Leanne O'Donnell
ناہموار وکٹورین بش لینڈ میں لیکولا ایک چھوٹی سے چوکی ہے اور یہاں کی آبادی پانچ نفوس پر مشتمل ہے۔
یہ دو عمارتوں، ایک جنرل سٹور، ایک پارک اور ایک پیٹرول سٹیشن پر مشتمل ہے جو ایک مرکزی سڑک کے اطراف ہیں۔ لیکولا آسٹریلیا کے چھوٹے قصبوں میں سے ایک ہے۔
اور اگر آپ کے پاس لاکھوں ڈالرز ہیں تو آپ اسے خرید سکتے ہیں۔ پورا گاؤں میلبرن شہر سے تین گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ لیکن مقامی افراد اس وقت صدمے اور غصے میں ہیں۔
ایک مقامی کمیونٹی کلب کی ملکیت لیکولا طویل عرصے سے الپائن نیشنل پارک جانے والے مسافروں کے لیے ایندھن، خوراک اور آرام کے لیے پسندیدہ مقام رہا ہے۔
لیکن لائنز کلب کی مقامی شاخ کا کہنا ہے کہ وہ اب اس شہر کو چلانے کا متحمل نہیں ہے اور گذشتہ سال کے آخر میں خاموشی سے اسے آن لائن فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔
اس فروخت نے لیکولا کے چند پرجوش رہائشیوں، آس پاس کے علاقوں کے مقامی لوگوں اور یہاں تک کہ لائنز کلب کے دیگر ریاستی اراکین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جن کا کہنا ہے کہ ان سے مشورہ نہیں کیا گیا اور اب وہ شہر کے مستقبل کے حوالے سے خدشات کا شکار ہیں۔
گھر سے دُور ایک گھر
وکٹوریا میں میکالسٹر دریا کے کنارے آباد لیکولا میں پہلے لکڑی کا ایک کارخانہ تھا۔ لیکن سنہ 1950 میں یہاں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے کچھ عمارتیں تعمیر کی گئیں۔
سنہ 1968 میں اس کارخانے کی بندش کے بعد لائنز کلب نے پوری جگہ حاصل کر لی اور اسے ایک کیمپ میں تبدیل کر دیا۔ جہاں پسماندہ کمیونٹیز کے نوجوان اور بچے اور خصوصی افراد سکول کی چھٹیوں کے دوران رہ سکتے تھے۔
کیمپ کے بالکل قریب اُنھوں نے ایک زمین لی، جہاں لیکولا کا جنرل سٹور اور پارک بنایا گیا۔
جنرل سٹور چلانے والی لیان او ڈونل اور ان کا خاندان ہی اس قصبے کے کل وقتی رہائشی ہیں۔ وہ اپنے ایک بچے، اپنے بہترین دوست اور اُن کے دو بچوں کے ساتھ وہاں رہتی ہیں۔
پاکستان میں ’یوٹیوبرز کا گاؤں‘ جہاں ’سالانہ تنخواہ جتنی رقم ایک ہی دن میں‘ کما لی جاتی ہےبونیر کا گاؤں جہاں 80 سے زیادہ گھر سیلابی ریلے میں بہہ گئےوہ گاؤں جہاں سینکڑوں شوہر اپنی بیویوں کے ہاتھوں قتل ہوئےاٹلی کا قصبہ جہاں کم شرح پیدائش کے بحران سے کاروبار اور سکول بند: بچے پیدا کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟
ڈونل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک حیرت انگیز جگہ ہے۔ ’جب میں پہلی بار یہاں منتقل ہوئی تو لوگ میرے سٹور میں آتے اور یہ کہتے تھے کہ آپ یہاں ملین ڈالر نہیں کما سکتیں، تو میں جواب دیتی کہ میں یہاں ملین ڈالر کمانے بھی نہیں آئی۔‘
ڈونل نے سنہ 2022 میں یہ جنرل سٹور خریدا تھا، لیکن وہ ان عمارتوں کی مالک نہیں ہیں۔ اُن کے بقول اُنھیں ایک لیز کے کاغذ پر دستخط کے بعد یقین دلایا گیا تھا کہ وہ 15 سال تک مزید یہاں کام کر سکتی ہیں۔
Getty Images
پہلے دن سے ڈونل لیکولا میں اپنا دوسرا گھر دیکھتی تھیں، یعنی گھر سے دُور ایک اور گھر۔
تقریباً ہر شخص جو لیکولا آتا ہے، یہاں کام کرتا ہے یا گزرتا ہے، اس کے پاس ڈونل کا نمبر ہوتا ہے۔ یہاں تک کے ٹرک ڈرائیور اور فائر اتھارٹی کے کارکنوں کے پاس بھی اُن کا نمبر ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں ان کے لیے رابطے کا بنیادی نقطہ ہوں، اس سے قطع نظر کہ سہ پہر کے تین بجے ہیں یا صبح کے دو بجے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’میں اس شہر سے بہت پیار کرتی ہوں۔ اگر یہ کسی تعمیراتی کمپنی کے ہاتھ میں آ جاتا ہے اور ایسی چیز میں بدل جاتا ہے جو یہ نہیں ہے تو اس سے میرا دل ٹوٹ جائے گا۔‘
ڈونل کو جنوری 2025 میں پتہ چلا کہ لائنز ویلیج لیکولا بورڈ کو چیریٹی کی جانب سے لیکولا کو فروخت کرنے کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔
ڈونل کے بقول اُنھیں بتایا گیا کہ گذشتہ پانچ یا چھ سال سے اُن کا کاروبار خسارے میں ہے۔ تو میں نے اُن سے کہا کہ کیا میں کچھ مدد کر سکتی ہوں؟
اُنھوں نے کہا کہ جب تک آپ کو چند ملین ڈالر نہیں مل جاتے آپ کچھ نہیں کر سکتے۔
لیکن ڈونل پرعزم رہیں اور گاؤں کے لیے فنڈ ریزنگ مہم چلانے کی پیشکش کی اور بورڈ کو بتایا کہ بہت سے لوگ ہماری مدد کرنا چاہیں گے۔
اُن کے بقول بورڈ نے اُن کی بات پر کان نہیں دھرے، جس پر میں نے کہا کہ ’تو کیا آپ میرا کاروبار بند کر دیں گے؟‘
اُنھوں نے کہا کہ ’نہیں ہم صرف آپ کا کاروبار سنبھالنے جا رہے ہیں، کیونکہ ہمارے پاس زمین ہے اور ہم عمارتوں کے مالک ہیں۔ لہذا آپ اپنا سامان باندھیں اور یہاں سے جائیں۔ جب اُنھوں نے یہ کہا تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔‘
قانونی مشورہ حاصل کرنے کے بعد ڈونل کو احساس ہوا کہ چونکہ اُنھوں نے لیز پر دستخط کیے تھے تو بورڈ ایسا ہی کر سکتا ہے۔
اُن کے بقول اگر کوئی اور جگہ ہوتی تو میں اپنا کاروبار یہاں کسی اور عمارت میں منتقل کر لیتی، لیکن لیکولا میں اب یہ بھی ممکن نہیں ہے۔
دسمبر میں ڈونل نے دیکھا کہ لیکولا آن لائن فروخت کے لیے دستیاب ہے اور اس کی قیمت 60 لاکھ آسٹریلین ڈالر سے ایک کروڑ ڈالرز کے درمیان ہے۔
پٹیشن اور دھمکیاں
لکولا کی فروخت کے معاملے پر اطراف کے علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے سوشل میڈیا پر غصے کا اظہار کیا ہے۔
بہت سے لوگ او ڈنل کے ساتھ روا رکھے گئے رویے پر خفا ہیں، کچھ کو یہ خدشہ ہے کہ ان کا قصبہ یا تو ختم ہو جائے گا یا پھر اسے ایک کاروباری مرکز میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
لکولا کاراون اینڈ جنرل سٹور کے فیس بُک پیج پر ایک صارف نے لکھا کہ: ’لوگ اس قصبے میں اس سٹور پر انحصار کرتے ہیں اور اتنے رش والے سیزن میں اسے بند کرنا بیوقوفی ہوگی۔‘
ایک اور شخص نے لکھا کہ قصبے کی فروخت سے 'بہت سارے وکٹورینز پر اثر پڑے گا جو لکولا آتے ہیں اور برسوں سے یہیں خیمہ زن ہیں۔'
ایک اور سوشل میڈیا کمنٹ میں کہا گیا کہ: 'ماضی میں لائنز اور لکولا گاؤں کے رہنما رہنے والی عظیم شخصیات آج اپنی قبر میں تڑپ رہی ہوں گی۔'
وکٹورین لائنز کے دیگر اراکین نے لائنز لکولا بورڈ کو خط لکھا اور الزام عائد کیا کہ اس نے ضروری عمل پورا کیے بغیر کام کرنا شروع کر دیا ہے اور لائنز کلب کے اراکین سے مشاورت نہیں کی۔
آن لائن موجود 'ری نیو دا لیز اینڈ لیٹ لینی سٹے' نامی پٹیشن پر بھی 8 ہزار سے زائد دستخط موجود ہیں۔
غصہ بڑھنے کے بعد لائنز ویلیج لکولا بورڈ کا کہنا تھا کہ اس کے سٹاف کو دھمکیاں مل رہی ہیں اور وہ اس قصبے سے نکلنے پر غور کر رہے ہیں۔
Licola Wilderness Village/Google Maps
بی بی سی کو بھیجے گئے ایک بیان میں ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ لکولا کی فروخت کا فیصلہ اس کے آپریشنز کو دیکھتے ہوئے کیا گیا تھا اور وکٹوریہ میں لائنز کے تمام اراکین کو اس حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے۔
نظرِثانی کے بعد بورڈ نے فیصلہ کیا کہ لائنز کلب کے لیے یہ گاؤں اپنی ملکیت میں رکھنا ممکن نہیں ہے کیونکہ وہاں انشورنس کی قیمت بڑھ رہی ہے، پرانی عمارتیں ہیں اور سکولوں اور کیمپ میں حاضری بھی کم ہوتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 'اس کی فروخت کا فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔'
چیئرمین ڈینس کیرتھرز کا کہنا ہے کہ بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ لائنز کے گاؤں کے مشن کی حفاظت کرے اور نوجوانوں کی مدد کرتا رہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'لائنز کے ڈسٹرکٹ گورنرز کو اس حوالے سے بریف کیا گیا ہے اور انھوں نے بہت مدد بھی کی ہے۔'
بورڈ کا اپنے بیان میں یہ بھی کہنا تھا کہ او ڈنل کی لیز رینیو نہ کرنے کا فیصلہ مالی دشواریوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔
او ڈنل کو بتا دیا گیا ہے کہ انھیں اپنی جگہ خالی کرنی ہوگی۔
بورڈ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ لکولا کی پراپرٹیز کی فروخت سے آنے والے پیسے اور منافع سے ایک نئی فاؤنڈیشن میں سرمایہ کاری کی جائے گی، جس سے کیمپوں میں جانے والے بچوں کے اخراجات اُٹھائے جائیں گے۔
مستقبل میں لکولا میں کیمپ جاری رہیں گے یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے لیکن ڈینس کہتے ہیں کہ جنوری میں شیڈول کیمپ کم حاضری کے سبب منسوخ کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس قصبے کے نئے مالکان کون ہوں گے اور وہ اس کے ساتھ کریں گے کیا۔
تاہم ڈینس کہتے ہیں کہ 'اس پراپرٹی میں اچھی خاصی دلچسپی پائی جاتی ہے۔'
انڈیا میں ’پی آئی اے‘ اور ’آئی لو پاکستان‘ کی تحریر والے پراسرار غبارے: ’یہ کہاں سے آ رہے ہیں؟‘بونیر کا گاؤں جہاں 80 سے زیادہ گھر سیلابی ریلے میں بہہ گئےاٹلی کا قصبہ جہاں کم شرح پیدائش کے بحران سے کاروبار اور سکول بند: بچے پیدا کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟وہ گاؤں جہاں سینکڑوں شوہر اپنی بیویوں کے ہاتھوں قتل ہوئےپاکستان میں ’یوٹیوبرز کا گاؤں‘ جہاں ’سالانہ تنخواہ جتنی رقم ایک ہی دن میں‘ کما لی جاتی ہے