کروڑوں ڈالر معاوضے اور پروٹوکول کے باوجود رونالڈو سعودی کلب ’النصر‘ چھوڑنے والے ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Feb 05, 2026

Getty Images

فٹبال کی دُنیا کے بڑے نام کرسٹیانو رونالڈو کے سعودی کلب النصر میں مستقبل سے متعلق بہت سی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

سعودی پرو لیگ کے میچ میں ’النصر‘ کلب کی ٹیم نے پیر کے روز الجریح کے خلاف میچ میں حصہ لیا مگر ٹیم کے سٹار کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو سکواڈ کا حصہ نہیں تھے۔

اس غیر موجودگی نے ان کے مستقبل کے حوالے سے بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیا۔

پرتگالی اخبار ’اے بولا‘ کے مطابق 40 سالہ رونالڈو نے کھیلنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ ( پی آئی ایف) کی جانب سے کلب کے انتظامی معاملات سے ناخوش ہیں۔

النصر اور الہلال جو ملک کے سب سے کامیاب کلب تصور کیے جاتے ہیں، دونوں ہی پی آئی ایف کے زیرِ انتظام ہیں، جو انگلش کلب نیو کاسل یونائیٹڈ کو بھی معاونت فراہم کرتا ہے۔

رونالڈو نے سنہ 2022 میں مانچسٹر یونائیٹڈ چھوڑنے کے بعد النصر میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے فٹبالر بن گئے تھے، جنھیں سالانہ 177 ملین پاؤنڈ تنخواہ دی جاتی ہے تاہم اب تک وہ صرف عرب کلب چیمپیئنز کپ جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔

پانچ مرتبہ بالون ڈی اور ایوارڈ جیتنے والے رونالڈو نے جون سنہ 2025 میں النصر کے ساتھ دو سال کا ایک نیا معاہدہ کیا تھا۔ اس سے قبل قیاس آرائیاں تھیں کہ وہ کلب چھوڑ کر حریف ٹیم الہلال میں عارضی طور شامل ہو سکتے ہیں۔

تازہ ترین پیشرفت نے ایک بار پھر افواہوں کو جنم دیا ہے کہ آخر رونالڈو اور النصر کے درمیان کیا غلط ہو رہا ہے۔

سعودی عرب میں کرسٹیانو رونالڈو کی کارکردگیGetty Images

کرسٹیانو رونالڈو نے النصر میں شمولیت کے بعد شاندار انفرادی کارکردگی دکھائی۔ 2022-23 کے سعودی پرو لیگ سیزن میں، جب وہ نصف سیزن کے دوران ٹیم کا حصہ بنے، انھوں نے 14 گول سکور کیے۔ اس کے بعد کے دو ایڈیشنز میں وہ لیگ کے ٹاپ سکورر رہے، جہاں انھوں نے ایک سیزن میں 35 اور دوسرے میں 25 گول کیے۔

گزشتہ دسمبر میں انھیں گلوب ساکر ایوارڈز میں ’مشرقِ وسطیٰ کا بہترین کھلاڑی‘ قرار دیا گیا۔ اس موقع پر رونالڈو نے کہا تھا کہ ’میرا مقصد ٹرافیاں جیتنا ہے اور میں اس نمبر یعنی 1000 گول کرنے کے اپنے خواب کو ضرور پورا کروں گا، اگر کوئی انجری یا چوٹ نہ آئی تو۔‘

ان کے کیریئر کے مجموعی گولز کی تعداد 961 ہو گئی ہے اور اب وہ اپنے ہدف یعنی ایک ہزار گولز سے صرف 39 گولز کی دوری پر ہیں۔

تاہم ٹرافیوں کے لحاظ سے رونالڈو کی کارکردگی کوئی خاص نہیں رہی۔ النصر ان کے پہلے دو سیزنز میں لیگ رنر اپ رہا جبکہ گزشتہ سیزن میں وہ تیسرے نمبر پر رہا اور چیمپیئن الاتحاد سے 13 پوائنٹس پیچھے تھا۔

سنہ 2023-24 میں کنگز کپ کے فائنل میں بھی النصر کو الہلال کے ہاتھوں پینلٹی شوٹ آؤٹ میں شکست ہوئی۔

رونالڈو کی سعودی کلب میں شمولیت: ’انھیں ہر دن کے ساڑھے پانچ لاکھ یورو ملیں گے‘کرسٹیانو رونالڈو: ’فٹبال کی تاریخ کے مکمل کھلاڑی‘ جنھوں نے کھیل کے میدان سے باہر کاروباری سلطنت بھی قائم کیرونالڈو کو اپنے ایک فین کی تلاش: ’یہ میرا جڑواں بھائی ہے، اس کے بدلے مجھ سے ہی مل لیں‘39 سالہ کرسٹیانو رونالڈو کا ناقابل یقین ’فلیش بیک‘ گول: مداحوں کو ان کے 1000 ویں گول کا انتظار

ایشین چیمپئنز لیگ ایلیٹ کے سیمی فائنل میں جاپان کے کواساکی فرنٹالے نے النصر کو باہر کر دیا تھا اور اس سیزن میں وہ صرف دوسرے درجے کی ایشین چیمپیئنز لیگ ٹو کے لیے کوالیفائی کر سکے۔

پانچ مرتبہ چیمپیئنز لیگ جیتنے والے رونالڈو کا النصر کے ساتھ واحد ٹائٹل اب تک 2023 کا عرب کلب چیمپیئنز کپ ہے۔ ان کی مایوسی میں اضافہ اس وقت ہوا جب انھوں نے اپنے سابق ریال میڈرڈ ساتھی کریم بنزیما اور پرتگال کے روبن نیویس کو سعودی لیگ ٹائٹلز جیتتے دیکھا۔

النصر سرمایہ کاری میں پیچھے؟Getty Images

سعودی عرب کے ’بگ فور‘ کلبز النصر، الہلال، الاهلی اور الاتحاد نے سنہ 2023 میں پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی۔ اسی دوران سعودی کلبز نے مجموعی طور پر تقریباً 700 ملین پاؤنڈ خرچ کیے، جن میں سب سے نمایاں معاہدہ برازیلی سٹار نیمار کا تھا جو 77.6 ملین پاؤنڈ میں الہلال میں شامل ہوئے۔

ہلال نے اس دوران الیگزینڈر میٹرووچ اور روبن نیویس کو بھی اپنی ٹیم کا حصہ بنایا جبکہ النصر نے مانچسٹر یونائیٹڈ کے الیکس ٹیلس، مانچسٹر سٹی کے ایمریک لاپورٹے، بایرن میونخ کے سادیو مانے اور انٹر میلان کے مارسلو بروزووچ کو سائن کیا۔

الاہلی نے ریاض مہریز، ایڈورڈ مینڈی اور رابرٹو فرمنو کو حاصل کیا جبکہ الاتحاد نے اینگولو کانتے، فابینیو اور جوٹا سمیت کئی بڑے ناموں کو اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ ان سرمایہ کاریوں کے نتیجے میں الاهلی، الاتحاد اور الہلال نے بڑے ٹائٹلز جیتے لیکن النصر اب تک کسی بڑی کامیابی سے محروم ہے۔

گزشتہ موسمِ گرما کے بعد سعودی کلبز کی مجموعی سرمایہ کاری میں کمی آئی اور اس دوران النصر نئے پروموٹ ہونے والے نیوم ایس سی اور القادسیہ سے بھی پیچھے رہ گیا۔ القادسیہ نے میٹیو ریٹیگی اور 20 سالہ گھانا کے ونگر کرسٹوفر بونسو باہ کو سائن کیا اور صرف الہلال نے ان سے زیادہ سرمایہ کاری کی۔

النصر نے گرمیوں میں چیلسی کے جواو فیلکس کو 43.7 ملین پاؤنڈ میں اور بایرن میونخ کے کنگزلی کومان کو حاصل کیا لیکن جنوری کی ونڈو میں وہ خاموش رہے۔ اس کے برعکس ان کے حریف الہلال نے سابق آرسنل ڈیفنڈر پابلو ماری اور رینس کے نوجوان فرانسیسی فارورڈ محمد کادر میٹے کو سائن کیا۔

سعودی عرب عالمی کھیلوں کا مرکز بن کر ابھرا لیکن کمی کیا ہے؟Getty Images

گزشتہ چند برسوں میں سعودی عرب عالمی کھیلوں کا مرکز بن کر ابھرا۔ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے تحت نہ صرف چار بڑے سعودی کلبز جن میں النصر، الہلال، الاهلی اور الاتحاد شامل ہیں بلکہ انگلش پریمیئر لیگ کلب نیو کاسل یونائیٹڈ اور ’لِو گالف‘ سیریز بھی اس کے پورٹ فولیو کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ اے پی ٹی اور ڈبلیو ٹی اے ٹینس ٹورز کی سپانسرشپ، ڈبلیو ڈبلیو ای، فٹبال، گالف، باکسنگ اور فارمولا ون جیسے بڑے ایونٹس میں بھی سعودی عرب نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

ملک نے سنہ 2034 فیفا ورلڈ کپ، سنہ 2027 اے ایف سی ایشین کپ اور 2034 ایشین گیمز کی میزبانی بھی حاصل کر رکھی ہے۔

تاہم اب یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ لامحدود سرمایہ کاری کا دور ختم ہو رہا۔ گزشتہ ماہ 2029 ایشین ونٹر گیمز، جو نیوم شہر میں منعقد ہونا تھے، غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے۔ سٹریٹس ٹائمز کے مطابق نیوم کے سکی ریزورٹ کی تعمیر میں تاخیر اس کی بڑی وجہ ہے۔ نیوم شہر، جو سعودی عرب کے وژن 2030 پروگرام کا نمایاں منصوبہ ہے، بڑھتی ہوئی لاگت اور بار بار تاخیر کے باعث محدود پیمانے پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح سعودی پرو لیگ میں بھی سرمایہ کاری کے رجحان میں کمی نظر آ رہی ہے۔ سنہ 2023 سے اب تک کلبز نے 1.1 ارب پاؤنڈ سے زیادہ خرچ کیا لیکن جولائی 2025 میں وزارتِ کھیل کی نئی پالیسی کے بعد کلبز کو زیادہ کفایتی اور مالی طور پر پائیدار ماڈل اپنانا پڑا۔

رونالڈو کی صورتحال پر تجزیہ

بی بی سی کے چیف فٹبال نیوز رپورٹر سائمن سٹون کے مطابق مانچسٹر یونائیٹڈ کے فینز بخوبی جانتے ہیں کہ کرسٹیانو رونالڈو جب کسی فیصلے پر قائم ہو جائیں تو نتائج کی پرواہ نہیں کرتے۔

سنہ 2022 میں اولڈ ٹریفورڈ سے ان کی رخصتی اس بات کا ثبوت تھی، جب انھوں نے کلب کی تربیتی سہولیات، ڈھانچے اور کوچ ایرک ٹین ہیگ پر سخت تنقید کی۔ اس قدر شدید ردعمل کے بعد ان کا کلب میں رہنا ناممکن ہو گیا تھا۔

اب جبکہ اُن کی عُمر بھی زیادہ ہو گئی ہے اور ان کو کلب کی جانب سے ملنے والے پیسے بھی کہیں زیادہ ہیں، اس صورتحال میں یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ وہ النصر کے ساتھ موجودہ صورتحال کو کس طرح سنبھالتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب وہ خود ابھی تک اس معاملے پر خاموش ہیں۔

39 سالہ کرسٹیانو رونالڈو کا ناقابل یقین ’فلیش بیک‘ گول: مداحوں کو ان کے 1000 ویں گول کا انتظاررونالڈو کو اپنے ایک فین کی تلاش: ’یہ میرا جڑواں بھائی ہے، اس کے بدلے مجھ سے ہی مل لیں‘کرسٹیانو رونالڈو: ’فٹبال کی تاریخ کے مکمل کھلاڑی‘ جنھوں نے کھیل کے میدان سے باہر کاروباری سلطنت بھی قائم کیرونالڈو کی سعودی کلب میں شمولیت: ’انھیں ہر دن کے ساڑھے پانچ لاکھ یورو ملیں گے‘’شاور میں پش اپس، رات دو بجے برفیلے پانی میں نہانا۔۔۔‘ رونالڈو کی وہ خوبیاں جو انھیں ایک عظیم فٹبالر بناتی ہیںسعودی عرب نے رونالڈو پر کروڑوں ڈالرز کی بارش کیوں کی، کیا یہ محمد بن سلمان کے و‍ژن 2030 کا حصہ ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More