Getty Imagesصاحبزادہ فرحان نے نمیبیا کے خلاف میچ میں سینچری سکور کی
باریک بینی عموماً ایک خوبی سمجھی جاتی ہے مگر جب اِسی خوبی پر ضرورت سے زیادہ دھیان دیا جائے تو بڑی تصویر ہی نظر سے اوجھل ہونے لگتی ہے۔ کیونکہ جب سارا ارتکاز ایک، ایک گیند کی پلاننگ میں جھونک دیا جاتا ہے تو توجہ پورے میچ کی مکمل تصویر سے ہٹ کر ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے۔
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ اکثر مائیکرو مینیجمینٹ کے تحت کھیلی جاتی ہے جہاں چھوٹے چھوٹے منظرنامے جُڑ کر ایک سٹریٹیجی کو پورا کرتے ہیں، مثلاً بلے باز اگر دائیں ہاتھ کا ہوا تو ہی لیگ سپنر آئے گا ورنہ احتراز برتا جائے گا یا پچ اگر بیٹنگ فرینڈلی ہو تو فاسٹ بولر کے بجائے میڈیم پیس سے اٹیک بہتر رہے گا وغیرہ وغیر۔
ٹکڑوں میں بٹے اس کھیل میں دقت عموماً تب پیش آتی ہے جب ’زمینی‘ حقائق اس فارمیٹ کی عمومی شناخت یعنی چھکوں چوکوں کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں اور پچ گیند کی رفتار گھٹانے لگتی ہے۔ جہاں ایسی پچز سامنے آ جائیں، وہاں اکثر لگے بندھے فارمولے ناکام ہو جاتے ہیں اور کچھ ہٹ کے سوچنا پڑتا ہے۔
مثلاً پاکستان کے خلاف میدان میں اُترنے سے پہلے انڈین بلے باز بخوبی آگاہ تھے کہ حریف سپنرز اُن کی پسندیدہ بیٹنگ اپروچ کے لیے امتحان ثابت ہوں گے۔ سو، ایشان کشن اس خطرے کے جواب میں اپنی سٹریٹیجی لے کر آئے جہاں انھوں نے آف سٹمپ کے باہر جاتی گیندوں پر ایسے ’اختراعی‘ شاٹس کھیلے کہ پاکستانی سپنرز فوراً انھیں ان کے فیورٹ زون میں گیند ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔
Getty Imagesایشان کشن نے پاکستان کے خلاف آف سٹمپ کے باہر جاتی گیندوں پہ ایسے ’اختراعی‘ شاٹس کھیلے کہ پاکستانی سپنرز فوراً انھیں ان کے فیورٹ زون میں گیند ڈالنے پہ مجبور ہو گئے۔
نہ صرف کشن نے پاکستانی سپنرز کو اپنے اہداف سے بھٹکایا بلکہ اپنی اننگز کو بھی اس طرح سے آگے بڑھایا کہ بالآخر باقی بلے بازوں کی کوتاہیوں کے ازالے کو کافی ہو رہی۔
نمیبیا کا بھلے پاکستان سے کوئی مقابلہ ہی نہ ہو مگر پچھلے تین آئی سی سی ایونٹس میں جو صدمے پاکستانی شائقین جھیل چکے ہیں، اُن کی بدولت یہاں دھڑکنیں صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ امریکی شائقین کی بھی تیز تھیں کہ شاید کوئی اپ سیٹ اُن کی ٹیم کو ایک بار پھر ورلڈ کپ کے سپر ایٹ راؤنڈ تک لے جائے۔
جب میچ ایسی کسی نہج پر کھڑا ہو تو وہاں کھلاڑیوں کو اپنی روٹین سٹریٹیجی سے باہر نکل کر سوچنے کی ضرورت رہتی ہے۔
پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں داخل، سابق کرکٹرز کی تنقید پر شاداب خان کا جوابپاکستان بمقابلہ انڈیا: ’سوال پانچ سو ملین ڈالر کا‘’سلمان آغا مشکل کو ممکن میں بدل سکتے ہیں‘’ایسا لگتا ہے ان پر ربڑ کی تہہ چڑھی ہو‘: انڈین کرکٹرز کے بیٹ پر سری لنکن کھلاڑی کا بیان اور پھر وضاحت
صاحبزادہ فرحان نے بہت جلد بھانپ لیا کہ یہ پچ انھیں رنز تو دے گی مگر پہلے ہی ہلے میں ایسا نہ ہو پائے گا۔ سنہالیز سپورٹس کلب کولمبو کی یہ پچ اس نوعیت کی تھی جہاں بلے بازوں کو وقت گزارنے کی ضرورت تھی اور گیند کو میرٹ پر کھیلا جاتا تو رنز بھی خاصے موجود تھے۔
صائم ایوب جب گیند کو میرٹ پر کھیلنے کی بجائے اپنے طے شدہ پلان کی بھینٹ چڑھ گئے تو صاحبزادہ فرحان اپنی اننگز میں ٹھہراؤ لے آئے اور سٹرائیک ریٹ سے آگے بڑھ کر اپنی ٹیم کے لیے میچ کو بڑھانے لگے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر اننگز کے آخری اوور تک وہ کریز پر رکنے میں کامیاب رہے تو پاکستان کی سپر ایٹ کوالیفکیشن یقینی ہو سکتی ہے۔
AFP via Getty Imagesصاحبزادہ فرحان جانتے تھے کہ اگر اننگز کے آخری اوور تک وہ کریز پہ رکنے میں کامیاب رہے تو پاکستان کی سپر ایٹ کوالیفکیشن یقینی ہو سکتی ہے۔
باریک بینی کی بجائے یہاں سلمان آغا نے نہ صرف ٹاس پر درست فیصلہ کیا بلکہ پاور پلے میں بھی صاحبزادہ فرحان کا ہاتھ بٹایا۔ مڈل آرڈر پر لگے دھبوں کو شاداب خان نے دھونے کی کوشش کی۔ بابر اعظم کے بغیر میدان میں اُترنے کا فیصلہ اگرچہ تشنہ ہی رہا مگر اُن کے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی بہرحال پاکستان کے لیے نفع بخش ٹھہری۔
نہ صرف صاحبزادہ فرحان نے ورلڈ کپ سینچری کا یادگار اعزاز اپنے نام کیا بلکہ اپنی اننگز کی چال سے اپنے ساتھی بلے بازوں کو بھی سمجھا گئے کہ ایسی پچ پر اگر کسی کا بلا چل جائے تو پھر اسے اپنے جذبات کی بجائے ٹیم کے احساسات کا خیال رکھنا چاہیے اور میچ پر اپنی مہر گاڑ کے ہی پویلین لوٹنا چاہیے۔
AFP via Getty Imagesسلمان مرزا کی واپسی سے پاکستان کی وہ قوت بھی لوٹ آئی جو پچھلے دونوں میچز سے یکسر غائب تھی۔
سلمان مرزا کی واپسی سے پاکستان کی وہ قوت بھی لوٹ آئی جو پچھلے دونوں میچز سے یکسر غائب تھی۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پیسرز کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب وہ ہمہ وقت بلے باز سے ایک قدم آگے سوچنے کے قابل ہوں۔ مرزا کی خاصیت ہے کہ وہ بلے باز کا ذہن پڑھ کر عین آخری لمحے پر بھی اپنی لائن و لینتھ ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انڈیا سے شکست کے بعد سلمان آغا نے کہا تھا کہ اُن کی اگلی منزل صرف سپر ایٹ تک رسائی ہو گی اور جب پاکستان اگلے راؤنڈ میں پہنچ گیا تو یہ ایک ’نئی ٹیم‘ نظر آئے گی جو اپنے گروپ سٹیج ریکارڈ سے قطع نظر ٹرافی جیتنے کو پُرعزم ہو گی۔
پاکستان کے لیے صرف صاحبزادہ فرحان کی بیٹنگ ماسٹر کلاس ہی خوش آئند نہ تھی بلکہ جو مجموعہ ان کی اننگز نے پاکستان کو دیا، وہ بولنگ اٹیک کا بھی اعتماد بحال کر گیا۔
پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں داخل، سابق کرکٹرز کی تنقید پر شاداب خان کا جوابپاکستان بمقابلہ انڈیا: ’سوال پانچ سو ملین ڈالر کا‘عثمان طارق کا ’وقفہ‘، انڈین شائقین کرکٹ کی پریشانی اور ایشون کی وضاحت: ’یہ انڈیا کے خلاف ٹرمپ کارڈ ہو گا‘’ایسا لگتا ہے ان پر ربڑ کی تہہ چڑھی ہو‘: انڈین کرکٹرز کے بیٹ پر سری لنکن کھلاڑی کا بیان اور پھر وضاحتملتان سلطانز دو ارب 45 کروڑ میں فروخت، نیا نام’راولپنڈی‘ اور علی ترین کی مایوسی: ’آج ایک اور شخص نظام کے ہاتھوں ہار گیا‘رحمان اللہ گرباز پی ایس ایل سے دستبردار: ’ورلڈ کپ کے بعد افغانستان میں فلاحی کاموں پر توجہ دُوں گا‘ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور غیر ملکی ٹیموں کے لیے کھیلنے والے پاکستانی نژاد کرکٹرز: ٹیلنٹ پول کی نشاندہی یا کرکٹ کے نظام میں خرابی؟