گلیشیئر میں پھنسا کوہ پیما جسے اس کے کتے نے بچا لیا: ’اگر فلپ نہ ہوتا تو ریسکیو ٹیم مجھے نہ ڈھونڈ پاتی‘

بی بی سی اردو  |  Jan 19, 2026

فلپ چھوٹا، پُرجوش اور وفادار چیواوا نسل کا کُتا ہے لیکن اس کی شخصیت بہت بڑی ہے۔

یہ وہ الفاظ ہیں جو فلُپ کے مالک جون گلر اپنے کتے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پچھلے موسمِ گرما میں جون گلر ایک سوئس گلیشیئر میں موجود ایک گڑھے میں گِر گئے تھے۔

انھیں ایک ہیلی کاپٹر نے ریسکیو کیا تھا اور اس کی وجہ ان کا کتا تھا جو اس بُرے وقت میں بھی ان کے ساتھ کھڑا رہا تھا۔

فلپ اور گلر دونوں کو پہاڑ اور کوہ پیمائی پسند ہے۔ جب چل چل کر فلپ تھک جاتے ہیں تو ان کے مالک انھیں ایک بیگ میں ڈال کر اپنے کندھے پر سوار کر لیتے ہیں تاکہ باقی راستہ جلدی طے کیا جا سکے۔

وہ درمیان میں متعدد مقامات پر رُکتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور آس پاس کے مناظر سے لُطف اندوز ہوتے ہیں۔

گلر نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’میرا کتا 20 سے 30 کلومیٹر تک پیدل چل سکتا ہے۔ خوش قسمتی سے حادثے والے دن میں نے اسے بیگ میں نہیں ڈالا تھا اور نہ ہی اس کے گلے میں پٹّا تھا ورنہ وہ بھی شگاف میں گر سکتا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو ریسکیو ٹیمیں مجھے کبھی ڈھونڈ نہیں پاتیں۔‘

جون کا آبائی تعلق چیک ریپبلک کے شہر پلزین سے ہے اور وہ حادثے سے تقریباً ایک مہینے پہلے ہی سوئٹزرلینڈ منتقل ہوئے تھے۔

گلر کہتے ہیں کہ ’میرے والدین نے فلپ کو مجھے تحفے میں دیا تھا، وہ کتّے پالتے ہیں۔ میرے پاس پہلے ایک اور کتّا تھا لیکن وہ کچھ عرصے قبل مر گیا۔‘

فلپ کی عمر ڈھائی برس ہے اور گلر کہتے ہیں کہ ’میرے دفتر میں بھی سب اسے پسند کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ اسے برف میں کھیل کود کرنا بہت پسند ہے۔‘

گِلر کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا تھا؟

ساس فی، جسے ایلپس کا موتی بھی کہا جاتا ہے، سوئٹزرلینڈ کا چھوٹا سے قصبہ ہے جو کہ ملک کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے۔

ریسکیو اور ہیلی کاپٹر کمپنی ایئر زرمیٹ سے منسلک برونو کلبرمٹن کہتے ہیں کہ ’یہ کوئی چھوٹا علاقہ نہیں اور نہ ہی کسی کاغذ کی طرح خالی ہے۔ یہاں برف مٹی زدہ ہے اور جس گڑھے میں گلر گرے اسے ڈھونڈنا آسان نہیں ہوتا۔‘

’ہم یہ سوچنا بھی نہیں چاہتے کہ اگر گلر کے ساتھ ان کا کتا نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔ ریسکیو کارکنان نے ان کے کُتے کو ایک پتھر پر بیٹھے ہوا دیکھا تھا۔‘

گِلر اس دن کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’میں نے اس دن ایک پتھر پر بیٹھ کر دوپہر کا کھانا کھایا۔ اس کے بعد میں اُٹھا، کچھ قدم ہی اٹھائے اور برف پر پاؤں رکھتے ہی اندر پھنس گیا۔‘

ریسکیو کا مرحلہ

گلر کہتے ہیں کہ ’پہلے پہل تو میں نے خود گڑھے سے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن میرے کندھے میں تکلیف تھی۔ باہر نکلنے کی کوششوں کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ میرے ہاتھ میں شدید درد ہے۔‘

’مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ اگر میں نے زیادہ ہاتھ پاؤں چلائے تو میں مزید اندر دھنس سکتا ہوں اور اسی صورت میں مزید نقصان ہو سکتا تھا۔‘

’بالکل حرکت مت کرنا یہ ڈھائی میٹر لمبا اژدہا ہے‘: آدھی رات کو آسٹریلوی خاتون کے ساتھ کیا ہوا؟نو دن میں 20 افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے والے ہاتھی کی تلاشاونٹنی کے دودھ کو ’سفید سونا‘ کیوں کہا جاتا ہے؟زہریلے مینڈکوں کا شکار کرنے والا سانپ موت کو چکما کیسے دیتا ہے؟

اس کے بعد گِلر نے اپنے پاس موجود واکی ٹاکی سے مدد کی اپیل کی اور اسی فریکوئنسی پر موجود ایک جوڑے نے ان کی آواز سُن لی۔

کلاڈیا اور رالف نے نہ صرف ریسکیو اہلکاروں کو اس حادثے سے آگاہ کیا بلکہ واکی ٹاکی کے ذریعے گلر کو پُرسکون رکھنے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔

تاہم اس جوڑے کو بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ گڑھا کہاں واقع ہے جہاں گلر گرے تھے۔

ایئر زرمٹ کمپنی کا ہیلی کاپٹر تقریباً پہلے 40 منٹوں تک گلر کو ڈھونڈتا رہا۔ انھیں معلوم تھا کہ گلیشیئر گلر کو نگل چکا ہے لیکن پھر انھیں اچانک ایک سراغ ملا۔

یہ سراغ ایک کتا تھا جو کہ ایک پتھر پر بیٹھا ہوا تھا۔

کمپنی سے منسلک اہلکار برونو کہتے ہیں کہ ’اچانک ہی ایک ریسکیو اہلکار نے کسی پتھر پر حرکت سی دیکھی۔ پائلٹہیلی کاپٹر کو وہاں لے گیا اور دیکھا کہ ایک گڑھے کے پاس پتھر پر ایک کُتا بیٹھا ہے۔‘

اس کے بعد ہیلی کاپٹر جب اس مقام پر پہنچا تو فلپ پنکھے کی ہوا سے دور جا گرا۔

برونو کہتے ہیں کہ یہ چھوٹا کُتا ہماری تمام سرگرمیاں دیکھ رہا تھا اور جب گلر کو رسیوں کی مدد سے باہر نکالا گیا تو ’کتے نے خوشی سے اپنی دُم ہلانا شروع کر دی۔‘

گلر کہتے ہیں کہ اس حادثے کے بعد جب وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہوئے تو سب سے پہلے انھوں نے کلاڈیا اور رالف کا شکریہ ادا کیا، جن کی مدد سے ان کے ریسکیو کا آپریشن شروع ہو پایا تھا۔

’میں کوئی ناتجربہ کار کوہ پیما نہیں ہوں لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ گلیشیئر پر چلنا اتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ میں نے اس دن ایک مشکل سبق سیکھا تھا۔‘

لاہور کی پرندہ مارکیٹ ’راتوں رات‘ مسمار: ’جانوروں کے ملبے تلے دبنے کا دعویٰ درست نہیں‘زیبرا کے جسم پر سیاہ اور سفید رنگ کی دھاریں کیوں ہوتی ہیں؟دنیا میں سانپوں کی دس خطرناک ترین اقسام: ’ان لینڈ پائیتھن کے منھ سے خارج ہونے والا زہر 100 لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے‘دیو سائی میں گلوکارہ قرۃ العین بلوچ پر ریچھ کا حملہ: ’بھوکا ریچھ خوراک کی تلاش میں تھا اور ٹینٹ پھاڑ کر اندر داخل ہوا‘سیلاب متاثرین کو بھوکے مویشیوں کی فکر: ’ہمارے لیے کھانا نہ لائیں، جانوروں کے چارے کا انتظام کر دیں‘ ’جے اور ویرو‘: جنگل میں ’علاقے کی لڑائی‘ جو یہاں راج کرنے والے شیروں کی طاقتور جوڑی توڑنے کا باعث بنی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More