’میرا فون ہیک ہوا اور لندن میں مجھ پر حملہ کیا گیا‘: سعودی ولی عہد پر طنز کرنے والے یوٹیوبر کی کہانی

بی بی سی اردو  |  Feb 01, 2026

BBCغنیم المصریر کے آئی فونز کو سپائی ویئر کی مدد سے ہیک کیا گیا

لاکھوں فالورز رکھنے والے یوٹیوبر غنیم المصریر کی زندگی میں ہر چیز مکمل تھی اور وہ پوری طرح اپنی شہرت سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

لندن کے علاقے ویمبلے میں ایک فلیٹ میں مقیم کامیڈین غنیم المصریر طنز و مزاح پر مبنی ویڈیوز اور ریلز بنانے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں اور اُن کا شمار سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بڑے ناقدین میں ہوتا ہے۔

اپنے کام کی وجہ سے جہاں اُن کے کئی چاہنے والے ہیں تو وہیں سعودی حکومت کا بڑا نقاد ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ اُنھیں ناپسند بھی کرتے ہیں۔

ایک روز غنیم المصریر کو محسوس ہوا ہے کہ اُن کا موبائل فون کچھ عجیب طریقے سے برتاؤ کر رہا ہے۔ اُن کا فون بہت سست ہو گیا تھا اور بیٹری بھی تیزی سے ختم ہو رہی تھی۔

پھر اُنھوں نے محسوس کیا کہ کچھ لوگ بار بار اُنھیں لندن کے مختلف علاقوں میں دکھائی دے رہے ہیں۔ بظاہر سعودی حکومت کے حمایتی ان افراد نے اُن کا راستہ روکنے کا سلسلہ شروع کر دیا، اُنھیں ہراساں کیا جانے لگا اور کچھ اُن کی ویڈیوز بناتے رہے۔

لیکن غنیم المصریر کے لیے حیران کن پہلو یہ تھا کہ یہ افراد ان کی لوکیشن سے متعلق کیسے جانتے ہیں۔ المصریر کو اس بات کا شک ہوا کہ اُن کا ٹیلی فون اُن کی جاسوسی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ سائبر ماہرین نے بعد میں تصدیق کی کہ وہ بدنام زمانہ ’پیگاسس ہیکنگ ٹول‘ کے ذریعے جاسوسی کا شکار بننے والے متاثرین میں سے ایک تھے۔

المصریر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایسی چیز تھی جسے میں سمجھ نہیں سکا۔ وہ آپ کی لوکیشن دیکھ سکتے ہیں۔ وہ کیمرہ آن کر سکتے ہیں۔ وہ مائیکروفون آن کر کے آپ کو سن سکتے ہیں۔‘ انھوں نے آپ کا ڈیٹا حاصل کر لیا، تمام تصاویر حتیٰ کہ سب کچھ۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔‘

پیر کے روز چھ سالہ قانونی جنگ کے بعد لندن کی ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ المصریر کے ساتھ جو کُچھ ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار سعودی عرب ہے اورسعودی حکومت کو یہ حکم بھی دیا کہ وہ المصریر کو 30 لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ معاوضہ ادا کرے۔

Getty Imagesالمصریر کی ویڈیوز میں اکثر سعودی ولی عہد پر طنز کیا جاتا تھا

سنہ 2018 میں سعودی نژاد یوٹیوبر المصریر کے آئی فونز اس وقت ہیک کر لیے گئے جب انھوں نے تین مشکوک پیغامات میں موجود لنکس پر کلک کیا۔

یہ پیغامات بظاہر معروف خبر رساں اداروں کی جانب سے خصوصی ممبرشپ آفرز کے طور پر بھیجے گئے تھے۔ اس ہیکنگ کے بعد المصریر کو مسلسل ہراساں کیا گیا، ان کا پیچھا کیا گیا اور اگست میں لندن کے وسطی علاقے میں انھیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ دو اجنبی افراد المصریر کے قریب آئے اور ان پر چیخنے لگے اور پوچھا کہ وہ سعودی شاہی خاندان کے بارے میں بات کرنے والے ہوتے کون ہیں؟ اس کے بعد انھوں نے المصریر کو منھ پر مکا مارا اور مار پیٹ کا سلسلہ کُچھ دیر کے لیے جاری رہا۔

راہگیروں کی مداخلت پر دونوں افراد پیچھے ہٹ گئے لیکن جاتے جاتے انھیں ’قطر کا غلام‘ کہہ کر دھمکی دی کہ ’تمہیں سبق سکھائیں گے۔‘

ہائیکورٹ کے جج نے اس سب کو باقائدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا حملہ قرار دیا۔ جسٹس سینی نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ ’اس بات کا جواز موجود ہے کہ یہ حملہ اور ہیکنگ سعودی عرب یا اُن کے ایجنٹوں کی ایما پر ہوا۔‘

جج نے مزید کہا کہ ’سعودی حکومت کے خلاف عوامی تنقید کو روکنے میں سعودی عرب کی واضح دلچسپی موجود تھی۔‘

جمال خاشقجی قتل رپورٹ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پس پردہ اختلافات، ’غداری کے الزامات‘ اور خطے میں نئے بحران کے خدشاتایران اور یو اے ای کا تین جزائر کی ملکیت پر تنازع: خلیجی ممالک کی معاملہ عالمی عدالت انصاف لے جانے کی دھمکیخاشقجی کی گمشدگی: سعودی عرب پر دباؤ میں اضافہ

تشدد کے بعد بھی ہراساں کیے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ سنہ 2019 میں لندن کے کینسنگٹن علاقے کے ایک کیفے میں ایک بچہ المصریر کے پاس آیا اور سعودی بادشاہ سلمان کی تعریف میں گانا گانے لگا۔

اس واقعہ کے ریکارڈنگ کی گئی جسے سوشل میڈیا پر ڈال دیا گیا۔ اس نے جلد ہی ایک ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹرینڈ کرنا شروع کر دیا اور سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی پر بھی نشر ہوا۔ اسی روز مغربی لندن کے ایک ریستوران کے باہر ایک شخص نے المصریر کو کہا کہ ’تمہارے دن گنے جا چکے ہیں‘ اور پھر وہ وہاں سے چلا گیا۔

المصریر سعودی عرب میں پیدا ہوئے لیکن گذشتہ بیس برسوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ وہ ابتدائی تعلیم کے لیے پورٹس ماؤتھ آئے تھے۔ اب وہ برطانوی شہری ہیں اور ویمبلے میں رہائش پذیر ہیں تاہم لندن کے مرکزی علاقوں میں جانا ان کے لیے آج بھی خوفناک تجربہ ہے۔

45 سالہ المصریر عرب دنیا میں اپنی طنزیہ یوٹیوب ویڈیوز کی وجہ سے مشہور ہوئے جن میں وہ سعودی حکمرانوں، بالخصوص ولی عہد اور حکمران محمد بن سلمان پر تنقید کرتے ہیں۔

سعودی حکومت پر طنزیہ اور بعض اوقات ذاتی و سخت حملے کرنے والے یوٹیوبر المصریر کی ویڈیوز اکثر وائرل ہو جاتی تھیں، جنھیں اب تک 345 ملین سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

ان کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیو، جسے 16 ملین ویوز ملے، میں انھوں نے حکام کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ سعودی عرب میں لڑکیوں کے ڈانس کی وائرل ویڈیو پر ناراض ہوئے۔ حیرت انگیز طور پر اس ویڈیو کی آواز یوٹیوب سے غائب کر دی گئی اور المصریر کو آج تک معلوم نہیں کہ یہ کب اور کیسے ایڈٹ کی گئی۔

تاہم ہیکنگ اور لندن میں حملے کے بعد المصریر نے اعتماد کھو دیا ہے۔ وہ افسردہ اور خوفزدہ ہو گئے۔ کبھی خوش مزاج اور بے باک شخصیت رکھنے والے المصریر نے بی بی سی سے بات کرنے پر رضامندی ظاہر کی، مگر اس بار وہ محتاط تھے اور اپنا چہرہ مکمل طور پر دکھانے سے گریزاں رہے۔

المصریر نے گذشتہ تین برس سے کوئی ویڈیو اپ لوڈ نہیں کی۔ وہ کہتے ہیں کہ قانونی جنگ میں کامیابی کے باوجود سعودی حکومت انھیں خاموش کرانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس نقصان کا ازالہ مُمکن نہیں جو مجھے پہنچا ہے۔ ہیکنگ نے مجھے واقعی بدل دیا ہے۔ میں پہلے جیسا المصریر نہیں رہا۔‘

Getty Imagesالمصریر نے گذشتہ تین برس سے کوئی ویڈیو اپ لوڈ نہیں کی۔ وہ کہتے ہیں کہ قانونی جنگ میں کامیابی کے باوجود سعودی حکومت انھیں خاموش کرانے میں کامیاب ہو گئی ہے

یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے سِٹیزن لیب کے ماہرین نے تصدیق کی کہ سعودی نژاد یوٹیوبر المصریر کو بدنام زمانہ پیگاسس سپائی ویئر کے ذریعے ہیک کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ایک تجزیہ کار کو لندن بھیجا گیا، جنھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ کارروائی غالباً سعودی عرب کی جانب سے منظم انداز میں کی گئی تھی۔

پیگاسس ایک طاقتور اور متنازع ہیکنگ ٹول ہے جسے اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ نے تیار کیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ یہ سافٹ ویئر صرف حکومتوں کو فروخت کرتی ہے تاکہ دہشت گردوں اور مجرموں کا سراغ لگایا جا سکے۔ تاہم سِٹیزن لیب نے اسے سیاستدانوں، صحافیوں اور حکومت مخالفین کے فونز پر بھی موجود پایا ہے، جن میں المصریر بھی شامل ہیں۔

جب المصریر نے پہلی بار سعودی عرب کے خلاف قانونی دعویٰ دائر کیا تو ریاست نے موقف اختیار کیا کہ اسے سٹیٹ امیونٹی ایکٹ سنہ 1978 کے تحت قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہے۔ لیکن سنہ 2022 میں عدالت نے فیصلہ دیا کہ سعودی عرب کو اس مقدمے میں استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ اس کے بعد سے سعودی حکومت کسی بھی کارروائی میں شریک نہیں ہوئی۔

ہائیکورٹ کے جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’سعودی عرب نے دفاع پیش کرنے یا اس درخواست کا جواب دینے میں ناکامی دکھائی ہے اور متعدد عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ اس دعوے میں شریک نہیں ہوگا۔‘

عدالت نے سعودی حکومت کو المصریر کو 30 لاکھ پاؤنڈ ہرجانے ادا کرنے حکم دیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ سعودی عرب ادائیگی کرے گا یا نہیں۔ بی بی سی نے لندن میں سعودی سفارتخانے سے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

المصریر کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں اور ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی عدالتوں سے بھی رجوع کریں گے۔ تاہم ان کے مطابق کوئی بھی رقم اس نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتی جو اس ہیکنگ نے ان کی زندگی کو پہنچایا ہے۔

انھوں نے افسردگی اور بھرے لہجے میں کہا کہ ’مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ وہ برطانیہ میں یہ سب کرنے کے باوجود سزا سے بچ گئے۔‘

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پس پردہ اختلافات، ’غداری کے الزامات‘ اور خطے میں نئے بحران کے خدشاتخاشقجی کی گمشدگی: سعودی عرب پر دباؤ میں اضافہجمال خاشقجی قتل رپورٹ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟ایران اور یو اے ای کا تین جزائر کی ملکیت پر تنازع: خلیجی ممالک کی معاملہ عالمی عدالت انصاف لے جانے کی دھمکیسعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پنپتی وہ خاموش رقابت جسے یمن میں پیش آئے حالیہ واقعے نے تازہ کر دیا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More