کابل میں منشیات بحالی مرکز پر فضائی حملہ: ’قیامت کا منظر تھا، میرے دوست آگ میں جل رہے تھے‘

بی بی سی اردو  |  Mar 18, 2026

Reutersافغان حکام کے مطابق ملبے میں مزید زخمیوں اور لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے

کابل میں ایک فضائی حملے کے نتیجے میں تباہ ہونے والے منشیات بحالی مرکز کے ملبے کو ہٹانے اور مزید ممکنہ زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔

امید ایڈکشن ٹریٹمنٹ سینٹر پر ہوئے اس حملے میں ہونے والی ہلاکتوں کی حتمی تعداد تاحال معلوم نہیں ہے مگر طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر متقی کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں اب تک 408 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بی بی سی آزادنہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کر سکتا ہے تاہم کابل میں فارینزک لیبارٹری کے ذرائع نے بی بی سی کو تصدیق کی تھی اس حملے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

افغان حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جبکہ متعدد افراد شدید زخمی بھی ہیں۔

یاد رہے کہ طالبان حکومت کے ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ نشے کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو پیر کی شام پاکستان کی جانب سے کیے گئے ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے تاہم پاکستان نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا پاکستان کی جانب سے پیر کی شام کیے گئے فضائی حملے میں کابل اور مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں فوجی تنصیبات اور ’دہشت گردوں کے مراکز‘ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

افغان وزارتِ صحت کے ترجمان شرافت زمان امرخیل نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مرکز کے قریب کسی قسم کی عسکری تنصیبات نہیں ہیں۔

طالبان حکام کے مطابق اس مرکز میں تقریباً دو ہزار افراد زیرِ علاج تھے۔

دوسری جانب کابل میں کچھ ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے بعد طالبان حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر متقی نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا جب افغانستان چین کی ثالثی میں مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کر رہا تھا۔

متقی نے اس حملے کے تناظر میں پاکستان کے خلاف جوابی کارروائیوں کی دھمکی بھی دی ہے۔

ادھر افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کے ساتھ تصویر شیئر کی اور لکھا کہ ’یہ وہ عام شہری اور منشیات کے عادی افراد تھے جن کی اکثریت پاکستانی فضائی حملے میں ہلاک ہوئی ہے۔‘

’قیامت کا منظر تھا، میرے دوست آگ میں جل رہے تھے‘Getty Imagesحملے میں زخمی ہونے والے متعدد افراد کابل کے وزیر اکبر خان ہسپتال میں زیر علاج ہیں

محمد شفیع اس مرکز میں زیر علاج تھے اور حملے میں زندہ بچ جانے والے چند افراد میں شامل ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں کچن میں رات کے کھانے کی تیاری میں مدد کر رہا تھا جب اچانک زور دار دھماکے کی آواز آئی اور میں جان بچانے کے لیے بھاگ نکلا۔ جب میں واپس آیا تو دیکھا کہ میرے زیادہ تر ساتھی اور کھانے کے کمرے میں موجود لوگ زخمی یا ہلاک ہو چکے تھے۔ صرف پانچ افراد زندہ بچے تھے۔‘

میواند ہوش‌ مند اس مرکز میں ڈاکٹر کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’پیر کی رات چند مریضوں نے رات کا کھانا ختم کیا ہی تھا اور کچھ لوگ نماز پڑھنے میں مصروف تھے کہ لڑاکا طیاروں نے مرکز کے تین حصوں کو نشانہ بنایا۔‘

31 سالہ عمر ستانکزئی اس مرکز پر سکیورٹی گارڈ تعینات تھے۔ انھوں نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں نے فضا میں طیارے کے گشت کی آواز سُنی۔ ہمارے (مرکز کے) اردگرد فوجی یونٹ موجود تھے۔ جب اِن یونٹس نے طیارے پر فائر کیا تو اس نے بم گرائے جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔‘

50 سالہ احمد اس مرکز میں علاج کی غرض سے داخل تھے۔ انھوں نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’پورا مرکز آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ یہ قیامت کا منظر تھا۔ میرے دوست آگ میں جل رہے تھے اور ہم انھیں بچا نہیں سکے۔‘

پیر کی شب ہونے والے اس فضائی حملے کے بعد منگل کی صبح طبی عملے کے اراکین کو عمارت کے ملبے کے نزدیک درجنوں زخمیوں کا علاج کرتے دیکھا گیا۔ مرکز کی ٹوٹی ہوئی کرسیاں اور بستروں کے ڈھانچے ملبے میں نظر آ رہے تھے جبکہ مریضوں کے کمبل اور ذاتی سامان بکھرا ہوا تھا۔

EPA

انسداد منشیات مرکز کے باہر بڑی تعداد میں وہ لوگ جمع تھے جن کے عزیز وہاں زیر علاج تھے۔ پولیس کی گاڑیاں اور ایمبولینسیں مرکز کے گیٹ پر کھڑی تھیں۔

وہاں موجود ایک خاتون نے بی بی سی افغان سروس کو بتایا کہ وہ اپنے شوہر کو تلاش کرنے کے لیے یہاں پہنچی ہیں۔ ’گل میر (خاتون کے شوہر) سات ماہ سے یہاں زیر علاج تھے۔ پیر کی رات حملے کے بعد سے ہمیں اُن کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اُن کے ساتھ کیا ہوا۔‘

خاتون نے بتایا کہ وہ نو بچوں کی ماں ہیں۔

ایک اور خاتون، جن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، نے بتایا کہ اُن کا بیٹا گذشتہ چار ماہ سے اس مرکز میں زیر علاج تھا۔

’میں نے حکام سے پوچھا، لیکن کسی کو علم نہیں کہ میرا بیٹا کہاں ہیں۔ میں نے دوسرے مراکز میں بھی اسے تلاش کیا مگر وہ نہیں ملا۔ اب میں صبح سویرے یہاں آئی ہوں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔‘

EPAخواتین سمیت لواحقین کی بڑی تعداد مرکز کے ملبے کے نزدیک موجود ہے تاکہ اپنے پیاروں کا پتا چلا سکیں

اب تک اس مرکز سے نکالی گئی کم از کم 100 لاشیں کابل کے فرانزک میڈیسن ڈیپارٹمنٹ منتقل کی جا چکی ہیں۔ تاہم اس واقعے میں ہونے والی ہلاکتوں کی درست تعداد ابھی واضح نہیں ہے۔

ہلاک ہونے والے کچھ افراد کی شناخت ہو چکی ہے اور ان کی میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں تاہم کئی لاشیں بری طرح جھلس جانے کے باعث شناخت کے قابل نہیں رہی ہیں۔

پاکستان کا کیا مؤقف ہے؟

پاکستان نے منشیات بحالی مرکز پر فضائی حملہ کرنے کے الزامات کی پرزور تردید کی ہے اور اسے پراپیگنڈا قرار دیا ہے۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا دعویٰ ہے کہ پیر کی شب پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے کابل اور ننگرہار میں ’عسکری تنصیبات اور دہشت گردی کے ان مراکز کو نشانہ بنایا گیا جو افغانستان میں طالبان حکومت کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔‘

ایکس پر پوسٹ میں ان کا کہنا تھا: ’کابل میں دو مقامات پر تکنیکی معاونت کرنے والے انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز کو تباہ کیا گیا۔ حملوں کے بعد ہونے والے دھماکے بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ وہاں گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا تھا۔‘

عطا اللہ تارڑ نے مزید لکھا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج نے ننگرہار میں بھی افغان طالبان حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گردی کے چار مراکز کو نشانہ بنایا اور وہاں موجود اسلحہ اور تکنیکی انفراسٹرکچر تباہ کیا۔‘

پاکستانی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ ’تمام اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ صرف اُن تنصیبات تک محدود رکھا گیا جنھیں افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کی مدد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔‘

پاکستان کے عسکری ذرائع کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ’ویڈیو میں فضائی حملے کے بعد ایک دوسرے دھماکے کی وجہ سے اٹھنے والے شعلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک اسلحہ ڈپو تھا۔‘

بی بی سی ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتا۔

EPAجائے وقوعہ پر ریسکیو ٹیمیں تاحال کارروائیوں میں مصروف ہیںجہاں حملہ کیا گیا اس جگہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

ماضی میں یہ جگہ ’کیمپ فینکس‘ کے نام سے جانی جاتی تھی اور یہاں امریکی فوج کا ایک تربیتی کمپاؤنڈ ہوتا تھا۔ تاہم سنہ 2016 میں امریکہ کی جانب سے یہ جگہ چھوڑ دی گئی اور لگ بھگ سنہ 2017 میں افغان حکومت نے اس مقام کو منشیات کے عادی افراد کے علاج کرنے والے مرکز میں بدل دیا۔

سنہ 2021 میں افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے قیام کے بعد بھی اس جگہ کو ایک بحالی مرکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ عام طور پر منشیات کے عادی افراد کے لیے حراستی بحالی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔

طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد کابل کی سڑکوں سے نشے کے عادی افراد کو پکڑ کر اس مرکز منتقل کرنا شروع کیا تو یہ مرکز اپنی گنجائش سے زیادہ بھر گیا۔ ماضی میں ایک وقت پر طالبان حکومت نے بتایا تھا کہ مرکز میں موجود افراد کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ گئی تھی، اس سے قطع نظر کہ یہ مرکز بنیادی طور پر دو ہزار افراد کے لیے بنایا گیا تھا۔

اس مرکز پر زیر علاج رہنے کے بعد نشہ چھوڑنے والے ایک شخص نے بتایا تھا کہ مرکز کے کچھ کمروں میں مریضوں کی تعداد 100 تک بھی ہوتی تھی۔

نشے کے عادی افراد کو یہاں چھ ماہ تک بھی رکھا جاتا تھا۔

اس کے قریب نشے کی عادی خواتین کی بحالی کے لیے بھی ایک الگ چھوٹا مرکز موجود ہے جو بظاہر اس حملے میں محفوظ رہا ہے۔

بی بی سی نے سنہ 2023 میں اس مرکز کا دورہ کیا تھا اور یہاں موجود زیر علاج افراد اور حکام سے گفتگو کی تھی۔

BBCبی بی سی نے ماضی میں اس مرکز کا دورہ کیا تھا، اس موقع پر لی گئی تصویر، جس میں چند زیر علاج افراد دیکھے جا سکتے ہیںپاکستان اور افغانستان میں کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی نے گذشتہ ماہ دوبارہ شدت اختیار کی۔ پاکستان افغانستان پر شدت پسند گروہوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ افغانستان میں طالبان حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) کے مطابق 26 فروری سے دونوں ممالک کے درمیان جاری جھڑپوں کے نتیجے میں افغانستان میں کم از کم 75 افراد ہلاک اور 193 زخمی ہو چکے ہیں۔

پاکستان دعویٰ کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ان مراکز کو نشانہ بنا رہا ہے جو افغان حکومت کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے دونوں فریقوں نے اکتوبر میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا مگر جھڑپوں کا سلسلہ پھر بھی جاری رہا۔

چین دونوں ممالک میں ثالثی کی کوشش کر رہا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا: ’وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے گذشتہ ہفتے اپنے افغان اور پاکستانی ہم منصبوں سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے خصوصی ایلچی برائے افغان امور بھی افغانستان اور پاکستان کے دورے کر رہے ہیں۔ چین کے سفارت خانے بھی دونوں ممالک کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔‘

اقوام متحدہ میں چینی مشن کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے جاری کردہ اس بیان کے مطابق، چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امید ظاہر کی ہے ’افغانستان اور پاکستان تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد براہِ راست بات چیت کریں گے۔‘

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ ’جلد از جلد جنگ بند کریں اور اپنے اختلافات اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’چین مفاہمت میں سہولت کاری اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔‘

باجوڑ میں افغانستان کا مبینہ حملہ: عید کے لیے گھر آنے والے چار بھائی مارٹر گولے سے ہلاک ’والدہ اتنا بڑا غم برداشت کرنے کے قابل نہیں‘’سرخ لکیر عبور‘: افغان طالبان کے پاکستان کے مختلف شہروں میں ڈرون حملے اسلام آباد کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟کیا پاکستان اور افغانستان کے ایک دوسرے پر حملوں کے دوران چین کی ثالثی کی کوششیں کامیاب ہوں گی؟ ’اگر کابل پر حملہ ہو گا تو جواب میں اسلام آباد پر بھی حملہ ہو گا، ہم دس سال تک بھی لڑنے کے لیے تیار ہیں‘: افغان وزیر دفاعپاکستان نے افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ کیوں بنایا اور یہ جھڑپیں کب تک جاری رہیں گی؟افغان وزارت دفاع کا حمزہ کیمپ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ: ’راولپنڈی میں دو ڈرونز مار گرائے، کوئی نقصان نہیں ہوا،‘ آئی ایس پی آر
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More