ایرانی عوام کیا سوچ رہے ہیں: ’میں خوش ہوں نہ اداس۔۔۔بس تھک گئی ہوں‘

بی بی سی اردو  |  Mar 10, 2026

Getty Imagesایران میں جنگ سے ہونے والی ہلاکتیں 1000 تک پہنچ گئی ہیں

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کو ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے اور ان کی جگہ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ بنایا جا چکا ہے۔

بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ایران پر حملوں اور خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد تہران اور دیگر ایران شہروں میں لوگ کیا سوچ رہے ہیں۔ اس گفتگو کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جہاں خامنہ ای کی موت پر حکومت کے مخالفین خوش ہیں، وہیں ملک میں جنگ سے آنے والی تباہی نے لوگوں کو اس حملے کے مقاصد پر سوالات اُٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔

بی بی سی فارسی کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہم نے ایران کے اندر اور باہر لوگوں سے بات کی ہے، جو گذشتہ ہفتے کو اپنے ملک اور پورے خطے کے مستقبل کے لیے غیر معمولی قرار دیتے ہیں۔

بی بی سی فارسی ایران کی قومی زبان فارسی زبان کی سروس ہے، جسے دنیا بھر میں دو کروڑ 40 لاکھ افراد پڑھتے اور دیکھتے ہیں، جن میں اکثریت ایران میں ہے باوجود اس کے کہ ایرانی حکام اسے بلاک کرتے رہتے ہیں۔

ایران جیسا ملک، جہاں بمباری جاری ہے اور انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں ہیں، 90 ملین کی آبادی کے جذبات کو مکمل طور پر جانچنا ناممکن ہے۔

تہران کے رہائشیوں کو پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’اگر آپ کا انٹرنیٹ کنکشن آنے والے دنوں میں جاری رہا تو آپ کی لائن بلاک کر دی جائے گی اور آپ کو عدالتی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔‘

AFP via Getty Imagesایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کو ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے

حکومت اب بھی مخالفت کرنے والوں کے لیے خوف کی علامت ہے۔ مخالفین اپنے یا اپنے خاندان کے خلاف ممکنہ نتائج کے خوف سے اپنا نام ظاہر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

حمید (فرضی نام) کہتے ہیں کہ جب انھوں نے رہبرِ اعلیٰ کی موت کی خبر سنی تو وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ گھر کے باہر جشن منانے نکلے۔

پھر آنے والے دنوں میں جب جب امریکی اور اسرائیلی بمباری سے عمارتیں لرزتی رہیں، تو وہ اپنے گھر کی چھت پر جا کر حملے دیکھتے اور ہر بار حکومت کا کوئی ہدف نشانہ بننے پر خوشی مناتے۔

انھوں نے برطانیہ میں مقیم کزن کے ذریعے ایک پیغام میں کہا کہ: ’دنیا میں کہیں اور آپ کو ایسا نہیں ملے گا کہ عوام اپنے ملک پر بیرونی حملے سے خوش ہوں۔ لیکن ہمیں امید ہے کہ یہ حکومت جلد ختم ہو جائے گی۔‘

لیکن ایک ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد جہاں کچھ لوگ حکومت پر ہر حملے کا جشن منا رہے ہیں، وہیں دیگر لوگ خوف کا شکار ہیں اور جنگ کے مقاصد اور اس کے انجام پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

علی کہتے ہیں کہ: ’اس جنگ کا مقصد ایرانی عوام کے لیے آزادی یا جمہوریت لانا نہیں ہے۔ یہ جنگ اسرائیل، امریکہ اور خطے کے عرب ممالک کے جغرافیائی سیاسی مفاد کے لیے ہے۔‘

محمد کی عمر 30 کے پیٹے میں ہے اور وہ تہران میں رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایسے معاہدے کے خواہش مند تھے جس سے جنگ کے خطرات ٹل جاتے۔

’میں دل سے ہمیشہ امید کرتا تھا کہ کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔‘

وہ سمجھتے تھے کہ خامنہ ای کی موت پر انھیں خوشی ہوشی ہوگی لیکن انھیں ’کچھ محسوس نہیں ہوا۔‘

انھوں نے میرے ساتھی سروش پاکزاد کو بتایا کہ اب وہ مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں اور جب وہ حکومتی چیک پوسٹیں دیکھتے ہیں اور آسمان سے بمباری دیکھتے ہیں تو وہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔

پاکستان یہ سب نہ کرے تو اور کیا کرے؟باغی ایرانی کرد خواتین جنگجوؤں کے خفیہ دستے سے ملاقات: ’ہمیں اس جنگ کا انتظار تھا‘’ہمارے بجٹ کے لیے ایران پر حملہ بہت فائدہ مند ہے‘: کیا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ روس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے؟’گھر پیسے بھیجنا اور گزارا کرنا مشکل ہو گیا ہے‘: خلیجی ممالک میں پاکستانی مزدور بھی ایران، اسرائیل اور امریکہ کی جنگ سے متاثر

دیگر ایرانی شہری خوف، دباؤ اور امید کے ملے جلے احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔

ایک خاتون نے مجھ سے کہا کہ آپ کو ایران میں چالیس سال گزارنے ہوں گے تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ وہ اور دیگر ایرانی اس وقت کس مشکل کا شکار ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’جب حکومت پر حملہ ہوتا ہے تو ہم ہنستے ہیں اور خوش ہوتے ہیں، لیکن جب بچے مرتے ہیں اور ہمارے ملک کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوتا ہے تو ہمیں اپنے ملک کے مستقبل کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔‘

ایران میں کوئی رائے عامہ کے سروے نہیں کیے جاتے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ایرانیوں کی بڑی تعداد اس حکومت سے نفرت کرتے ہیں جس نے اُنہیں بے پناہ تکلیفیں پہنچائی ہیں۔

اگرچہ حکومت کے اب بھی بڑی تعداد میں کٹر حامی موجود ہیں، لیکن اس کے بہت سے مخالفین دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں: ایک وہ جو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت میں خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اور دوسرے وہ جو شدید شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں۔

سعید نے ہمیں بتایا کہ: ’ٹرمپ کی حکومت میں اوپر سے نیچے تک سب جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان کے پاس ایران پر حملہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، سوائے اس کے کہ اسرائیل چاہتا تھا کہ وہ ایسا کریں۔‘

حکومت کے اپنے بیانات کے علاوہ ہمیں اس کے حامیوں کی آوازیں بہت کم سنائی دے رہی ہیں۔ نہ ہی ہم نے اُن لوگوں کی آواز سنی ہے جنھوں نے اس جنگ میں سب سے زیادہ تکلیف سہی: اُن بچوں کے والدین کی، جو 28 فروری کو جنوبی قصبے میناب میں ایک سکول پر حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

لیکن ایران کے کئی شہریوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انقلاب کے 47 سال بعد وہ اس حد تک مایوس ہو چکے ہیں کہ اس سے جان چھوٹنے کی انھیں شدید خواہش میں اور موجودہ جنگ ہی انہیں آزادی کی واحد امید محسوس ہوتی ہے۔

برطانیہ میں مقیم حمید کے کزن، جو جلاوطنی میں رہنے والے لاکھوں ایرانی شہریوں میں سے ایک ہیں، نے گذشتہ ہفتے بی بی سی کو بھیجے گئے ایک واٹس ایپ پیغام میں متضاد جذبات کی ترجمانی کی تھی۔

’مجھے جنگوں سے نفرت ہے، میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی بےگناہ انسان مارا جائے یا زخمی ہو، چاہے وہ کسی کے بھی ساتھ ہو، لیکن آج صبح حملوں کی خبر سن کر میں خوشی سے اُچھل پڑا۔‘

’مجھے معلوم ہے کہ یہ متضاد باتیں ہیں اور پاگل پن لگتا ہے لیکن یہ سچ ہے۔ یہ خیال کہ آیت اللہ سے آزادی کا خواب آخرکار حقیقت میں بدل سکتا ہے، مجھے خوشی سے بےخود کر رہا ہے۔‘

Getty Imagesمجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا جا چکا ہے

حامد کا دعویٰ ہے کہ ایران میں حملے ’برے لوگوں‘ کے خلاف ہو رہے ہیں لیکن ہمیں عام شہریوں کی بھی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں، جب میں بچے بھی شامل ہیں۔ ایران میں نہ کوئی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور نہ حملوں سے قبل سائرن بجتے ہیں۔

امریکہ میں موجود ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس ایجنسی کے مطابق ایران میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 200 بچے بھی شامل تھے۔

جب یہ جنگ شروع ہوئی اس وقت رواں برس جنوری کے احتجاجی مظاہروں میں حکومتی کریک ڈاؤن کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت کا عمل جاری تھا۔

جب حکومت کی سکیورٹی فورسز نے نہتے مظاہرین پر فائر کھولا تھا، تو ایرانی اس خونریزی کے پیمانے سے آج تک صدمے میں ہیں۔

اصفہان سے تعلق رکھنے والی سمن ان چھ افراد کو جانتی تھیں جو کہ شہر میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئے تھے اور اب ایران میں فضائی حملوں میں ان کے دو رشتے دار ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہفتے کے آخر میں انہوں نے بی بی سی فارسی کے سروش پاکزاد کو پیغام بھیجا کہ اصفہان کی صورتحال ’واقعی خوفناک‘ ہے، ایک ہدف کے اردگرد سڑک پر انسانی جسم کے اعضا بکھرے ہوئے تھے۔

وہ اس وقت صدمے کی حالت میں ہیں اور کہتی ہیں کہ: ’میں نے اپنے برے خوابوں میں بھی کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ ہمارا ملک اس قدر جنگ زدہ ہو جائے گا۔‘

میری ساتھی غنچہ حبیبی‌ آزاد، جو ملک کے اندر لوگوں سے بات کر رہی ہیں، کہتی ہیں کہ جنگ کے دوران کچھ افراد کے خیالات بدل گئے ہیں، کیونکہ وہ توقع نہیں کر رہے تھے کہ خامنہ‌ ای کی ہلاکت کے بعد بھی یہ جنگ جاری رہے گی۔

تہران سے تعلق رکھنے والی کی ایک 20 سالہ نوجوان خاتون کہتی ہیں کہ وہ رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت پر ’بے حد خوش‘ تھیں، تاہم اب انھوں نے غنچہ کو بتایا: ’اب میں خوش ہوں نہ اداس — بس تھک گئی ہوں۔‘

ایران کی جنگ چین کے بڑھتے ’عالمی اثر و رسوخ‘ کو کس طرح متاثر کر رہی ہے؟’برادر ملک ایران سمجھداری کا مظاہرہ کرے‘: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات اور دفاعی معاہدے کا ذکر’اسرائیل سے زیادہ خلیجی ممالک پر میزائل حملے‘: حالیہ جنگ میں ایران کی دفاعی صلاحیت اور حکمت عملی میں کیا تبدیلی آئی؟مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات پاکستان تک پہنچ گئے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55، 55 روپے کا اضافہدھوئیں کے بادل، خون آلود بستے اور چیختے لوگ: ایران میں سکول پر حملے کی ویڈیوز اور سیٹلائٹ تصاویر کیا بتاتی ہیں؟بحرِ ہند میں ایرانی جنگی جہاز کی تباہی پر انڈین اپوزیشن جماعتوں کی تنقید: ’ہمارے مہمان مارے گئے اور مودی خاموش ہیں‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More