پاکستانی فاسٹ بولر سلمان مرزا پر ہراسانی کے الزامات: کرکٹ بورڈ کا رپورٹر سے معافی کا مطالبہ لیکن چینل اپنی خبر پر قائم

بی بی سی اردو  |  Mar 06, 2026

Getty Imagesپاکستان کرکٹ بورڈ نے بولر سلمان مرزا سے متعلق خبر پر نجی چینل کے صحافی سے معافی کا مطالبہ کیا ہے

پاکستان نے نجی نیوز چینل ’اے آر وائی‘ کی جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر سلمان مرزا پر ہراسانی کے الزامات سے متعلق خبر پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ایجنڈے پر مبنی فیک نیوز کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں اور یہ خبر نشر کرنے والے صحافی کو بغیر کسی تاخیر کے معافی مانگنی چاہیے۔‘

پی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پی سی بی اس بھونڈے طرز عمل سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اُٹھائے گا۔

پی سی بی کے علاوہ فاسٹ بولر سلمان مرزا نے بھی اس خبر کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے صحافی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب چینل انتظامیہ کا موقف ہے کہ خبر دینے سے قبل تمام صحافتی اُصولوں کا خیال رکھا گیا، لہذا اس معاملے پر معافی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ نجی نیوز چینل ’اے آر وائی‘ نے جمعرات کو ذرائع کے حوالے یہ خبر نشر کی تھی کہ سری لنکا میں ہوٹل کے عملے نے پاکستانی کرکٹر سلمان مرزا سے متعلق یہ شکایت کی تھی کہ اُنھوں نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو ہراساں کیا۔

خبر میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ ہوٹل مینجمینٹ کی شکایت پر ٹیم انتظامیہ نے ابتدائی تحقیقات کیں، جس کے بعد مذکورہ کھلاڑی کو جرمانہ بھی کیا گیا۔

Getty Imagesسلمان مرزا ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کے سکواڈ میں شامل تھے اور اُنھوں نے نمیبیا اور انگلینڈ کے خلاف میچز میں پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کی تھی

یاد رہے کہ پاکستان کی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران سری لنکا میں کینڈی کے گولڈن کراؤن ہوٹل میں مقیم تھی اور اس نے یہاں انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف سپر ایٹ کے میچز کھیلے تھے۔

یہ خبر سامنے آنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور سلمان مرزا کی جانب سے سخت ردِعمل کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی بحث شروع ہو گئی۔

بعض صارفین کا کہنا ہے کہ ایک جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم میگا ایونٹ کے سیمی فائنل تک بھی رسائی حاصل نہیں کر سکی جبکہ دوسری جانب اس نوعیت کی خبروں سے ملک کی ساکھ پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

برطانیہ میں پاکستانی کرکٹر حیدر علی کے خلاف تحقیقات بند: گریٹر مانچسٹر پولیس نے کیا بتایا؟سری لنکا کے کرکٹر پر خاتون کا ریپ اور گلا دبانے کا الزامپاکستان کی پانچ رنز سے فتح مگر ورلڈ کپ سے باہر: ’سوری سری لنکا، آپ کی صلاحیتوں پر شک کیا‘بابر اعظم کی بے بسی، پالیکیلے کی اوس اور بروک کی بے خوفیسلمان مرزا کا ردِعمل

پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر سلمان مرزا نے فیس بک پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’میڈیا پر ایک بیہودہ خبر گردش کر رہی ہے، جس کی میں مذمت کرتا ہوں۔‘

سلمان مرزا کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی میڈیا ہاؤس غیر تصدیق شدہ خبر نشر نہیں کر سکتا۔ پی سی بی پہلے ہی اس بے بنیاد اور جعلی خبر کی تردید کر چکا اور میں مذکورہ صحافی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے جا رہا ہوں۔‘

اُنھوں نے حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس نوعیت کی رپورٹنگ پر پابندی لگائے۔

خیال رہے کہ سلمان مرزا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کے سکواڈ میں شامل تھے اور اُنھوں نے نمیبیا اور انگلینڈ کے خلاف میچز میں پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔

’ہم اپنی خبر پر قائم ہیں‘

بی بی سی نے اس معاملے پر موقف جاننے کے لیے یہ خبر دینے والے سینیئر سپورٹس جرنلسٹ شاہد ہاشمی سے رابطہ کیا تو اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کریں گے۔

لیکن ’اے آر وائی نیوز‘ کے صدر عماد یوسف نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ ایک خبر کی تصدیق کے لیے دو ذرائع درکار ہوتے ہیں۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ اس خبر میں دو ذرائع نے تصدیق کی، ان میں سے ایک ذریعہ یہاں (پاکستان) کا جبکہ دوسرا ذریعہ وہاں (سری لنکا) کا ہے۔

’رپورٹر نے پوری طرح چیک کر کے اس خبر کو فائل کیا اور وہ اپنی سٹوری پر قائم ہیں۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ اور سلمان مرزا کی جانب سے فوری معافی کے مطالبے پر ردِعمل دیتے ہوئے عماد یوسف کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ کوئی سٹوری کریں اور کوئی شخص اس کی تردید کرے اور آپ سے معافی کا مطالبہ کرے لیکن آپ کو پتہ ہو کہ آپ کی سٹوری ٹھیک ہے تو پھر کس بات کی معافی؟‘

جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ یہ سٹوری ذرائع کے حوالے سے چلائی گئی اور اس میں کوئی ثبوت نہیں تو اس پر عماد یوسف کا کہنا تھا کہ ہم اس معاملے کو دیکھ لیں گے لیکن ضروری نہیں ہوتا کہ ہر سٹوری کے ذرائع سامنے لائے جائیں، رپورٹر کا اپنی خبر پر قائم رہنا ہی کافی ہوتا ہے۔

شاہد ہاشمی کون ہیں؟

شاہد ہاشمی کا شمار پاکستان کے سینیئر سپورٹس صحافیوں میں ہوتا ہے، وہ لگ بھگ دو دہائیوں سے اے آر وائی نیوز سے منسلک ہیں اور ٹی 20 ورلڈ کپ کی کوریج کے لیے سری لنکا میں موجود تھے۔

شاہد ہاشمی کئی برسوں تک فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے بھی منسلک رہے اور اپنے کریئر کے دوران متعدد ورلڈ کپ اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے غیر ملکی دوروں کی کوریج کرتے رہے ہیں۔

شامل حسین سمیت پاکستانی ون ڈے سکواڈ میں شامل چھ نئے کھلاڑی کون ہیں؟پی ایس ایل میں ’ملتان سلطانز‘ کی واپسی: نئی فرنچائز سیالکوٹ سٹالینز کا نام تبدیل کرنے پر علی ترین کا ’شکریہ‘’سٹارز کے ناتواں کندھے ورلڈ کپ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے‘قومی کھیل کی ہاکیوں سے ٹھکائیبرطانیہ میں پاکستانی کرکٹر حیدر علی کے خلاف تحقیقات بند: گریٹر مانچسٹر پولیس نے کیا بتایا؟سری لنکا کے کرکٹر پر خاتون کا ریپ اور گلا دبانے کا الزام
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More