غیر روایتی سفارتی گیم: ٹرمپ کا اعتماد جیت کر پاکستان کیسے ایران جنگ میں ایک غیرمتوقع ثالث بنا؟

بی بی سی اردو  |  Apr 08, 2026

Getty Images

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد اس تنازع کے حل کے لیے پاکستان کی کوششوں پر بہت سے لوگ حیران ہوئے تھَے۔ لیکن شاید اِس پر حیران ہونے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی قریب میں پاکستانی فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تذکرہ متعدد مرتبہ ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ کے طور پر کرتے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ کیسے عاصم منیر ’بہت سے افراد کے مقابلے میں ایران کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔‘

پاکستان صرف ایران کا ہمسایہ ہی نہیں ہے، جس کے ساتھ اس کی 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، بلکہ دونوں ممالک کے مابین ’برادرانہ تعلقات‘ کے علاوہ گہری ثقافتی اور مذہبی جڑیں بھی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں امریکہ کا کوئی فوجی اڈہ بھی نہیں ہے۔

اور اب پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے جو خود اِس کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کے بعد پاکستان کے وزیراعظم نے دونوں فریقین کو جمعے کو اسلام آباد میں 10 نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل کے لیے مدعو کر رکھا ہے۔

لیکن اس سب کے باوجود اب بھی یہ سوالات موجود ہیں کہ ایک ایسا ملک جو خود اپنے دو ہمسایہ ممالک، انڈیا اور افغانستان، کے ساتھ تنازع میں گھرا ہوا ہے، اس نے خود کو اس بڑے عالمی تنازع کے حل لیے کیوں پیش کیا ہے۔

پاکستان نے حالیہ ایران تنازع میں ’ایک تنی ہوئی رسی‘ پر چلتے ہوئے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغام رسانی کی، مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کی اور سفارتی سطح پر بھی یہ اس تنازع کے حل کے لیے ٹیلیفونک رابطے جاری رکھے۔

کھونے کے لیے بہت کچھ

پاکستان درآمد شدہ تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

اٹلانٹک کونسل میں جنوبی ایشیا کے سینیئر فیلو مائیکل کوگلمین نے بی بی سی کو بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ سے باہر اگر کسی ملک پر اس تنازع کا اثر پڑ سکتا ہے تو یہ پاکستان ہے۔ ’لہذا پاکستان چاہتا ہے کہ یہ تنازع ختم ہو اور وہ کشیدگی ختم کرانے کی پوری کوشش کرنا چاہتا ہے۔‘

انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر فرحان صدیقی کہتے ہیں کہ اگر جنگ جاری رہتی ہے تو اس سے پاکستان کی معاشی مشکلات بہت بڑھ سکتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو اسے گذشتہ برس ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی فعال کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ’ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دوسرے ملک کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔‘

صدیقی کہتے ہیں کہ صرف ایک اور محاذ کھولنا ہی پاکستان کے لیے مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملک کے اندر ایرانی قیادت کے حوالے سے پائے جانے والے جذبات بھی پاکستان کے لیے اس تنازع میں شامل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے پہلے روز سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت پر پاکستان میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔

’پاکستان کی درخواست پر‘ امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر کیسے اور کن شرائط پر تیار ہوئے؟’عاصم اور شہباز۔۔۔ دنیا کو بچا لیا‘: ایران اور امریکہ کی جنگ بندی میں پاکستانی کردار پر دنیا کیا کہہ رہی ہے؟ایران اور امریکہ اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے مال بردار جہاز کراچی کا رخ کیوں کر رہے ہیں؟ایران اور امریکہ کی جنگ بندی: ایک ’غیرمعمولی دھمکی‘ اور ٹرمپ کی جزوی فتح جس کا مستقبل غیرواضح ہے

کراچی میں امریکی قونصل خانے پر حملے سمیت ملک بھر میں مشتعل شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے اور اس دوران متعدد ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ پاکستان میں عوامی رائے عامہ بہت زیادہ ’ایران کے حق‘ میں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے فیصلہ ساز اس کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہیں۔‘

بین الاقوامی تشخص بہتر ہونے کا فائدہ

لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاملہ پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کا بھی ہے۔

مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ پاکستان اس تنقید کے بارے میں بہت حساس ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس کا کوئی خاص اثر و نفوذ نہیں ہے۔ اُن کے بقول ’میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان صرف اسی وجہ سے اپنے آپ کو ایک ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن یہ بات بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔‘

جنگ بندی کے اعلان کے بعد مائیکل کوگلمین نے لکھا کہ ’اس سے تمام ناقدین کے دعوؤں کی نفی ہوتی ہے جو یہ کہتے تھے کہ اسلام آباد اتنے پیچیدہ اور مشکل کام کو سر انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔‘

ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک ایسی سفارتکاری ہے، جس میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔

اُن کے بقول اس میں بہت خطرہ بھی ہے اور اس کا انعام بھی ہو سکتا ہے۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان کو عالمی سفارتکاری کے کھیل میں بہت اُوپر لے جائے گی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’پاکستان مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے اور اگر یہ کامیاب نہیں ہوتیں تو پھر یہ پاکستان کی صلاحیتوں کی ناکامی نہیں ہو گی، بلکہ آپ اس شخص کو ذمے دار ٹھہرائیں گے جو مکمل طور پر ناقابل اعتبار ہے۔‘

لیکن کوگلمین اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ اُن کے بقول اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پاکستان کو ردِعمل کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

اُن کے بقول ’اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور پھر فریقین نے زیادہ شدت سے لڑائی شروع کر دی تو پھر لوگ یہ سمجھیں گے کہ فریقین نے اس تنازع کو مزید آگے بڑھانے کے لیے کچھ سوچنے کا وقت لیا اور پاکستان ان ارادوں کو بھانپ ہی نہیں سکا۔‘

غیر روایتی سفارتی گیم

یہ ابھی واضح نہیں کہ مذاکرات کا اُونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ لیکن ایک چیز واضح ہے کہ پاکستان نے اس معاملے کو صدر ٹرمپ سے اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ صدر ٹرمپ کو امن نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنا، انڈیا کے ساتھ جنگ بند کروانے کا کریڈٹ دینا اور کابل ایئر پورٹ دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ کی امریکہ حوالگی کے ذریعے پاکستان نے صدر ٹرمپ کے لیے جو کچھ کیا وہ ٹرمپ کے لیے بہت اہم تھا۔

کوگلمین کہتے ہیں کہ پاکستان انڈیا کے برعکس غیر روایتی سفارتی کھیل کھیلنے کے لیے تیار ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی قیادت کی جانب سے صدر ٹرمپ کی خوشامد کا جو طریقہ اپنایا گیا، اس نے اپنا کام دکھایا ہے اور اس سے پاکستان واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوا ہے۔

اُن کے بقول اب پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کی نظر میں ایک پُرکشش سہولت کار اور ثالث کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا ہے۔

لیکن امریکہ کے ساتھ تعلقات کا کارڈ ہی پاکستان کے لیے کافی نہیں ہے۔ پروفیسر صدیقی کہتے ہیں کہ پاکستان کو یہ احساس ہوا ہے کہ وقت کے مطابق خود کو ڈھالنا ہی علاقائی سفارتکاری میں آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم آج جس قسم کی دُنیا دیکھ رہے ہیں، اس میں درمیانی قوتیں بڑی طاقتوں کے ساتھ چلنے میں زیادہ بہتر محسوس کرتی ہیں۔‘

اُن کے بقول پاکستان جن وجوہات کی بنا پر اس تنازع کے حل کے لیے موزوں سمجھا جا رہا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ اسرائیل اور امریکہ نواز ہونے کی ساکھ نہیں رکھتا۔

’عاصم اور شہباز۔۔۔ دنیا کو بچا لیا‘: ایران اور امریکہ کی جنگ بندی میں پاکستانی کردار پر دنیا کیا کہہ رہی ہے؟’پاکستان کی درخواست پر‘ امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر کیسے اور کن شرائط پر تیار ہوئے؟ایران اور امریکہ کی جنگ بندی: ایک ’غیرمعمولی دھمکی‘ اور ٹرمپ کی جزوی فتح جس کا مستقبل غیرواضح ہے’گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ اور پاکستان کا ممکنہ کردارجے شنکر کے بیان پر انڈیا اور پاکستان دونوں میں مایوسی: ’ہماری سفارتی ناکامی نے ایک ٹوٹے ہوئے ملک کو ثالث بنا دیا‘’پاکستان کا قد اونچا ہو جائے گا‘: ایران جنگ، اسلام آباد کی سفارت کاری اور دلی کے خدشات
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More