امریکہ اور ایران کے پاس ہتھیاروں کے کم ہوتے ذخائر جاری تنازع کا رُخ کیسے موڑ سکتے ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Mar 05, 2026

US Navy via Getty Images

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ کیا ہے کہ اُن کے ملک کے پاس اہم ’ہتھیاروں کا لامحدود ذخیرہ‘ موجود ہے۔

تین مارچ کو اپنے سوشل میڈیا ’ٹروتھ سوشل‘ پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کے پاس جنگی ہتھیاروں کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے جسے استعمال کرتے ہوئے ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگیں بھی لڑی جا سکتی ہیں۔‘

دوسری جانب ایران کی وزارتِ دفاع نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اُن کے پاس بھی ’دشمن کے مقابلے میں زیادہ دیر تک مزاحمت کرنے کی صلاحیت‘ موجود ہے، اُس سے کہیں زیادہ جتنا امریکہ نے پلان کیا ہے۔

اگرچہ یہ ایک اہم عنصر ہے مگر ہتھیاروں کے ذخائر اور اُن کی رسد واحد چیز نہیں ہے جو اس تنازع میں نتائج کا فیصلہ کریں گے۔

ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے ہی فریقین کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کی رفتار بہت تیز اور جارحانہ رہی ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران ہتھیاروں کا اتنی تیزی اور رفتار سے استعمال کر رہے ہیں جتنی تیزی سے انھیں تیار نہیں کیا جا سکتا۔

تل ابیب میں قائم انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کا اندازہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل پہلے ہی ایران میں دو ہزار سے زیادہ حملے کر چکے ہیں، اور ہر حملے میں متعدد ہتھیار استعمال ہوئے۔

انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کا کہنا ہے کہ (جوابی حملوں میں) ایران بھی 571 میزائل اور 1,391 ڈرون لانچ کر چکا ہے، جن میں سے زیادہ تر کو اہداف پر پہنچے سے قبل تباہ کر دیا گیا۔

جتنا زیادہ یہ جنگ طول پکڑے گی فریقوں کے لیے لڑائی میں اس تیزی کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جائے گا۔

ایران BBCجنگ سے پہلے اندازہ لگایا گیا تھا کہ ایران کے پاس دو ہزار سے زیادہ شارٹ رینج بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ موجود ہے

مغربی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے پہلے ہی ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی ہے۔ جنگ کے پہلے دن ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے گئے تھے، جن کی تعداد اب کم ہو کر درجنوں میں رہ گئی ہے۔

امریکہ کے فوجی کمانڈر جنرل ڈین کین نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل حملے سنیچر کو لڑائی کے پہلے دن کے مقابلے میں اب 86 فیصد تک کم ہو گئے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایرانی میزائل حملوں میں صرف گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 23 فیصد کی کمی آئی ہے۔

جنگ سے پہلے اندازہ لگایا گیا تھا کہ ایران کے پاس دو ہزار سے زیادہ شارٹ رینج بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ اگرچہ کسی بھی ملک کی فوج کے پاس موجود ہتھیاروں کی درست تعداد شائع نہیں کی جاتیں اور ان معلومات کو خفیہ رکھا جاتا ہے تاکہ دشمن اصل طاقت سے لاعلم رہے۔

ایران کے بارے میں خیال تھا کہ اس نے جنگ سے پہلے اپنے ’شاہد‘ ون وے اٹیک ڈرونز کے ہزاروں یونٹس تیار کیے تھے۔

ایران نے یہ ٹیکنالوجی روس کو بھی فراہم کی تھی، جس نے یوکرین جنگ میں انھی ڈرونز کے ایک تباہ کُن ورژن کا بہت زیادہ استعمال کیا، اور حالیہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریکہ نے بھی شاہد ڈرونز کے ڈیزائن کی نقل تیار کی ہے۔

تاہم امریکی جنرل کین نے کہا کہ ایران کے ڈرون حملے بھی جنگ کے پہلے دن کے مقابلے میں 73 فیصد کم ہو گئے ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کو اپنی کارروائیوں کی تیز رفتاری کو برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

خلیجی ممالک پر حملہ آور ایرانی شاہد ڈرونز جن کی امریکہ نے ’نقل‘ تیار کی ہےایران میں کہاں کہاں بمباری ہوئی اور کن امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی حملے کیے گئے؟ٹرمپ کا جُوا، نیتن یاہو کی کرسی یا ایران کی بقا میں فتح: تیزی سے پھیلتی جنگ میں جیت کا معیار کیا ہو گا؟’تمام سُرخ لکیریں عبور ہو چکیں‘: کیا خلیجی ریاستوں کا ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت کا امکان بڑھ رہا ہے؟

یہ بھی ممکن ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں میں آنے والی یہ ڈرامائی کمی محض ذخائر کو محفوظ رکھنے کی کوشش ہو، لیکن یہ واضح ہے کہ ایران کے لیے میزائلوں اور ڈرونز کی پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنا وقت کے ساتھ مزید مشکل ہوتا جائے گا۔

امریکی اور اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے اب ایران پر فضائی برتری حاصل کر لی ہے۔

ایران کے زیادہ تر فضائی دفاعی نظام تباہ ہو چکے ہیں اور اس کے پاس اب کوئی قابلِ اعتبار فضائیہ بھی باقی نہیں رہی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ جنگ کے اگلے مرحلے کا فوکس ایران کے میزائل اور ڈرون لانچرز، اس کے ہتھیاروں کے ذخائر اور اُن فیکٹریوں کو تباہ کرنے پر ہے، جو یہ ہتھیار تیار کرتی ہیں۔

BBCحالیہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریکہ نے ایرانی شاہد ڈرون کے ڈیزائن کی نقل تیار کی ہے اور اسے استعمال کیا ہے

یقیناً اب امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایران کی جنگی صلاحیتوں کو کمزور کرنا آسان ہو سکتا ہے، لیکن اس کے تمام ہتھیاروں کے ذخائر کو مکمل طور پر تباہ کرنا بدستور مشکل ہو گا۔

ایران فرانس سے تین گنا بڑا ملک ہے اور ہتھیار اب بھی زمین کے اندر یا مختلف مقامات پر چھپائے جا سکتے ہیں، اور انھیں فضائی نگرانی کی مدد سے مکمل طور پر تلاش کرنا ممکن نہیں۔

حالیہ تاریخ بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف فضائی جنگ کی اپنی حدود ہیں۔

اسرائیلی فوج تین سال سے زیادہ عرصے کی شدید بمباری کے باوجود بھی غزہ میں حماس کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکی۔ اسی طرح یمن میں حوثی باغی ایک سال تک طویل امریکی فضائی مہم کے باوجود زندہ رہے اور ان کے کچھ ہتھیار بھی محفوظ رہے۔

امریکہ Getty Images

امریکہ دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوت ہے۔ اس کے روایتی ہتھیاروں کے ذخائر کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہہیں۔

تاہم امریکی فوج اب بھی بڑی حد تک ایسے مہنگے گائیڈڈ ہتھیاروں پر انحصار کرتی ہے، جو محدود مقدار میں تیار کیے جاتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے کے آخر میں دفاعی ہتھیاروں کو تیار کرنے والی کمپنیوں کے نمائندوں کو ایک اجلاس میں طلب کیا ہے تاکہ ان پر ہتھیاروں کی پیداوار تیز کرنے پر زور دیا جا سکے۔ اور یہ اطلاعات اس بات کی علامت ہیں کہ اگر جنگ جاری رہتی ہے تو امریکہ کے عسکری وسائل بھی دباؤ میں آ سکتے ہیں۔

تاہم ایران کا فضائی دفاعی نظام بُری طرح متاثر ہونے کی وجہ سے کچھ دباؤ کم ہوا ہے کیونکہ اب امریکہ کو نسبتاً زیادہ آزادی حاصل ہے کہ وہ قریب سے حملے کر سکے (جن میں مہنگے جدید گائیڈڈ ہتھیار استعمال نہیں ہوتے)۔

جنرل کین نے کہا کہ امریکہ پہلے ’سٹینڈ آف ویپنز‘ استعمال کر رہا تھا یعنی زیادہ مہنگے، پیچیدہ اور طویل فاصلے سے ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیار، جیسا کہ ٹام ہاک کروز میزائل وغیرہ۔ لیکن اب امریکی فضائیہ کم مہنگے ’سٹینڈ اِن ویپنز‘ استعمال کر رہی ہے جو ہدف کے اوپر سے گرائے جا سکتے ہیں۔

واشنگٹن میں قائم سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے سابق امریکی میرین کرنل مارک کانسیان کا کہنا ہے کہ ابتدائی حملوں کے برعکس اب امریکہ ’کم مہنگے میزائل اور بم استعمال کر سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق امریکہ اس نوعیت کی لڑائی کو ’تقریباً غیر معینہ مدت تک‘ جاری رکھ سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جتنا زیادہ جنگ طول پکڑے گی، اہداف کی فہرست بھی چھوٹی ہوتی جائے گی جس کا مطلب ہے کہ کارروائیوں کی رفتار بتدریج کم ہو جائے گی۔

فضائی دفاعBBCپیٹریاٹ میزائل کیسے کام کرتے ہیں

مارک کانسیان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس ہزاروں JDAM بم موجود ہیں لیکن مہنگے فضائی دفاعی نظام کم تعداد میں دستیاب ہیں۔

جنگ کے ابتدائی مراحل میں یہ نظام ایرانی جوابی حملوں کے خطرے کو شکست دینے کے لیے نہایت ضروری ثابت ہوئے۔

پیٹریاٹ میزائلوں کی مانگ بہت زیادہ رہی ہے، صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ اس کے عرب اتحادیوں اور یوکرین کی طرف سے بھی۔

ہر انٹرسیپٹر میزائل کی قیمت 40 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ امریکہ فی الحال سالانہ تقریباً 700 میزائل تیار کرتا ہے۔

اگر ایران اب بھی بیلسٹک میزائل داغنے کی صلاحیت برقرار رکھتا ہے تو یہ امریکہ کے محدود ذخائر کو مزید کم کر دے گا۔

سی ایس آئی ایس کے ماہر مارک کانسیان کا اندازہ ہے کہ امریکہ کے پاس تقریباً 1,600 پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر موجود ہیں، جو حالیہ دنوں میں کم ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ فضائی بمباری (ایئر ٹو گراؤنڈ وار) کو ’طویل عرصے تک‘ جاری رکھ سکتا ہے، لیکن فضائی دفاعی جنگ ’زیادہ غیر یقینی‘ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر صدر ٹرمپ پیٹریاٹ میزائلوں کی تعداد کم کرنے پر آمادہ ہیں، تو میرا خیال ہے کہ ہم ایرانیوں سے زیادہ دیر تک لڑ سکتے ہیں لیکن اس کی قیمت بحرالکاہل میں ممکنہ تنازع کے خطرے کی صورت میں ادا کرنا ہو گی۔‘

یہ حقیقت کہ صدر ٹرمپ اس ہفتے کے آخر میں امریکی دفاعی کمپنیوں سے ملاقات کرنے والے ہیں، اس بات کی علامت ہے کہ ہتھیاروں کے ذخائر کے بارے میں امریکہ میں کچھ تشویش موجود ہے۔

تاہم امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا اصرار ہے کہ ’ایران ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔‘

اور اس نکتے پر غالباً وہ درست ہیں۔

خلیجی ممالک پر حملہ آور ایرانی شاہد ڈرونز جن کی امریکہ نے ’نقل‘ تیار کی ہےایران میں کہاں کہاں بمباری ہوئی اور کن امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی حملے کیے گئے؟’تمام سُرخ لکیریں عبور ہو چکیں‘: کیا خلیجی ریاستوں کا ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت کا امکان بڑھ رہا ہے؟ایران کے اتحادی روس اور چین اس کی مدد کیوں نہیں کر پا رہے؟چیف آف سٹاف کے ہاتھ پر بندھی ڈیوائس اور حملوں کی نگرانی کرتے ٹرمپ: انتہائی حساس ’وار روم‘ کی کہانی بیان کرتی چار تصاویرٹرمپ کا جُوا، نیتن یاہو کی کرسی یا ایران کی بقا میں فتح: تیزی سے پھیلتی جنگ میں جیت کا معیار کیا ہو گا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More