’سخت جان اور سنجیدہ فائٹر‘ کا تذکرہ اور ’11 مہنگے طیاروں کی تباہی‘ پر شہباز شریف کی مسکراہٹ: غزہ امن بورڈ کے اجلاس کی روداد

بی بی سی اردو  |  Feb 20, 2026

’وزیر اعظم شریف۔۔۔ مجھے یہ آدمی پسند ہیں، میری اِن سے شناسائی اُس وقت ہوئی جب لڑائی (انڈیا، پاکستان) جاری تھی۔۔۔ اور آپ کے فیلڈ مارشل بہترین جنرل اور بہترین انسان ہیں۔۔۔ فیلڈ مارشل سخت جان اور اچھے فائٹر (جنگجو) ہیں، سخت جان، سنجیدہ فائٹر۔۔۔ اور درحقیقت مجھے اچھے فائٹرز پسند ہیں۔‘

گذشتہ شب واشنگٹن میں ہونے والے غزہ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس کے دوران امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب بورڈ کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی تو حاضرین میں موجود وزیر اعظم شہباز شریف کے چہرے پر ایک واضح مسکراہٹ تھی۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے تعریفی کلمات ادا کیے ہیں۔

گذشتہ چند ماہ کے دوران متعدد مواقع پر یہ کام کر چکے ہیں اور اس موقع پر وہ یہ بتانا بھی نہیں بھولتے کہ انھوں نے پاکستان اور انڈیا کی لڑائی کیسے رکوائی۔ تاہم ایک چیز جو مختلف ہوتی ہے وہ ان طیاروں کی تعداد ہے جو اُن کے بقول اس لڑائی کے دوران گرائے گئے۔ ابتدا میں یہ تعداد پانچ تھی مگر گذشتہ شب ٹرمپ نے بتایا کہ ’11 بہت مہنگے‘ جنگی جہاز گرائے گئے تھے۔

انھوں نے غزہ امن بورڈ کے اراکین کو یہ بھی بتایا کہ جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان لڑائی جاری تھی تو انھوں نے کیسے دونوں ممالک کے سربراہان کو فون کیا۔ ’بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ دونوں ملک نہیں لڑ رہے تھے لیکن یہ واقعی لڑ رہے تھے۔‘

اور پھر ٹرمپ نے دوبارہ بتایا کہ کیسے تجارت اور ٹیرف کو استعمال کرتے ہوئے انھوں نے اس جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا۔ ’میں نے کہا کہ اگر آپ دونوں نے لڑائی جاری رکھی تو میں آپ دونوں پر 200 فیصد ٹیرف عائد کر دوں گا۔ ان دونوں میں سے ایک (میں نہیں بتاؤں گا کہ کون) نے کہا کہ نہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔‘

ٹرمپ کی میزبانی میں ہونے والے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شہباز شریف بھی شامل: ’پاکستان اپنی سرخ لکیریں واضح کر چکا ہے‘غزہ میں آٹھ ہزار انڈونیشین فوجی بھجوانے کی تیاری: ’انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس‘ کی تعیناتی میں کیا رکاوٹ ہے؟ٹرمپ، شہباز سرگوشی، ترک وزیر خارجہ کے ساتھ ’خوشگوار لمحات‘ اور ’نئے غزہ‘ کی تصاویر: ڈیوس اجلاس کے وائرل لمحات اور ملاقاتیںٹرمپ کی نریندر مودی اور شہباز شریف کو بھی غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت، اسرائیل کا بورڈ میں شامل شخصیات پر اعتراض

امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا ’دونوں لڑنا چاہتے تھے لیکن جب بہت زیادہ پیسے کھونے کی بات آئی تو انھوں نے کہا کہ ہم نہیں لڑنا چاہتے۔‘

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’یہ دونوں بہت طاقتور ملک ہیں، دونوں کے پاس ایٹمی طاقت ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو بہت بری چیزیں ہوتی جن کے بارے میں بات نہیں کروں گا۔‘

غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس میں کیا ہوا؟Getty Images

واشنگٹن میں ہونے والے غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس میں پاکستان سمیت 47 ممالک کے نمائندے شریک ہوئے۔

اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شریک ممالک کے سربراہان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں خوش آمدید کہا۔

اس افتتاحی اجلاس میں غزہ کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلوں کا بھی اعلان کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے‘ کے تحت قائم کیے گئے اس بورڈ کو غزہ پر عبوری حکومتی اختیار دے دیا گیا۔ اس بورڈ کے مینڈیٹ میں تعمیرِ نو کی نگرانی، حماس کو غیر مسلح کرنا، غزہ کو شدت پسند اثر و رسوخ سے پاک غیر فوجی علاقہ بنانا اور عبوری مدت کے دوران انصاف اور ہنگامی اختیارات کی نگرانی شامل ہے۔

اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے والے کئی ممالک نے غزہ کے لیے ایک ’ریلیف پیکج‘ کی مد میں سات ارب ڈالر سے زائد رقم فراہم کی ہے۔ ٹرمپ نے بتایا کہ فنڈز دینے والے ممالک میں قازقستان، آزربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، سعودی عرب، ازبکستان اور کویت شامل ہیں۔

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ غزہ امن بورڈ کے لیے 10 ارب ڈالر دے گا تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ رقم کن مقاصد کے لیے استعمال ہو گی۔

اس کے علاوہ غزہ میں تعینات ہونے والی مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس کے متعلق بھی حاضرین کو آگاہ کیا گیا۔

استحکام فورس کے کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفرز نے اس موقع پر بتایا کہ انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسوو اور البانیہ نے غزہ استحکام فورس کے لیے ہزاروں فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ مصر اور اُردن نے غزہ پولیس کی تربیت کا وعدہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ ابتدائی طور پر یہ افواج رفح بھیجی جائیں گی جہاں آبادی زیادہ ہے اور امریکہ کو اُمید ہے کہ تعمیرِ نو کے منصوبوں کو وہیں مرکوز کیا جائے گا۔

استحکام فورس کے سربراہ میجر جنرل جاسپر جیفرز نے غزہ امن بورڈ کے اجلاس کے دوران بتایا کہ سکیورٹی منصوبوں کے تحت غزہ کے لیے 12 ہزار پولیس اہلکاروں اور 20 ہزار فوجیوں کی ضرورت ہو گی۔

غزہ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس کے لیے زیادہ تر ممالک نے اپنے اعلیٰ سطحی حکام کو بھیجا۔ انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو، ارجنٹینا کے صدر خاویر میلی اور ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی ۔

اگرچہ اہم یورپی ممالک جرمنی، اٹلی، ناروے، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ اس امن بورڈ کے رُکن نہیں ہیں، تاہم انھوں نے اس اجلاس میں بطور مبصر شرکت کی ہے۔

شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کیا کہا؟

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بند ہونا ضروری ہیں۔‘

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’غزہ کی تعمیر نو سے پہلے لوگوں کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کا مکمل حق ملے اور ان کے مستقبل کا تعین اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کیا جائے۔‘

’ان قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آنا چاہیے۔‘

اپنے خطاب میں پاکستانی وزیرِ اعظم نے امریکی صدر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کی کامیاب سفارت کاری کی وجہ سے دنیا بھر میں قیام امن کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے۔‘

’پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کے لیے ان کی بروقت اور موثر مداخلت کی وجہ سے کروڑوں جانیں بچی ہیں، صدر ٹرمپ نے حقیقی طور پر جنوبی ایشیا کو بڑی تباہی سے بچایا۔‘

اس تقریب کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کو بڑی پزیرائی ملی۔‘

’یہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی ہے کہ پاکستان کی دنیا بھر میں عزت ہو رہی ہے، پہلے پاکستان تنہائی کا شکار تھا لیکن اب ہرعالمی معاملے پر اہم کھلاڑی بن کر ابھر رہا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’جب قیادت ایماندار ہو تو اس کا نتیجہ ہمیشہ مثبت نکلتا ہے۔ وزیراعظم نے فلسطینیوں کا مقدمہ لڑا اور وزیراعظم ہر فورم پر فلسطین کی بات کرتے رہے ہیں۔‘

ٹرمپ، شہباز سرگوشی، ترک وزیر خارجہ کے ساتھ ’خوشگوار لمحات‘ اور ’نئے غزہ‘ کی تصاویر: ڈیوس اجلاس کے وائرل لمحات اور ملاقاتیںٹرمپ کی نریندر مودی اور شہباز شریف کو بھی غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت، اسرائیل کا بورڈ میں شامل شخصیات پر اعتراضپاکستان ٹرمپ کے’بورڈ آف پیس‘ میں شامل: رُکن ممالک کو کیا اختیارات حاصل ہوں گے؟غزہ میں آٹھ ہزار انڈونیشین فوجی بھجوانے کی تیاری: ’انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس‘ کی تعیناتی میں کیا رکاوٹ ہے؟ٹرمپ کی میزبانی میں ہونے والے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شہباز شریف بھی شامل: ’پاکستان اپنی سرخ لکیریں واضح کر چکا ہے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More