محمد باقر قالیباف: وہ ایرانی سیاستدان جو امریکہ سے امن مذاکرات کی قیادت کر سکتے ہیں

بی بی سی اردو  |  Mar 29, 2026

NurPhoto via Getty Images

ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کو جنگ کے دوران ایک اہم کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق انھیں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رؤٹرز نے ایک پاکستانی ذریعے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ قالیباف کو اسرائیل کی اُس فہرست میں سے ہٹا دیا گیا ہے کہ جنھیں اُس کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے امکانات ہیں۔

ذرائع کے مطابق ’اسرائیلیوں کے پاس ان کے ٹھکانے کی معلومات تھیں اور وہ انھیں نشانہ بنانا چاہتے تھے ہم نے امریکہ کو بتایا کہ اگر انھیں بھی ختم کر دیا گیا تو بات چیت کے لیے کوئی باقی نہیں رہے گا، جس پر امریکہ نے اسرائیل سے پیچھے ہٹنے کو کہا۔‘

پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔

اگرچہ 64 سالہ قالیباف نے دشمنوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’ہماری سرزمین کے دفاع کے عزم کو نہ آزمائیں‘ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ’مسلسل حملوں‘ کی دھمکی بھی دی ہے تاہم امریکی میڈیا ادارے پولیٹیکو کے مطابق کچھ امریکی حکام انھیں ایک قابلِ عمل شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔

AFP via Getty Imagesقالیباف 2024 کے صدارتی انتخابات میں چھ امیدواروں میں سے ایک تھے، جو ابراہیم رئیسی کی وفات کے بعد منعقد ہوئے تھے۔

قالیباف ماضی میں کئی بار صدارتی انتخابات میں ناکام رہے ہیں۔ تاہم جب کہ امریکی اسرائیلی حملوں میں کئی سینیئر رہنما ہلاک ہو چکے ہیں پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات، حکومت کے مختلف شعبوں میں ان کا تجربہ، اور ایک عملی سخت گیر رہنما کے طور پر ان کی شناخت انھیں اقتدار کے ایک نئے درجے تک پہنچا سکتی ہے۔

’مجھے لاٹھی استعمال کرنے پر فخر ہے‘

العربیہ کے مطابق جو ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کا عربی زبان کا ٹی وی چینل ہے، قالیباف شمال مشرقی شہر طرقبہ میں ایک مذہبی، محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانے میں پیدا ہوئے۔

ان کا آبائی شہر مشہد کے قریب ہے جہاں پاسدارانِ انقلاب کی کچھ نمایاں شخصیات نے زندگی گزاری ہے۔

16 سال کی عمر میں انھوں نے مشہد کی بڑی مساجد میں انقلابی علما کے دروس میں شرکت شروع کی جن میں علی خامنہ ای بھی شامل تھے جو بعد میں رہبرِ اعلیٰ بنے۔

سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے فوراً بعد قالیباف نے عراق کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا اور 20 سال کی عمر میں آئی آر جی سی میں شمولیت اختیار کی۔ دو سال بعد وہ اس کی ایک جنگی ڈویژن کے کمانڈر بن گئے یہ عہدہ انھوں نے سنہ 1988 میں جنگ کے خاتمے تک سنبھالے رکھا۔

Pacific Press/LightRocket via Getty Imagesمحمد باقر قالیباف چار بار صدارتی انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں، جن میں 2024 بھی شامل ہے۔

قالیباف نے اسی سال شادی کی جس سال وہ آئی آر جی سی کے کمانڈر بنے اور العربیہ کے مطابق ان کی شادی کی تقریب کے مہمانِ خصوصی رہبرِ اعلیٰ روح اللہ خمینی تھے۔ ان کے تین بچے ہیں۔

جنگ کے بعد قالیباف نے تیزی سے ترقی جاری رکھی اور سنہ 1997 میں آئی آر جی سی ایئر فورس کے کمانڈر بن گئے۔

جولائی سنہ 1999 میں اصلاح پسند اخبار کی بندش کے بعد شروع ہونے والے طلبہ احتجاج نے اسلامی جمہوریہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس تحریک کو پرتشدد طریقے سے کچلا گیا جس کے نتیجے میں کئی اموات ہوئیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ قالیباف ذاتی طور پر اس کریک ڈاؤن میں شامل تھے۔

ایک لیک شدہ آڈیو فائل میں انھیں یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’اب میری ایک تصویر موجود ہے جس میں میں 1000 سی سی موٹر سائیکل پر لاٹھی پکڑے ہوئے ہوں۔۔۔ جہاں بھی سڑکوں پر آ کر لاٹھی استعمال کرنے کی ضرورت ہو ہم ان لوگوں میں شامل ہیں جو یہ کام کرتے ہیں۔ اور ہمیں اس پر فخر ہے۔‘

اس احتجاج کے بعد آئی آر جی سی کے 24 کمانڈرز نے اس وقت کے ایرانی صدر، اصلاح پسند محمد خاتمی کو ایک سخت الفاظ پر مشتمل خط لکھا، جس میں آئی آر جی سی کی مداخلت کی دھمکی دی گئی تھی۔ قالیباف نے کہا کہ وہ ان دو کمانڈرز میں شامل تھے جنھوں نے یہ خط تیار کیا اور دستخط جمع کیے۔

بہت سے لوگ اس خط کو سیاسی معاملات میں آئی آر جی سی کے اثر و رسوخ کے واضح اعلان کے طور پر دیکھتے ہیں جو اس کے بعد سے مسلسل بڑھتا گیا ہے۔

محمد باقر ذوالقدر: علی لاریجانی کے جانشین اور ایران میں سخت گیر قدامت پسند کیمپ کے اہم رکن کون ہیں؟ایران اور امریکہ اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے مال بردار جہاز کراچی کا رخ کیوں کر رہے ہیں؟’اسرائیل تہران کا پہلا ہدف نہیں‘: کیا ایران جنگ کی سب سے بڑی قیمت متحدہ عرب امارات چُکا رہا ہے؟جے شنکر کے بیان پر انڈیا اور پاکستان دونوں میں مایوسی: ’ہماری سفارتی ناکامی نے ایک ٹوٹے ہوئے ملک کو ثالث بنا دیا‘پولیس چیف سے تہران کے میئر تک

طلبہ احتجاج کے ایک سال بعد، قالیباف کو 39 سال کی عمر میں پولیس چیف مقرر کیا گیا۔

اپنے پانچ سالہ دور میں انھوں نے قومی ایمرجنسی پولیس ہاٹ لائن قائم کی اور پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایات درج کرانے کے عمل کو آسان بنایا۔

انھوں نے پولیس فورس کو غیر ملکی گاڑیوں سے لیس کرنا اپنی نمایاں کامیابیوں میں شمار کیا تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پر لاگت بہت زیادہ آئی۔

سنہ 2005 میں قالیباف نے پولیس چیف کے عہدے سے استعفیٰ دیا اور صدارتی انتخابات میں حصہ لیا۔ شکست کے بعد، انھیں سٹی کونسل نے تہران کا میئر منتخب کر لیا۔

وہ 12 سال تک اس عہدے پر فائز رہے اور اب بھی دارالحکومت کے سب سے طویل عرصہ تک میئر رہنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔

انھیں میٹرو سسٹم کی توسیع اور ٹریفک سے بھرے دارالحکومت میں ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے، جیسے صدر ایکسپریس وے، کو بہتر بنانے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔

AFP via Getty Imagesطلبہ احتجاج کے ایک سال بعد، قالیباف کو 39 سال کی عمر میں پولیس چیف مقرر کیا گیا۔

تاہم سنہ 2016 کے ’فلکیاتی جائیدادوں‘ کے سکینڈل کے بعد قالیباف کی ساکھ کو دھچکا لگا، جس میں سٹی کونسل پر الزام تھا کہ اس نے سینکڑوں جائیدادیں حکام اور سکیورٹی اہلکاروں کو بہت زیادہ رعایت پر فروخت کیں بعض اوقات مارکیٹ قیمت سے 50 فیصد تک کم۔

قالیباف کے عہدہ چھوڑنے سے چند ماہ قبل، 17 منزلہ پلاسکو عمارت جو ایران کی ابتدائی بلند عمارتوں میں سے ایک تھی آگ لگنے کے بعد منہدم ہو گئی، جس میں کم از کم 20 فائر فائٹرز ہلاک ہو گئے۔ اس حادثے نے قالیباف کی قیادت میں شہری حکومت کے اندر نظامی غفلت کو اجاگر کیا۔

اس کے باوجود ان دونوں تنازعات میں سے کسی نے بھی قالیباف کی برطرفی یا مواخذے کا باعث نہیں بنا اور وہ دونوں سے بچ نکلے۔

سنہ 2020 میں وہ پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہوئے اور سپیکر بن گئے۔

ناکام صدارتی مہمات اور سپیکرشپ تک کا سفر

قالیباف نے ہمیشہ صدارت کے منصب پر نظر رکھی لیکن ان کی چاروں کوششیں 2005، 2013، 2017 اور 2024 میں ناکام رہیں۔

اپنی پہلی مہم میں آئی آر جی سی کے تجربہ کار سپاہی نے اپنے فوجی پس منظر پر زور دیا لیکن بعد میں انھوں نے حکمت عملی بدل کر خود کو سیاسی جغرافیہ میں پی ایچ ڈی ہولڈر اور تربیت یافتہ پائلٹ کے طور پر پیش کیا۔

انھوں نے خود کو ایک ’جہادی منتظم‘ کے طور پر بھی پیش کیا جو فوجی کارکردگی اور لگن پر فخر کرتا ہے۔

اگرچہ قالیباف کو طویل عرصے سے اصلاح پسندوں کا مخالف سمجھا جاتا رہا ہے، حالیہ برسوں میں ایسے اشارے ملے ہیں کہ ان کے قدامت پسند حلقوں کے بعض حصوں کے ساتھ اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔

سنہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں سخت گیر قدامت پسندوں کے ایک بڑے گروہ نے ان کی امیدواری کی مخالفت کی اور انھیں دوڑ سے دستبردار ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔

AFP via Getty Imagesمحمد باقر قالیباف 2005 سے 2017 تک تہران کے میئر رہے۔

قالیباف سنہ 2022 میں ایک بار پھر بدعنوانی کے سکینڈل میں گھر گئے۔ ترکی کے سفر کے بعد ہوائی اڈے پر ان کے خاندان کی بڑی مقدار میں بچوں کے سامان جن میں ایک سٹرولر بھی شامل تھا اٹھائے ہوئے تصاویر سامنے آئیں، جس پر عوامی غصے میں اضافہ ہوا۔

ان کے ناقدین نے ان پر ’منافقت، دوغلا پن اور دکھاوے کی پارسائی‘ کے الزامات لگائے لیکن انھوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ یہ معاملہ سیاسی محرکات پر مبنی ہے اور انھیں ایرانی سیاست سے ہٹانے کی کوشش ہے۔

قالیباف اس سکینڈل سے بظاہر متاثر نہیں ہوئے اور سنہ 2024 میں دوبارہ سپیکر منتخب ہو گئے۔ ایران اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے اور ان کی سیاسی حیثیت مزید مضبوط ہو سکتی ہے کیونکہ وہ جنگ کے تسلسل کی نگرانی اور سینئر فوجی کمانڈرز اور ریاستی طاقت کے تینوں ستونوں کے سربراہان کے درمیان رابطہ کاری کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکہ اور ایران ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں اور کون سے مطالبے تسلیم کیے جا سکتے ہیں؟جے شنکر کے بیان پر انڈیا اور پاکستان دونوں میں مایوسی: ’ہماری سفارتی ناکامی نے ایک ٹوٹے ہوئے ملک کو ثالث بنا دیا‘’اسرائیل تہران کا پہلا ہدف نہیں‘: کیا ایران جنگ کی سب سے بڑی قیمت متحدہ عرب امارات چُکا رہا ہے؟ایران اور امریکہ اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے مال بردار جہاز کراچی کا رخ کیوں کر رہے ہیں؟محمد باقر ذوالقدر: علی لاریجانی کے جانشین اور ایران میں سخت گیر قدامت پسند کیمپ کے اہم رکن کون ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More