ملاکنڈ ڈویژن کا انتظام فوج سے لے کر صوبائی انتظامیہ کو دینے کے فیصلے کا خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر کیا اثر پڑے گا؟

بی بی سی اردو  |  Feb 11, 2026

ملاکنڈ ڈویژن ایک طویل عرصے تک شورش اور عسکریت پسندی کا مرکز رہا ہے لیکن اب بظاہر ایک تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس حساس خطے کا کنٹرول مرحلہ وار طریقے سے پاکستانی فوج سے لے کر پولیس اور دیگر صوبائی سول اداروں کے حوالے کیا جائے۔

پاکستان کے اس اہم شمالی علاقے میں عوامی سطح کی ریلیوں میں کئی بار یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ اس علاقے کا کنٹرولفوج سے واپس لیا جائے اور پولیس کو اختیارات دیے جائیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پولیس اور دیگر سول اداروں میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ شدت پسندی کا مقابلہ کر سکیں؟

پشاور میں گذشتہ روز ایک اعلی سطح کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر اہم فیصلے کیے گئے اور اس اجلاس کو بھی کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس میں کچھ فیصلے ایسے نظر آئے ہیں جن سے ایک خوشگوار تبدیلی محسوس ہوتی نظر آئی، ان میں سے ایک پی ایس ایل کے میچز پشاور میں منعقد کرانا ہے۔

اس کا ذکر بعد میں کریں گے، پہلے ملاکنڈ ڈویژن سے متعلق فیصلے پر غور کرتے ہیں اور تجزیہ کاروں سے معلوم کرتے ہیں کہ یہ کیا فیصلہ ہوا ہے اور اس کے علاقے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی معلوم کریں گے کہ کیا ملاکنڈ ڈویژن میں مکمل امن قائم ہو گیا ہے اور کیا پولیس اور دیگر سول اداروں میں اتنی صلاحیت اور وسائل موجود ہیں کہ یہاں وہ مسلح شدت پسندوں کا مقابلہ کر سکیں۔

اعلامیے میں کیا کہا گیا ہے؟

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے سیکریٹیریٹ سے جاری ہونے والے اعلامیے میں ان فیصلوں کا سرسری ذکر کیا گیا ہے اور اس بارے میں مزید تفصیل اب تک فراہم نہیں کی گئی۔ اس کے بعد صوبائی حکومت میں شامل ایک وزیر اور دو مشیروں کا ایک ویڈیو بیان جاری ہوا جس میں ان فیصلوں کے بارے میں بتایا گیا۔

اس اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ محسن نقوی، صوبائی حکومت کی جانب سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، کور کمانڈر الیون کور عمر احمد بخاری اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔

اس اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، جس کے چیدہ چیدہ نکات میں ایک تو پشاور کے سٹیڈیم میں اس سال پی ایس ایل کی میچز کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملاکنڈ ڈویژن میں پاک فوج اپنی ذمہ داریاں صوبائی پولیس، سی ٹی ڈی اورصوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرے گی اور اس ماڈل کو پھر خیبر اور کرم کے علاقوں میں نافذ کیا جائے گا۔

اس کے علاوہوزیر اعلیٰ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لے گی اور امنو امان کے قیام کے لیے اقدامات کو دیکھے گی۔

اس اجلاس کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا ہے کہ یہ اس علاقے کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں پاکستانی فوج اپنی ذمہ داریاں صوبائی پولیس، سی ٹی ڈی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرے گی اور امن کی بحالی صوبائی حکومت، سول انتظامیہ اور عسکری قیادت کی بڑی کامیابی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس بارے میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سٹیک ہولڈرز اور قبائلی مشران کا اجلاس بلا کر انھیں اعتماد میں لیا جائے گا۔

ان کے مطابق سول اور عسکری قیادت سیاسی و مذہبی سٹیک ہولڈرز اور قبائلی مشران کی سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہصوبائی ایپکس کمیٹی میں طے پانے والے فیصلوں کو نیشنل ایپکس کمیٹی سے قبل یقینی بنایا جائے گا اور نیشنل ایپکس کمیٹی میں صوبائی فیصلوں کی توثیق کی جائے گی۔

اس بارے میں بی بی سی اردو نے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات شفیع جان سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ اس پر عمل درآمد کب تک ہو سکے گا تو ان کا کہنا تھا اس نکتے پر غور و خوض کے لیے ابھی مزید اجلاس ہوں گے۔

سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو گذشتہ چند ہفتوں کے دوران وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان رابطے شروع ہوئے ہیں اور ان میں کافی پیش رفت دیکھی جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد سہیل آفریدی نے اپنے مرکزی قائدین سے ملاقات کی تھی اور پشاور میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس بھی منعقد کیے تھے۔

پاکستان میں 8 فروری کے احتجاج میں وزیر اعلیٰ کی شرکت نہ کرنا اور یہ احتجاج صرف اضلاع کی سطح پر ریلیوں تک محدود رکھنا بھی وفاق کے ساتھ اعتماد سازی کی کوششیں ہو سکتی ہیں۔

مقامی لوگ کیا کہتے ہیں؟Getty Imagesفوجی آپریشنز کی وجہ سے ملاکنڈ کے عوام کو ماضی نقل مکانی جیسی مشکلات سے بھی گزرنا پڑا (فائل فوٹو)

اس بارے میں مقامی سطح پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے ان شمالی علاقہ جات میں لگ بھگ کوئی تین ساڑھے تین سال پہلے جب طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے گئے اور ایسی اطلاعات آئیں کہ مسلح شدت پسند پاکستان میں داخل ہو گئے ہیں تو اس پر مقامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔

اس سلسلے میں چند ایک تشدد کے واقعات مٹہ اور قریبی علاقوں میں پیش آئے, جس پر عوامی رد عمل شدید تھا اور سوات کے علاوہ دیگر علاقوں میں متعدد عوامی پاسون کے نام سے بڑی ریلیاں دیکھی گئی تھیں اور لوگوں نے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مزید بد امنی نہیں چاہتے بلکہ اب وہ صرف اپنے علاقے میں امن چاہتے ہیں۔

سوات سے تعلق رکھنے والے صحافی عدنان باچا نے بتایا کہ ان علاقوں میں فوجی آپریشنز کیے گئے تھے اور یہاں شدت پسندوں کی موجودگی کی وجہ سے چوکیوں اور مختلف مقامات پر فوجی تعینات تھے اور فوجی لوگوں کے آنے جانے پر چیکنگ کیا کرتے تھے جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا بھی رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب علاقے میں امن قائم ہو گیا تھا تو لوگوں نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ یہ چوکیاں اور ناکے پولیس کے حوالے کیے جائیں۔ اب ایک مرتبہ پھر جب علاقے میں تشدد کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے اگرچہ بعض علاقوں میں کبھی کبھار تشدد کے واقعات پیش آتے ہیں لیکن حالات اتنے کشیدہ نہیں ہیں کہ چوکیوں پر فوجی تعینات ہوں بلکہ پولیس اب یہ ڈیوٹی بہتر طریقے سے سر انجام دے سکتی ہے۔

اس بارے میں سینیئر صحافی علی اکبر کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں فوج پہلے ہی سے اس علاقے میں اختیارات سول انتطامیہ کے پاس ہیں۔

’فوج تو اب بیشتر علاقوں میں چوکیوں یا ناکوں پر نہیں ہوتی اور اب جب کبھی ضرورت ہوتی ہے تو فوج کو طلب کر لیا جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب اجلاس میں صوبائی حکومت سے کہا گیا ہے کہ اب اگر دیگر علاقوں میں بھی حالات بہتر ہوتے ہیں تو وہاں بھی ملاکنڈ کی طرح اختیارات سول اداروں کے حوالے کیے جا سکتے ہیں۔

ملاکنڈ کے کشیدہ حالاتGetty Images

اس بارے میں مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکا تو اس کے اثرات مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔

ملاکنڈ ڈویژن اس علاقے کے نو اضلاع پر مشتمل ہے، جن میں سوات، بونیر، لوئر دیر، اپر دیر، باجوڑ، شانگلہ، اپر چترال، لوئر چترال اور باجوڑ شامل ہیں۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ علاقہ سر سبز پہاڑوں اور دریاؤں پر مشتمل ہے اور یہ شمالی علاقہ جات کا گیٹ وے سمجھا جاتا ہے۔

سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا اختر علی شاہ کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں شدت پسندی کے واقعات سنہ 2004 سے شروع ہو گئے تھے، جب پیو چار کے مقام پر واقعات پیش آئے تھے حالانکہ اس وقت ابھی ٹی ٹی پی قائم نہی ہوئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’اس کے بعد یہ سلسلہ چل پڑا تھا، سنہ 2007 کے بعد جب تحریک طالبان پاکستان نے اپنی کارروائیاں تیز کی تھی تو یہاں بڑے فوجی آپرشن کیے گئے تھے۔‘

خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے خلاف پہلا بڑا آپریشن سوات میں کیا گیا تھا، جس کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی تھی۔

ٹی ٹی پی کے میڈیا چینلز پر خاموشی: تحریکِ لبیک پاکستان فورس سمیت پاکستان میں حالیہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے نئے گروہ کیا ہیں؟پشتون تحفظ موومنٹ کے نمائندے امن جرگے سے لاپتہ: ’جس نے بھی یہ کیا ہے اس نے ہماری پشتون روایات توڑی ہیں، وہ امن کا دشمن ہے‘ وانا کیڈٹ کالج میں 30 گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران کیا ہوا؟کیا پاکستان کی سکیورٹی صورتحال میں بہتری افغانستان میں طالبان حکومت کی مدد کے بغیر ممکن نہیں؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار لحاظ علی کا کہنا ہے اگرچہ ان علاقوںمیں تشدد کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ اس علاقے سے شدت پسند تنظیموں کا وجود ختم کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی نظر سے انسداد داہشت گردی کے محکمے کی ایک رپورٹ گزری ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ان علاقوں میں چار سو سے پانچ سو سخت گیر شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں جو یہاں علاقے بدلتے رہتے ہیں۔

یہ شدت پسند باجوڑ دیر اور بعض اوقات چترال تک بھی چلے جاتے ہیں۔ لحاظ علی کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن کے پانچ اضلاع تو ایسے ہیں جن کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔

اختر علی شاہ کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کی روک تھام میں انٹیلیجنس روابط انتہائی ضروری ہیں اور اس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کا کردار اہم رہا ہے۔

’چونکہ یہ مقابلہ متعدد محاذ پر ہوتا ہے جن میں ایک تو مسلح شدت پسندوں سے لڑنا ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی محاذ ہوتے ہیں جیسے دہشت گردی کے لیے فنڈنگ، اس کے تانے بانے سرحد پار ہوتے ہیں، ان میں قدرتی آفات کا سامنا بھی ہوتا ہے جس کے لیے فوج کو طلب کیا جاتا ہے۔‘

Getty Imagesپولیس کی صلاحیت

موجودہ حکومت نے پولیس میں بھرتیوں، ان کی صلاحیت میں اضافے کے لیے ان کی تربیت، انھیں وسائل فراہم کرنے اور جدید اسلحے کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس کے اہلکار اس مٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور مقامی زبان، جغرافیہ اور لوگوں کو پہچانتے ہیں اور ان کا عوامی رابطہ فوج سے بہتر ہے اور یہ ہیومن انٹیلیجنس کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے انسداد دہشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی کی فنڈنگ میں اضافے کے ساتھ ساتھ جدید اسلحہ اور وسائل فراہم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ سی ٹی ڈی نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر متعدد آپریشنز بھی کیے ہیں۔

حالیہ دنوں میں مسلح شدت پسندوں کی مختلف علاقوں میں کارروائیاں دیکھی گئی ہیں جہاں ان کی جانب سے امریکی اسلحے کے استعمال کی اطلاعات بھی ہیں، جبکہ ڈرون حملے بھی کیے گئے ہیں۔

ایسے میں اس طرح کی کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے مزید تربیت، نفری میں اضافے اور وسائل کی فراہمی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

سابق آئی پولیس اختر علی شاہ سے جب پوچھا کہ کیا پولیس کے پاس اتنے وسائل اور صلاحیت ہے کہ وہ ان علاقوں میں اب کنٹرول سنبھال سکے گی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ پولیس یا سی ٹی ڈی کے پاس صلاحیت نہیں ہے بلکہ یہ بہتر ہیں لیکن ان کی صلاحیت فوج کے برابر نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ مسلح شدت پسندوں سے مقابلہ کرنا اور عام کسی جرائم پیشہ گروہ سے مقابلہ کرنا دونوں مختلف ہوتے ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ شدت پسند جو اس وقت جدید اسلحے سے لیس ہیں اور انھیں سرحد کے اس پار سے حمایت حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس میں انٹیلیجنس کی صلاحیت اہم ہے، اسی طرح وسائل کا ہونا ضروری ہے اور تکنیکی قابلیت یا اس کے لیے مہارت ہونا ضرور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہونا چاہیے کہ سامنے یا فرنٹ پر پولیس اور سول ادارے ہوں اور ان کے لیے فوج ہر دم تیار وہاں موجود رہے جہاں اگر ضرورت پڑے تو فوج فوری طور پر سول اداروں کی مدد کو پہنچ سکے۔

خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کیسے ختم ہو گی؟ مسئلے کا حل فوجی آپریشن یا مذاکرات؟تیراہ سے نقل مکانی کی وجہ مبینہ فوجی آپریشن یا سرد موسم، گھر بار چھوڑنے والے لوگ کیا کہتے ہیںشدت پسندی کے معاملے پر فوج کے ترجمان اور تحریک انصاف کی ایک دوسرے پر کڑی تنقید پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟وادی تیراہ میں متوقع فوجی آپریشن، نقل مکانی اور سہیل آفریدی کا گلہ’نامناسب رویہ‘ اور مہمان نوازی نہ ہونے کا شکوہ: کیا وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کے دورہ لاہور سے سیاسی تلخی مزید بڑھ گئی؟’اینٹی ڈرون اسلحہ سٹور میں محفوظ ہے‘: پاکستان میں تیار کردہ جیمنگ گن کی شدت پسندوں کے ہاتھ لگنے کی افواہ اور خیبر پختونخوا پولیس کی وضاحت
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More