جمعرات کی رات جب خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں ڈومیل پولیس تھانے کے قریب بارود سے لدی ہوئی گاڑی میں سوال ایک خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا تو اس دھماکے کے نتیجے میں جہاں سات پولیس اہلکاروں سمیت 19 افراد زخمی ہوئے وہیں اس کی زد میں ایک ایسا خاندان بھی آ گیا جو 13 سال قبل اسی جگہ پر ایسے ہی ایک حملے میں متاثر ہوا تھا۔
بنوں سے تقریبا 23 کلومیٹر دور کوہاٹ روڈ پر واقع ڈومیل پولیس تھانے کے قریب یہ دھماکہ رات 11 بجے کے لگ بھگ ہوا تھا جب علاقے میں تیز بارش ہو رہی تھی۔
خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ 1000 سے 1500 کلوگرام ’بارودی مواد سے بھری فیلڈر گاڑی کو پولیس تھانے کی دیوار سے ٹکرانے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس اہلکاروں کی وجہ سے خود کش حملہ آور نے تھانے تک پہنچنے سے پہلے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔‘
اس مقام کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس سٹیشن کی دیوار کے قریب ایک گہرا گڑھا موجود ہے اور تھانے کی دیوار کا ایک حصہ منہدم ہو چکا ہے جبکہ عمارت کے بڑے حصے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
اسی تھانے کے عقب میں میڈیکل ٹیکنیشن نقیب اللہ کا گھر بھی اس دھماکے کی زد میں آیا جس کی چھت گرنے سے خود نقیب اللہ، ان کی اہلیہ، ایک بیٹی، ایک بیٹا اور ان کی ایک سالی ہلاک ہو گئے۔ واضح رہے کہ اب تک کسی شدت پسند تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
نقیب اللہ کے بھائی عبدالحفیظ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’بالکل ایسی ہی قیامت 13 سال پہلے بھی ہم پر گزر چکی ہے۔‘
متاثرہ تھانے کے ساتھ 14 فٹ کی گلی میں، جو اندر گاؤں کی طرف جاتی ہے، عبدالحفیظ کے مطابق تھانے کے عقب میں ان کا آبائی مکان تھا جہاں ’ہمارے بھائی نقیب اللہ اپنی دوسری بیوی اور بچوں کے ساتھ رہائش پزیر تھے۔‘
عبدالحفیظ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’13 سال پہلے 8 مئی 2013 کی رات تھی جب ایسے ہی ایک گاڑی کو تھانے کی عقبی دیوار کے ساتھ ہمارے گھر کے قریب کھڑی کرکے دھماکہ کیا گیا تھا۔ اس دھماکے میں ہمارے بڑے بھائی سعید الرحمان کے ایک بیٹے اور بہو کی جان چلی گئی تھی۔‘
’اس مرتبہ بھی ایک بارود سے بھری گاڑی اسی مقام پر لائی گئی جہاں آج سے 13 سال پہلے لائی گئی تھی اور اس سے دھماکہ کیا گیا۔‘
عبدالحفیظ، جو نقیب اللہ کے چھوٹے بھائی ہیں، کا کہنا تھا کہ 13 سال قبل ہونے والے دھماکے کے بعد ’سب نے فیصلہ کیا کہ اب اس مکان میں مذید نہیں رہا جا سکتا، اس لیے اس تھانے سے چند کلومیٹر دور اپنی زمین پر نئے مکان تعمیر کیے گئے۔‘
لیکن عبدالحفیظ کے مطابق نقیب اللہ اسی مکان میں رہنا چاہتے تھے کیوں کہ ’یہاں اس کا بچپن گزرا تھا اور والدین کی یادیں تھیں۔‘ عبدالحفیظ نے بتایا کہ ’نقیب اللہ نے اپنی پہلی بیوی کو نیا گھر تعمیر کرکے دیا تھا اور خود پرانے گھر میں دوسری بیوی کے ساتھ رہائش پزیر تھے۔‘
عبدالحفیظ نے بتایا کہ ’ہم پانچ بھائی ہیں، لیکن اب چار رہ گئے ہیں۔‘
مقامی حکام کے مطابق اس حملے میں سات پولیس اہلکاروں سمیت 19 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے۔ بنوں میں محکمہ صحت کے ترجمان محمد نعمان خان کے مطابق تین زخمی اب بھی خلیفہ گلنواز ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان چین میں مذاکرات: کیا بیجنگ مستقل سیز فائر کروا سکے گا؟باڑہ میں سکول پر ’قبضے کی کوشش‘، سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 10 شدت پسند ہلاکباجوڑ میں افغانستان کا مبینہ حملہ: عید کے لیے گھر آنے والے چار بھائی مارٹر گولے سے ہلاک ’والدہ اتنا بڑا غم برداشت کرنے کے قابل نہیں‘کیا حالیہ دنوں میں پاکستان نے افغانستان کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا ہے؟
عبدالحفیظ دھماکے سے تقریبا 45 منٹ پہلے اپنے بھائی سے فون پر بات کر رہے تھے۔وہ بتاتے ہیں کہ ’فون بند کیا تو تھوڑی دیر بعد زور دار دھماکہ ہوا۔ مجھے ایسا لگا آسمانی بجلی کڑکی ہے۔ اس کے بعد فائرنگ ہوئی تو ایسا لگا کہ قریب ہی کوئی کارروائی ہو رہی ہے۔‘
’میں نے بھائی کو فون ملانا چاہا لیکن ان کا فون نہیں مل رہا تھا۔ بار بار کوشش کرتا رہا لیکن رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔‘
’اتنے میں اسلام آباد سے ایک کزن نے فون کیا اور کہا فوی طور پر تھانے کی طرف جاؤ، وہاں کچھ ہوا ہے۔ ہم جب وہاں پہنچے تو سب کچھ تباہ ہو چکا تھا۔‘
عبد الحفیظ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’نقیب اللہ کے چھوٹے بیٹے کو ہمارا بڑا بھائی علاج کے لیے پشاور لے کر گیا ہوا تھا اور اس دھماکے سے 10 منٹ پہلے ہی بڑے بھائی نے نقیب کے بیٹے کو گھر اتارا تھا اور خود اپنے گھر واپس لوٹے تھے۔ وہ ابھی گاڑی سے اترے نہیں تھے کہ دھماکہ ہوگیا۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں حالات چند برسوں سے انتہائی کشیدہ ہیں۔ صرف دو روز قبل ہی بنوں کے ساتھ واقع ضلع لکی مروت کی تحصیل نورنگ میں پولیس کی ایک گاڑی کے قریب ہونے والے دھماکے میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
بنوں میں گزشتہ ایک دو برس کے دوران زیادہ تر حملوں کا ہدف پولیس اور دیگر سیکیورٹی کے ادارے رہے ہیں تاہم شہری آبادی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
جولائی 2024 میں بنوں کینٹ پر خودکش کار بم حملے میں 8 سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور 140 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جبکہ اکتوبر 2024 میں پولیس لائنز پر حملے میں 3 اہلکار جان سے گئے۔
مارچ 2025 میں بنوں کینٹ پر خودکش حملہ اس سلسلے کا سب سے ہولناک واقعہ ثابت ہوا جس میں کم از کم 16 افراد جاں بحق ہوئے جن میں بڑی تعداد شہریوں کی تھی، جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔
پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان چین میں مذاکرات: کیا بیجنگ مستقل سیز فائر کروا سکے گا؟’یہ خاموش اکثریت تک رسائی کی کوشش ہے‘: بلوچستان میں عید کے اجتماعات سے مسلح افراد کے خطاب کی ’وائرل ویڈیوز‘ کیا ظاہر کرتی ہیں؟باڑہ میں سکول پر ’قبضے کی کوشش‘، سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 10 شدت پسند ہلاک’بُلٹ پروف جیکٹ گینگ‘: اسلام آباد میں کاروباری شخصیت عامر اعوان کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث گروہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟کیا حالیہ دنوں میں پاکستان نے افغانستان کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا ہے؟باجوڑ میں افغانستان کا مبینہ حملہ: عید کے لیے گھر آنے والے چار بھائی مارٹر گولے سے ہلاک ’والدہ اتنا بڑا غم برداشت کرنے کے قابل نہیں‘