ایرانی حملے اور خلیج کے پریشان ایشیائی ملازمین: کیا خلیجی ممالک کی نوکریوں کے عوض جان داؤ پر لگانا عقلمندی ہے؟

بی بی سی اردو  |  Apr 02, 2026

Getty Imagesایران جنگ کے بعد تارکین وطن خلیجی ممالک سے اپنے اپنے ملک واپس آ رہے ہیں

جیسے ہی فضا میں سائرن کی آواز گونجتی ہے، نورما تکتکون دعا کرنے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔

49 سالہ نورما مشرق وسطیٰ کے ملک قطر میں بطور گھریلو ملازمہ کام کرتی ہیں۔ نورما کا تعلق فلپائن سے ہے۔ اُن کے شوہر اور تین بچے اُن سے ہزاروں میل دور فلپائن ہی میں رہتے ہیں۔

قطر اُن خلیجی ممالک میں شامل ہے جو اِس وقت امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں پھنسا ہوا ہے۔ ایسے میں نورما دعا گو رہتی ہیں کہ وہ بخیر و عافیت اپنے گھر جانے میں کامیاب ہو جائیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب بھی میں فضا میں میزائلوں کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھتی ہوں تو مجھے خوف اور گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔‘

’مجھے اپنے خاندان کے لیے زندہ رہنا ہے۔ ان کے پاس بس میں ہی ہوں۔‘

جیسے ہی امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے کی وجہ سے خلیجی خطے کے امیر ممالک ایرانی حملوں کا نشانہ بننے لگے، بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری وہاں سے نکل گئے جبکہ سیاحوں اور مسافروں نے بھی اِن ممالک کا رُخ کرنا چھوڑ دیا۔

لیکن یہ صورتحال خاص طور پر اُن لاکھوں پناہ گزینوں کے لیے نہایت مشکل ثابت ہوئی ہے جن کا مستقبل اب غیر یقینی کا شکار ہو چکا ہے۔ گھریلو ملازمین سے لے کر تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں تک، یہ لوگ طویل عرصے سے ان امیر خلیجی معیشتوں کو سہارا دیتے آئے ہیں تاکہ اپنے وطن میں موجود خاندانوں کو غربت سے نکال سکیں۔

نورما کو امید تھی کہ وہ قطر میں رہتے ہوئے اپنی کمائی سے اپنے 23 سالہ بیٹے کی گریجویشن کا خرچ ادا کر پائیں گی اور اپنی دو بیٹیوں، جن کی عمریں 22 اور 24 سال ہیں، کو نرسنگ کی تعلیم دلوانے میں مدد دیں گی تاکہ وہ بیرونِ ملک اچھی تنخواہ والی ملازمتیں حاصل کر سکیں۔

اسی لیے انھوں نے گذشتہ دو دہائیوں میں خاصا وقت قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بطور گھریلو ملازمہ کام کرتے ہوئے گزارا ہے۔

جو چیز اب تک انھیں قطر میں روکے رکھے ہوئے ہے وہ ان کی تنخواہ ہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں فلپائن سے تعلق رکھنے والے گھریلو ملازمین کو کم از کم 500 ڈالر ماہانہ اجرت ملتی ہے، جو اپنے ملک میں اسی نوعیت کی ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے مقابلے میں تقریباً چار سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

نورما کہتی ہیں کہ ’مجھے امید ہے کہ دنیا دوبارہ پُرامن ہو جائے گی اور حالات پہلے جیسے ہو جائیں گے۔ میں دعا کرتی ہوں کہ جنگ ختم ہو جائے۔‘

Getty Imagesدوحہ میں ایک ایرانی حملے کے بعد اٹھتا ہوا دھواں

لیکن یہ جنگ انھیں اپنے کریئر کے بارے میں دوبارہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ اپنے ملک واپس جا کر اپنے شوہر کے ساتھ کوئی چھوٹا سا کاروبار شروع کر دیں۔ ان کے پاس فکر مند ہونے کی وجوہات بھی موجود ہیں۔

ایران تنازع کے ابتدائی متاثرین میں 32 سالہ فلپائنی خاتون میری این ویولاسکیز بھی شامل تھیں، جو اسرائیل میں بطور کیئرگیور (نگہداشت کا شعبہ) کام کر رہی تھیں۔

منیلا میں اسرائیلی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ وہ اُس وقت زخمی ہوئیں جب تل ابیب میں اُن کے اپارٹمنٹ پر ایک بیلسٹک میزائل گرنے کے بعد وہ اپنے مریض کو محفوظ مقام تک لے جا رہی تھیں۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیش ر(آئی ایل او) کے مطابق خلیج کے خطے میں 24 لاکھ تارکینِ وطن بطور مزدور کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ بیرونِ ملک محنت کشوں کے لیے دنیا کی سب سے بڑی منزل بن چکا ہے۔

ان میں سے زیادہ تر کا تعلق ایشیائی ممالک انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، فلپائنز اور انڈونیشیا سے ہے۔

آئی ایل او کے مطابق ان میں سے بہت سے کارکن کم تنخواہ یا غیر محفوظ نوعیت کی ملازمتیں کرتے ہیں اور انھیں صحت کی سہولیات جیسی بنیادی چیزوں تک بہت محدود رسائی حاصل ہوتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس تنازع کے نتیجے میں اب تک کم از کم 12 جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن مزدور ہلاک ہو چکے ہیں۔

جنگ میں ہلاک ہونے والوں میں میں دیباس شریستھا بھی شامل ہیں، جو 29 سالہ نیپالی شہری تھے اور ابوظہبی میں بطور سکیورٹی گارڈ کام کرتے تھے۔ وہ یکم مارچ کو ایرانی حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

اُن کے چچا رمیش نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے اسے نیپال واپس آنے پر قائل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے کہا کہ اسے ابوظہبی میں اپنی ملازمت پسند ہے اور وہاں اس کی زندگی اچھی ہے۔‘

’ہمارے بہت سے رشتہ دار روزگار کے لیے خلیجی ممالک گئے ہوئے ہیں، اس لیے ہم ان کے لیے بہت زیادہ فکرمند تھے۔‘

ٹرمپ سے ’خائف‘ خلیجی بادشاہتیں: کیا دبئی اور قطر جیسی امیر ریاستوں میں سکیورٹی کا تصور محض سراب تھا؟’مجھے اچانک دبئی کا ویزا مل گیا‘: ایران جنگ کے باعث متحدہ عرب امارات میں ’مواقع سے فائدہ‘ اٹھاتے پاکستانیوں کی کہانیاں ’پاکستان پر بھروسہ نہیں کر سکتے‘: جنگ بندی کے لیے اسلام آباد کی کوششوں پر اسرائیل سے اُٹھتی آوازیںایران اور امریکہ اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے مال بردار جہاز کراچی کا رخ کیوں کر رہے ہیں؟

جب جنگ شروع ہوئی تو شریستھا نے اپنے خاندان کو یقین دلایا کہ وہاں سب کچھ محفوظ ہے۔ فیس بُک پر ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا تھا کہ خبریں دیکھ کر وہ ’فکرمند‘ ضرور ہوئے ہیں، لیکن ساتھ ہی انھیں یہ بھی محسوس ہوا کہ ’خبریں بعض اوقات مبالغہ آرائی یا گمراہ کُن معلومات پیش کرتی ہیں۔‘

اُن کے چچا کے مطابق شریستھا اپنے والدین کے گھر کی دوبارہ تعمیر کے لیے پیسے جمع کر رہے تھے، جو سنہ 2015 میں آنے والے ایک زلزلے میں متاثر ہوا تھا، جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

رمیش کہتے ہیں کہ ’وہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا، بہت رحمدل اور ذہین تھا۔‘

BBC/Dibash Shrestha's familyدیباس شریستھا کا تعلق نیپال سے تھا

دبئی، جو ابو ظہبی سے 120 کلومیٹر سے زیادہ دور ہے، میں ناکارہ بنائے گئے ایک میزائل کا ملبہ گرنے سے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ احمد علی ہلاک ہوئے تھے۔

اُن کے بیٹے عبد الحق نے بتایا کہ وہ بھی اپنے والد کے ساتھ متحدہ عرب امارات میں کام کرنے گئے تھے، لیکن جنگ شروع ہونے سے پہلے بنگلہ دیش واپس آ گئے۔

اُن کے والد مسلسل وطن انھیں پیسے بھیجتے رہے، ہر ماہ 500 سے 600 ڈالر، جو کہ جنوبی ایشیا کے اس غریب ملک میں ایک بہت بڑی رقم سمجھی جاتی ہے۔

احمد کی موت ماہ رمضان کے دوران ہوئی اور اُن کے بیٹے کو بتایا گیا کہ یہ واقعہ شام کے وقت عین اُس لمحے پیش آیا جب لوگ افطار کر رہے تھے۔

ان کے بیٹے عبدالحق کہتے ہیں کہ ’وہ دبئی کے لوگوں کو واقعی پسند کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ لوگ انھیں یہاں خوش آمدید کہتے ہیں اور یہ رہنے کے لیے ایک بہترین جگہ ہے۔‘

’مجھے تو یہ بھی نہیں لگتا کہ انھیں جنگ کے جاری ہونے کا علم تھا۔ نہ وہ خبریں پڑھتے تھے اور نہ ہی اُن کے پاس سمارٹ فون تھا۔‘

عبدالحق کے مطابق دبئی اور پورے خطے کے بارے میں اُن کی رائے اب بدل چکی ہے: ’اب یہ محفوظ نہیں رہا، کوئی بھی اپنا باپ نہیں کھونا چاہتا۔‘

ایشیا میں حکومتیں تارکینِ وطن مزدوروں کو ملک واپس لانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کوششیں کر رہی ہیں۔

لیکن میزائل حملوں کے خطرے نے دبئی، ابوظہبی اور قطر آنے اور جانے والے سفری نظام کو درہم برہم کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہاں سے روانہ ہونے کے خواہشمند افراد کو ملک واپسی کے لیے طویل اور لمبے راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔

Getty Imagesمشرق وسطی میں بہت بڑی تعداد میں ایشیائی باشندے ملازمتیں کرتے ہیں

اپنے ملک واپس جانے کے لیے کویت، قطر اور بحرین سے تعلق رکھنے والے 234 فلپائنی کارکنوں نے سعودی عرب تک زمینی راستے کے ذریعے آٹھ گھنٹے تک کا سفر کیا، جہاں فلپائن ایئرلائنز کی پرواز میں سوار ہونے کے لیے مزید 109 افراد اُن کا انتظار کر رہے تھے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 23 مارچ تک تقریباً دو ہزار فلپائنی کارکنوں اور اُن کے زیرِ کفالت افراد کو ہوائی جہاز کے ذریعے منیلا واپس پہنچایا جا چکا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ بیرونِ ملک کام کرنے والے 20 لاکھ سے زائد فلپائنی باشندوں میں سے تقریباً نصف کا مسکن ہے اور ان کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کا تقریباً 10 فیصد حصہ بنتی ہیں۔

ترسیلاتِ زر بنگلہ دیش کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہیں کیونکہ اس کے ایک کروڑ 40 لاکھ کے قریب تارکینِ وطن مزدوروں میں سے اکثر مشرقِ وسطیٰ میں کام کرتے ہیں۔

اس تنازع کے آغاز کے بعد سے اب تک تقریباً 500 بنگلہ دیشی کارکنوں کو ملک واپس بھیجا جا چکا ہے اور ڈھاکہ میں حکومت نے بحرین سے کم از کم مزید دو پروازوں کا بھی انتظام کر لیا ہے۔

تاہم کچھ لوگوں کے لیے اپنے میزبان ملک چھوڑنا آسان نہیں ہے۔

میانمار سے تعلق رکھنے والی سو سو نے دبئی کو اپنے لیے ایک محفوظ ٹھکانا سمجھا تھا۔ وہ اُس ملک کو پیچھے چھوڑ آئی تھیں، جہاں سنہ 2021 سے خانہ جنگی جاری ہے۔

وہ گذشتہ دو برسوں سے دبئی میں ایک ریئل سٹیٹ کمپنی میں کام کر رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ گھر سے کام کرنے کا موجودہ نظام انھیں کووِڈ لاک ڈاؤن کی یاد دلاتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اب جب سائرن کی آواز سنائی دیتی ہے تو انھیں کھڑکی سے دور رہنا پڑتا ہے۔

’اگر مجھے کہیں اور منتقل ہونا پڑے تو میں نے ایک ہنگامی بیگ تیار کر رکھا ہے۔۔۔ یہ عادت مجھے میانمار میں پڑی تھی۔‘

اس کے باوجود بھی وہ کہتی ہیں کہ ’یہاں زیادہ سکون کا احساس ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آخرکار سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔‘

اضافی رپورٹنگ: بی بی سی برمیز اور بی بی سی انڈونیشین

ٹرمپ سے ’خائف‘ خلیجی بادشاہتیں: کیا دبئی اور قطر جیسی امیر ریاستوں میں سکیورٹی کا تصور محض سراب تھا؟’مجھے اچانک دبئی کا ویزا مل گیا‘: ایران جنگ کے باعث متحدہ عرب امارات میں ’مواقع سے فائدہ‘ اٹھاتے پاکستانیوں کی کہانیاں ’پاکستان پر بھروسہ نہیں کر سکتے‘: جنگ بندی کے لیے اسلام آباد کی کوششوں پر اسرائیل سے اُٹھتی آوازیںخلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کے دوران لوگوں نے کیا دیکھا: ’خود کو خطرے سے دور سمجھتے تھے، سوچا نہیں تھا یہ دن دیکھنا پڑے گا‘’تہران وہی کر رہا ہے جس کا اس نے وعدہ کیا‘: ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر میزائل حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟امریکی اڈوں، دفاعی معاہدوں کے باوجود ایرانی حملوں پر سوال: کیا خلیجی ممالک کو نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے؟’اسرائیل تہران کا پہلا ہدف نہیں‘: کیا ایران جنگ کی سب سے بڑی قیمت متحدہ عرب امارات چُکا رہا ہے؟امریکہ اور اسرائیل نے کئی ایرانی رہنما ہلاک کیے، تو اب ٹرمپ بات کس سے کر رہے ہیں؟ جنگ کے دوران ایران کی حمایت میں عربی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کیوں بڑھتے جا رہے ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More