’میرا نام محمد دیپک ہے۔‘
ان پانچ الفاظ کے ذریعے ایک ہندو شخص، ایک بزرگ مسلمان دکاندار کی حمایت میں سامنے آیا تو انڈیا میں اسے ایک ہیرو کے طور پر پہچانا جانے لگا۔
دیپک کمار کو اب سیکولر انڈیا کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور وہ اب انڈیا میں ’متنوع سماج کے ایک پوسٹر بوائے‘ کے طور پر مشہور ہو رہے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی انھیں انتہا پسند ہندو کمیونٹی کی جانب سے غدار بھی قرار دیا جا رہا ہے اور انھیں دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔
وہ واقعہ جس نے اُنھیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا 26 جنوری کا ہے جب انڈین ریاست اتراکھنڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے کوٹ دوار کا ہے اور اس کی وائرل ویڈیو کو انڈین اخبارات اور چینلز نے شہ سرخیوں میں جگہ دی۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جم کا مالک 42 سالہ دیپک کمار ہندو تنظیم بجرنگ دل کے مشتعل کارکنوں سے مکالمہ کر رہے ہیں۔ اس ہندو تنظیم سے متعلق آئے روز مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔
دیپک کہتے ہیں کہ وہ اپنے دوست کی دکان پر بیٹھے جب اُنھوں نے دیکھا کہ قریب ہی ’بابا سکول ڈریس اینڈ میچنگ سینٹر‘ نامی دکان کے بزرگ مالک وکیل احمد پر کچھ لوگ تشدد کر رہے ہیں۔
دیپک کے بقول یہ لوگ وکیل احمد سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ اپنی 30 سال پرانی دکان کے نام سے لفظ ’بابا‘ ہٹا دیں۔
بابا انڈیا کے مذاہب بشمول ہندو اور مسلمانوں میں اپنے باپ، دادا کا حوالہ دینے کے لیے عام طور پر استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔
لیکن بجرنگ دل کے کارکنوں کا اصرار تھا کہ کوٹ دوار میں بابا صرف سدھا بلی بابا کا حوالہ ہو سکتا ہے۔ یہ ہندو دیوتا ہنومان کا ایک مقامی مندر ہے اور کسی مسلمان کے پاس اس نام کو استعمال کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
احمد کے بیٹے بجرنگ دل کے کارکنوں سے یہ التجا کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے انھیں مزید وقت دیا جائے۔اسی دوران دیپک اُس جگہ پر پہنچتے ہیں تو دکان کے سامنے لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔
دیپک نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو اُنھوں نے کہا کہ ’کیا مسلمان انڈیا کے شہری نہیں ہے۔‘
دیپک کا کہنا تھا کہ ان کی مداخلت بے ساختہ تھی اور کسی حکمت عملی کا حصہ نہیں تھی۔
’مجھے یہ نوجوان کسی بزرگ کے ساتھ اتنی بدتمیزی سے بات کرتے اچھے نہیں لگے۔ وہ اُنھیں صرف اُن کے مذہب کی وجہ سے نشانہ بنا رہے تھے۔ وہ مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔‘
59 سالہ وکیل احمد کہتے ہیں کہ ’یہ کہنا مشکل ہے کہ اگر دیپک وہاں نہ ہوتے تو کیا ہوتا۔ ہم خوفزدہ تھے۔ وہ اپنی بات کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے تھے۔‘
اس دھکم پیل کے دوران بجرنگ دل کے کارکنوں نے دیپک سے اُن کا نام پوچھا۔
دیپک کہتے ہیں کہ ’اپنی شناخت محمد دیپک کے طور پر کرا کے میں انھیں بتانا چاہتا تھا کہ میں ایک ہندوستانی ہوں۔ یہ ہندوستان ہے اور ہر کسی کو یہاں رہنے کا حق ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔‘
انڈین ریاست بہار میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں نوجوان کا قتل، بھائی زخمی: ’میرے بیٹے کو مسلمان ہونے اور باڈی بنانے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا‘ٹرین میں ’گوشت لے جانے کا شبہ‘، معمر مسلم شہری پر تشدد: ’میں زندہ ہوں، کوئی غلط قدم نہ اٹھائے‘انڈیا میں بھینسیں لے جانے والے دو مسلمانوں کی مبینہ حملے میں ہلاکت: ’پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ لوگ ان کا پیچھا کر رہے ہیں‘انڈیا: گائے لے جانے والے مسلمان شہری کا قتل: ’اُس کی لاش ایک تھیلے میں لائی گئی‘
ہندو اور مسلمان نام کا یہ غیر معمولی امتزاج سن کر بجرنگ دل کے کارکن وہاں سے چلے گئے۔ لیکن کچھ روز بعد اس کے 150 سے زائد حامی دیپک کے جم کے باہر پہنچ گئے۔
احمد کی شکایت پر پولیس نے کچھ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ پولیس نے دو ہندو کارکنوں کی شکایت پر دیپک کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا۔
احتجاج اور پولیس کی کارروائی ان دنوں انڈیا میں موضوع بحث ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ہندو ہجوم کی طرف سے مسلمانوں پر بلااشتعال حملے معمول بن چکے ہیں۔ دیپک کے مشتعل ہجوم کے سامنے اس اقدام کو انڈیا میں بہادری اور دلیری کے ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے اُنھیں انڈیا کا ہیرو قرار دیا ہے جو آئین اور انسانیت کے لیے لڑ رہا ہے۔
ایکس پر اپنی پوسٹ میں راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ دیپک نفرت کے بازار میں محبت پھیلا رہا ہے۔ ہمیں دیپک کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے مزید دیپک چاہییں۔ جو نہ ڈرتے ہیں نہ جھکتے ہیں اور جو آئین کے ساتھ پوری طاقت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
انڈین ایکسپریس کے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ اس ویڈیو نے انڈیا کو بہت سے اُمیدیں فراہم کی ہیں۔
مضمون میں لکھا گیا ہے کہ ’دیپک کے الفاظ ایک ایسے معاشرے میں جو اکثر ایسا لگتا ہے کہ نفرت اور عدم رواداری کی لپیٹ میں آ گیا ہے، تازہ ہوا کا جھونکا ہیں ۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ یہ ’حقیقی ہندوستان ہے، جہاں ہر کسی کو اپنی مرضی کے مطابق جینے اور سانس لینے کا حق ہے، اور اپنی دکان کا نام جو چاہیں رکھیں۔‘
بہت سے دیگر افراد بھی دیپک کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سوشل میڈیا پر متحرک ہیں۔
بعض کا کہنا ہے کہ غنڈوں کے سامنے کھڑے ہونے پر وہ داد کے مستحق ہیں۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ اُن کا فون مسلسل بج رہا ہے، اُنھیں صحافی، تصویروں کے لیے لوگ اور دیگر افراد تلاش کر رہے ہیں۔ وہ اس وقت بہت اہم ہو گئے ہیں۔
انسٹا گرام پر دیپک کے فالورز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور 29 جنوری کو اُنھیں نے ایک ویڈیو شیئر کی جسے 50 لاکھ افراد نے لائیکس حاصل کیے۔
ویڈیو میں دیپک کہتے ہیں کہ ’میں ہندو نہیں ہوں، میں مسلمان نہیں ہوں، میں سکھ نہیں ہوں، میں مسیحی نہیں ہوں۔ سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں ایک انسان ہوں۔‘
دیپک اب راتوں رات ملنے والی اس بے پناہ شہرت کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک معمولی مداخلت اتنا بڑا ایشو بن جائے گی۔ میں نے بس وہی کیا جو مجھے درست لگا، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ معاملہ اتنا بڑا ہو جائے گا۔ لیکن اب یہ قومی خبر بن گئی ہے۔‘
لیکن اپنی اس بہادری کے اُنھیں نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کچھ لوگ دیپک پر تنقید کرتے ہوئے اُنھیں غدار بھی قرار دے رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر اُنھیں نفرت اور دھمکیوں کا بھی سامنا ہے۔ اُنھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی موصول ہوئی ہیں۔
بدھ کو اُنھوں نے ایکس پر ایک دھمکی آمیز فون کال کی ریکارڈنگ بھی پوسٹ کی، جس میں ایک شخص اُنھیں دھمکا رہا ہے کہ ’بجرنگ دل کو تمھیں نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ میں تمھیں بہت جلد سبق سکھاؤں گا۔‘
دیپک کہتے ہیں کہ اس سارے معاملے نے اُنھیں پریشان بھی کیا ہے اور وہ خوفزدہ ہیں اور میںشدید ذہنی دباؤ میں ہوں۔
اُن کا تیزی سے ترقی پاتا جم اب ویران ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے اُنھیں مالی مشکلات کا اندیشہ ہے۔ اُن کے بقول اس واقعے سے پہلے ہر روز 150 سے زائد لوگ ٹریننگ کے لیے اُن کے جم میں آتے تھے۔ لیکن اب یہ تعداد کم ہو کر صرف 15 رہ گئی ہے۔ اُن کے بقول بہت سے لوگ خوفزدہ ہونے کی وجہ سے یہاں نہیں آ رہے۔
گذشتہ ہفتے کے آخر میں اپوزیشن کے رُکن پارلیمنٹ جان برٹاس دیپک کے گھر آئیں اور اُنھیں ’ہندوتوا اور فرقہ پرستی کے خلاف جدوجہد میں اُمید کی کرن‘ قرار دیا۔
جان برٹاس نے کہا کہ میں نے دیپک کے جم کی رُکنیت لی ہے، جو اب فرقہ پرست عناصر کی دھمکیوں کی وجہ سے ویران ہے۔
جیسے ہی دیپک کی مالی پریشانیوں کی خبر پھیلی تو انڈیا بھر سے لوگوں نے اُن کے جم کی رُکنیت کی پیشکش کی۔ جوئے داس نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ہم ایک اچھے آدمی کو کھونے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
دھمکیوں اور پریشانیوں کے باوجود، دیپک کا کہنا ہے کہ اگر انھیں مستقبل میں ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ پھر بھی اس کے خلاف کھڑے ہوں گے جو غلط ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ہم آج خاموش رہے تو کل ہمارے بچے بھی یہی خاموشی سیکھیں گے۔‘
’ہندو تہوار انڈیا کے مسلمانوں کے لیے ڈراؤنا خواب بن گئے ہیں‘’مسلمانوں کی آبادی 18 فیصد مگر کوئی رہنما نہیں۔۔۔‘ انڈیا کو قومی سطح پر کوئی مسلم رہنما کیوں نہ مل سکا؟انڈیا میں رہنے والے مسلمان بچے کیسا محسوس کرتے ہیں؟انڈیا میں بھینسیں لے جانے والے دو مسلمانوں کی مبینہ حملے میں ہلاکت: ’پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ لوگ ان کا پیچھا کر رہے ہیں‘انڈیا: کیا ’گاؤ رکشکوں‘ کے ہاتھوں زندہ جلائے جانے والے جنید اور ناصر بچ سکتے تھے؟انڈیا میں گائے کے گوشت پر قتل، 11 افراد کو عمر قید