ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں لکھا تھا: ’ہم نے ایران میں بہت اندر جا کر پہاڑوں میں موجود ایف 15 کے رکن/افسر کو بازیاب کرا لیا ہے۔‘
امریکی صدر نے لکھا کہ ایرانی فوج امریکی اہلکار کو ’بہت شدت سے تلاش‘ کر رہی تھی اور انھیں ڈھونڈنے کے قریب پہنچ رہی تھی۔
اپنی پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ریسکیو کیے گئے اہلکار ایک کرنل ہیں اور ان کی بازیابی کے لیے بھیجے گئے مشن نے ’ایران کی فضاؤں میں سات گھنٹے گزارے۔‘
سوشل میڈیا پوسٹ میں انھوں نے لکھا: ’ہم نے دن کی روشنی میں پائلٹ کو بازیاب کرایا۔‘
ایرانی سرکاری میڈیا نے جمعے کے روز دعویٰ کیا کہ ملک کی فورسز نے جنوبی ایران کے اوپر ایک امریکی جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔ گذشتہ 20 سال سے زائد عرصے میں یہ پہلی بار تھا جب دشمن کی فائرنگ سے کوئی امریکی جنگی طیارہ تباہ ہوا۔
سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اس طیارے میں ایک ویپن سسٹمز آفیسر اور ایک پائلٹ سوار تھے۔ دونوں اہلکار طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر اترنے میں کامیاب ہو گئے۔ پائلٹ کو تو اسی روز بازیاب کرا لیا گیا لیکن عملے کے دوسرے رکن ابھی بھی لاپتہ تھے اور ایران کی سر زمین پر تھے۔
اور پھر انھیں تلاش کر کے ایران سے نکالنے کے لیے امریکی فوج نے ایک پیچیدہ اور سنسنی خیز آپریشن کیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس آپریشن میں سپیشل فورسز کے درجنوں اہلکاروں کے علاوہ امریکی جنگی طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور سی آئی اے نے بھی حصہ لیا۔
اس وقت ایرانی فوج بھی امریکی اہلکار کو تلاش کر رہی تھی۔ آپریشن میں حصہ لینے والی امریکی ٹیم کے لیے ضروری تھا کہ وہ ایرانی فوج کے ہاتھ لگنے سے پہلے پہلے اپنے اہلکار کو نکال لے جائے۔
وقت سے مقابلہ شروع ہو چکا تھا۔
ایران نے واضح کر دیا تھا کہ وہ انھیں زندہ گرفتار کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے 50 ہزار پاؤنڈز (تقریباً 66 ہزار امریکی ڈالر، پاکستانی کرنسی میں ایک کروڑ 84 لاکھ روپے) کا انعام بھی مقرر کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ ایرانی کرنسی اس وقت شدید بے قدری سے دوچار ہے، ایک امریکی ڈالر تقریباً 13 لاکھ ایرانی ریال کے برابر ہے۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی بعض ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ مسلح شہری امریکی اہلکار کو تلاش کر رہے ہیں، تاہم بی بی سی نے ابھی ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کی۔
امریکی حکام کے مطابق ان اہلکار کے پاس اپنی حفاظت کے لیے صرف ایک ہینڈ گن تھی۔
اس طرح کی صورتحال میں پھنسنے والا اہلکار اپنا بیکن سگنل آن کرتا ہے (ایسا ہنگامی سگنل جو ریسکیو اہلکاروں کو لوکیشن سے آگاہ کر دے)، کسی بلند مقام تک پہنچتا ہے، خود کو چھپاتا ہے، اور اپنے ساتھیوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ امریکی اہلکار کو بھی اس سب کی تربیت دی گئی ہو گی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اہلکار نے خود کو پہاڑ کی ایک دراڑ میں چھپا لیا اور اپنے بیکن سگنل کے استعمال کو محدود رکھا، کیونکہ خدشہ تھا کہ سگنل زیادہ دیر تک آن رکھا گیا تو ایران کی فورسز بھی ان کی لوکیشن معلوم کر لیں گی۔
اور پھر وہ انتظار کرتے رہے، امریکی ریسکیو اہلکاروں کے پہنچنے کا۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرنے والے ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق، اس ریسکیو آپریشن میں امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔
یہ سی آئی اے ہی تھی جس نے اہلکار کی درست لوکیشن معلوم کر کے اسے پہاڑ کی ایک دراڑ تک ٹریس کیا اور یہ معلومات پینٹاگون تک پہنچائیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ریسکیو آپریشن کی منصوبہ بندی کرنے والے امریکی حکام اس اہلکار کی لوکیشن پر 24 گھنٹے نظر رکھے ہوئے تھے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس افسر کو ’ہمارے دشمن تلاش کر رہے تھے اور ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ انھیں ڈھونڈنے کے قریب پہنچ رہے تھے۔‘
اطلاعات کے مطابق سی آئی اے نے دھوکا دینے کے لیے ایران میں یہ خبر بھی پھیلائی کہ امریکی افواج پہلے ہی دوسرے اہلکار کو تلاش کر چکی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ امریکی فوج نے ’دنیا کے مہلک ترین ہتھیاروں سے لیس درجنوں طیارے اہلکار کو بازیاب کرانے کے لیے روانہ کیے۔‘
رپورٹس کے مطابق جب امریکی سپیشل فورسز پھنسے ہوئے افسر کی جانب بڑھ رہی تھیں تو ایرانی فوجیوں کو اس مقام سے دور رکھنے کے لیے بمباری اور اسلحے کا استعمال کیا گیا۔
امریکی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ دو ٹرانسپورٹ طیارے، جنھوں نے ریسکیو کرنے والی ٹیموں کو نکالنا تھا، وہ ایران کے اندر ایک دور دراز اڈے سے اڑان بھرنے میں ناکام رہے۔ بعد ازاں انھیں تباہ کر دیا گیا تاکہ وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ رپورٹس کے مطابق اس کے بعد سپیشل فورسز کے عملے کو نکالنے کے لیے مزید تین طیارے استعمال کیے گئے۔
بی بی سی ویریفائی کی جانب سے تصدیق کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں وسطی ایران کے ایک پہاڑی علاقے میں جلتے ہوئے طیارے کا ملبہ نظر آتا ہے۔ یہ علاقہ شہر اصفہان سے تقریباً 50 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
ایران کی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن کے دوران امریکی فضائیہ کے دو سی 130 فوجی ٹرانسپورٹ طیارے اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تباہ کر دیے گئے، اور یہ کہ ’جنوبی اصفہان کے ایک متروک ہوائی اڈے پر فریب دے کر انخلا کا مشن مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا۔‘
بی بی سی ویریفائی نے جمعے کی ایک ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں تین مسلح افراد کم از کم دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کے روز کہا کہ پاسداران انقلاب کے دستوں نے اصفہان کے اوپر ایک امریکی ڈرون مار گرایا جو لاپتہ امریکی فضائی اہلکار کی تلاش میں مصروف تھا۔
تاہم بی بی سی اصفہان کے قریب پیش آنے والے ان واقعات کے دونوں متضاد دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
BBC
امریکی حکام کے مطابق امریکی وقت کے مطابق آدھی رات سے قبل ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا، جس کے بعد فضائی اہلکار کو طبی علاج کے لیے کویت منتقل کر دیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ افسر ’شدید زخمی‘ تھے تاہم ’وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔‘
امریکی حکام نے تاحال اس بات کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی کہ ریسکیو کے وقت فضائی اہلکار کی درست لوکیشن کیا تھی یا ان کی شناخت کیا ہے۔
امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ ایڈمرل ولیم فالون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جس وقت‘ یہ کارروائی کی گئی وہ غالباً اس ریسکیو مشن کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔ ان کا کہنا تھا: ’اندھیرا ہمارے لوگوں کے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ رات کے وقت کارروائی کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔‘
فالون کے مطابق جب دشمن کے زیر کنٹرول علاقے کے اوپر پرواز کی جاتی ہے تو ’آپ کو اس بات کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے کہ نشانہ بننے والا شخص آپ خود بھی ہو سکتے ہیں۔‘
ایران جنگ سے متعلق چینی سفارتکاری: خلیجی ممالک پر حملوں کی مخالفت بھی اور آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے طاقت کا استعمال بھی مستردایران میں جہازوں پر میزائل حملے: جب ایک پاکستانی ملاح بستر میں ہلاک جبکہ دوسرا 24 گھنٹے سمندر میں رہنے کے باوجود بچ گیا’کسی امریکی فوجی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے‘: ٹرمپ نے ایران میں تباہ ہونے والے طیارے میں سوار دوسرے رُکن کے ریسکیو کی تصدیق کردیایران میں امریکی ایف-15 لڑاکا طیارہ ’مار گرایا گیا‘، ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟
اتوار کے روز امریکی وقت کے مطابق رات بارہ بجے سے کچھ پہلے (پاکستانی وقت صبح نو بجے) امریکی میڈیا نے خبر دی کہ دوسرے پائلٹ کو بھی تلاش کر لیا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ امریکہ ’کبھی بھی کسی امریکی جنگجو کو پیچھے نہیں چھوڑے گا!‘
ایران نے اس کے برعکس اس آپریشن کو ناکام قرار دیا۔ ایران کی اعلیٰ فوجی کمان کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ امریکی فوج کے کئی طیارے ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوئے۔
ان کا کہنا تھا: ’بے خبر صدر، جو خود شروع کی گئی جنگ اور جارحیت کے دلدل میں پھنسے ہیں، بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ کسی بھی جارحیت، زمینی کارروائی یا دراندازی پر فیصلہ کن اور ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
ایران کے حکام اور سرکاری ٹی وی بھی اس مشن کو ’ناکام‘ قرار دینے والا بیانیہ دہرا رہے ہیں۔
امریکہ کے بعض تجزیہ کار ایران میں ایف 15 طیارہ گرنے اور اس کے بعد کئی ریسکیو طیاروں کے بھی تباہ ہونے کی تشریح یوں کر رہے ہیں کہ امریکہ کی فضائی قوت محدود ہو رہی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل فرینک مکینزی نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار چینل سی بی ایس کو بتایا: ’اس مشن میں واقعی ہم نے ایک دو طیارے کھوئے،‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی صورتحال میں ’کسی دن‘ بھی اس طرح کا نقصان ہو سکتا ہے۔
سی بی ایس کے پروگرام فیس دی نیشن میں انھوں نے کہا: ’ایک طیارہ بنانے میں ایک سال لگتا ہے، مگر ایسی فوجی روایت قائم کرنے میں 200 سال لگتے ہیں جن کے مطابق آپ جنگ کے میدان میں اپنے کسی بھی ساتھی کو پیچھے نہیں چھوڑتے۔‘
تباہ کیے گئے طیارے کے بارے میں ہمیں کیا معلوم ہے؟
ایف-15 ای ایک ایسا جنگی طیارہ ہے جو فضا سے فضا اور فضا سے زمین دونوں طرح کے مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران کے تناظر میں یہ طیارے غالباً دفاعی کردار میں استعمال ہو رہے ہیں یعنی ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو نشانہ بنانے کے لیے۔
اپنے زمینی حملوں کے کردار میں یہ طیارہ لیزر اور جی پی ایس سے گائیڈڈ ہتھیاروں سمیت مختلف قسم کے بم گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
BBC
اس طیارے میں دو اہلکار ہوتے ہیں: پائلٹ اور ویپن سسٹمز آفیسر، جسے عام طور پر وِزو کہا جاتا ہے جو اہداف کا انتخاب اور ہتھیاروں کی پروگرامنگ کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔
یہ دو رکنی نظام اس لیے اہم ہے کہ خطرناک یا مصروف فضائی ماحول میں کام کی تقسیم سے طیارے کی کارکردگی بہتر رہتی ہے، خاص طور پر جب پائلٹ کو دشمن کے حملوں سے بچتے ہوئے پرواز کرنی ہو۔
یہ واضح نہیں کہ امریکی طیارہ کس وجہ سے مار گرایا گیا، لیکن اگر اسے ایران نے نشانہ بنایا ہے تو سب سے زیادہ امکان سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل (ایس اے ایم) کا ہے۔
’کسی امریکی فوجی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے‘: ٹرمپ نے ایران میں تباہ ہونے والے طیارے میں سوار دوسرے رُکن کے ریسکیو کی تصدیق کردیایران میں امریکی ایف-15 لڑاکا طیارہ ’مار گرایا گیا‘، ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟’اربوں کی سرمایہ کاری چند ہزار ڈالرز کے ڈرونز کی مار:‘ ایران جنگ کے معاشی اثرات جھیلتے خلیجی ممالک کے پاس آگے کیا راستہ ہے؟قبرص میں موجود برطانوی ائیر فورس ایرانی ڈرونز کے خلاف دفاعی مشن کیسے انجام دے رہی ہے؟امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کرانے سے پاکستان کو کیا حاصل ہوگا؟کیا دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟