’کپڑے اُتارنے کے دوران وہ مجھے گھور رہا تھا‘: جیفری ایپسٹین کا نیٹ ورک نوعمر لڑکیوں کو ماڈلنگ کی آڑ میں کیسے بھرتی کرتا تھا؟

بی بی سی اردو  |  Mar 21, 2026

انتباہ: اس سٹوری میں جنسی مناظر کی تفصیل ہے۔

’اگر میں اپنی والدہ کی بات نہ مانتے ہوئے نیویارک چلی جاتی تو میرا کیا ہوتا؟‘

یہ کہنا ہے گلاشیا فیکیٹے کا جو سنہ 2004 میں 16 سال کی عمر میں برازیل کے ایک دیہی علاقے میں رہتی تھیں اور ماڈلنگ کی دُنیا میں قدم رکھنے کو تیار تھیں۔

اُن کا دعویٰ ہے کہ فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ جین لوک برونیل اُن کی والدہ کو اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے اُن کے گھر آئے تھے کہ وہ (جین برونیل) انھیں مادلنگ کے مقابلے میں حصہ لینے کے لیے ایکواڈور لے جائیں گے۔

جین برونیل نے بعد میں جیل میں خودکشی کر لی تھی۔ اُن پر ریپ، جنسی تشدد اور جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کے لیے کم عمر لڑکیوں کی خدمات حاصل کرنے کا الزام تھا۔

16 سالہ گلاشیا نہیں جانتی تھیں کہ اصل میں جین برونیل کون ہیں اور کس دھندے میں ملوث ہیں۔

بی بی سی کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ جین برونیل نے کم عمر لڑکیوں کو بھرتی کرنے کے لیے اُن ماڈلنگ ایجنسیوں کا استعمال کیا جن سے وہ اُس وقت بطور ماڈلنگ ایجنٹ منسلک تھے۔

جین برونیل جنوبی امریکہ سے نوجوان خواتین اور لڑکیوں کو ایپسٹین کے لیے تلاش کرنے، بھرتی کرنے اور ایسی لڑکیوں کے لیے امریکی ویزوں کا بندوبست کرتے تھے۔

ایک اور برازیلی خاتون، جن کا دعویٰ ہے کہ اُن کے ایپسٹین کے ساتھ تعلقات تھے، نے بی بی سی کو اپنا امریکی ویزا بھی دکھایا۔

اس ویزے میں اُنھوں نے جین برونیل کی ماڈلنگ ایجنسیوں میں سے ایک کا نام اپنے سپانسر کے طور پر درج کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ اُنھوں نے کبھی بھی بطور ماڈل کام نہیں کیا اور سفری دستاویزات کا اہتمام صرف اس لیے کیا گیا تھا تاکہ انھیں ایپسٹین تک پہنچایا جا سکے۔

تاہم جب ماڈلنگ ایجنٹ برونیل 16 سالہ گلاشیا کی والدہ سے ملنے گھر آئے اور انھیں اپنی بیٹی کو بیرون ملک بھیجنے پر آماہ کرنے کی کوشش کی، تو والدہ نے ابتدائی طور پر برونیل پر اعتماد نہیں کیا۔

گلاشیا کے مطابق اُن کی والدہ کو برونیل ’بہت ہی دلکش‘ لگے اور جب باتوں کا سلسلہ طویل ہوا تو وہ اس بات پر متفق ہو گئیں اُن کی بیٹی ماڈلنگ کی غرض سے ایکواڈور جا سکتی ہے۔

اُس وقت 16 سالہ گلاشیا نے برونیل کی ٹیم کے ساتھ نیو جنریشن ماڈلز کے مقابلے کے لیے ’گویاکیل‘ نامی شہر کا سفر کیا۔ اُس وقت مقامی اخبارات میں بتایا گیا تھا کہ ماڈلنگ کے اس مقابلے میں شریک ہونے والی لڑکیوں کی عمریں 15 سے 19 سال کے درمیان تھیں۔

گلاشیا کا کہنا ہے کہ ماڈلنگ کا یہ مقابلہ اچھا چل رہا تھا، لیکن اس دوران اُنھیں اپنے خاندان سے رابطہ کرنے کی اجازت نہ ملنے پر کچھ غلط ہونے کا شک ہوا۔

مغربی یورپ سے اس مقابلے میں شریک ہونے والی لورا (جن کی عمر بھی اُس وقت 16 سال تھی) کہتی ہیں کہ اُنھیں برونیل کا رویہ کچھ عجیب سا لگا۔

لورا کا کہنا تھا کہ برونیل بہت عجیب شخصیت کے مالک تھے اور وہ ہمیشہ نوجوان خواتین کے ساتھ رہتے تھے۔ وہ ایک مسخرے کی طرح تھے اور بہت چھوٹی عمر کی لڑکیوں کے ساتھ گھومتے تھے۔

لورا کا خیال ہے کہ اگرچہ مقابلہ ’ٹھیک‘ اور منظم انداز میں چل رہا تھا، لیکن وہ (برونیل) اس دوران یہ پتا لگانے میں کامیاب ہو گیا تھا کہ اِن میں سے کون سی لڑکیاں کمزور ہیں اور باآسانی اس کے چنگل میں پھنس سکتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ برازیل اور مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں برونیل کا ہدف تھیں۔ گلاشیا بتاتی ہیں کہ اس مقابلے کے اختتام پر برونیل نے انھیں تمام اخراجات ادا کر کے دیگر ماڈلنگ کے ’شوز‘ میں شرکت کے لیے نیویارک لے جانے کی پیشکش کی۔

نیویارک جانے کی اجازت لینے کے لیے گلاشیا نے اپنی والدہ سے رابطہ کیا۔

والدہ کا جواب تھا کہ ’نہیں۔۔۔ بالکل نہیں۔‘

گلاشیا کی والدہ باربرا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کو پتا چل چکا تھا کہ وہ (برونیل) صرف لڑکیوں کی تلاش کر رہے تھے۔ ’بدقسمتی سے اُنھیں میری بیٹی مل گئی۔‘

والدہ باربرا نے گلاشیا کو مزید ماڈلنگ نہ کرنے اور برونیل کے نیٹ ورک سے رابطہ منقطع کرنے کا کہا۔

گلاشیا کہتی ہیں کہ ’میں واقعی بچ نکلی تھی۔‘

امریکی حکومت کی طرف سے جاری کی گئی فائلوں میں، بی بی سی کو ریکارڈ ملے ہیں کہ ایپسٹین 24 اور 25 اگست 2004 کو ’گویاکیل‘ میں تھے، جو اس ماڈلنگ مقابلے کے فائنل کا دن تھا جس میں گلاشیا اور لورا شریک تھیں۔

ہم نے ایسی دستاویزات بھی دیکھی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس مقابلے میں شرکت کرنے والی ایک 16 سالہ ماڈل نے اسی سال کم از کم دو مرتبہ ایپسٹین کے جہاز میں سفر کیا تھا۔

گلاشیا کہتی ہیں کہ ’جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو لگتا ہے کہ میں ایک طوفان کے درمیان کھڑی تھی اور میری ماں نے مجھے بچا لیا۔‘

Archivo de la familia Feketeگلاشیا (حالیہ تصویر) شکر گزار ہیں کہ اُن کی والدہ باربرا نے انھیں نیویارک جانے کی اجازت نہیں دی’تین لڑکیوں میں سے اُس نے میرا انتخاب کیا‘

ایک اور برازیلی خاتون، جن کی شناخت چھپائی گئی ہے، کا دعویٰ ہے کہ برونیل اور اُن کے ماڈلنگ کے کاروبار نےایپسٹین کے ساتھ اُن کے تعلقات کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اینا (فرضی نام) کو ابتدائی طور پر سنہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں برازیل کی ایک خاتون نے ساؤ پالو میں بھرتی کیا تھا۔

بی بی سی کی طرف سے جاری ہونے والی نظرثانی شدہ ایپسٹین دستاویزات اور امریکی محکمہ انصاف کے ریکارڈز سے پتا چلتا ہے کہ برونیل نے برازیلی خواتین کے لیے امریکی ویزوں کا بندوبست کرنے میں کس طرح مدد کی۔

اینا کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے جنوبی برازیل میں اپنا آبائی شہر چھوڑ دیا، جب وہاں رہنے والی ایک خاتون نے اُن سے ساؤ پالو میں انھیں ماڈلنگ کے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہاں پہنچنے پر، خاتون نے اُن کے سفری اور شناختی دستاویزات لے لیے اور پھر انھیں بتایا گیا کہ اُنھیں (اینا) اپنے سفر کے اخراجات اور شو کے دوران بنائی گئی پروفیشنل تصاویر کے لیے ادائیگی کرنا ہو گی۔ اینا کہتی ہیں کہ اس موقع پر اُنھیں احساس ہو گیا کہ یہاں ماڈلنگ کا کوئی کام نہیں ہے۔

’درحقیقت وہ ایک میڈم تھیں اور مجھے احساس ہو گیا کہ میں خود کو جسم فروشی کے لیے پیش کر رہی ہوں۔‘ اُن کے بقول اُس میڈم کے گاہکوں میں سے ایک جیفری ایپسٹین تھے۔

غلاف کعبہ: مذہب اسلام کے مقدس ترین مقام سے ’کسوہ‘ کے ٹکڑے جیفری ایپسٹین کو بھیجنے کا تنازعجیفری ایپسٹین کے دو ساتھی، جنھیں آج بھی ان کی دولت اور رازوں پر کنٹرول حاصل ہےجنسی مجرم جیفری ایپسٹین گرفتاری سے قبل مراکش میں ’بن النخیل‘ نامی محل کیوں خریدنا چاہتے تھے؟رومانوی مشوروں سے مالیاتی مدد تک: امیر اور طاقتور لوگ سزا یافتہ مجرم ایپسٹین کو انکار کیوں نہیں کر پاتے تھے؟

وہ بتاتی ہیں کہ جب وہ 18 سال کی ہوئیں، تو چند ہفتے بعد یہ خاتون انھیں ساؤ پالو میں ایک بڑی کاروباری شخصیت کے گھر لے گئیں اور وہاں اُنھوں نے ایپسٹین کا تعارف ’دُنیا کے بادشاہ‘ کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں کم عمر لڑکیاں پسند ہیں۔‘

چند روز بعد اینا اور دیگر دو لڑکیوں کو ساؤ پالو کے ایک لگژری ہوٹل میں بھیج دیا گیا، جہاں ایپسٹین کو ان میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ایپسٹین نے میرا انتخاب کیا۔‘

اینا کہتی ہیں کہ وہ ایپسٹین کے ساتھ ایک کمرے میں گئیں، جہاں ایپسٹین نے انھیں کپڑے اُتارنے کو کہا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’وہ کپڑے اُتارنے کے دوران مجھے گھور رہا تھا، یہ میرے لیے بہت ناگوار تھا، لیکن یہ اس کی بڑی برائیوں میں سے ایک چھوٹی سے برائی تھی۔‘

امریکی محکمہ انصاف کی فائلز، ای میلز اور فلائٹ ریکارڈز سے پتہ چلتا ہے کہ، جس دورانیے سے متعلق اینا بتا رہی تھیں، ایپسٹین اُس وقت برازیل میں ہی موجود تھے۔

اینا کہتی ہیں کہ ایپسٹین نے اُنھیں کچھ روز بعد شہر میں ہونے والی ایک پارٹی میں بھی مدعو کیا، جہاں اُن کی ملاقات ماڈلنگ ایجنٹ برونیل سے بھی ہوئی اور اُنھوں نے جلد ہی ان کے لیے امریکی ویزے کا بندوبست کرنے میں کردار ادا کیا۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ پارٹی کے دوران ایپسٹین نے انھیں بتایا کہ وہ کل (اگلے روز) پیرس جائیں گے اور اُنھوں نے پہلے ہی اُنھیں (اینا) ساتھ لے جانے کا بندوبست کر لیا ہے۔

فرانس کے سفر کے بارے میں اینا کا کہنا تھا کہ ایپسٹین نے اُنھیں 300 ڈالر دے کر کہا کہ ’تم باہر گھوم پھر آؤ، میں واپس آئی تو باقی رقم ایپسٹین کو لوٹا دی، لیکن اس نے مجھے یہ رکھنے کا کہا۔‘

اُن کے بقول ’ایپسٹین نے ہوٹل کے کمرے میں رقم رکھ کر میری دیانتداری کا جائزہ بھی لیا، جب میں نے یہ رقم واپس لوٹائی تو ایپسٹین نے کہا کہ یہ رقم تم رکھ لو۔‘

اینا کا کہنا تھا کہ ایپسٹین نے پھر انھیں بتایا کہ اُنھوں نے برونیل کو نیویارک میں اپنی ماڈلنگ ایجنسی میں ملازمت پر رکھنے کا بندوبست کیا تھا، اور یہ کہ میڈم نے اسے دستاویزات دیے تھے۔

اینا نے بی بی سی کو اپنا پاسپورٹ دکھایا، جس میں ایک امریکی بزنس ویزا لگا ہوا تھا جس پر سپانسر کے طور پر برونیل کی امریکہ میں واقع ماڈلنگ کمپنی ’کیرن ماڈلز‘ کا نام درج تھا۔

اینا کا دعویٰ ہے کہ اُنھوں نے امریکہ کی اس ماڈلنگ کمپنی ’کیرن ماڈلز‘ کے لیے کبھی کام نہیں کیا، لیکن انھیں بتایا گیا تھا کہ دستاویزات میں اس کمپنی کا نام بطور سپانسر لکھنے میں انھیں امریکہ کا ویزا ملنے میں مدد ملے گی۔ اینا کے مطابق اس ویزے کا واحد مقصد ایپسٹین سے ملنا تھا۔

AFP via Getty Imagesایپسٹین اینا کو پیرس لے گئے جہاں اُن کا ایک اپارٹمنٹ تھا

اینا کا بیان دیگر سامنے آنے والی دستاویزات سے مطابقت رکھتا ہے۔

عدالتی ریکارڈ اور امریکی محکمہ انصاف کی فائلیں بتاتی ہیں کہ ماڈلنگ ایجنٹ برونیل نے اپنی اُس ایجنسی کا استعمال کیا تھا جسے پہلے ’کیرن ماڈلز‘ اور بعد میں ’ایم سی ٹو‘ کا نام دیا گیا اور اس کمپنی کو کم لڑکیوں سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین کو راغب کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

اس ریکارڈ میں ’ایم سی ٹو‘ کے ایک سابق ملازم کی گواہی بھی شامل ہے، جس کا دعویٰ ہے کہ ایپسٹین نے اس کمپنی کے ذریعے آنے والی لڑکیوں کے ویزوں کے لیے ادائیگیاں کیں۔

جیل میں خودکشی کرنے سے قبل ماڈلنگ ایجنٹ برونیل نے کسی غلط کام میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔ اُن کے وکلا نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر ’بہت رنجیدہ‘ تھے جبکہ وہ ’میڈیا اور عدالتی نظام‘ کو بھی موردِ الزام ٹھہراتے تھے۔

اینا کا کہنا ہے کہ تقریباً چار ماہ تک اُنھوں نے ایپسٹین کے ساتھ امریکہ اور فرانس میں متعدد شہروں کا سفر کیا، جو اُن کے ساتھ ایپسٹین کی ’اُنسیت کا اظہار‘ تھا۔

اینا کا کہنا تھا کہ بعدازاں میامی میں اُن کا ویزا اُس وقت منسوخ کر دیا گیا جب امریکی حکام نے سوال کیا کہ اُن کے کام کی ادائیگی کون کر رہا ہے اور کیا وہ امریکہ میں کوئی رقم وصول کر رہی ہیں؟

اینا کا دعویٰ ہے کہ اُن کا امریکی ویزا منسوخ ہونے سے پہلے اُنھوں نے ایپسٹین کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے کم از کم چھ بار سفر کیا تھا۔

اُن کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ یو ایس ورجن آئی لینڈ میں ایپسٹین کے نجی جزیرے پر یہ سوچتے ہوئے گئیں کہ وہ ’مجھے اپنی گرل فرینڈ سمجھتا ہے۔‘ اینا کے مطابق بعدازاں ’میں نے اسے کسی اور کے ساتھ بستر پر پایا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اس وقت تک مجھے احساس نہیں تھا کہ اُنھوں نے بہت سی لڑکیوں کے ساتھ ایسا کیا ہے جو وہ میرے ساتھ کر چکے ہیں۔‘

اینا کہتی ہیں کہ ’کئی مواقع پر ایپسٹیننے مجھے گھر سے باہر جانے کا کہا، اُنھوں نے کہا تم میوزیم دیکھ آؤ، کلاسز میں جاؤ، شاید وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں دیکھوں کہ انھیں چھوٹی لڑکیاں پسند ہیں اور وہ اُن میں گِھرے ہوئے ہیں۔‘

اینا کہتی ہیں کہ اُنھوں نے ایپسٹین کے ساتھایک بار جنسی تعلق قائم کیا تھا اور یہ کہ ایپسٹین کو ’سونا، لپٹنا اور مالش کروانا پسند تھا۔‘

اینا کا کہنا ہے کہ ’ایپسٹین نے ایک بار مجھے بتایا کہ برونیل نے میرے (اینا) ساتھ سونے کی خواہش کا اظہار کیا۔ لیکن انھوں (ایپسٹین) نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ اینا صرف میری ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ یہ سُن کر انھیں سمجھ نہیں آئی کہ وہ اس بات پر گھبرائیں یا شکر بجا لائیں۔ اینا کہتی ہیں کہ ’اس کے بعد میں نے محسوس کیا کہ برونیل بھیڑیے کی طرح ہے جو ایک بھیڑ کے بچے کو ہمیشہ کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا ہے۔۔۔ پھر چاہے وہ میں ہوں یا کوئی اور لڑکی۔‘

اُن کا دعویٰ ہے کہ ہوٹل میں پہلی ملاقات اور پیرس کے سفر کے لیے، اس بات پر اتفاق ہوا کہ ایپسٹین برازیلی میڈم کو 10 ہزار امریکی ڈالرز ادا کریں گے۔ لیکن بعدازاں اس رقم کا صرف ایک حصہ ادا کیا گیا۔ میں نے وہ فون کالز بھی سنیں جس میں میڈم باقی رقم دینے کے لیے ایپسٹین پر دباؤ ڈال رہی تھیں۔

یہ اکاؤنٹ سنہ 2010 میں فلوریڈا کی عدالت کے سامنے ’ایم سی ٹو‘ (برونیل کی ماڈلنگ ایجنسی) کے ایک سابق اکاؤنٹنٹ کی طرف سے دی گئی گواہی سے مطابقت رکھتا ہے، جس کا حوالہ ایپسٹین فائلوں میں بھی دیا گیا ہے۔

اکاؤنٹنٹ نے بتایا تھا کہ برازیل کی ایک خاتون تھی جس نے برازیل میں ایپسٹین اور برونیل کے لیے لڑکیاں خریدی تھیں اور وہ مقررہ وقت پر طے کیا گیا معاوضہ نہ ملنے پر ناراض تھیں۔

اینا کہتی ہیں کہ ویزا کینسل ہونے کے بعد ایپسٹین نے انھیں امریکہ میں رہنے کے لیے مستقل رہائشی کارڈ کی پیشکش بھی کی تھی لیکن اُنھوں نے انکار کر دیا اور برازیل واپس جانے کا فیصلہ کیا۔

برازیل کے فیڈرل پبلک پراسیکیوٹر آفس ’ایم پی ایف‘ نے فروری 2026 میں تحقیقات کا آغاز کیا ہ تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا برازیل میں ایپسٹین سے منسلک کوئی بھرتی نیٹ ورک موجود تھا۔

برازیل کی وفاقی پراسیکیوٹر سنتھیا گیبریلا بورجیس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اُن خواتین سے بات کرنا چاہتی ہیں جن کا ایپسٹین سے رابطہ تھا تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ یہ نیٹ ورک کیسے کام کرتا تھا۔

برازیلی حکام کے مطابق اینا اور دوسروی لڑکیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ جنسی استحصال کی غرض سے کی جانے والی انسانی سمگلنگ تھی۔

گلاشیا اب شکر گزار ہیں کہ اُن کی والدہ نے اُنھیں نیویارک جانے کی اجازت نہیں دی، ورنہ اُن کے ساتھ کیا کچھ ہو گیا ہوتا۔ اینا بھی خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ اُنھوں نے ایپسٹین کی دُنیا کو خیرباد کہہ کر اپنی زندگی کو دوبارہ شروع کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ میں خوش قسمت تھی، لیکن مجھے اپنی جیسی دوسری خواتین کے لیے افسوس ہوتا ہے۔‘

غلاف کعبہ: مذہب اسلام کے مقدس ترین مقام سے ’کسوہ‘ کے ٹکڑے جیفری ایپسٹین کو بھیجنے کا تنازعنو عمر لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے تیار کرنے والی گیلین میکسویل کون ہیں؟ترکی میں ایپسٹین کی ’مساج گرل‘: ڈی پی ورلڈ کے سربراہ کا استعفیٰ اور بدنام زمانہ جنسی مجرم سے مبینہ روابط کی کہانیاینڈریو سے ’شہزادے‘ کا خطاب واپس لیے جانے کے بعد ان کی سابقہ اہلیہ اور بیٹیوں کا مستقبل کیا ہو گا؟ایپسٹین سکینڈل: شہزادہ اینڈریو، بل کلنٹن سمیت نامور شخصیات کا جنسی جرائم سے متعلق عدالتی دستاویزات میں ذکرسابق امریکی صدر اور پورن سٹار: ٹرمپ اور سٹورمی ڈینیئلز کی کہانی کیوں اہم ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More