غزہ میں آٹھ ہزار انڈونیشین فوجی بھجوانے کی تیاری: ’انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس‘ کی تعیناتی میں کیا رکاوٹ ہے؟

بی بی سی اردو  |  Feb 11, 2026

انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں آٹھ ہزار تک کی تعداد میں فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ گذشتہ سال کے آخر میں امریکی ثالثی میں جنگ بندی کا جو معاہدہ طے پایا تھا، اس کے بعد انڈونیشیا غزہ میں فوج بھجوانے والا پہلا ملک بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی اور پاکستان جیسے دیگر مسلم ملک بھی اپنی فوجیں بھیجنے پر غور کر رہے ہیں لیکن انھوں نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف امن و امان قائم رکھیں گے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔

انڈونیشیا کی فوج کے سربراہ جنرل مارولی سیمانجنتک نے بتایا کہ فوجیوں کی تربیت پہلے ہی شروع کر دی گئی ہے اور وہ غزہ کی پٹی میں طب اور انجینیئرنگ کے شعبوں پر توجہ دیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ جس امن بورڈ کا اعلان کیا تھا، انڈونیشیا اس میں شامل ہے۔

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی جانب سے امن بورڈ کو ایک بین الاقوامی استحکام فورس بنانے کا اختیار حاصل ہے۔ ایسی فورس جو غزہ کے سرحدی علاقوں کو محفوظ بنائے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ اس علاقے کو غیر فوجی بھی بنائے۔

یہ بورڈ غزہ میں ٹیکنوکریٹس پر مبنی نئی فلسطینی حکومت اور جنگ کے بعد تعمیر نو کی بھی نگرانی کرے گا۔ اس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو واشنگٹن میں ہونا ہے۔

ابھی تک یہ طے نہیں ہوا کہ انڈونیشیا کی فوجیں غزہ میں تعینات کب کی جائیں گی اور ان کا اصل کردار کیا ہو گا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے یہ فیصلہ ضرور کر لیا ہے کہ ان کے ملک کی فوج غزہ جائے گی۔

ٹرمپ کے امن بورڈ میں شامل ہونے کے فیصلے پر انڈونیشیا کی بعض اسلامی تنظیموں نے تنقید کی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری میں امریکی کردار پر انڈونیشیا کی عوام میں غصہ پایا جاتا ہے۔

تاہم پرابوو نے دلیل دی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی مسلم قوم ہونے کے ناطے انڈونیشیا کو غزہ کے استحکام میں مدد کرنی چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انڈونیشیا کی شمولیت اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی کوشش کا حصہ ہو گی۔

اسرائیل کے نشریاتی ادارے کان نے رپورٹ کیا ہے کہ جنوبی غزہ میں رفح اور خان یونس کے درمیان ایک علاقہ پہلے ہی انڈونیشیا کی فوج کے لیے مختص کر دیا گیا ہے تاکہ ہزاروں فوجیوں کی رہائش کے لیے عمارات (بیرکیں) بنائی جا سکیں۔

لیکن چونکہ حماس ہتھیار ڈالنے سے انکار کر رہی ہے اور اسرائیل بھی ابھی تک غزہ کے کچھ حصوں پر قابض ہے، اس لیے ابھی تک وہ حقیقی امن قائم ہی نہیں ہوا جسے بین الاقوامی استحکام فورس نے برقرار رکھنا ہے۔

اسرائیل اور حماس کی جانب سے امریکہ کے غزہ امن منصوبے پر متفق ہونے کے بعد یہ اُمید پیدا ہوئی تھی کہ یہ غزہ میں لڑائی کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار کرے گا۔ لیکن غزہ اب بھی عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے۔ آبادی کا بڑا حصہ اب بھی بے گھر ہے۔

صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لیے اسرائیل اور حماس، دونوں کے سامنے مشکل راستے ہیں۔

حماس کو ہتھیار ڈالنے کا مشکل فیصلہ کرنا ہے جبکہ اسرائیل کو غزہ سے اپنی فوجیں نکالنی ہیں اور اس کی سکیورٹی کی ذمہ داری ’انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس‘ کے سپرد کرنی ہے۔

غزہ کے بحران کو کاروبار میں بدلنے والا نوجوان جو ’ٹیپ کے بغیر‘ نوٹ مرمت کر لیتا ہےدو سالہ جنگ، زیرِ زمین سرنگوں کا جال اور بکھری ہوئیقیادت: کیا غزہ پر آہنی گرفت رکھنے والی حماس واقعی اقتدار چھوڑ دے گی؟اسرائیل کی وہ پالیسیاں جو غزہ میں ’انسانوں کے پیدا کردہ‘ قحط کا باعث بنیں’مکمل تباہی اور ملبے کا ڈھیر‘: جنگ کے دو سال بعد بی بی سی نے غزہ میں کیا دیکھا؟حماس کو غیر مسلح کون کرے گا؟

حماس کو غیر مسلح کرنے کا ایسا طریقہ جو فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو، ایسا نکتہ ہے جسے ماہرین جنگ بندی معاہدے کو برقرار رکھنے اور دوسرے مرحلے کے لیے پیش رفت میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔

دسمبر میں شائع ہونے والی ایک بی بی سی رپورٹ کے مطابق عبرانی زبان کے اسرائیلی اخبار ’اسرائیل ہایوم‘نے کہا تھا کہ ترکی انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) کا حصہ بننے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔

اسرائیلی اخبار میں گشائع ہونے والے مضمون میں کہا گیا تھا کہ نتن یاہو اس معاملے میں دوٹوک موقف رکھتے ہیں کہ ترکی کو اس فورس میں شامل نہیں ہونے دیا جائے گا اور امریکہ بھی اسرائیل کے اس موقف کے ساتھ ہے۔

اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کے تقریباً 53 فیصد حصے پر اپنا کنٹرول رکھتی ہے۔

جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیلی فوج، شمالی، جنوبی اور مشرقی غزہ کی سرحدوں تک پیچھے ہٹ گئی ہے۔ یہ تقسیم ’بلیو لائن‘ کے نام سے مشہور ہو گئی ہے۔

BBC

دوسرے مرحلے میں تعمیر نو اور بین الاقوامی نگرانی کے انتظامات پر باہمی معاہدے کی ضرورت ہے۔

ان معاملات کو اسرائیل میں بہت حساس سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کا تعلق غزہ سے ملحقہ اسرائیلی قصبوں کی سکیورٹی سے ہے۔ جبکہ مستقبل میں غزہ اور مصر کی سرحد پرموجود زمین کا ایک تنگ سا ٹکڑا ’فلاڈیلفی کوریڈور‘ اور رفح کراسنگ بھی اسرائیل کے لیے اہم ہے۔

اسرائیل کے ملٹری آپریشن ڈائریکٹوریٹ کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل اسرائیل زیو کہتے ہیں کہ حماس اور اسرائیل دونوں دوسرے مرحلے میں تیزی سے آگے بڑھنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ حماس، غزہ میں اپنا کنٹرول نہیں کھونا چاہتی جبکہ اسرائیل بھی سیاسی وجوہات کی بنا پر غزہ میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنی عوام کو نہیں بتانا چاہتے کہ اسرائیل، غزہ سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔

جنرل زیو کہتے ہیں کہ ٹرمپ وہ واحد شخص ہیں، جو فریقین کو آگے بڑھنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ لیکن وقت بہت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس عمل میں مزید تاخیر سے یہ موقع ہاتھ سے نکل سکتا ہے، کیونکہ حماس دوبارہ منظم ہو رہی ہے اور اس کی طاقت واپس آ رہی ہے۔

حماس کے بعد غزہ پر حکومت کون کرے گا؟AFP via Getty Images

غزہ میں حماس کے بعد بننے والی مجوزہ عبوری حکومت کی قیادت کون کرے گا؟ یہ بھی جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا بڑا چیلنج ہے۔

حالانکہ اس حوالے سے تجویز یہ ہے کہ غزہ میں ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی حکومت قائم کی جائے، جو حماس اور فلسطینی اتھارٹی سے الگ ہو۔ لیکن اسرائیل کو اعتراض ہے کہ دونوں گروپس کے نمائندوں کو اس حکومت میں شامل ہونے سے روکنا ناممکن ہو گا۔

اسرائیلی حکومت کو تشویش ہے کہ اس سے حماس کو حکومتی اداروں میں دوبارہ اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی اجازت مل جائے گی جبکہ فلسطینی اتھارٹی کی بھی غزہ میں واپسی ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا ماضی میں غزہ میں کنٹرول رہا ہے، لیکن سنہ 2007 میں حماس کے یہاں اقتدار میں آنے کے بعد، فلسطینی اتھارٹی کے پاس اب صرف مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں کا کنٹرول ہے۔

نتن یاہو کی حکومت حماس اور فلسطینی اتھارٹی، دونوں کے غزہ میں کسی کردار کی مخالفت کر چکی ہے اور اس کے بجائے ایک ’غیرجانب دار فلسطینی ادارے‘ کی غزہ میں حکومت کا مطالبہ کر رہی ہے۔

’مکمل تباہی اور ملبے کا ڈھیر‘: جنگ کے دو سال بعد بی بی سی نے غزہ میں کیا دیکھا؟غزہ امن معاہدے سے جڑی اُمیدیں اور خدشات: کیا نتن یاہو یرغمالیوں کی واپسی کے بعد دوبارہ جنگ شروع کر سکتے ہیں؟اسرائیل سے موصول ہونے والی فلسطینیوں کی 95 مسخ شدہ نامعلوم لاشوں کا معمہ: ’بعض کو جلایا گیا، کچھ کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا‘ٹرمپ کا غزہ میں جنگ بندی کا مجوزہ منصوبہ: کیا آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر سکتا ہے؟ غزہ کی پٹی: ’دنیا کی سب سے بڑی کُھلی جیل‘ جس پر سکندر اعظم سے لے کر سلطنتِ عثمانیہ تک نے حکومت کیٹرمپ کا غزہ میں جنگ بندی کا مجوزہ منصوبہ: کیا آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر سکتا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More