Getty Imagesکشمیر میں خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاج کے دوران کئی مظاہرین سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی بھی ہوئے
علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے مشترکہ حملے میں ہلاکت کے بعد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہروں، کرفیو اور بندشوں کا طویل سلسلہ شروع ہوا تھا۔
گذشتہ ایک ہفتے کی اس کشیدگی کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز کے کئی اہلکار اور مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کو بند اور موبائل انٹرنیٹ کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔
خامنہ ای کی ہلاکت سے قبل اور گذشتہ کئی برس کے دوران کشمیر کے حالات مجموعی طور پر پُرسکون رہے ہیں اور بظاہر اسی بنیاد پر گذشتہ ماہ انڈیا کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’مودی جی کے آنے سے پہلے ملک کو تین سکیورٹی چیلنجز کا سامنا تھا: کشمیر میں بے چینی ،کمیونسٹ تشدد اور شمال مشرقی ریاستوں میں تخریبی سرگرمیاں۔۔۔ لیکن مودی جی کے آنے کے بعد ان تینوں محاذوں پر انڈیا محفوظ ہے اور ان سبھی علاقوں میں امن قائم کر لیا گیا۔‘
کشمیر میں کئی حلقے یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر واقعی کشمیر میں مکمل امن قائم ہے، تو پڑوس میں ہونے والی جنگ کے نتائج پر عوامی ردعمل اتنا بڑا خطرہ کیوں بنا کہ ایک ہفتے تک عام زندگی معطل رہی؟پہلے دیکھتے ہیں کہ گذشتہ ہفتے کے دوران خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں اُبھری احتجاجی لہر کے دوران کیا ہوا تھا؟
لال چوک میں ہزاروں کا اجتماع، گھنٹہ گھر پر خامنہ ای کا پوسٹر
خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر عام ہوتے ہی یکم مارچ کی صبحپلوامہ، بڈگام، بارہمولہ اور دیگر اضلاع سے شیعہ اور سنی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک پہنچے تھے جہاں انھوں نے ایران کے حق میں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔
ان مظاہرین میں شامل بعض نوجوانوں نے لال چوک کے گھنٹہ گھر پر چڑھ کر وہاں خامنہ ای کا ایک بڑا پوسٹر آویزاں کر دیا تھا۔
کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے یکم مارچ کی شام مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’لوگوں کو اپنے محبوب لیڈر کی ہلاکت پر ماتم کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔‘
حالانکہ یکم مارچ کو ہونے والے مظاہرے پرامن رہے تھے لیکن اگلے روز پورے کشمیر میں ہو کا عالم تھا۔ سنہ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے تقریباً سات سال بعد پہلی مرتبہ لال چوک کی سڑکوں پر خاردار تاریں بچھا کر پورے شہر کو سیل کر دیا گیا۔
سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایک ہفتے کی چھٹی کا اعلان کیا گیا اور موبائل انٹرنیٹ کو معطل کر دیا گیا۔
Getty Imagesسرینگر میں ہزاروں افراد نے خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ کیادرجنوں افراد گرفتار، اخباروں کے ویب ایڈیشن بلاک
ان بندشوں کے بعد سرینگر، بارہمولہ اور بڈگام کے کئی علاقوں میں لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کر کے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ سرینگر کے جڈی بل کے علاقے میں مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے مظاہرین سے خامنہ ای کا پوسٹر چھین کر اسے پھاڑا جس کے نتیجے میں وہاں سکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں۔
بعض مقامات پرپولیس کی جانب سے مظاہروں میں شامل خواتین پر کیے جانے والے تشدد کی ویڈیوز وائرل ہوئیں تو حالات مزید کشیدہ ہو گئے جس کے بعد حکومت نے بندشوں کو مزید سخت کر دیا۔
پولیس کے اس رویے کی سیاسی حلقوں نے شدید مذمت کی تاہم پولیس نے دعویٰ کیا کہ ’لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال پرامن مظاہروں کے خلاف نہیں بلکہ توڑ پھوڑ اور امن و قانون میں خلل ڈالنے کی کوششوں کے خلاف کیا گیا۔‘
ان جھڑپوں میں چھ سکیورٹی اہلکاروں سمیت 14افراد زخمی ہوئے۔
عوامی اشتعال کو دیکھتے ہوئے بندشوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا اور اس دوران درجنوں نوجوانوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ سیاسی حلقوں نے دعویٰ کیا کہ مجموعی طور پر 120 نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔
تاہم پولیس نے 44 افراد کی باقاعدہ گرفتاری کا اعتراف کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ چند افراد کو ’حفاظتی تحویل‘ میں لیا گیا مگر بعدازاں ان میں سے زیادہ تر کو رہا کر دیا گیا۔
اس دوران جھڑپوں کی کوریج کو روکنے کے لیے حکومت نے معروف اخبارات ’گریٹر کشمیر‘، ’کشمیر لائف‘ اور ’رائزنگ کشمیر‘ کے سوشل میڈیا ہینڈلز کو بلاک کر دیا۔
ان اداروں پر انڈیا کے آئی ٹی ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ قدغنوں اور مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائیوں کے خلاف بیان دینے پر رکن پارلیمان آغا رُوح اللہ اور مقامی سیاسی رہنما جُنید عظیم متو کے خلاف پولیس نے مقدمے درج کیے اور ان کو دی گئی سرکاری سکیورٹی کو واپس بُلا لیا۔
بڈگام کے ایک طالب علم دانش حُسین نے بتایا کہ ’پہلے دن تو حکومت نے نرمی برتی اور لوگوں نے کوئی تشدد نہیں کیا۔ صرف ماتم کیا گیا اور احتجاج ہوا۔ دوسرے دن سے پولیس کا شدید ردعمل سامنے آیا۔ اب لوگوں کو لگتا ہے کہ حکومت ان مظاہروں کو برداشت نہیں کرے گی، اس لیے حالات کو دیکھتے ہوئے اب لوگ دوبارہ خاموش ہو گئے ہیں۔‘
ایک ہفتے کی کشیدگی کے بعد پیر (نو مارچ) سے کشمیر میں معمول کے حالات بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں، حکومتی سطح پر عائد کردہ پابندیوں کو ختم کر دیا گیا، تعلیمی ادارے کھل گئے اور موبائل انٹرنیٹ کو بحال کر دیا گیا۔
’برسوں سے دبے غصے کا کُھلا اظہار‘Getty Imagesکشمیر کے مختلف علاقوں میں لوگ اپنے گھروں سے باہر اور انھوں نے احتجاج کیا
مبصرین کی اکثریت اس بات پر متفق نظر آتی ہے کہ کشمیر میں گذشتہ کئی برس پر محیط خاموشی کے وقفے کو مکمل امن سمجھنا غلطی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کہتے ہیں کہ ’یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ طویل خاموشی کے بعد لوگوں کا غصہ سڑکوں پر پھوٹ پڑا ہو۔ سنہ 1947 کے خونین اثرات جب کم ہوئے تو کشمیر میں جیسے تیسے خاموشی ہوئی لیکن خودمختار کشمیر کے اُس وقت کے حکمران شیخ عبداللہ کو معزول کر کے گرفتار کیا گیا تو ہر طرف مظاہرے ہوئے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی طرح 1964 میں حالات پرامن تھے اور سیاحت عروج پر تھی کہ ایک درگاہ سے تبرکات کی چوری کا واقعہ اتنا طول پکڑ گیا کہ پورا کشمیر کئی ہفتوں تک سڑکوں پر تھا اور رائے شماری کا مطالبہ کر رہا تھا۔ یہی سب خاموشی کے طویل وقفوں کے بعد 1975 اور 1986 کے دوران بھی ہوا۔‘
ڈاکٹر حُسین کا کہنا ہے کہ خاموشی کے ان وقفوں کو حقیقی امن قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ’خاموشی کے یہ وقفے متاثرین اور ناراض حلقوں سے بات کرنے اور ان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے استعمال کرنا ہوتا ہے لیکن اس کے برعکس اسی خاموشی کو مستقل امن سمجھا جاتا ہے۔‘
کشمیر ہائی کورٹ کے ایک معروف وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’جس گھنٹہ گھر کی آرائش پر کروڑوں روپے صرف کیے گئے اور پچھلے کئی برسوں سے یہاں انڈین سیاح سیلفی لیتے تھے اور اسے قیام امن اور آئینی انضمام کی علامت سمجھا گیا وہاں ایک بار پھر سے مظاہرے ہوئے اور گھنٹہ گھر پر چڑھ کر نوجوانوں نے نعرے بازی کی۔ امن دراصل کوئی ایونٹ نہیں کہ اس کا افتتاح کیا جائے، یہ ایک عمل ہے جو متاثرین کے ساتھ مل کر شروع کیا جاتا ہے تاکہ اس کا نتیجہ پائیدار امن کی صورت میں سامنے آئے۔‘
قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور دوسرے رہنما گذشتہ کئی برس سے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ کشمیر میں مکمل امن قائم کیا گیا۔ زمینی حالات بھی بظاہر ان دعوؤں کی تصدیق کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ 2019 کی سبھی علیٰحدگی پسند تنظیموں کو کالعدم کر کے ان کی قیادت کو قید کیا گیا۔
اس دوران نہ کوئی ہڑتال ہوئی، نہ مظاہرے ہوئے اور نہ ہی کہیں پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا تاہم اکثر مبصرین اس صورتحال کو ’خاموشی کا ایک وقفہ‘ ہی قرار دے رہے ہیں۔
’کشمیری دلّی سے بہت دُور ہو گئے ہیں‘
واضح رہے جون 2021 میں وزیراعظم نریندر مودی نے نئی دلی میں اپنی سرکاری رہائش پر کشمیر کی سبھی سیاسی جماعتوں کے ایک آل پارٹی اجلاسسے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ’میں کشمیر کی دلّی سے دُوری، اور دِل سے دُوری، دونوں کو ختم کرنے آیا ہوں۔‘
تاہم اس بیان کے طویل عرصہ بعد گذشتہ برس نئی دلّی میں مقیم ’گروپ آف کنسرنڈ سٹیزنز‘ نامی تنظیم نےکشمیر اور جموں کا طویل دورہ کیا اور دسمبر میں ایک رپورٹ جاری کی۔ ماضی میں بی جے پی حکومت کے وزیر خارجہ رہنے والے یشونت سنہا کی قیادت میں اس گروپ میں سابق نائب ائیر مارشل کپِل کاک، معروف صحافی بھارت بھوشن اور امن رضاکار سوشوبھا بھاروے شامل ہیں۔
انھوں نے دورے کے دوران کشمیر اور جموں میں سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں سے ملاقاتوں کے بعد جو رپورٹ جاری کی اس میں لکھا کہ ’کشمیری دلّی سے بہت دُور ہو گئے ہیں۔ لوگ ابھی بھی صدمے میں ہیں، انھیں صدمہ ہے کہ (آرٹیکل 370 اور ریاست کا درجہہٹانے سے) انھیں بے عزّت کیا گیا، وہ خود کو پہلی بار پسپا اور بے اختیار سمجھتے ہیں۔ یہ خطرناک صورتحال ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق ’صحافیوں پر قدغنوں، اظہار رائے کی آزادی سلب کرنے اور سیاسی اختلافات کو وطن دشمنی قرار دینے کے بیانیے نے کشمیریوں کو واقعی خاموش کر دیا۔‘
یشونت سنہا کا کہنا ہے کہ ان کے گروپ کا حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور وہ حکومت اور لوگوں کے درمیان ایک پُل کا کام کرنا چاہتے ہیں۔
رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ کشمیریوں کی مذہبی آزادی پر قدغنوں سے لوگوں میں ناراضی پائی جاتی ہے۔
تاریخی جامع مسجد کے خطیب اور کالعدم حریت کانفرنس کے سابق رہنما اور متحدہ مجلس علما کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کے ساتھ ہوئی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں لکھا گیا کہ ’میر واعظ کو جمعہ کے خطبے کا متن جمعرات کو ہی پولیس کو دینا پڑتا ہے اور اکثر انھیں جمعہ کے لیے جامع مسجد جانے سے روکا جاتا ہے۔ انھیں کسی جوڑے کا نکاح پڑھوانا ہو تو پہلے دلہا اور دلہن کا مکمل بیک گراونڈ چیک کیا جاتا ہے، یہ عمل مکمل ہونے کے بعد ہی انھیں نکاح پڑھوانے کی اجازت ملتی ہے۔‘
رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ موجودہ صورتحال اس قدر گھمبیر ہے کہ کشمیری نوجوان اب خود کو ’منشیات کی لت اور انتہاپسندی کے بیچ پھنسا ہوا پا رہے ہیں۔‘
اس رپورٹ سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں گروپ کے رکن ائیر وائس مارشل (ر) کپِل کاک نے بتایا کہ ’زمینی حقائق اُن دعوؤں سے کوسوں دُور ہیں جو نئی دلی کر رہی ہے۔‘
لنڈسے گراہم کی جنگ میں شامل نہ ہونے پر ’ریاض کو دھمکی‘: سعودی عرب امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائی کا حصہ بننے سے کیوں گریز کر رہا ہے؟’یہ امریکی ٹوماہاک میزائل تھا‘: ایران میں سکول کے قریب حملے کی ویڈیو کا جائزہ کیا ظاہر کرتا ہے؟پاکستان یہ سب نہ کرے تو اور کیا کرے؟بحرین میں ایرانی حملوں کی ویڈیوز پھیلانے کے الزام میں گرفتار پانچ پاکستانیوں کو ’سخت سزاؤں‘ کا سامناآیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پرتشدد واقعات میں مرنے والے کون تھے؟: ’کال آئی کزن زخمی ہے، ہسپتال پہنچا تو بھائی اور کزن دونوں مر چکے تھے‘