ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو روزنبرگ جنھیں ’روس کا دشمن‘ سمجھا جاتا ہے

بی بی سی اردو  |  Feb 05, 2026

BBC

اپنے روسی شو پر ایک مشہور میزبان برطانیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔ میں خوش ہوں کہ ان کی انگلی کے نیچے کوئی نیوکلیئر بٹن نہیں۔

ولادیمیر سولویووف اُونچی آواز میں کہہ رہے تھے کہ ’اب تک ہم نے لندن یا برمنگھم کو تباہ نہیں کیا۔ ہم نے اب تک برطانوی گندگی کو اس دنیا سے نہیں مٹایا ہے۔‘

وہ مایوس نظر آ رہے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’اب تک ہم نے بی بی سی کو اس سٹیو ’روٹن برگ‘ کے ساتھ لات مار کر نہیں نکالا۔ وہ کسی گہری کی طرح گندگی نکالتے ہوئے گھومتا ہے، وہ ہمارے ملک کا دشمن ہے۔‘

روس میں بی بی سی کے نامہ نگار کے طور پر میں اپنی دنیا میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

یہ وہ دنیا ہے جس کی جھلک ہم آپ کو ’آور مین اِن ماسکو‘ میں دکھا رہے ہیں۔ بی بی سی پینوراما نے بی بی سی ماسکو بیورو کی ایک برس کی مصروفیات پر ایک فلم بنائی ہے، یہ وہ وقت ہے جب روس یوکرین کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، ملک میں سختیاں بڑھا رہا ہے اور صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

مجھے گلہری کے نام سے پکارے جانے سے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ وہ پیاری ہوتی ہیں۔ ان کی کھال موٹی ہے اور یہ خاصیت ایک غیرملکی نامہ نگار میں ہونی چاہیے۔

لیکن ’روس کا دشمن‘؟ اس سے مجھے تکلیف پہنچی ہے۔

مجھے ماسکو میں رہتے اور کام کرتے ہوئے 30 برس گزر چکے ہیں، ایک نوجوان کے طور پر مجھے روس کی زبان، ادب اور موسیقی سے محبت ہو گئی ہے۔

میں نے لیڈز یونیورسٹی میں روس کی لوک کلاسیکی موسیقی پر پرفارم کیا تھا۔ ایک کنسرٹ کے لیے میں نے سنو مین کے بارے میں روسی زبان میں گانا لکھا جس نے اتنے کپڑے پہن لیے کہ وہ پگھل گیا۔

اس سنو مین کی طرح روس بھی فروری 2022 میں یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملے کے بعد مجھے پگھلتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔

دنیا کا سب سے بڑا ملک تاریک ترین راستوں پر چل پڑا تھا۔ صدر پوتن کا ’خصوصی فوجی آپریشن‘ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی سب سے مہلک جنگ بن جائے گی۔

پیچھے مڑ کر دیکھا تو یہ بہت پہلے سے ہو رہا تھا، روس نے 2014 میں یوکرین کے علاقے کرائمیا کو ضم کر لیا تھا۔ اس پر پہلے ہی مشرقی یوکرین میں مسلح تصادم کو ہوا دینے کی فنڈنگ اور سازش کا الزام لگ رہا تھا۔ اس کے مغرب کے ساتھ تعلقات دن بدن کشیدہ ہوتے جا رہے تھے۔

پھر بھی بڑے پیمانے پر حملہ ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ اس کے بعد کے دنوں میں اختلاف رائے کو روکنے اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف جابرانہ قوانین کے تحت کارروائی کی گئی۔ بی بی سی کے پلیٹ فارمز کو بلاک کر دیا گیا۔

روس سے یہ خبر دینا ایسا ہی تھا جیسے آپ ایک تنی ہوئی رسی پر چل رہے ہیں اور نیچے بارودی سرنگ ہے۔ یہاں سے ایمانداری کے ساتھ حقائق پر مبنی رپورٹنگ بھی ایک مشکل کام ہے۔

سنہ 2023 میں وال سٹریٹ جرنل کے ایک رپورٹر کی گرفتاری سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ غیر ملکی پاسپورٹ ہونا آپ کو جیل سے نہیں بچا سکتا۔

امریکی شہری ایوان گرشکووچ کو جاسوسی کے الزام میں سزا سنائی گئی۔ وہ سولہ ماہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزاریں گے۔ وال سٹریٹ جرنل اور امریکی حکام اس مقدمے کی مذمت کرتے ہوئے اسے فراڈ قرار دے رہے ہیں۔

ایک غلط قدم اور سب کچھ تباہ ہونے کا خطرہ: زیر سمندر خطرناک روسی بارودی سرنگوں کو غیرفعال بنانے والے اہلکاروں کی کہانی’طاقت کے بل پر‘ چلنے والی دنیا اور امریکہ، چین اور روس کے درمیان غلبہ حاصل کرنے کی دوڑمغربی ممالک روس پر پابندیاں لگانے کے باوجود یوکرین جنگ میں اس کی ’مالی مدد‘ کیسے کر رہے ہیں؟تیل کی ترسیل کا ’خفیہ‘ نیٹ ورک: روس اور ایران کی منافع بخش برآمد پر امریکی پابندی کتنی کامیاب ہوئی؟

بی بی سی کے ماسکو دفتر میں اب ہم بہت چھوٹی ٹیم ہیں۔ ہم مل کر روس کی کہانی دُنیا کو بتانے کے لیے ہر روز کسی نئے چیلنج کا سامنا کرتے ہیں۔

مجھے اور میرے پروڈیوسر بین ٹوینر کو روس آنے اور جانے کے دوران ’اضافی چیک‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کریملن بہت سے ممالک کے رپورٹرز پر ’غیر دوستانہ‘ ہونے کا لیبل لگا رہا ہے، جس میں برطانیہ بھی شامل ہے۔ ہر تین ماہ بعد ہمیں اپنے ویزوں کی تجدید کروانا پڑتی ہے۔

بہت سے معاونین جو پہلے ہمارے ساتھ کام کرتے تھے، اب وہ اس سے گریزاں ہیں۔ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس بین الاقوامی تناؤ میں بی بی سی سے وابستہ ہونا خطرے کا باعث ہے۔

ان حالات کے باوجود دیگر مغربی براڈ کاسٹرز نے روس میں اپنی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے اور ہمیں کریملن کے پروگراموں میں شرکت کے دعوت نامے بھی موصول ہو رہے ہیں۔

کبھی کبھار مجھے صدر پوتن سے سوال کرنے کا موقع بھی مل جاتا ہے کیونکہ پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کا جواب بھی روسی صدر کی سوچ سے متعلق قیمتی معلومات دے سکتا ہے۔

نیٹو کی مشرق کی طرف توسیع اور مغربی رہنماؤں کے روس کے لیے برتاؤ پر ولادیمیر پوتن مغرب سے ناراض ہیں۔

ان کے ناقدین ان پر سامراجی سازشوں اور روس کے اثر و رسوخ کے دائرہ کار کو دوبارہ بڑھانے کا الزام لگاتے ہیں۔

میں نے گذشتہ دسمبر صدر پوتن سے پوچھا تھا کہ ’کیا نئے ’خصوصی فوجی آپریشنز‘ ہوں گے؟‘

انھوں نے جواب دیا کہ ’اگر آپ عزت سے پیش آئیں گے اور اگر آپ ہمارے مفادات کا احترام کرتے ہیں تو کوئی آپریشن نہیں ہوگا۔‘

یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر پوتن ہی یہ نتیجہ اخذ کریں کہ روس کے مفادات کا احترام نہیں کیا گیا، تو پھر کیا ہوگا؟

ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں واپس آنے کے بعد ماسکو محسوس کرتا ہے کہ واشنگٹن اس کا زیادہ احترام کر رہا ہے۔

گذشتہ اگست میں الاسکا کے سربراہی اجلاس میں امریکہ کے صدر نے روس کے رہنما کے لیے سرخ قالین بچھایا تھا۔ تاہم یہ سربراہی اجلاس روس کی یوکرین پر جنگ ختم کرنے میں ناکام رہا۔

سب کچھ ماسکو کے حق میں نہیں گیا۔ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو، جنھیں حال ہی میں امریکی فوجیوں نے پکڑا، روس کے اتحادی تھے۔ پھر امریکہ نے اٹلانٹک میں ایک آئل ٹینکر قبضے میں لیا جس پر روسی پرچم تھا۔

پھر بھی، یہ حیران کن ہے کہ گذشتہ 12 مہینوں میں کریملن نے امریکہ پر کتنی کم تنقید کی ہے۔

ماسکو کو لگتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات اسے کریملن کے لیے فائدہ مند شرائط پر یوکرین جنگ ختم کرنے میں مدد دیں گے۔ لہٰذا اب روسی سرکاری میڈیا میں زیادہ تر مغرب مخالف بیانیہ امریکہ کی طرف نہیں بلکہ یورپی یونین اور برطانیہ کی طرف ہے۔

چیزیں کیسے بدل گئیں۔

سنہ 1997 میں مجھے ’دی وائٹ پیرٹ کلب‘ میں مدعو کیا گیا جو ایک مقبول روسی ٹی وی کامیڈی شو تھا جس میں ایک سفید طوطا مرکزی کردار میں تھا۔

روسی مشہور شخصیات ایک بار میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو برطانوی لطیفے سنا رہی تھیں اور برطانیہ کے بارے میں محبت سے بات کر رہی تھیں۔

اس میں فلمی لیجنڈ یوری نکولن یاد کرتے ہیں کہ ’سنہ 1944 میں، میں دوسری عالمی جنگ کے محاذ پر تھا۔

'مجھے یاد ہے کہ برطانیہ اور اتحادیوں نے دوسرا محاذ کیسے کھولا۔ اس سے ہمیں بہت مدد ملی۔‘

پیرٹ کلب نے مجھے ’کوئی برطانوی گانا‘ گانے کی دعوت دی۔ میں پیانو پر بیٹھا اور ’ڈیزی‘ اور ’اے بائیسائیکل میڈ فار ٹو‘ گایا۔

ماسکو کے اس بار میں بیٹھتے ہوئے، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے برطانیہ روسی دلوں کے قریب نہیں ہو سکتا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے سوچا تھا کہ روس اور مغرب اس ’سائیکل جو دو کے لیے بنائی گئی ہے‘ پر ہیں اور یہ کہ سرد جنگ طرز کا تصادم سب ماضی کا حصہ ہے۔

یہ کام نہیں کر سکا۔

تیس سالوں میں ہم ’سفید طوطے‘ سے ’فضلہ خارج کرنے والی گلہریاں‘ بن گئے ہیں۔

اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ ہم مشرق و مغرب کی دوستی کی امیدوں سے یورپ میں چار سالہ جنگ کی طرف جھک گئے ہیں جو سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر یوکرین کے لیے تباہ کن رہی ہے۔

یہ جنگ کیسے ختم ہوگی، یہ نہ صرف یوکرین اور روس کے مستقبل کو متاثر کرے گا بلکہ یورپ کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو گا۔

AFP via Getty Images

گذشتہ چار سالوں میں ایسے لمحات آئے جنھوں نے مجھے حیران کر دیا۔ میں 2022 میں ویرا کے ساتھ اپنی گفتگو کو کبھی نہیں بھولوں گا جو ایک انتہائی منظم پوتن حامی ریلی میں ہوئی تھی۔

میں نے ان سے پوچھا کہ ان کا بیٹا ہے جس کا جواب انھوں نے ہاں میں دیا۔

میں نے ان سے پوچھا کہ ’کیا آپ فکرمند نہیں کہ انھیں فوج میں بھرتی کر کے یوکرین بھیج دیا جائے؟‘

ویرا نے جواب دیا کہ ’میں چاہوں گی کہ میرا بیٹا یوکرین میں لڑتے ہوئے مارا جائے بجائے اس کے کہ وہ گھر پر شرارتیں کرے۔ دیکھو یہاں کتنے نوجوان مرد بے روزگار ہیں اور اپنا وقت نشے میں گزارتے ہیں۔‘

کچھ خوشگوار ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔ چند دن بعد جب ٹی وی میزبان ولادیمیر سولویوف نے مجھے ’روس کا دشمن‘ قرار دیا تو ماسکو کے کئی لوگ میرے پاس آئے، مجھ سے ہاتھ ملائے اور سیلفی لینے کی درخواست کی۔

یہ روس کی قومی علامت کی طرح ہے: دو سر والا عقاب۔ ایک سر غراتا ہے اور دوسرا آپ کو روس آنے پر خوش آمدید کہتا ہے۔

ایک غلط قدم اور سب کچھ تباہ ہونے کا خطرہ: زیر سمندر خطرناک روسی بارودی سرنگوں کو غیرفعال بنانے والے اہلکاروں کی کہانی’طاقت کے بل پر‘ چلنے والی دنیا اور امریکہ، چین اور روس کے درمیان غلبہ حاصل کرنے کی دوڑمغربی ممالک روس پر پابندیاں لگانے کے باوجود یوکرین جنگ میں اس کی ’مالی مدد‘ کیسے کر رہے ہیں؟تیل کی ترسیل کا ’خفیہ‘ نیٹ ورک: روس اور ایران کی منافع بخش برآمد پر امریکی پابندی کتنی کامیاب ہوئی؟فائبر آپٹک ڈرون: یوکرین جنگ کو تیزی سے بدلنے والا یہ خوفناک نیا ہتھیار کیا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More