جنیوا میں 27 فروری کو شروع ہونے والے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61 ویں سالانہ اجلاس کے ایجنڈے میں افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری ہونے والا وہ قانون بھی شامل تھا جس کے بارے میں کونسل کے کمشنر وولکر ترک نے کہا ہے کہ ’افغانستان انسانی حقوق کا قبرستان‘ بن چکا ہے۔
اپنی دوسری مدت اقتدار کے چوتھے سال میں افغان طالبان حکومت نے ایک ’ضابطہ فوجداری‘ جاری کیا جسے ملک کے اندر اور باہر بہت سے لوگوں نے مبہم اور اس کے کچھ حصوں کو چونکا دینے والا مانا ہے۔
بی بی سی افغانستان کی فیکٹ فائنڈنگ سروس نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ قانون، جس کے بارے میں افغان طالبان حکام کا کہنا ہے کہ یہ مکمل طور پر فقہ حنفی کی سفارشات پر مبنی ہے، کیا ہے اور متنازع کیوں بن چکا ہے۔
واضح رہے کہ یہ ضابطہ فوجداری تین ابواب، دس حصوں اور 113 مضامین پر مشتمل ہے جس پر طالبان حکومت کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے دستخط کیے تھے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فوجداری قوانین افغانستان میں طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ’20 سالہ جنگ کے دوران‘ ہی لاگو کر دیے گئے تھے۔
یہ ضابطہ ججوں کو وسیع اختیارات دیتا ہے جن کی افغانستان کے پرانے عدالتی نظام میں مثال نہیں ملتی بشمول مجرم کے کردار اور سماجی حیثیت کی بنیاد پر سزا کا تعین کرنے کا اختیار۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اس ضابطے پر بڑے پیمانے پر تنقید کی ہے۔ یاد رہے کہ طالبان حکومت کی آمد کے ساتھ ہی افغانستان میں تمام سابق ججوں کو برطرف کر دیا گیا تھا اور ان کی جگہ طالبان حکومت کے اپنے ججوں کو تعینات کر دیا گیا تھا۔
حد اور سماجی حیثیت کی بنیاد پر سزا
کابل میں ایک سابق جج نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلامی فقہ میں ’حد‘ ان مقررہ اور متعین قانونی سزاؤں کو کہا جاتا ہے جو پہلے سے متعین ہیں اور انھیں تبدیل نہیں کیا جا سکتا ’جیسے زنا کی حد، غیبت کی حد (کسی پر بدکاری کا الزام لگانا یا الزام لگانا)، شراب پینے کی حد، اور چوری کرنے کی حد۔‘ ان سزاؤں کو ’حد‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کا شرعی طور پر تعین ہوتا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ان کی عدالتیں ’حد‘ اور ’حقوق العباد‘ کے معاملات میں تمام لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کریں گی لیکن ان دونوں قسم کے جرائم کے علاوہ تمام سزائیں قابل تعزیر سمجھی جاتی ہیں جن میں سزا حاکم یا جج کی رائے کے مطابق اور ملزم کے سماجی کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف ہوتی ہے۔
اس ضابطے کے آرٹیکل 4 میں کہا گیا ہے کہ حد، قصاص اور دیت کے اطلاق میں صرف جرم پر غور کیا جاتا ہے، مجرم کی شخصیت پر نہیں۔ تاہم، تعزیری سزاؤں میں ’مجرم کی شخصیت‘ کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
ضابطہ کے آرٹیکل 9 کے پہلے پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ مجرم کے انفرادی حالات کی بنیاد پر سزا کی درجہ بندی یوں کی جاتی ہے کہ:
علماء اور اعلیٰ عہدیداروں کی سزا: ان افراد کی سزا جج کی طرف سے تنبیہ ہے یعنی مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ فلاں فلاں کام کر رہے ہیں۔
شرفا کی سزا، جیسے کہ قبائلی رہنما اور تاجر: جج کی طرف سے مطلع کر کے عدالت میں طلب کیا جانا۔
معاشرے کے متوسط طبقے کی سزا: انھیں عدالت میں طلب کرکے قید کرنا۔
معاشرے کے نچلے طبقے کی سزا: دھمکی اور مار پیٹ کی سزا، یعنی کوڑے۔
افغانستان کے سابق اٹارنی جنرل محمد فرید حمیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ 100 سال میں افغانستان کے قوانین کی نظر میں تمام شہری برابر سمجھے جاتے تھے لیکن ’افغانستان کی پرانی قانون سازی کی روایت سے طالبان کا ضابطہ بالکل مختلف ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’قانون کے سامنے اس طرح کی تقسیم کی افغان قانون سازی کی عصری تاریخ میں کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ مقدس اسلام کی اقدار کے مطابق ہے۔‘
حمیدی کے مطابق ’پیغمبر اسلام اور خلیفہ اول کے دور میں لوگوں کی حیثیت، نسب، سماجی حیثیت اور دولت کی پرواہ کیے بغیر، انصاف کا یکساں اطلاق ہوتا تھا۔‘
افغان حنفی فقہ کے ایک سابق جج اور سکالر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’افغان طالبان کا ضابطہ قانون حنفی فقہ کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’فقہ حنفی میں تعزیر کو اجتہاد، مصلحت اور حاکم یا قاضی کی رائے پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور افراد کے درمیان اختلاف کو تسلیم کیا جاتا ہے اور جج مدعا علیہ کی حالت اور مفاد عامہ کی بنیاد پر تعزیر کی قسم اور مقدار کا تعین کر سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’فقہ حنفی میں بعض اوقات نصیحت کسی شریف آدمی کے لیے کوڑے سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے، اور بعض اوقات کوڑا ہی کسی کو جرم کرنے سے روکنے کا واحد ذریعہ ہوتا ہے۔‘
فضائی حملے، ٹینک اور چوکیاں تباہ کرنے کے دعوے: پاکستان اور افغان طالبان کی ’جھڑپوں‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟ملا عمر: ایک آنکھ سے زخمی طالبان قائد کی خفیہ زندگی اور اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کی کہانی’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟23 برس قبل جب طالبان نے مزارِ شریف فتح کیا: ’ہمیں نہ مارو، ہم عام شہری ہیں‘دیوبندی فکر کا اثر
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’معاشرے میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد صرف طالبان کے حکومتی اہلکار نہیں ہیں بلکہ معاشرے میں اور بھی ایسے لوگ ہیں جو ان کے بقول اگر جرم کرتے ہیں تو صرف اس لیے کہ جج انھیں بتائے کہ اس معاملے کی اطلاع دی گئی ہے، ان کی سماجی حیثیت انھیں دوبارہ ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔‘
افغان محقق رستم علی سیرت نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کے علماء برصغیر پاک و ہند میں دیوبندی مکتبہ فقہ سے متاثر ہیں اور اورنگ زیب کے حکم پر 1667 میں ہندوستان میں لکھے گئے فتویٰ عالمگیری کا اس قانون کی تحریر پر وسیع اثر ہے۔‘
رستم علی سیرت کے مطابق ’یہ تمام مسائل ہندو ثقافت سے متاثر ہیں اور اس وقت کے ہندوستانی ذات پات کے نظام سے حیرت انگیز مماثلت رکھتے ہیں۔‘
عوامی مفاد اور سزائے موت
اس قانون کے مطابق اگر مجرموں کی موت سے ’عوامی مفاد‘ کا تحفظ ممکن ہو تو ایک جج سزا کے طور پر موت کی سزا جاری کر سکتا ہے جیسے بدعنوانی، بدعنوانی کو فروغ دینا، اسلام مخالف عقائد کا دفاع اور پرچار کرنا، اور جادو ٹونے پر عمل کرنا۔
آرٹیکل 14 کا دوسرا پیراگراف ہم جنس پرستی اور بار بار چوری کے لیے سزائے موت کا تعین کرتا ہے۔
محمد فرید حمیدی کہتے ہیں کہ افغانستان کے 2017 کے پینل کوڈ میں پھانسی کے مقدمات بہت محدود تھے اور سخت شرائط سے منسلک تھے۔
تاہم ان کے مطابق ’موجودہ قانون میں یہ اختیار کسی خاص شرائط کے بغیر جج کو سونپا گیا ہے، اور تمام قبول شدہ مجرمانہ اور اسلامی فقہی اصولوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔‘
آرٹیکل 4 کی شق 6 ان افراد کو، جن میں بظاہر طالبان کی منسٹری آف پبلک آرڈر اور عام طالبان کے اہلکار شامل ہیں، سزا دینے کا اختیار دیتا ہے۔
پیغمبر اسلام اور دیگر پیغمبروں کی توہین کرنے والوں کے لیے سزائے موت اور طالبان رہنما اور علماء کی توہین کرنے والوں کے لیے قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
آرٹیکل 15 کہتا ہے کہ اگر کوئی مسلمان پیغمبر اسلام یا دیگر انبیاء کی توہین کرتا ہے اور اس پر جرم ثابت ہو جاتا ہے، تو جج اسے موت کی سزا دے سکتا ہے، اور اگر وہ توبہ کرتا ہے اور اس کی توبہ سچی ہے، تو اس کی سزا موت سے کم ہے۔
’پڑوسی کی بیوی کی طرف دیکھنا‘
آرٹیکل 34 ایک ایسی عورت پر تعزیری سزا مقرر کرتا ہے جو اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے والد یا دیگر رشتہ داروں کے گھر جاتی ہے۔
’اگر کوئی عورت بار بار اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی جائز وجہ کے بنا اپنے والد یا دوسرے رشتہ داروں کے گھر جاتی ہے اور وہیں ٹھہر جاتی ہے، اور اپنے شوہر کی درخواست اور جج کے حکم کے باوجود واپس نہیں آتی ہے، تو عورت اور اسے روکنے والا دونوں مجرم تصور کیے جائیں گے اور ہر ایک کو تین ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔‘
ایک اور آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ ’اگر کوئی شخص کسی غیر محرم عورت کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھتا ہے تو جج اسے ایک سال قید کی سزا سنائے گا۔‘
اس کے علاوہ ’کسی پڑوسی کی بیوی کی طرف دیکھنا، اس کی طرف اشارہ کرنا، اس کے جسم کے اعضاء بیان کرنا، اور اس کی حالت کے بارے میں پوچھنا جرم ہے، اور جج کو مجرم کو ایک ماہ قید کی سزا سنانی چاہیے۔‘
آرٹیکل 59 ناچنے پر جیل کی سزا بھی مقرر کرتا ہے جس کے مطابق ’جو لڑکے اور لڑکیاں ناچتے ہیں، اور جو انھیں دیکھتے ہیں، جج ہر ایک کو دو ماہ قید کی سزا سنائیں گے۔‘
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’جو شخص اپنی بیوی کو اس کے حقوق جیسے کہ رہائش، خوراک اور لباس فراہم نہیں کرتا ہے وہ بھی قابل سزا ہے۔‘
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ’بین الاقوامی برادری کو افغانستان کے قوانین کا احترام کرنا چاہیے اور ان سے سوال نہیں کرنا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہماری عدالتیں 100 فیصد شرعی قانون پر مبنی ہیں اور ہم غیر ملکی سول قوانین کو شامل نہیں کر سکتے۔‘
ان کے بقول ’جن لوگوں کو اسلامی عقائد سے مسئلہ ہے انھیں اعتراض کا حق نہیں ہے۔‘
’اہل تشیع اپنے عقائد اور مذہبی عبادات میں مکمل آزادی رکھتے ہیں‘
ایک مضمون میں، جو اصطلاحات کی تعریف سے متعلق ہے، بدعت کرنے والے کی تعریف میں ہر وہ شخص شامل ہے جو اہل السنہ والجماعت کے عقائد کی مخالفت کرتا ہے۔
تاہم، ذبیح اللہ مجاہد اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ ’ہمارے شیعہ بھائی اس میں شامل نہیں ہیں اور اہل تشیع اپنے عقائد اور مذہبی عبادات میں مکمل آزادی رکھتے ہیں اور اس حکم کے دائرے میں نہیں آتے۔‘
اس آئین کے کئی آرٹیکلز میں ایسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کا تعلق غلامی سے ہے۔
آرٹیکل 15 کہتا ہے کہ تعزیری سزا کا اطلاق آزاد یا غلام، مرد یا عورت، مسلمان یا کافر، بالغ یا سمجھدار نابالغ پر ہوتا ہے۔
اگرچہ بین الاقوامی سطح پر غلامی کو ختم کر دیا گیا ہے، لیکن اب بھی چند فقہی کتابوں میں غلامی کی اصطلاحات موجود ہیں۔
فضائی حملے، ٹینک اور چوکیاں تباہ کرنے کے دعوے: پاکستان اور افغان طالبان کی ’جھڑپوں‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟افغان طالبان کی قیادت میں موجود دراڑ اور انٹرنیٹ کی بندش کے پس منظر میں ہونے والی لڑائیطالبان نے دس دن میں افغانستان کے اہم ترین علاقوں پر کیسے قبضہ کیا؟23 برس قبل جب طالبان نے مزارِ شریف فتح کیا: ’ہمیں نہ مارو، ہم عام شہری ہیں‘ملا عمر: ایک آنکھ سے زخمی طالبان قائد کی خفیہ زندگی اور اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کی کہانی