Getty Imagesجیرڈ کشنر اور اجے بانگا
وائٹ ہاؤس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل افراد کے نام جاری کر دیے ہیں۔
امریکی صدر اس بورڈ کے سربراہ ہوں گے اور یہ بورڈ غزہ کی تعمیر اور عارضی طور پر انتظامیہ سنبھالنے پر مامور فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے کام کی نگرانی کرے گا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘ کا ہر رُکن ایک قلمدان کا ذمہ دار ہوگا جو کہ 'غزہ میں استحکام کے لیے انتہائی اہم' ہے۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ بورڈ کے کس رُکن کو کیا ذمہ داری سونپی جائے گی۔
اس بورڈ میں کون کون شامل ہے؟
سر ٹونی بلیئر
سابق برطانوی وزیرِ اعظم کا نام صدر ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کے ممکنہ رُکن کے طور پر طویل عرصے سے گردش کر رہا ہے اور گذشتہ برس امریکی صدر نے خود تصدیق کی تھی کہ ٹونی بلیئر نے اس بورڈ میں شامل ہونے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
لیبر پارٹی کے سابق رہنما سنہ 1997 سے 2007 تک برطانیہ کے وزیرِ اعظم رہے ہیں اور ان ہی کی قیادت میں برطانیہ سنہ 2003 میں عراق جنگ میں شامل ہوا تھا۔ اسی سبب شاید کچھ لوگ ان کی صدر ٹرمپ کے بورڈ میں شمولیت کو متنازع سمجھتے ہوں۔
Getty Imagesسر ٹونی بلیئر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ
وزیر اعظم کے دفتر سے نکلنے کے بعد سنہ 2007 سے 2015 تک انھوں نے اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، امریکہ اور روس کے لیے ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ کے طور پر کام کیا۔
سر ٹونی بلیئر ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل وہ واحد فرد ہیں جو امریکی شہری نہیں ہیں۔
اس سے قبل وہ ٹرمپ کے غزہ منصوبوں کو ’دو سالہ جنگ، دکھ اور تکلیف کے خاتمے کا بہترین موقع‘ قرار دے چکے ہیں۔
مارکو روبیو
بطور امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو امریکی خارجہ پالیسی کا مرکزی حصہ ہیں۔
ٹرمپ کے صدر بننے سے قبل وہ غزہ میں جنگ بندی کی مخالفت کرتے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل ’حماس کے تمام عناصر کو تباہ کر دے۔‘
تاہم بعد میں انھوں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کی تعریف کی اور اسے 'بہترین' اور 'واحد' حل قرار دیا۔
گذشتہ برس مارکو روبیو اسرائیلی پارلیمنٹ کے مقبوضہ غربِ اردن کے الحاق سے متعلق اقدام پر تنقید بھی کر چکے ہیں۔
سٹیو وٹکوف
رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک شخصیت، صدر ٹرمپ کے گالف پارٹنر اور امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہوں گے۔
رواں مہینے وٹکوف نے صدر ٹرمپ کے غزہ سے متعلق منصوبے کے دوسرے مرحلے کا بھی اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس میں غزہ کی از سرِ نو تعمیر، اسے اسلحے سے مکمل پاک کرنا اور حماس کو غیرمسلح کرنا بھی شامل ہوگا۔
آخری اسرائیلی یرغمالی اور ترکی کی ضد: غزہ میں ’انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس‘ کی تعیناتی میں کیا رکاوٹ ہے؟’ہم اُنھیں اپنا اصل چہرہ دکھائیں گے‘: غزہ میں حماس مخالف مسلح گروہ کے نئے رہنما کی دھمکی کیا معنی رکھتی ہے؟غزہ میں حماس مخالف مسلح گروہ: کیا اسرائیل اپنے ’دشمن کے دشمن‘ کی مدد کر رہا ہے؟153 فلسطینیوں کو جوہانسبرگ پہنچانے والی ’پراسرار فلائٹ‘ جس پر جنوبی افریقہ کے صدر بھی حیران ہیں
ان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ معاہدے کے تحت حماس ’اپنے فرائض پر مکمل عمل کرے گی‘ یا پھر ’سنگین نتائج‘ بھگتے گی۔
جیرڈ کشنر
امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی اور مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وہ سٹیو وٹکوف کے ساتھ اکثر روس اور یوکرین اور اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ ختم کروانے کے لیے بطور ثالث کام کرتے رہے ہیں۔
گذشتہ برس نومبر میں انھوں نے امن معاہدے پر گفتگو کرنے کے لیے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات بھی کی تھی۔
ہارورڈ یونیوسٹی میں ایک تقریر کے دوران سنہ 2024 میں انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر لوگ اپنا روزگار بڑھانے پر توجہ دیں تو غزہ کے ساحل پر موجود پراپرٹی بہت قیمتی ہو سکتی ہے۔‘
مارک روون
ارب پتی کاروباری شخصیت مارک روون اپالو گلوبل مینجمنٹ کے سی ای او ہیں، جو کہ نیو یارک میں واقع ایک بہت بڑی نجی ایکوئٹی کمپنی ہے۔
Getty Imagesمارک روون
صدر ٹرمپ کے دوسری بار صدر بنتے وقت مارک روون کا نام سکریٹری خزانہ کے عہدے کے لیے بھی گردش کر رہا تھا۔
اجے بانگا
ورلڈ بینک کے سربراہ اجے بانگا اپنے طویل کیریئر میں سابق صدر اوبامہ سمیت متعدد سیاستدانوں کی معاونت کر چکے ہیں۔
بانگا سنہ 1959 میں انڈیا میں پیدا ہوئے تھے اور سنہ 2007 میں امریکی شہری بنے۔ انھوں نے بعد میں ایک دہائی تک ماسٹر کارڈ کے بطور سی ای او بھی کام کیا۔
سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے سنہ 2023 میں انھیں ورلڈ بینک کی قیادت کے لیے منتخب کیا تھا۔
رابرٹ گیبریل
رابرٹ گیبریل امریکی قومی سلامتی کی ٹیم کے رکن بھی ہیں اور وہ ’ایگزیکٹو بورڈ‘ کے آخری رُکن ہیں۔
گیبریل سنہ 2016 سے ٹرمپ کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور پی بی ایس کے مطابق وہ اس کے بعد ٹرمپ کے مشیر سٹیفن ملر کے خصوصی معاون کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
نکولے ملادینوف
وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق بلغارین سیاستدان نکولے ملادینوف غزہ میں بورڈ کے نمائندہ ہوں گے۔
Getty Imagesنکولے ملادینوف
وہ ایک علیحدہ 15 رُکنی فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کی نگرانی کریں گے، جسے نیشنل کمیٹی فور ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی) کا نام دیا گیا ہے۔
این سی اے جی کی قیادت فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شاتھ کریں گے۔
’مکمل تباہی اور ملبے کا ڈھیر‘: جنگ کے دو سال بعد بی بی سی نے غزہ میں کیا دیکھا؟اسرائیل سے موصول ہونے والی فلسطینیوں کی 95 مسخ شدہ نامعلوم لاشوں کا معمہ: ’بعض کو جلایا گیا، کچھ کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا‘’اگر دونوں دستی بم پھٹ جاتے تو میں آج زندہ نہ ہوتا‘: دوست کی جان بچانے والے بپن جوشی جو خود حماس کی قید میں ہلاک ہو گئےصدر ٹرمپ کو ’پاکیزگی اور ابدیت‘ کی علامت سمجھا جانے والا تمغہِ نیل کیوں دیا گیا؟ذاتی تعلق، پس پردہ دباؤ اور دھمکی: ٹرمپ نے نتن یاہو کو غزہ امن معاہدے پر کیسے مجبور کیا؟