فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شیعہ علما سے ملاقات کا احوال: ’ایران کے وفاداروں کی پاکستان سے نکل جانے کی بات ہوئی مگر اس کا پسِ منظر تھا‘

بی بی سی اردو  |  Mar 22, 2026

گذشتہ چند روز سے پاکستان کے سوشل میڈیا پر چند شیعہ علما کی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی ایک حالیہ ملاقات میں ہوئی گفتگو کے حوالے اپنی تنقیدی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اہل تشیع مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما سے یہ ملاقات 18 مارچ (بدھ) کو ہوئی تھی جس میں ’قومی سلامتی کے معاملات اور سماجی ہم آہنگی میں علمائے کرام کے کردار‘ پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

اس ملاقات کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکا کو پاکستان کی جانب سے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور فعال سفارتکاری کے بارے میں آگاہ کیا۔

19 مارچ کو جاری ہونے والے اس بیان میں کہا گیا تھا کہ ’کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

جبکہ فیلڈ مارشل نے ’معاشرے میں انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور باہمی اتحاد کو مضبوط کرنے میں علما کے اہم کردار پر زور دیا اور یہ بات دہرائی کہ مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق اس ملاقات کے دوران افغانستان کے خلاف جاری کارروائیوں کے حوالے سے بھی بات ہوئی اور فیلڈ مارشل نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی عوام کے خلاف دہشت گردی کے کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو برداشت نہیں کرے گا۔

تاہم اس ملاقات اور اس سے متعلق آئی ایس پی آر کا اعلامیہ سامنے آنے کے بعد اب پاکستان کے سوشل میڈیا پر فیلڈ مارشل سے ہونے والی اس ملاقات میں شامل علما، مولانا سید حسنین عباس گردیزی اور علامہ شفا نجفی، کی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں وہ سید عاصم منیر کے مبینہ ’سخت لب و لہجے‘، آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کے خطے میں پیش آئے پُرتشدد واقعات کو نو مئی کے واقعات سے مبینہ تشبیہ دینے، مبینہ طور پر ’ایران کے وفاداروں کے پاکستان سے نکل جانے‘ اور اس ملاقات کے دوران ’شیعہ علما کو فیلڈ مارشل سے براہ راست سوالات کرنے کا موقع نہ دینے‘ پر تنقید کر رہے ہیں۔

تاہم عسکری ذرائع نے اِن دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ’کچھ لوگ اپنے مفاداتکے لیے اِس ملاقات کے سیاق و سباق اور مندرجات کی غلط رپورٹنگ کے ذریعے جان بوجھ کر حقائق مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

عسکری ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ’متضاد بیانیے گمراہ کن معلومات کے اُس متوقع سلسلے کا حصہ ہیں، جسے ایسے عناصر آگے بڑھا رہے ہیں جن کی ساکھ پہلے ہی مشکوک ہے اور جن کا مقصد صرف ابہام پیدا کرنا ہے۔‘

دوسری جانب اس ملاقات میں شریک ایک شیعہ عالم عارف حسین واحدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایران کے وفاداروں کو پاکستان سے نکل جانے‘ کی بات کا پس منظر تھا اور یہ گلگت بلتستان میں پیش آئے پُرتشدد واقعات کی تناظر میں ہوئی جسے سوشل میڈیا پر غلط رنگ دیا گیا ہے۔

علامہ واحدی کا مزید کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کا لہجہ بھی صرف انھی واقعات (گلگت) کے تناظر میں ’تلخ‘ اور ’سخت‘ تھا لیکن اُن کی جانب علما کی کسی قسم کی توہین یا دھمکی دینے والی کوئی بات نہیں تھی۔

یاد رہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد کراچی، سکردو، گلگت اور اسلام آباد میں مظاہروں اور احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات پیش آئے تھے جن میں حکام کے مطابق مجموعی طور پر 32 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان شبیر میر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پرتشدد واقعات میں مشتعل مظاہرین کی جانب سے ہنگاموں کے دوران سکردو میں پاکستانی فوج کے 62 برگیڈ کے دفاتر اور 62 برگیڈ ہاؤس مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ اقوام متحدہ کا دفتر اور رہائشی عمارت بھی مکمل تباہ ہو گئی تھی۔

ان کے مطابق اسی طرح آرمی پبلک سکول اور دیگر سرکاری انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق ان واقعات میں مظاہرین کے علاوہ سکردو میں تین سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے جس کے بعد یہاں تین روزہ کرفیو نافذ کرنے کے علاوہ فوج کو بھی طلب کیا گیا تھا۔

بعد ازاں گلگت بلتستان میں حکام نے اعلان کیا تھا کہ فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ملزمان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں کیا جائے گا۔

بی بی سی نے 18 مارچ کو شیعہ علما کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی اس ملاقات میں شریک تین علما سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس طویل نشست میں کیا باتیں ہوئیں اور سوشل میڈیا پر بعض شیعہ علما کی جانب سے شکوے اور شکایات کا تناظر کیا ہے اور اس پر عسکری ذرائع نے کیا وضاحت پیش کرتے ہیں۔

’ہمیں لگا کہ جیسے ہم ہی شرپسند ہیں‘

بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے اس ملاقات میں شامل مولانا حسنین عباس گریزی کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 23 شیعہ علما اور دانشوروں کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے 18 مارچ کو افطار پر مدعو کیا گیا تھا۔

اُن کے بقول اس ملاقات میں اسلام آباد، لاہور، کراچی، پاڑہ چنار اور ڈیرہ اسماعیل خان سے آنے والے شیعہ علما شریک تھے۔

مولانا گردیزی کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے لگ بھگ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک تقریر کی اور اس کے آغاز میں اُنھوں نے بتایا کہ اُن کا آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے بہت اچھا تعلق تھا اور وہ ان سے تین مرتبہ مل بھی چکے ہیں۔

اس ملاقات میں شامل علامہ شفا نجفی نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل نے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای سے اپنی ملاقات اور ایران کا ذکر کیا اور شرکا کو بتایا کہ ’وہ (خامنہ ای) مجھ سے پیار کرتے تھے۔‘

مولانا گردیزی کے بقول فیلڈ مارشل کی تقریر کے ابتدائی حصے میں اُن (عاصم منیر) کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ جاری تنازع میں ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مولانا گردیزی کے مطابق ’یہاں تک تو سب ٹھیک چل رہا تھا، لیکن جب اُنھوں نے پاکستان کے حالات بالخصوص گلگت بلتستان میں پیش آئے واقعات پر گفتگو شروع کی تو اُن کا لہجہ جارحانہ ہوتا گیا اور یہ حاضرین نے محسوس کیا۔‘

اُن کے بقول فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ ’آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد جو کچھ ہوا وہ قابل قبول نہیں ہے اور خاص طور پر گلگت بلتستان میں بہت زیادہ جذباتی لوگ ہیں اور وہاں فوجی تنصیبات کو تباہ کیا گیا۔‘

مولانا گردیزی نے دعویٰ کیا کہ اس موقع پر ’فیلڈ مارشل نے یہ بھی کہا کہ جو ایران کا زیادہ وفادار ہے، وہ ایران چلا جائے، ہم ان کے لیے بارڈر بھی کھول دیں گے کیونکہ ان کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

اُنھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’وہ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک بولتے رہے، اُن کا لہجہ جارحانہ تھا اور ہمیں لگا کہ شاید ہم ہی شرپسند تھے اور یکم مارچ (کو پاکستان میں پیش آنے والے) واقعات کے ذمے دار ہیں۔ یہ کسی مکتب فکر کے علما سے گفتگو کرنے کا کوئی اچھا انداز نہیں تھا۔‘

تاہم اسی ملاقات میں موجود شیعہ علما کونسل کے نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے بی بی سی کو وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’ایران چلے جانے سے متعلق گفتگو صرف گلگت بلتستان میں ہونے والے واقعات کے تناظر میں تھی، سوشل میڈیا پر اسے غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’فیلڈ مارشل گلگت میں پیش آئے واقعات پر بہت زیادہ ناراض تھے کہ وہاں فوجی مراکز پر حملہ کیا گیا اور لوگ اندر گھسے۔ تو اُن مشتعل افراد کے بارے میں اُنھوں (عاصم منیر) نے کہا کہ اگر اُنھیں ایران سے زیادہ محبت ہے تو وہ وہاں چلے جائیں۔‘

علامہ واحدی کے مطابق ’اس سے غلط فہمی پیدا ہوئی کہ شاید اُنھوں نے پورے ملک کے لوگوں کے بارے میں کہا کہ جنھیں ایران سے محبت ہے، وہ وہاں چلے جائیں، حالانکہ ایسا اُنھوں نے کچھ نہیں کیا۔‘

پاکستان یہ سب نہ کرے تو اور کیا کرے؟پاکستان کی امریکہ سے قربت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ’ڈرائیونگ سیٹ‘ پر: ’ٹرمپ انھیں پسند کرتے ہیں جو وعدے پورے کریں‘

اس ملاقات میں شریک علامہ شفا نجفی نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ جب گلگت میں پیش آئے واقعات کی بات کرتے ہوئے فیلڈ مارشل کا لہجہ تلخ ہوا اور ایران جانے کی بات ہوئی تو انھوں نے فیلڈ مارشل کی تقریر کے دوران ٹوک کر کہا کہ ’جہاں بھی فسادات ہوتے ہیں وہاں شرپسند ہوتے ہیں، ہم پوری شیعہ قوم کے نمائندے ہیں اور آپ ہم سے مخاطب ہیں۔‘

’اگر کسی جگہ شرپسندی ہوئی ہے تو یہاں موجود قائدین کی حمایت یا حکم پر ایسا نہیں ہوا۔ ملوث افراد کو سزا دیں مگر ہمیں مخاطب کر کے یہ باتیں نہ کریں کیونکہ ہم شیعہ قوم کے نمائندے ہیں۔ پاکستان کے لیے ہمارے عزیز شہید ہوئے ہیں، ہم پاکستان اور فوج کے دشمن نہیں ہیں۔‘

شفا نجفی کے مطابق ’پوری قوم کو مخاطب کر کے ان کی سرزنش کرنا یا ڈرانا دھمکانا درست نہیں ہے۔ ہم سامنے بیٹھے تھے۔ انھوں نے شیعہ علما کو بلایا تھا۔ شیعہ علما کو سنانے کی ضرورت نہیں تھی۔‘

دوسری جانب مولانا گردیزی کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کی تقریر سے تاثر ملا کہ ’ہماری حب الوطنی پر شک کیا گیا ہے، ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے۔‘

مولانا حسنین گردیزی کہتے ہیں کہ ’اب یہ کہا جا رہا ہے کہ فیلڈ مارشل کا مخاطب کچھ اور تھا، لیکن سامنے تو ہم ہی بیٹھے تھے ناں۔ اُن کی گفتگو سے تاثر یہ ملا کہ شاید ہم ہی یکم مارچ کے واقعات کے ذمے دار تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب فیلڈ مارشل کی طویل تقریر ختم ہوئی تو ہم سب نے ہی یہ محسوس کیا کہ اُن کا لہجہ بہت تلخ تھا اور اتنے ذمے دار اور قوم کی نمائندگی کرنے والے علما سے اس قسم کی گفتگو نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘

تاہم علامہ عارف حسین واحدی کہتے ہیں کہ ’فیلڈ مارشل کا لہجہ گلگت والی بات پر تلخ ضرور تھا، لیکن علما کی کسی قسم کی توہین یا دھمکی دینے والی کوئی بات نہیں تھی۔‘

’فیلڈ مارشل کے لہجے میں صرف گلگت والے معاملے میں سختی تھی، لیکن باقی اُنھوں نے اچھی گفتگو کی، علما کو عزت دی اور ایران کی حمایت کی۔‘

مولانا حسنین گردیزی کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کے بعد جو صورتحال سامنے آئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر یہ ملاقات نہ ہی ہوتی تو اچھا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ شیعہ علما علاقائی کشیدگی کے تناظر میں اپنی بات بھی سامنے رکھنا چاہتے تھے مگر پہلے بتایا گیا کہ تقریر کے بعد بات ہو گی مگر بعدازاں فیلڈ مارشل علما کی کوئی بات سُنے بغیر چلے گئے، تاہم سکیورٹی ذرائع اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔

ان دعوؤں اور الزامات پر عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ’فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اہل تشیع علما سے ملاقات معاشرے کے مختلف طبقات سے رابطوں کا تسلسل تھا۔۔۔ اس ملاقات کے سیاق و سباق اور مندرجات کی غلط رپورٹنگ کے ذریعے کچھ لوگ جان بوجھ کر حقائق مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

عسکری ذرائع کے مطابق موجودہ بحران کے سیاق و سباق میں اُن (فیلڈ مارشل) کا پیغام بالکل واضح اور تسلسل کے ساتھ یہی رہا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور اس تنازع کا فوری اختتام چاہتا ہے اور اس سمت میں تمام تر کوششیں کی جا رہی ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شیعہ علما کے ساتھ افطار اور نماز کی ادائیگی

مولانا گردیزی کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تقریر اتنی طویل ہوئی کہ فقہ حنفیہ کے مطابق افطار کا وقت بھی گزر گیا اور اس دوران اُنھوں (عاصم منیر) نے پوچھا کہ فقہ جعفریہ کا افطار کا وقت کیا ہے اور بعدازاں اُنھوں نے ہمارے ساتھ ہی افطار کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ افطار کے بعد فیلڈ مارشل نے شیعہ علما کے ساتھ ہی نماز ادا کی۔ ’ہم اُن سے سوالات کرنا چاہتے تھے، لیکن وہ وہاں سے چلے گئے اور بعدازاں ڈی جی کے ساتھ ہونے والی نشست میں ہم نے اپنے تحفظات اُن کے سامنے رکھے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کے بعد جاری ہونے والے آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں بھی شیعہ علما کے تحفظات کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

تاہم علامہ واحدی کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل کی گفتگو کے دوران شیعہ علما درمیان میں سوالات کرتے رہے تھے۔ ’اُنھوں نے ہمارے ساتھ افطار کیا، نماز ادا کی اور کھانا بھی کھایا اور اس دوران بھی وہ علما سے گفتگو کرتے رہے۔‘

جبکہ علامہ شفا نجفی نے بھی اس بات کی تردید کی کہ فیلڈ مارشل نے شیعہ علما سے کوئی سوال لیا۔ ’ان کی تقریر میں سکردو میں فوجی دفاتر پر حملوں کی بات کے دوران میں نے ہی انھیں روک کر ایک موقع پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ اس کے علاوہ فیلڈ مارشل سے کوئی براہ راست سوال نہیں ہوا۔‘

تاہم عسکری ذرائع اس کی تردید کرتے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں علما کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع نہ دینے کا دعویٰ بھی غلط ہے۔ ’علما نے توسیع شدہ نشست میں آزادانہ طور پر حصہ لیا اور مکالمےپر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔‘

پاکستان یہ سب نہ کرے تو اور کیا کرے؟پاکستان کی امریکہ سے قربت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ’ڈرائیونگ سیٹ‘ پر: ’ٹرمپ انھیں پسند کرتے ہیں جو وعدے پورے کریں‘کیا پاکستان کی امریکہ پالیسی واقعی کامیاب رہی ہے؟شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات اور ایران جنگ کے پس منظر میں پاکستان کے سٹریٹیجک خدشات’برادر ملک ایران سمجھداری کا مظاہرہ کرے‘: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات اور دفاعی معاہدے کا ذکر
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More