ٹوٹتے شیشے، آگ، سیاہ دھواں اور نہ ختم ہونے والی رات: جب پُرتشدد ہجوم نے اخبار کے دفتر کو آگ لگا دی اور عملہ چھت پر پھنس گیا

بی بی سی اردو  |  Feb 28, 2026

’میں سانس نہیں لے پا رہا، میں اندر ہوں اور یہاں بہت دھواں ہے۔ آپ مجھے مار رہے ہیں۔‘

زائمہ اسلام نے 18 دسمبر کو رات 12 بجے کے بعد اپنے فیس بُک اکاؤنٹ پر یہ پوسٹ لکھی۔ وہ اس وقت کسی جنگی میدان سے رپورٹنگ نہیں کر رہی تھیں۔

وہ 28 صحافیوں اور عملے کے دیگر افراد کے ساتھ، جنھیں ایک ہجوم نے گھیر لیا تھا اور ان کی عمارت کو آگ لگا دی تھی، ڈھاکا میں اپنے ہی نیوز روم کی چھت پر پھنس گئی تھیں۔

زائمہ اسلام، جو بنگلہ دیش کے معروف روزنامہ دی ڈیلی سٹار کی تحقیقاتی صحافی ہیں، شریف عثمان ہادی کی موت پر خبر لکھ رہی تھیں۔ عثمان ہادی اس نوجوان تحریک کا ایک نمایاں رہنما تھے جس نے اگست میں سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹایا تھا۔

عثمان ہادی کو ہفتے ڈھاکا کی ایک مسجد کے باہر نقاب پوش حملہ آوروں نے گولی مار دی تھی اور وہ سنگاپور کے ایک ہسپتال میں دم توڑ گئے۔

زائمہ اسلام ابھی خبر لکھ ہی رہی تھیں کہ پہلا انتباہ نیوز روم تک پہنچا کہ ایک ہجوم کاظی نصرالاسلام ایونیو، جہاں میڈیا کے دفاتر ہیں، کی طرف بڑھ رہا تھا۔

ایک اور ہجوم ان کے سسٹر ادارے اور بنگلہ دیش کے سب سے بڑے بنگالی روزنامے ’پروتھوم آلو‘ کے دفتر کی طرف جا رہا تھا۔

مظاہرین نے ان اخبارات پر الزام لگایا کہ انھوں نے شریف عثمان ہادی کے قتل کی ’راہ ہموار‘ کی ہے۔ اگرچہ اس دعوے کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا مگر پہلے سے ہی بھڑکی ہوئی سیاسی فضا میں نہایت مؤثر ثابت ہوا۔

شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد سے ایسی دھمکیوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں ان اخبارات کو ’انڈین ایجنٹ‘ قرار دیا گیا۔ انھوں نے یہ الزام عائد کیا کہ ان اخبارات نے اس قتل کو زیادہ کوریج نہیں دی۔

یہ ایک ایسا الزام ہے جسے قتل ہونے والے رہنما کی انڈین مخالف تقریروں سے مزید ہوا ملی۔

ان کے دفاتر کے باہر مظاہرے بھی ہو چکے تھے۔

Anahita Sachdev/BBCزائمہ اسلام اور اُن کے 27 ساتھی چار گھنٹے تک چھت پر پھنسے رہے، اس کے بعد اُنھیں بچایا گیا

روزنامہ دی ڈیلی سٹار میں زائمہ اسلام اور ان کے ساتھی پوری تندہی سے کام کر رہے تھے تاکہ اخبار کی اشاعت مکمل کر سکیں۔

زائمہ اسلام کہتی ہیں کہ ’ہم بغیر کسی بڑی وجہ کے پریس کا کام نہیں روکتے۔ اگر ہم ہر دھمکی پر رک جاتے تو کئی دن اخبار چھپ ہی نہ پاتا۔‘

رات بارہ بج کر پانچ منٹ پر انھوں نے اپنی خبر شائع کرنے کے لیے مکمل کی اور نیچے گراؤنڈ فلور کی طرف روانہ ہوئیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’میں ہی آخری وہ رپورٹر تھی جس نے کمپیوٹر بند کیا پھر اچانک آواز آئی، شیشے ٹوٹ رہے تھے‘۔

ان کے مطابق ’یہ سب وقفے وقفے سے نہیں ہو رہا تھا بلکہ یہ سب بہت شدت سے ہو رہا تھا۔ صاف محسوس ہو رہا تھا کہ باہر بہت لوگ ہیں۔‘

کچھ لوگ عمارت سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ باقیوں نے نیچے سے بلند ہوتے شور کی آواز سنی اور پیچھے ہٹ گئے۔ اس وقت اندر 28 صحافی اور عملہ موجود تھا، جن میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔

کچھ نے تجویز دی کہ خود کو نیوز روم کے اندر بند کر لیا جائے۔ زائمہ اسلام نے تجویز دی کہ ’ہم میں سے کئی لوگ بالکل واضح تھے کہ ہمیں کسی کھلی جگہ جانا ہے جہاں فائر سروس تک آسان رسائی ہو۔‘

LightRocket via Getty Images

زائمہ اسلام آہستگی سے کہتی ہیں کہ ’ہمیں معلوم تھا کہ وہ عمارت کو آگ لگا دیں گے۔ اسی لیے ہم آگ لگنے سے پہلے ہی چھت پر چلے گئے۔‘

وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھے اور اندھیرے میں نو منزلیں چڑھ گئے۔

مقامی وقت رات 12:24 پر زائمہ اسلام پولیس سے فون پر بات کرتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں اور 12:50 بجے تک دھواں ہر چیز کو نگل چکا تھا۔

’اگر میں اپنا ہاتھ اپنے چہرے کے سامنے رکھتی تو نظر نہ آتا۔ یہ سرمئی نہیں بلکہ سیاہ تھا۔‘

چھت پر، جہاں ایک چھوٹا سا باغ اور بڑے گملوں میں کھجور کے پودے تھے، انھوں نے لوہے کا دروازہ بند کر کے بھاری گملے اس کے سامنے کر دیے۔

زائمہ اسلام کہتی ہیں کہ ’فائر ڈور کبھی بند نہیں ہوتے۔ لیکن اس موقع پر ہجوم فائر ایگزٹ استعمال کر کے ہمارے پاس پہنچنے والا تھا۔‘

پھنسے ہوئے صحافی چھت سے نیچے جمع ہوتے ہوئے ہجوم کو دیکھ سکتے تھے۔ زائمہ اسلام کہتی ہیں کہ ’وہ فطری طور پر کناروں سے دور رہے۔ ریلنگ کے ساتھ حرکت سے جلنے والی لائٹس تھیں۔۔۔ ایک غلط قدم سے وہ روشن ہو جاتیں، ان کی موجودگی ظاہر ہو جاتی۔‘

پندرہ منٹ بعد عمارت میں آگ لگ چکی تھی۔

زائمہ اسلام کہتی ہیں کہ ’مجھے نہیں اندازہ کہ انھوں نے کب آگ لگائی۔ جو میں جانتی ہوں وہ یہ ہے کہ تقریباً 12:50 بجے دھواں اتنا گاڑھا تھا کہ میں اپنا ہاتھ اپنے چہرے کے سامنے رکھ کر بھی نہیں دیکھ سکتی تھی۔‘

NurPhoto via Getty Imagesڈیلی سٹار کے اندازے کے مطابق اس رات دو ملین ڈالر کا نقصان ہوا

نیچے لگائی گئی آگ لفٹ کے شافٹ سے اوپر کی طرف اٹھ رہی تھی۔

چھت پر ایک نلکا تھا، اور کئی افراد نے اپنی قمیض اور رومال پانی میں بھگو کر منھ پر رکھ لیے۔ وہ زمین پر لیٹ گئے تاکہ نسبتاً صاف ہوا مل سکے۔ اندھیرے میں ایک دوسرے کو آوازیں دیتے رہے۔ دھوئیں میں ’ہوا کا رخ‘ تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

نیچے، وہ ساتھی جو ہجوم میں گھل مل گئے تھے، گھبراہٹ میں پیغامات بھیج رہے تھے کہ کچھ حملہ آوروں کا پاس اسلحہ اور دیسی بم ہیں اور وہ ’قتل کی منصوبہ بندی‘ کر رہے ہیں۔

چھت پر کچھ لوگ ہمت ہار گئے، والدین کو فون کیا، الوداع کہا، معافی مانگی۔ زائمہ اسلام نے ایسا نہیں کیا۔

ان کے مطابق ’ایک شخص چھلانگ لگانے کے لیے تیار تھا، ہماری چھت سے نیچے والی عمارت پر، جو دو منزل نیچے تھی۔ اسلام کہتی ہیں کہ ’ہمیں اسے ایسا کرنے سے روکنا پڑا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ایک ساتھی میرے سامنے گر گیا۔ اسی وقت مجھے خوف آیا۔ میں نے سوچا، شاید اب ہم پہلی موت دیکھیں گے۔‘ اسی لمحے انھوں نے دھوئیں اور اندھیرے میں گھبراہٹ فیس بک پر پوسٹ لکھی۔

پھر کسی وقت زائمہ اسلام نے اپنے والدین کو فون کیا۔ ان کے والد ملاح اور والدہ ٹیچر ہیں۔ وہ ڈھاکا سے باہر ایک خاندانی تقریب میں تھے۔ زائمہ اسلام کی کال میں نہ کوئی الوداع تھا، نہ کوئی بڑا جذباتی پیغام۔

AFP via Getty Images

’میں اس مزاج کی نہیں ہوں۔‘

انھوں نے فون پر مختصر بات کی۔ ’میں یہاں ہوں۔ پھنس گئی ہوں۔ کچھ نہ کچھ حل نکال لیں گے۔‘

زائمہ اسلام کہتی ہیں کہ ’بنگلہ دیش میں صحافت کرنا محفوظ پیشہ کبھی نہیں رہا۔ ہم موت کی دھمکیوں کے عادی ہیں۔ جب ہمیں یہ دھمکیاں ملتی ہیں تو ہم صرف احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہیں۔‘

فوج کی طرف سے امداد صبح ساڑھے چار بجے آئی۔ انھوں نے ایک حصار بنایا، ہجوم کو چند منٹ کے لیے پیچھے رکھا۔ چھت پر پھنسے عملے کو فائر ایگزٹ سے دوڑ کر نیچے آنا تھا اور پھر پچھلی دیوار پھلانگنی تھی۔

یہی ہوا۔

اخبار کا عملہ نو منزلیں دھوئیں سے بھری سیڑھیاں اترتے ہوئے بھاگا، نہ ماسک تھے، بس گیلی قمیضیں اور جیکٹیں منھ پر رکھی ہوئی تھیں۔ راستے میں فائر فائٹرز نے کھڑکیاں توڑ دی تھیں، اس سے کچھ مدد ملی، لیکن بہت کم۔

نیچے ایک سیڑھی پچھلی دیوار کے ساتھ ٹکی ہوئی تھی۔ دوسری طرف فوج نے ایک ٹوٹا ہوا رکشہ وین رکھا تھا تاکہ چھلانگ لگانے والوں کو سہارا ملے۔

زائمہ اسلام کہتی ہیں کہ ’ہم اوپر چڑھے اور رکشے پر کود گئے۔‘

BBC

کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے، سب نوجوان یا پھرتیلے لوگ نہیں تھے، لیکن کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ وہ چار گھنٹے سے اس چھت پر پھنسے ہوئے تھے۔

زائمہ اسلام یاد کرتی ہیں کہ ’وہ چار گھنٹے آدھے گھنٹے جیسے لگے، سب کچھ بہت تیزی سے ہو رہا تھا۔ جب میں باہر نکلی تو میرا فون کب کا بند ہو چکا تھا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ تقریباً صبح ہو گئی ہے۔ چھت پر ایسا لگ رہا تھا جیسے ایک نہ ختم ہونے والی رات ہو۔‘

ایک طرف کی گلی، جہاں غیر معمولی سناٹا چھایا ہوا تھا، میں وہ دبک گئے جبکہ ہجوم نیوز روم میں لوٹ مار کر رہا تھا۔ شور اور لوٹ مار کے بیچ وہ نکل گئے۔ فوجی گاڑیاں انھیں قریب کے کیمپ تک لے گئیں۔

زائمہ اسلام گھر گئیں، والدین کو فون کیا اور مختصر نیند کے بعد ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں نیبولائزر کے لیے داخل ہوئیں۔

وہ تقریباً ہلکے انداز میں کہتی ہیں: ’میں نے ایک دن کی چھٹی لی۔ مجھے کاربن مونو آکسائیڈ زہر کا تھوڑا سا اثر ہوا تھا۔‘

Anadolu via Getty Imagesدسمبر کے مہینے میں حملے کے چند گھنٹے بعد ڈیلی سٹار کے دفتر کے مناظر

ڈیلی سٹار اُس صبح شائع نہ ہو سکا۔ اس اخبار کی 34 سالہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا۔ لیکن یہ رکاوٹ صرف 15 گھنٹے رہی۔ دفتر تباہی کے بعد ناقابلِ استعمال ہو گیا تھا، عملہ دفتر کے باہر سے ہی کام کرتا رہا۔ دو ہفتوں کے اندر دو اداریاتی منزلیں مرمت ہو گئیں۔ وہ دوبارہ اپنی نشستوں پر واپس آ گئے۔

تقریباً تین ماہ بعد بھی عمارت اپنے نقصان کے نشانات سنبھالے ہوئے ہے: انشورنس ایجنٹ ملبے میں چھان بین کر رہے ہیں، داخلی دروازے پر شیشے کے ڈھیر لگے ہیں، آڈیٹوریم جلا ہوا کھنڈر ہے۔ غیر ملکی سفارتکار اب بھی آتے ہیں، تباہی کا جائزہ لیتے ہیں۔۔ یہ حملہ محض نیوز روم تک محدود نہ رہا۔

اس چھت کے نیچے جس پر عملے نے اُس رات پناہ لی تھی، ہجوم نے وہ کچھ کیا جسے اخبار نے بعد میں ’رات بھر کی بربادی‘ سے تعبیر کیا۔

فرنیچر توڑ دیا گیا، آرکائیوز کو آگ لگا دی گئی، فوٹو نمائش کو اکھاڑ کر جلا دیا گیا۔ گراؤنڈ فلور کا آڈیٹوریم جلا دیا گیا، کیفے ٹیریا کو لوٹ لیا گیا۔ سٹیشنری سٹورز کو آگ لگا دی گئی، کانفرنس ہال، لائبریری اور 100 نشستوں والا آڈیٹوریم برباد کر دیا گیا، ویڈیو سٹوڈیو جل گیا۔

فوٹو ڈپارٹمنٹ اور 35 سالہ آرکائیوز بالکل خالی کر دیے گئے، کیمرے اور ہارڈ ڈرائیوز چرا لی گئیں۔ انتظامی دفاتر کو لوٹ لیا گیا۔ حملہ آور ساتویں منزل تک چڑھ گئے، شیشے توڑ دیے۔ شاید صرف دھوئیں کی وجہ سے سرور روم بچ گیا۔

’سیون سسٹرز‘ الگ کرنے کی دھمکی: بنگلہ دیش میں انڈین ہائی کمشنر کی ملک بدری کا مطالبہبنگلہ دیش کی طاقتور وزیراعظم سے سزا یافتہ مجرم تک: شیخ حسینہ کے سیاسی سفر کی کہانیبنگلہ دیش کی عبوری حکومت چین سے اربوں ڈالر کے جے-10 طیارے کیوں خریدنا چاہتی ہے اور اس پر تنقید کیوں کی جا رہی ہے؟پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتے فوجی تعاون پر انڈیا کو تشویش کیوں؟LightRocket via Getty Images

اگلے ہی دن رپورٹرز گھروں سے کام کر رہے تھے، ٹوٹے ہوئے شیشے بدل دیے گئے، لیپ ٹاپ مہیا کر لیے گئے، چھٹی منزل کا نیوز روم عارضی طور پر درست کر دیا گیا۔

20 دسمبر کی صبح کا اخبار ایک لفظی سرخی کے ساتھ شائع ہوا Unbowed (ڈٹا ہوا)۔

آٹھ صفحات پر مشتمل اس ایڈیشن کا بیشتر حصہ اُن صحافیوں نے لکھا اور ایڈٹ کیا جن کی پوری رات چھت پر گزری۔

مینیجنگ ایڈیٹر کمال احمد کہتے ہیں ’وہ لوگ جو وہاں پھنسے ہوئے تھے اور اپنی جان کے خوف میں مبتلا تھے، صرف 15 گھنٹے بعد ہی کام پر لگ گئے۔ یہی ہماری مزاحمت ہے۔۔۔ ہم ہار نہیں مانیں گے۔‘

ڈیلی سٹار نے اپنے نقصان کا تخمینہ تقریباً 20 لاکھ ڈالر لگایا ہے۔ لیکن تقریباً تین ماہ بعد بھی صرف وہی 37 لوگ جیل میں ہیں جو وہاں سے گرفتار کیے گئے تھے۔ 11 ڈیلی سٹار کے کیس میں اور 26 پروتھوم آلو کے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اُس شخص کی نشاندہی کر لی ہے جس نے سوشل میڈیا پر تشدد بھڑکایا، لیکن ابھی تک اسے گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔ کس نے یہ حملے منصوبہ بندی کے ساتھ کیے، اور کیوں، یہ اب بھی واضح نہیں ہے۔

میں نے زائمہ اسلام سے پوچا کہ کیا حملے کی رات اُن کی زندگی کی سب سے اہم رات تھی؟ وہ سر ہلا کر انکار کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’بنگلہ دیش کوئی تنازع زدہ علاقہ نہیں ہے۔ لیکن یہ اپنے صحافیوں کو وہی حقوق اور تحفظ نہیں دیتا جیسا کہ جمہوریتوں کو دینا چاہیے۔‘

’ہم نے ایک اندھیری رات گزار دی ہے۔ ہم دوسری اندھیری کو بھی برداشت کر جائیں گے۔‘

’دہلی نہیں، ڈھاکہ‘: بنگلہ دیش کی نوجوان نسل میں ’انڈیا مخالف جذبات‘ کیوں بڑھ رہے ہیں؟اسلام آباد کی ’ہمدرد‘ سمجھی جانے والی جماعت کی کامیابی: بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج پاکستان اور انڈیا کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟ضیا الرحمان: جب فوجی افسروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے بنگلہ دیش کے سابق صدر کی لاش قبر سے نکالی گئی ’پاکستان کی دوست‘ خالدہ ضیا کی وفات: بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم کون تھیں؟بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات میں ’تاریخی بحران‘ شدید تر کیوں ہو رہا ہے؟بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی اور طلبا رہنماؤں پر مشتمل سیاسی جماعت ’این سی پی‘ کا اتحاد انڈیا کے لیے باعث تشویش کیوں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More