پوتن نے ’روس کی عالمی قیادت کو مضبوط بنانے‘ کا عزم ظاہر کیا ہے۔ روس کے سنہ 2023 میں جاری کردہ خارجہ پالیسی منصوبے میں قطب شمالی کو ترجیحات میں دوسرا نمبر دیا گیا۔ سابق سوویت ممالک، بشمول یوکرین کے ساتھ تعلقات پہلی ترجیح ہے۔

ہانا نوٹے نے کہا ’ایک طرف وہ گرین لینڈ پر امریکی بیانات کو سیاسی طور پر مفید سمجھتے ہیں۔ ان کے لیے ہر وہ بات خوش آئند ہے جو بحر اوقیانوس کے دونوں طرف (یورپ اور امریکہ کے بیچ) خلیج کو گہرا کرے۔ لیکن اپنے عزائم کی تکمیل کرتے ہوئے اگر امریکہ گرین لینڈ میں اپنی موجودگی بڑھاتا ہے، عسکری ڈھانچہ کھڑا کرتا ہے، تو یہ بات روس کو پسند نہیں آئے گی۔‘

جب 12 جنوری کو تعطیلات ختم ہوں گی اور روسی عوام کام پر واپس آئیں گے تو صدر پوتن سے توقع کی جائے گی کہ وہ تعطیلات کے دوران پیدا ہونے والی جغرافیائی سیاسی ہلچل پر بات کریں۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ کی ابھی تک کی خارجہ پالیسی چالیں ماسکو کے ساتھ بات چیت کے دروازے بند کرتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔

کاراکس کی بجلی منقطع کرنے سے مادورو کے کمپاؤنڈ کے نقشے تک، امریکہ نے وینزویلا میں خفیہ آپریشن کی منصوبہ بندی کیسے کی؟بغیر کسی اتحادی کے امریکہ کو ’عظیم‘ بنانے کا منصوبہ: کیا ٹرمپ دُنیا کو سلطنتوں کے دور کی طرف دھکیل رہے ہیں؟روس کا دوسری مرتبہ ’اوریشنِک‘ میزائل کا استعمال: یہ ہتھیارکیا ہے اور اسے ’یورپ کے لیے خطرہ‘ کیوں سمجھا جا رہا ہے؟سوویت یونین کو خفیہ معلومات فروخت کرنے والے ’ڈبل ایجنٹ‘ کی کہانی جنھوں نے امریکہ کو ’سب سے زیادہ نقصان پہنچایا‘ٹرمپ کی گرین لینڈ میں فوجی مداخلت کی دھمکی جس نے نیٹو اور یورپی یونین کو مشکل میں ڈال دیاایران، گرین لینڈ یا کیوبا: وینزویلا کے بعد صدر ٹرمپ کا اگلا نشانہ کون سا ملک بن سکتا ہے؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More